ذہنی سکون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

0
  • ازقلم : فاطمہ عطاءالمصطفیٰ(گوجرانوالہ)
  • صنف : کالم
  • عنوان : ذہنی سکون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ

تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ جب بھی انسان تباہی کے دہانے پر پہنچا، اس کی ایک بڑی وجہ اُس کی زبان بنی۔ انسان کا سب سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں بلکہ اس کی اپنی زبان ہوتی ہے، جو نہ صرف اس کے اپنے بلکہ دوسروں کے ذہنی سکون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اگر آج کے دور کی بات کی جائے تو زمانۂ حال میں لوگ چاہتے ہیں کہ ہم خود کو اُن کے لیے مختص کر دیں، ہماری اپنی کوئی پسند نہ ہو، اور ہم ان کے پابند ہوں۔ یہاں، اگر کوئی شخص پڑھائی میں اچھا ہو تو اُسے فوراً “پڑھاکو” کا لقب دے دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی اپنے شوق کو ترجیح دے تو اُسے “پیسہ نہ کمانے” کا طعنہ ملتا ہے۔ اگر کوئی لڑکی گھر سے باہر نکلے تو اُسے “عیاش” کہا جاتا ہے، اور اگر کوئی تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوسرے شہر یا ملک جائے تو اُسے “بدکردار” کا لقب دے دیا جاتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان بدگمانیاں پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔ یہ زہر آلود باتیں اور بے لگام زبان رشتوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیتی ہے۔ جب انسان اپنے ہی قریبی لوگوں سے بدگمان ہو جائے تو سکونِ قلب کہاں باقی رہتا ہے؟ جب وہ اپنے دل کی پوشیدہ باتیں کسی کو سونپ کر دھوکا کھائے تو ذہن بوجھل ہو جاتا ہے، اور یہی سوچیں آہستہ آہستہ انسان کے ذہنی سکون کو مکمل طور پر تباہ کر دیتی ہیں۔