Back to: فاطمہ عطا المصطفیٰ
- عنوان : سکون مطلب اللہ کی عبادت
- صنف: کالم
آج کی نوجوان نسل کا مسئلہ پتا ہے کیا ہے؟؟
وہ سکون کی کھوج میں اچھائی اور برائی، حلال اور حرام، محرم اور نامحرم کا فرق بھول جاتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وقتی سکون ہمارا مستقبل داؤ پر لگا دیتا ہے۔ آپکی کی گئی اغلاط چاہے قابل معافی ہوں یا نہیں ہوں آپ کو ان کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑتا۔
یاد رکھیں!!! ایک مومن کے امتحان میں بھٹک جانا بھی ہے۔ شیطان کا تو کام ہے اُکسانا کہ نامحرم سے بات کرنے سے کچھ بھی ہوتا۔ لیکن یہ ہمیں سمجھنا ہے کہ ایک نامحرم سے بات کرنے سے صرف دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت بھی خراب ہوتی ہے۔ ایک نامحرم سے بات کرنے سے قبر میں سانپ پیدا ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر آپ کی کی گئی نامحرم سے باتیں آپ کو ذلیل و رسوا کروا دیں گئی۔ حرام چیزیں کبھی بھی ذہنی سکون کا باعث نہیں بن سکتیں ہیں۔ قرآن مجید میں نامحرم سے تعلقات کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ کبھی غور کیجئے گا اگر اچھائی اور برائی کا تصور نہ ہو تو نیکی اور برائی دونوں عمل بے استعداد تذکرہ ہیں۔
یاد رکھیں!! “سکون فقط اللہ کریم کی عبادت میں ہے۔” رب العالمین سے دوری کی وجہ ہے بےسکونی۔ تو اللہ کریم کی عبادت کرکے اپنی بےچینی کو دور کریں۔ اللہ کے بندے آپ کی راحت کی وجہ ہو ہی نہیں سکتے۔ اللہ کے بندے صرف آزمائش ہوتے ہیں۔ لوگ آپ پر ترس کھا کر بات کریں۔ یہ عمل عزت نفس کو مجروح کرتا ہے۔ بھیک میں ملی گی عزت ہو، سکون ہو، یا کوئی بھی چیز ہو اس سے بہتر ہے آپ خالی ہاتھ رہیں۔ کیوں مانگ رہے ہیں آپ اللہ کے بندوں سے، اللہ سے کیوں نہیں مانگ رہے، اس مالک سے مانگے، وہ سکون تو کیا دنیا کی ہر چیز آپ کے قدموں میں رکھ دیں گے مگر شرط یہ ہے اللہ کریم سے مانگے۔
| ازقلم : | فاطمہ عطاالمصطفیٰ |