Back to: فاطمہ عطا المصطفیٰ
- ازقلم: فاطمہ عطاالمصطفیٰ
- صنف:مضمون
- عنوان: کم سن بچے اور نشے کی لت
نشہ آور اشیاء کو مجموعی طور پر “منشیات”کہا جاتا ہے۔”نشہ سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو ایک انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کردے۔”
ایک صحت مند انسان ہی ایک صحت معاشرے کی بنیاد ہے۔نشہ ایک ایسی لت ہے جو ایک صحت مند انسان کی صحت کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔نشہ کرنے والے لوگوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اس لعنت سے جو سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں وہ کم سن بچے ہیں۔وہ بچے جن کی عمریں ابھی پڑھنے،کھیلنے کودنے کی ہے۔وہ چھوٹے چھوٹے بچے نشے کی لت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔اور یہ لعنت ان کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔
نشے کی وجوہات:
نشے کا آسانی سے دستیاب ہونا:
کم سن بچوں کا نشہ کرنے کی جو ایک سب سے بڑی وجہ ہے۔ وہ نشے کا آسانی سے دستیاب ہونا ہے۔آج کل بچوں کو اسکول کے عملے سے،اسکول کینٹین سے،اپنے دوستوں سے، اسکول کے سامنے ٹھیلوں سے باآسانی نشے کی گولیاں،سیگریٹ،شراب نوشی اور چرس مل جاتی ہے۔اس کے علاوہ گلی محلوں میں بھی آج کل نشہ باآسانی دستیاب ہوتا ہے۔
بری صحبت:
نشہ کرنے کی ایک وجہ اچھی صحبت کا نہ ہونا بھی ہے۔بچے ایسے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جو نشہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔وہ ان کم سن بچوں کو بھلا پھسلا کر اُن کو بھی نشے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔
اسی لیے کہتے ہیں:”بری صحبت کا برا نتیجہ۔”
دولت کا کثیر تعداد میں ہونا:
عام طور پر کہا جاتا ہے دولت تمام مسئلے کا حل ہے لیکن یہ غلط ہے۔جب بچوں کو ہر طرح کی آسائش مل جائے۔ان کو ذہنی سکون مل جائے۔ تو بچے نشے کو بطور فیشن اور بطور تفریح استمعال کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
ذہنی بے سکونی:
بچوں کو پڑھائی کی ٹینشن ہو، انہیں کوئی دوست چھوڑ جائے یا گھر کے مسئلے مسائل جن میں والدین کا جگھڑا، ماں باپ کا اپنی اُولاد کو توجہ نہ دینا بھی شامل ہے۔ تو اس سے بچنے کے لیے بھی بچے منشیات کا استمعال شروع کر دیتے ہیں۔عارضی سکون کے لیے وہ اپنا مستقبل خراب کر لیتے ہیں۔
شعور کی کمی:
اس کی علاوہ نشہ کرنے کی وجہ بچوں میں علم اور شعور کی کمی ہے۔
نشے کے سدباب:
نشے کی روک تھام کے لیے حکومت کو چاہیے کہ اُن مقامات کو بند کر دیاجائے۔جہاں سے بچوں کو باآسانی سے منشیات دستیاب ہیں۔ ایسے لوگ سزا کے مستحق ہیں جو چھوٹے چھوٹے بچوں کو نشے کا عادی بنا دیتے ہیں۔
والدین پر فرض ہے وہ اپنی اولاد کو پوری توجہ دیں۔والدین کی غفلت اولاد کی زندگی برباد کر دیتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو علم کی دولت سے نوازے۔ انہیں تعلیم دلوائیں تاکہ انہیں اچھے برے کی تمیز آسکے۔اور وہ نشہ کرنے کی عادت میں مبتلا ہونے سے خود کو بچا سکیں۔