Back to: فاطمہ عطا المصطفیٰ
یہ کہانی ہے ہر اس انسان کے نام جو یک طرفہ محبت کو اپنی زندگی کی ادھُوری کہانی سمجھتے ہیں۔ دراصل یک طرفہ محبت ہی مکمل محبت ہوتی ہے۔ اور اگر آپ کسی کو چاہتے ہیں تو ضروری نہیں وہ بھی آپ کو چاہے۔ کسی سے محبت کرنا ، کسی کی عزت کرنا اور کسی پر احسان کرنا تین ایسی چیزیں ہیں جسے ادا کرکے بھول جانا چاہیے۔ جو چاہتے ہیں ہمیں جس سے محبت ہو بدلے میں اسی انسان سے ہمیں محبت اور عزت ملے تو ایسی توقع رکھنے والے “خالی ہاتھ” رہ جاتے ہیں۔ آپ کو محبت اور عزت ملے گی مگر کوئی دوسرا انسان دے گا۔ جسے خوشی سے قبول کرنا چاہیے۔
- ازقلم: فاطمہ عطاالمصطفیٰ
- صنف: افسانہ
- عنوان: خالی ہاتھ
رات کی تاریکی، ہر سو خاموشی کا راج، ٹھنڈی ہوائیں، صاف آسمان، پرسکون ماحول اور وہ چھت پر کھڑی اپنی سوچوں میں گم تھی۔ آس پاس کا اُسے کوئی ہوش نہیں تھا۔ اس کی کالی آنکھیں بالکل ویران تھیں۔ چہرہ بالکل مرجھایا ہوا تھا۔ وہ صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی۔ سادہ سی شلوار قمیض زیب تن کی ہوئی تھی۔ اگر کوئی اسے اس حال میں دیکھتا تو یہی کہتا؛ وہ بائیس سال کی لڑکی پتا نہیں کتنے دکھ دیکھ چکی تھی۔
ایشال! بیٹا اِدھر کیا کر رہی ہو؟ کیا آج بھی سونے کا ارادہ نہیں ہے۔
وہ کل کی طرح آج بھی اس سے یہ ہی سوال کر رہیں تھیں۔
اچانک آواز پر ایشال چونک گئی۔ اماں! آپ یہاں کیا کر رہی ہیں۔ اس نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔ اُن کے سوال کا جواب ایشال کے پاس نہیں تھا۔
ایشال کو نیچے نہ پا کر وہ چھت پر آئی تھیں۔
ایشال! آج دو دن ہو گئے ہیں۔ تم ایک منٹ کے لیے بھی نہیں سوئی۔
آپ کو پتا تو ہے، مجھے نیند نہیں آتی۔ ایشال کی آنکھوں میں ندامت تھی۔
آجاؤ نیچے چلیں۔ انہوں نے ایشال کا بازو تھامہ اور نیچے آگئیں۔
نسیم بیگم کا گھر پرانے زمانے کا اور خستہ حالت کا تھا۔ مگر انہوں نے اپنے گھر کو صاف ستھرا رکھا ہوا تھا۔ دو کمرے،ایک چھوٹا سا کچن، ایک باتھ روم اور چھوٹے سے صحن پر مشتمل یہ مکان نسیم بیگم
کے لیے کسی محل سے کم نہ تھا۔ نسیم بیگم یہاں پر اکیلی ہی رہتی تھیں۔ اُن کی اولاد نہ تھی۔ اور شوہر کا انتقال ہو چکا تھا۔ نسیم بیگم کی عمر تقریباً پچاس کے قریب تھی۔ سانولی رنگت، سفید بال، وہ پانچ وقت کی نماز ادا کرنے والی، اور رب کی رضا میں راضی رہنے والی صابر خاتون تھیں۔
بیٹا! تمہیں آگے بڑھ جانا چاہیے۔ تم کیوں خود کو اذیت دے رہی ہو۔ وہ تمہارے قابل نہیں تھا۔
اماں! اس نے مجھے ریجیکٹ کر دیا۔ ایشال کی آنکھوں میں دُکھ تھا۔
یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ جانتی تھیں ایشال اذیت میں ہے، لیکن وہ صرف اسے حوصلہ ہی دے سکتی تھیں۔
ایشال خاموش رہی۔
