Back to: فاطمہ عطا المصطفیٰ
- ازقلم: فاطمہ عطا المصطفیٰ
- صنف: مضمون
- عنوان: ختم نبوت
ختم نبوت کا معنی ہے ” مہر لگ جانا اور نبوت کا ختمہ ہوجانا۔”
رب العالمین نے ہدایت کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لیے انبیاء اور رسولوں کو بھیجا۔ نبوت کے سلسلے کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور اس کا اختتام حضرت محمد ﷺ پر ہوا۔ آپ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔
ختم نبوت کا ذکر قرآن مجید کی سو سے بھی زائد آیات میں واضح اور جامع طور پر کیا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّۦنَ” (سورة الأحزاب: آیت 40 )
ترجمہ: “محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم (یعنی آخری نبی) ہیں۔”
درج ذیل آیت سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ آپ ﷺ رب تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور مردوں میں آپ ﷺ کا کوئی بیٹا نہیں ہے اور نبی اکرم ﷺ پر نبوت کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
(سورة الأحزاب: آیت 21)
ترجمہ: “بے شک، تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے آپ ﷺ کی حیات ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آپ ﷺ نبوت اور رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ ﷺ نے خود اپنی ختم نبوت کا اعلان فرمایا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: “میری امت میں تیس اشخاص کذاب ہوں گے، اُن میں سے ہر کذاب کو یہ گمان ہو گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں ختم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔”
اس حدیث سے واضح ہو رہا ہے کہ اگر کوئی شخص حضرت محمد ﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ دار ہو، چاہے اس کا معنی جو بھی ہو مگر وہ کافر ہے، کاذب ہے، مرتد ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
“میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک خوبصورت عمارت بنائی، مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ پس وہ اینٹ میں ہوں، اور میں ختم النبیین ہوں۔”
اس حدیث میں آپ ﷺ نے اپنی نبوت کو ایک اینٹ سے تشبیہ دی ہے۔ اور اس بات کا اقرار کیا کہ وہ ختم النبیین ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
“اے لوگو بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں۔”
اس حدیث میں آپ ﷺ اپنی امت سے مخاطب ہوتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ نبی کی اُمت کے بعد کوئی اُمت نہیں آئے گی۔
ایک اُمتی محمدی ﷺ کے لیے اس سے بڑھ کر فخر کی بات کوئی نہیں ہے کہ وہ آپ ﷺ کی اُمت میں سے ہے۔
ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے نبی اکرم ﷺ ہر قوم، اور ہر انسانی طبقے کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں میں دین تکمیل کا اعلان کرتا ہے۔ قرآن مجید کے بعد نہ تو کسی کتاب کی ضرورت رہی اور نہ ہی کسی نبی کی حاجت ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی ہر پہلو کے ادوار سے بہترین ہے۔ آپ ﷺ نے زیادہ اخلاقی تعلیمات پر زور دیا جو تمام مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
مختلف ادوار میں ختم نبوت کا انکار کیا گیا ہے، لیکن علماء اکرام نے اس کی مذمت کی ہے، اور اس فتنے کو ختم کیا ہے۔
آج سے پچاس سال قبل 1973 کے آئین میں اس بات پر تمام فرقوں نے اتفاق کیا تھا کہ آپ ﷺ ہی ختم النبیین ہیں۔ اور پاکستان میں وہ تمام لوگ جو آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے پر انکار کرے گے اُن کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔
میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ راست پر چلنے کی توفیق دے۔ اور سیرت النبی ﷺ پر عمل کرنے کی ہدایت دے۔ ہم سب کو حق اور سچ بات کرنے والا بنائے۔ آمین ثمہ آمین!
تاجدار ختم نبوت زندہ باد!