پنجابی ثقافت

0
  • ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ
  • صنف: مضمون
  • عنوان: پنجابی ثقافت

ثقافت انسانی معاشروں میں پائے جانے والے سماجی رویے اور اصول ہوتے ہیں اس کے علاوہ ثقافت میں گروہوں کے افراد کا علم، فن، رسم ورواج، عقائد، عادات، صلاحیتیں، غذا، آداب اور لباس، تہوار شامل ہیں۔ ثقافت وقت اور ضرورت کے مطابق بدلتا رہتا ہے لیکن یہ لوگوں کے دل اور دماغ پر اثر رکھتا ہے۔

ثقافت عربی زبان کے لفظ سے نکلا ہے جس کا مطلب “کسی قوم یا طبقے کی تہذیب ہے۔” ثقافت کو انگریزی میں “کلچر” کہا جاتا ہے۔
ثقافت کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ ثقافت کسی بھی قوم کا اہم ترین جز ہے۔ پاکستان میں ہر علاقے کی اپنی اپنی ثقافت اور پہچان ہے۔ ہر علاقہ اپنی ثقافت کی وجہ سے مشہور ہے۔
میرا تعلق پنجاب سے ہے میں آپ کو پنجاب کی ثقافت سے آگاہ کرتی ہوں۔

پنجابی ثقافت:

پنجاب پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب پنج اور آب سے بنا ہے پنج کا مطلب پانچ اور آب کا مطلب دریا۔ پنجاب کا نام پانچ دریاؤں کی نسبت سے پنجاب رکھا گیا۔ پنجاب کی ثقافت ایک قدیم ترین ثقافت ہے۔

تاریخ:

پنجاب کی ثقافت کا ذکر چودھویں صدی کے سیاہ ابن بطوطہ کی تحریروں میں تھا۔مگر اس وقت کے لوگ زیادہ علم نہیں رکھتے تھے تبی اپنی ثقافت کو فروغ نہ دے سکے۔ اس کا مکمل آغاز سولہویں صدی میں ہوا۔ اس ثقافت کا آغاز شیر شاہ سوری کے زمانے میں ہوا تھا۔

پنجاب میں اسلام کی اشاعت اولیاء نے اور صوفیاء کرام نے کیا۔ بہت سے صوفیاء کرام غیر مسلموں کو اسلام قبول کروانے میں بھی کامیاب ہو گئے تھے۔مادھو لال حسین، وارث شاہ، بھلے شاہ، خواجہ غلام، بابا فرید گنج نے اپنے کلام کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں گھر کیا۔

ویساں وچوں دیس پنجاب اے سجنو
جویں پھلاں و پھل گلاب اے سجنو

زبان:

ہر علاقے کی اپنی اپنی زبان ہے۔۔ ہر علاقہ اپنے علاقے کے لحاظ سے زبان بولتے ہیں۔ پنجاب میں رہنے والے زیادہ تر لوگ پنجابی بولتے ہیں۔ پنجابی زبان بولنے اور سننے کے لحاظ سے بہت مزے کی زبان ہے۔

لباس:

پنجاب کے لوگ شلوار قمیض کا استمعال کرتے ہیں۔ پنجاب کا ثقافتی لباس سادہ اور منفرد ہے۔مرد شلوار قمیض کے ساتھ پگڑی اور عورتیں پراندہ بھی پہنتی ہیں۔

کھیل:

کھیل انسان کو جسمانی اور ذہنی طور پر تندرست رکھتا ہے۔پنجاب کے لوگ زیادہ تر گلی ڈنڈا، چور سپاہی، یسو پنجو، کلی جوٹا، انچ نیچ کا پہاڑ کھیلتے ہیں اس کے علاوہ اور بھی بیشمار کھیل شامل ہیں۔

لوک داستانیں:

پنجابی لوک داستانیں میں ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحبہ اپنی مثال آپ ہیں۔

تہوار:

پنجاب کے لوگ زندہ دل ہیں۔پنجاب میں ہر تہوار بہت ذوق سے منایا جاتا ہے۔ پنجاب کے تہوار میں بسنت،میلا چراغاں، جوڑ میلہ، بیساکھی بہت مقبول ہیں۔ اس کے علاوہ عیدالفطر، عید الاضحٰی، عید میلاد النبی مذہبی تہواروں کو بھی بہت دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔

پنجاب میں جشن آزادی کے موقع پر لوگ اپنے ملک سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ کشمیر ڈے پر کشمیر سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

پنجاب میں کوئی بھی تہوار ہو لوگ یکجا رہتے ہیں اور اپنی خوشیوں میں دوسرے پنجابی بہن بھائیوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔

مذہبی روایات:

پنجاب کے لوگ اپنے مذہب کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ پنجاب میں بچوں کی دین کی تعلیم پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچے،بزرگ نوجوان نماز کی پابندی کرتے ہیں۔

تعلیمی ادارے:

پنجاب میں تعلیم کا نظام باقی علاقوں کی نسبت بہت بہتر ہے۔ پنجاب میں لڑکیوں اور لڑکوں کی تعلیم کے لیے کالجز کے علاوہ بےشمار یونیورسٹیز بھی ہیں جہاں طلباء اپنی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

شادی:

پنجاب میں شادی کے موقع پر تمام رشتے دار پہلے ہی اکھٹے ہو جاتے ہیں۔ بہت سی رسومات کی جاتی ہیں جن میں لڑکی کا مایوں بیٹھنا، ڈھولکی، مہندی، بارات، ولیمہ، مکلاوا شامل ہے۔

خوراک:

پنجاب میں رہنے والے لوگ موسم کے لحاظ سے خوراک کا استمعال کرتے ہیں۔ گرمیوں میں ٹھنڈے مشروبات کا استمعال کیا جاتا ہے۔ اور سردیوں میں گرم مشروبات کثرت سے استمعال کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سردیوں میں گاجر کا حلوہ، ساگ،تو ہر گھر میں بنتے ہیں۔سردیوں میں خشک ميوہ جات کا استمعال کیا جاتا ہے۔گرمی ہو یا سردی پنجابی اپنا ہر موسم خوشگوار بنا لیتے ہیں۔

انسان کی اصل پہچان اس کی ثقافت سے ہے۔ہم پنجابی اپنا ہر دن خاص بنا لیتے ہیں۔ہر انسان کو چاہیے کہ اپنی ثقافت کو فروغ دے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس کی پیروی کر سکیں۔