ایشال بیٹا! تم مجھے بتاؤ۔ کیا چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے۔
اماں! آپ جانتی ہی ہیں میں نے بھری محفل میں اپنی تذلیل برداشت کی ہے۔ پہلے میرے باپ نے اور اب اس نے مجھے ٹھکرایا ہے، صرف اور صرف اس لیے کہ انہوں نے مجھے کبھی بیوی والی نظر سے نہیں دیکھا۔ اماں! “آپ کو پتا ہے، ریجکشن کا مطلب ریجکشن ہی ہوتا ہے۔چاہے پیار سے ریجیکٹ کیا جائے، غصے سے کیا جائے، دُکھ سے کیا جائے، یا کوئی کسی کو اپنے دل کے سکون کے لیے ہی کیوں نہ ریجیکٹ کریں، اماں! ہمارے پاس یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کسی کو ٹھکرائیں۔ ریجیکٹ ہونے والے کے دماغ میں ہمیشہ یہ بات ضرور رہتی ہے، کہ وہ ٹھکرایا گیا ہے۔” م۔م۔میں ٹوٹ۔ٹ چکی ہو۔ یہ الفاظ ایشال نے کیسے ادا کیے تھے، وہی جانتی تھی۔
اماں نے اس کا دل بہلانے کی ہر ممکن کوشش کی اور باتیں کرتے کرتے ان کی آنکھ لگ گئی۔
ایشال کی آنکھوں سے تو نیند روٹھی ہوئی تھی۔
••••••••••••••••••••••
امی! میں اسے پسند نہیں کرتا تھا۔ آپ جان بوجھ کر اُسے میرے سر پر مسلط کرنا چاہتی تھیں۔
ریان! وہ میری بھانجی ہے۔ میں اسے کیسے چھوڑ سکتی تھی۔ وہ تم سے محبت کرتی ہے۔
امی! پلیز ايشال میں اور مجھ میں کافی فرق ہے۔ وہ مجھ سے آٹھ سال چھوٹی ہے، اور میں نے تو اسے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا۔ آپ نے میری رضا مندی کے بغیر ہی میرا نکاح رکھ دیا۔ میں نے اسے ریجیکٹ کر کے غلط کیا، مجھے معلوم ہے۔ مگر میں اس کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتا۔
نیلم بیگم اس وقت بہت پریشان تھیں اُن کو ایشال کی فکر تھی وہ بغیر بتائے گھر سے گئی تھی۔ اور دو دن سے اس کی کوئی خبر بھی نہیں تھی۔
••••••••••••••••••
ایشال کی والدہ کا انتقال بارہ سال قبل ہوگیا تھا۔ اس وقت ایشال کی عمر صرف دس سال تھی۔ والدہ کے انتقال کے تین مہینے بعد ہی اس کے والد ملک سے باہر چلے گئے۔ ايشال کو وہ اپنے ساتھ رکھنے پر راضی نہیں تھے۔ تو اس کی خالہ ایشال کو ساتھ اپنے گھر لے آئیں۔ ايشال کو کب ریان سے محبت ہو گئی اسے خود بھی نہیں پتا چلا۔ نیلم بیگم کو ریان کے لیے ایشال کافی پسند تھی۔ اور وہ ایشال کی آنکھوں میں ریان کے لیے پسندیدگی بھی دیکھ چکی تھیں۔ مگر ریان نے عین نکاح کے وقت انکار کیا تھا۔ “کبھی کبھی ہم غلط کرنا تو نہیں چاہتے مگر ہم سے بہت کچھ غلط ہو جاتا ہے۔” اور ریان سے بھی ایسا ہی کچھ ہو گیا تھا۔ یا شاید اس نے صحیح کیا تھا۔ “کسی ایسے انسان کے ساتھ زندگی گزارنا جسے آپ پسند نہیں کرتے، یہ بھی ذہنی اذیت ہی ہوتی ہے۔”
•••••••••••••••••••
