Back to: فاطمہ عطا المصطفیٰ
- ازقلم : فاطمہ عطا المصطفیٰ(گوجرانوالہ)
- صنف : کالم
- عنوان : انسانی رویے اور اس کے اثرات
انسان کو سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب کوئی دوسرا انسان اپنے رویے سے اس کی ذات کو بے مول کرتا ہے۔ دوسری طرف انسان کو سب سے زیادہ خوشی تب ہوتی ہے جب وہ اپنی ہوئی تذلیل کا بدلہ نازیبا الفاظ کا استعمال کر کے کسی دوسرے کی تذلیل کرتے ہوئے لیتا ہے۔ یوں وہ اپنے اندر کی آگ کو تو بجھا چکا ہوتا ہے اور وقتی طور پر اپنا بدلہ بھی لے چکا ہوتا ہے۔ لیکن درحقیقت برائی کے ساتھ برائی کر کے ہم بدلہ نہیں لیتے ہم اپنے آپ کو ندامت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ غلط رویے کے ساتھ اچھا رویہ اپنانا اور رب العالمین کی خوشنودی کے لیے لوگوں کو معاف کرنا آپ کو ذہنی بیمار نہیں ہونے دیتا۔
جہاں وقت کے ساتھ سب کچھ تبدیل ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح لوگوں کا رویہ بدل جانا بھی ایک فطری عمل ہے۔ ہمارے اختیار میں یہ چیز نہیں ہے کہ ہم کسی دوسرے کے رویے کو تبدیل کر سکیں۔ البتہ جس چیز کا ہمارے اختیار ہمارے پاس ہے ہم اس کا بہترین استعمال تو کر سکتے ہیں۔ اگر ہماری نیت میں کھوٹ نہ ہو اور ہم کوشش کریں تو ہم دوسروں کے منفی رویے کو بھی مثبت رویے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اپنے رویے کو اپنا ہتھیار بنا لیں۔
لوگ آپ کے رویے سے متاثر ہوئے بنا نہ ره سکیں۔ “یہ آپ کا بہترین رویہ ہی ہوتا ہے جو آپ کی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے۔” لیکن اس بہترین رویے کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنا سرا سر غلط ہے۔ ایک بہترین استاد، ایک بہترین بہن، ایک بہترین بھائی، ایک بہترین والدین، اور ایک بہترین انسان کا رویہ اتنا اچھا ہوتا ہے کہ اُن جیسا بننے کی خواہش کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دوسروں کے ساتھ بہترین سلوک اپنانے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین!