تعلیم کا مقصد صرف ڈگری نہیں

0
  • عنوان : تعلیم کا مقصد صرف ڈگری نہیں
  • صنف : مضمون نویسی
  • ازقلم : فاطمہ عطاء المصطفیٰ

دورِ حاضر میں تعلیم حاصل کرنا صرف ڈگری لینے تک محدود ہو گیا ہے۔ یونیورسٹیوں میں شعور بیدار کرنے کی نسبت صرف ڈگری حاصل کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔ اگر اسکول اور کالج کی بات کی جائے تو وہاں بھی بہت کم لوگ ایسے ہیں جو علم کو زیور کی طرح اپنے آپ پر زیبِ تن کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ اکثر طلبہ و طالبات اپنی ظاہری تیاری اور میل جول پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، جبکہ اصل مقصد یعنی تعلیم پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پڑھائی کے بجائے غیر نصابی اور غیر تعلیمی سرگرمیوں میں زیادہ وقت صرف ہو جاتا ہے، جو تعلیمی معیار کو متاثر کرتا ہے۔

ہمارا نوجوان طبقہ اپنے اصل مقاصد سے بہت دور جا چکا ہے، کیونکہ اُن کے ذہنوں میں پیسہ ہی اُن کی زیست کا محور بنا دیا گیا ہے۔ اب وہ سمجھتے ہیں کہ پیسے سے ڈگری خریدی جا سکتی ہے، مگر یہ نہیں جانتے کہ شعور صرف تعلیم حاصل کرنے سے آتا ہے۔ پیسے سے چیزیں خریدی جا سکتی ہیں، مگر علم نہیں۔ علم ایک ایسی دولت ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ تعلیم کے بغیر انسان مکمل نہیں ہوتا تو غلط نہ ہوگا۔ تعلیم ہی انسان کو دنیا میں جینے کے قابل بناتی ہے۔

اگر دینِ اسلام کی بات کی جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

“طلبُ العلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلمٍ” (سنن ابن ماجہ، حدیث: 224)

ترجمہ: “علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔”

روایتِ ضعیف:

“ماں کی گود سے لے کر قبر تک علم حاصل کرو۔”

علم کا تعلق عمر سے نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں نوجوان نسل کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ وہ ایک مخصوص عمر تک ہی علم حاصل کر سکتے ہیں، اور یہ مسئلہ زیادہ تر خواتین کے لیے پیش آتا ہے۔ ہماری زندگی کا محور تعلیم ہی ہونا چاہیے۔

شاعرِ مشرق، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کہتے ہیں:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

یعنی تم علم کے ذریعے خود کو اس قدر بلند کر لو کہ تقدیر بھی تم سے تمہاری رضا مندی پوچھے۔

پاکستان میں کثیر تعداد میں لوگ وقت ضائع کرنے، گھر سے فرار ہونے اور صرف ہاتھ میں ڈگری دیکھنے کے لیے تعلیمی ادارے جوائن کرتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی ہمارے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتے، جو علم کو حاصل کرنا بوجھ سمجھیں، فرض نہیں۔

آج جب دور اتنا جدید ہے کہ ٹیکنالوجی کو کھلونوں کی مانند استعمال کیا جاتا ہے، اگر ہم اس دور میں بھی علم حاصل نہ کریں تو نہ صرف ایک نسل بلکہ آنے والی کئی نسلیں خسارے میں ہوں گی۔ آج کے جدید دور میں تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ علم اور شعور کی روشنی سے خود کو منور کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تعلیم کو صرف ایک رسمی کام نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی شخصیت اور معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنائیں۔ تب ہی ہم ایک روشن، باشعور اور کامیاب قوم بن سکیں گے، جو ہر میدان میں خود مختاری اور ترقی کے نئے معیار قائم کرے گی۔