دن گزرتے جا رہے تھے۔ نسیم بیگم کی ایشال کو لے پریشانی بھی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ نہ وہ سوتی تھی، نہ ہی وہ کچھ کھاتی تھی۔ بس ہر وقت سوچوں میں گم رہتی تھی۔ انہوں نے ايشال کو مصروف کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایشال! کل سے تم نے اپنے کالج جانا ہے۔ اماں! آپ کو پتا ہے میں نہیں پڑھنا چاہتی۔ ایشال! تم اپنی پڑھائی تو مکمل کرو بیٹا۔ تم نے پڑھ کر خود کو جیتنا ہے، اپنی زندگی کو جینا ہے، تمہیں یاد ہے تم ہمیشہ کامیاب ہوتی ہو۔
لیکن اب تو ہار گئی میں۔ اماں! “کتنی ظالم ہوتی ہیں وہ ہاریں جس کے بعد جیتنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ ایک ایسی جگہ ہار جانا جہاں آپ جیتنا چاہتے ہیں اور آپ جیت نہیں پاتے اس کے بعد آپ جتنے بھی کامیاب کیوں نہ ہو جائیں آپ کو وہ خوشی نہیں ملتی جتنی خوشی آپ کی کامیابی حقدار ہوتی ہے۔” اماں! اب میں کبھی بھی نہیں جیتنا چاہتی۔ میں اپنی کامیابی کو قبول نہیں کر پاؤ گی۔
ایشال یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
•••••••••••••••••••
کمرے میں آکر اس کی آنکھیں پھر نم ہو گئی تھیں۔ اس نے میز سے اپنی ڈائری اٹھائی اور کچھ لکھنے لگی۔ “جب کوئی درد سننے والا نہ ہو یا جب کبھی اپنا حال کسی کو سنانے کو دل نہ کرے تو کوشش کرنی چاہیے اپنا درد کاغذ پر لکھ لیں۔”
سنو!!!
میرے لاعلاج مرض کی دوا تم ہو
میری صبح، میری شام تم ہو
میں کیسے خود کو سنبھالوں
میری اک ان چاہی دعا تم ہو
تیرے ہونے سے ہی میں ہوں
تو نہیں تو میں بھی نہیں
تیری چاہت نے نکھارا مجھے
تیری بے رخی نے بِکھیرا مجھے
تُجھے سمجھا میں نے اپنوں کی طرح
تو نے رُلایا مجھے غیروں کی طرح
میرے خیال تو تُجھ سے ملتے ہیں
لیکن،
میرے جذبات نہیں ملتے
کچھ کہنا، کچھ سننا چاہتی ہوں میں
مگر،
کبھی الفاظ نہیں ملتے، کبھی تم نہیں ملتے
ہونٹوں کو سینا چاہتی ہوں
یعنی صبر کی انتہا کرنا چاہتی تھی
دوریاں مٹانا چاہتی تھی میں
تُجھے تاحیات پانا چاہتی تھی میں
ہم قدم ہوئے ہم، مگر رستے نہیں ملے
( فاطمہ عطاالمصطفیٰ)
کاش ریان! آپ کو اندازہ ہو سکتا، آپ نے مجھے کتنی اذیت دی ہے۔
••••••••••••••••••••
امی! ایشال کا پتا چل گیا ہے وہ لاہور میں ہی ہے۔ آپ کی کزن نسیم آنٹی کے گھر پر ہے۔ وہ مجھ سے ناراض ہے۔ ریان! وہ واپس نہیں آئے گی اب۔ بہت ضدی ہے وہ، اور میں بھی یہ ہی چاہتی ہوں وہ کچھ عرصہ وہی پر رہے۔
لیکن اگر تم سے معافی مانگنا چاہتے ہو تو تم جاؤ اس سے بات کرو۔ اسے سمجھاؤ میں نہیں جاؤں گی۔
میں اس سے معافی مانگنے بھی جاؤ گا، لیکن پہلے آپ سے تو معافی مانگ لوں۔ امی! میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ “کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر ہم چل تو پڑتے ہیں، مگر مطمئن نہیں ہوتے۔ ایسے راستے صرف ہمارے دل پر بوجھ ہوتے ہیں، اور یہ وہی راستے ہوتے ہیں جن کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔” آپ مجھ سے ناراض مت ہوں پلیز۔
