Back to: فاطمہ عطا المصطفیٰ
- ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ(گوجرانوالہ)
- صنف : کالم
- عنوان : اپنے فیصلے خود لیں
رب العالمین نے انسان کو سوچنے و سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے۔ آپ کو کس شعبے میں جانا چاہیے؟ آپ کو کون سی نوکری کرنی چاہیے؟ آپ کو کیسے کپڑے پہننے چاہیے؟ آپ کو کس انسان سے رابطہ رکھنا چاہیے؟ یہ تمام فیصلے آپ نے کرنے ہیں لوگوں نے نہیں۔ کیوں کہ وہ آپ کی زندگی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ہر بات پر لوگوں کی رائے لینا اپنے آپ کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے، اور جو انسان دوسروں پر منحصر رہتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوتا۔
زندگی میں اکثر ایسے مقامات آتے ہیں جہاں کوئی بھی میسر نہیں ہوتا تب آپ نے اپنے فیصلے خود ہی لینے ہوتے ہیں۔ اگر آپ ٹین اینجرز سے ہی اپنے فیصلے لینا شروع کرتے ہیں لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ آپ کی بھی مرضی ہوتی ہے تو وہ کبھی بھی آپ کی زندگی کے فیصلے آپ کی رضا مندی کے بغیر نہیں لیں گے۔ آپ کی رضا مندی اُن کی اولین ترجیح ہو گی۔ ہر انسان نے اپنی عزت نفس کا خیال خود ہی رکھنا ہوتا ہے دوسرے آپ کی عزت نفس کا خیال کبھی نہیں رکھ سکتے۔
آپ خود کو اس قابل بنائیں کہ آپ کے بڑے آپ کو جھکا نہ سکیں۔ کیوں کہ ناقابل برداشت ہوتے ہیں ایسے بڑے جو ہر وقت چھوٹوں کو جھکانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ وہ بڑے پھر ہر وقت چھوٹوں پر اپنے بڑے ہونے کا روعب جماتے ہیں۔ ہر وقت چھوٹوں کی عزت نفس مجروح کرنے والے بڑے یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں، کہ اپنی عزت میں سمجھوتہ کرنا ہر انسان کے لیے باعث تکلیف ہوتا ہے۔ عزت تو سب کی سانجھی ہوتی ہے۔ بڑا چھوٹا کچھ بھی تو نہیں ہوتا۔
اگر کچھ لوگ سمجھوتہ کرکے چپ چاپ بڑوں کی کی گئی باتوں پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ تو یہ اُن کا ظرف ہے اور اسی طرح اگر کچھ لوگ اپنی عزت میں کمی برداشت نہیں کرتے وہ اس بات کو اپنی توہین سمجھتے ہیں کہ کوئی ان کی ذات پر بات کرے۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ سب کو سمجھنا چاہیے ہر وقت ہم بڑے ہیں، اس بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنائیں اور نہ ہی اس بات کو بڑھاوا دیں۔ اگر بڑے چھوٹوں کو سمجھیں اور چھوٹے بھی بڑوں کی بات کو نظر انداز کر دیں تو مسئلے حل ہو سکتے ہیں۔ آپ پہلے اپنے مسائل حل کرنے کی خود کاوش کیا کیجئے اور اگر آپ کو کچھ سمجھ نہیں آتا پھر اپنے بڑوں سے مشورہ کریں۔ آپ اپنے بڑوں پر انحصار کرنا چھوڑ دیں تو وہ آپ کو باتیں کرنا چھوڑ دیں گے۔
رب العالمین ہم سب کو اپنے فیصلے خود کرنے اور ان فیصلوں پر ڈٹ جانے والا بنائے۔ اگر آپ کا کوئی فیصلہ غلط ثابت ہو جائے تو اسے اپنے حواسوں پر سوار مت کریں، بلکہ اس سے سبق سیکھ لیں۔ خود کو ایسا محسوس مت کروائیں کہ آپ کے کیے فیصلے غلط ہوتے ہیں اکثر ہمارے دماغ میں یہ بات آجاتی ہے کہ پہلے بھی تو میں نے غلط فیصلہ کیا تھا اب بھی غلط ہی ہو گا۔ آپ بے بس ہر مرتبہ نہیں ہوتے اور نہ ہی ہر مرتبہ آپ کا کیا فیصلہ غلط ہوتا ہے۔