Back to: فاطمہ عطا المصطفیٰ
- صنف: موٹیویشن تحریر
- عنوان: حقوق العباد
حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق۔ یہ ایسے حقوق ہیں جن کی تلافی ناممکن ہے۔ اللہ، حقوق اللہ تو معاف کر سکتا ہے۔ لیکن! اگر آپ اللہ کے بندوں کا دل دُکھاتے ہیں، انہیں ذہنی اذیت، جسمانی تکلیف پہنچاتے ہیں۔ تو؛ یاد رکھیں! “بندوں کے حقوق بندوں نے ہی معاف کرنے ہیں۔”
اگر آپ اللہ کے بندوں کے ساتھ زیادتیاں کرکے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں سے کی گئی زیادتیوں کا بدلہ ضرور لیتا ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے آپ کو چاہیے کہ حقوق العباد کو بالکل ایک عبادت کی طرح ادا کرے۔ جیسے آپ پانچ وقت کی نماز، روزے اپنا فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح بندوں کے حقوق ادا کرے۔ اللہ کے بندوں کو خفا نہ کریں۔ اللہ اس بندے سے خفا ہوتا ہے، جو اس کے بندے کی دل آزاری کرتا ہے۔بابا بھلے شاہ کہتے ہیں:
| مسجد ڈھا دے، مندر ڈھا دے ڈھیندا جو کجھ ڈھا دے اِک بندے دا دل ناں ڈھاویں رب! دلّاں وچّ رھیندا |
دلوں میں رب رہتا ہے، مطلب اگر آپ لوگوں کا دل دُکھا رہے ہیں تو آپ اللہ کریم کو ناراض کر رہے ہیں۔ حسد، فسادات ان سے کچھ نہیں ملتا سوائے بےسکونی کے۔ ابھی حیات ہیں، ابھی اپنے حقوق ادا کریں۔ اپنے الفاظ سے بندوں کو ایسی موت نہ ماریں جس سے وہ خود سے ہی نفرت کرنے لگیں۔ اپنے اعمال کو خالص بنائیں اگر کسی کے ساتھ کوئی نیکی کی ہے تو اس کو تشہیر نہ کریں۔ اگر کسی نے آپ کے ساتھ ناانصافی کی ہے تو بدلے میں ناانصافی کرنا لازم نہیں ہے۔ اللہ کریم کی رضا کے لیے معاف کردیں۔”بیشک اللہ کریم آپ کو اس کا اجر ضرور دے گا۔” لوگوں کے لیے مسیحا بن جائیں جو اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتا اللہ اس کے ساتھ بھلائی کرتا ہے۔ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا سیکھیں۔ زندگی فانی ہے۔ مگر! آپ کے اعمال دائمی ہیں۔
| ازقلم: | فاطمہ عطاالمصطفیٰ(گوجرانوالہ) |