میں تم سے ناراض نہیں ہوں ریان۔ لیکن تم نے میری بیٹی کا دل دکھایا ہے۔
وہ کافی دیر تک اپنی ماں کے پاس بیٹھا رہا، اور پھر اُن کو دوا دے کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
نیلم بیگم سوچ رہی تھیں۔ ايشال وہاں کیسے رہتی ہو گی۔ وہ تو اے۔ سی کے بغیر نہیں رہتی تھی۔ پورے گھر میں اس کی آوازیں گونجا کرتی تھیں۔ وہ عالی شان زندگی گزار رہی تھی یہاں پر اور ویسے بھی انہیں اپنا گھر ویران لگ رہا تھا، ايشال کے بنا۔ نیلم بیگم اور ايشال ایک جیسی ہی لگتی تھیں۔ جیسے وہ حقیت میں ان ہی کی بیٹی ہو۔ ان کے جیسی کالی آنکھیں، ان کے جیسا سفید رنگ، فرق صرف یہ تھا۔ نیلم بیگم کے بال زیادہ لمبے نہ تھے اور رنگ بھی بالوں کا براؤن تھا۔ ايشال کے بال کالے تھے اور لمبے بھی تھے۔ ایشال پتلی سی تھی۔ اور نیلم بیگم تھوڑی صحت مند تھیں۔ عمر ان کی چالیس سے زائد ہی ہو گی۔
•••••••••••••••••
اگلے دن وہ نسیم بیگم کے گھر حاضر تھا۔ بڑی مشکل سے نسیم بیگم نے ایشال کو ملنے پر آمادہ کیا تھا۔
یہ کیا حرکت تھی۔ بنا بتاۓ گھر سے نکلنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔
وہ میرا گھر نہیں ہے۔ اس نے غصے سے کہا۔ جیسے اپنی ریجکشن کا بدلہ لینا چاہتی ہو۔
ایشال! میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔
اگر آپ غلط نہیں تھے تو معافی کیوں مانگ رہے ہیں۔
تمہارا دل دکھایا میں نے اسی لیے۔
تو کیا آپ کی معافی سے میرا دکھا دل ٹھیک ہو جائے گا۔ آواز میں تکلیف تھی۔
نہیں ہوگا۔ لیکن معافی مانگنا میرا فرض ہے۔ ریان نے سنجدگی سے کہا۔ میں اب تمہارے سامنے نہیں آؤں گا۔ ریان جیسے اس کی اذیت کو کم کرنا چاہتا تها۔
سامنے نہ آنے سے کیا ہوگا۔ “کبھی آپ نے سوچا: آپ کو بھولتے بھولتے مجھے صدیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ مجھے معلوم ہے اس سفر کو طے کرنا تو میرے بخت میں لکھ دیا گیا ہے۔ لیکن اگر میں نے اس سفر میں اپنی ذات کو یا اپنی یادداشت کو کھو دیا تو، آپ کی باتیں نہ صرف میرے دماغ پر سوار ہو گئی ہیں، بلکہ آپ کی یادیں مجھے دیوانہ کردینے کا ہنر رکھتی ہیں۔”
تمہاری محبت یک طرفہ ہے۔ ریان نے یاد دلایا۔
” کیا؟ میں نے کہا! مجھے آپ سے محبت ہو۔” ایشال ناچاہتے ہوئے بھی غصہ ہو رہی تھی۔
تمہارے ہونے سے صرف تمہیں ہی فرق پڑتا ہے کسی کو فرق نہیں پڑنا۔ کبھی تم نے سوچا ہے اس بارے میں۔ ریان نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
“کیوں؟ صرف مجھے ہی فرق پڑتا ہے۔ کیوں آپ کو فرق نہیں پڑتا۔ بتائیں مجھے۔ حالانکہ آپ کو فرق پڑنا چاہیے۔ میرے خیال سے ہر اس انسان کو فرق پڑنا چاہیے جو کسی نا کسی سے یک طرفہ محبت میں گرفتار ہیں۔”
“ایشال! یہ تو ہمدردی ہوئی ناں۔ محبت کرنے والوں کے لیے ہمدردی نہیں محبت ہی ہونی چاہیے۔ تمہیں میں نہیں مل سکتا اگر میں تمہیں مل گیا تو میں صرف ہمدردی ہی کروں گا محبت نہیں۔ تم محبت کی مستحق ہو اور وہ ہی تمہیں ملے گی۔” اپنا حال دیکھا تم نے۔ جاؤ شیشے میں دیکھو۔ خوش رہا کرو۔ ریان سے ایشل ایسے دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ وہ تو شرارتے کرتی ہی پیاری لگتی تھی۔
“ریان!میرے قہقے ناں میرے خلاف ہو گئے ہیں جھوٹا ہی سہی لیکن میں ہنس نہیں پاتی۔ کیا اس سے زیادہ کھٹن آزمائش بھی ہو سکتی ہے بھلا۔ میرا درد نہ صرف میرے چہرے پر عیاں ہو رہا ہے۔ بلکہ مجھے ملی اس اذیت نے میری روح بھی زخمی کر دی ہے۔اور جب روح زخمی ہوتی ہے ناں تو وہ ساری زندگی زخمی ہی رہتی ہے اس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔”
کیا تم بھیک میں ملی محبت چاہتی ہو، اگر تم ایسا چاہتی ہو تو میں تم سے شادی کر لوں گا۔
آپ کو یہ غلط فہمی ہے کہ میں آپ سے اب شادی کروں گی۔ آپ نے سب کے سامنے میرا تماشا بنایا تھا۔ مجھے آپ سے محبت ہے لیکن مجھے اپنی عزت نفس سے آپ سے بھی زیادہ محبت ہے۔ جو ایک دفعہ ٹھکرا دے وہ دوبارہ بھی ٹھکرا سکتا ہے۔
“تو کیوں محبت نہ ملنے کے سوگ میں مبتلا ہو۔ تمہیں مجھ سے محبت تھی، مجھے بتایا میں نے منع کیا۔ تو تم پر فرض تھا تم اپنی یک طرفہ محبت کو ایک راز رکھتی۔ معلوم ہے؛ راز کیسے رکھے جاتے ہیں۔ راز کو اپنے قلب میں دفن کرتے ہیں اور پھر فاتحہ پڑھ کر اپنے دل پر پھونک مار دیتے ہیں۔”
میں نے بارہ سال آپ کے گھر پر گزارے ہیں۔ کیا آپ کو مجھ میں کوئی عادت بھی اچھی نہیں لگی۔ دیکھ لیں بارہ سال کے انتظار کے بعد بھی میں خالی ہاتھ ہی ہوں۔ آنکھیں افسردہ تھیں اس کی۔
“اگر خوشیاں تقسیم کرتے کرتے آپ “خالی ہاتھ” رہ جائیں تو آپ خالی ہاتھ صرف اس دنیا میں رہے ہیں آخرت میں آپ کو اس کا اجر مل کر رہے گا۔”
اس کی آخری بات پر اس نے نم آنکھوں سے ریان کو دیکھا۔ ہلکی ہلکی بریڈ، بھوری آنکھیں، لمبا قد، سانولی رنگت کتنا حسین تھا وہ۔ کبھی کبھی ایشال کو لگتا تھا وہ اس کے قابل ہی نہیں ہے۔ کہاں وہ ہینڈسم اور الیکٹرک انجینئر اور اس کا تو ماسٹرز بھی مکمل نہیں تھا۔
اس کو مسلسل خود کو تکتا پا کر اُس نے جانے کا فیصلہ کیا۔ میں اب چلتا ہوں، امی انتظار کر رہی ہوں گی۔
میں اب آپ کے گھر نہیں آؤں گی۔ خالہ سے ملنے بھی نہیں۔ اس نے روتے ہوئے کہا۔
رہ لو گی اپنی خالہ کے بغیر۔ ریان کا یہ کہنا ايشال کے زخموں پر نمک چھڑکنا تھا۔
“ابھی مت آؤ۔ اپنے شوہر کے ساتھ آجانا۔” ریان نے ايشال کو تپانے کے لیے آخری الفاظ کہے۔
ايشال کو سمجھ ہی نہیں آئی وہ اُسے کیا جواب دے۔وہ جا چکا تھا۔ اور وہ صرف اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔ وقت نے اسے یہ اختیار ہی نہیں دیا کہ وہ اسی روک پاتی۔
ختم شد