دور حاضر کی ڈیجیٹل مائیں

0
  • ازقلم: فاطمہ عطاالمصطفیٰ
  • صنف: کالم
  • عنوان: دور حاضر کی ڈیجیٹل مائیں

“اللہ تعالیٰ نے ماؤں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے۔”
ایک بچے کی پہلی اُستانی اس کی ماں ہوتی ہے۔ بچے کو اچھا بولنا، رہ راست پر چلنے کا بتانا ایک ماں کے ذمے ہوتا ہے۔ اگر بات دور حاضر کی ڈیجیٹل ماؤں کی کی جائے تو یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا یہ مائیں خود اچھے و برے میں فرق سے لاعلم ہیں۔ انٹرنیٹ ایک فتنہ ہے مائیں خود موویز، ڈرامے اور سوشل میڈیا پر سکرولنگ میں اس قدر مشغول ہیں، کہ ان کے پاس اپنی اولادوں کے لیے وقت تک نہیں ہے۔

خود کے بناؤ سنگھار کی بہت فکر ہے مگر بچوں کی رتی برابر پرواہ نہیں ہے۔ اگر بچے تنگ کریں تو خود کو بری الزمہ کرنے کے چکر میں اُنہیں موبائل، ٹیب، اور لیپ ٹاپ تھما دیے جاتے ہیں۔ وہ ان ٹیکنالوجیز پر کیا دیکھتے ہیں؟

اس بات سے ان ماؤں کو شناسائی نہیں۔ اپنے بچوں کی پرورش پر رجحان ہرگز نہیں ہے۔ آج کل مائیں خود نماز ادا نہیں کرتیں، اور نہ اپنی اولاد کو نماز کی ادائیگی کا بولتی ہیں۔ اپنے بچوں کے سامنے اپنے رشتے داروں کے خلاف بولنا معمول ہوچکا ہے۔ اس سے بچوں کے دلوں میں اپنوں کے خلاف اس قدر زہر بھر جاتا ہے کہ وہ اپنوں کی شکل تک دیکھنا پسند نہیں کرتے۔

دور حاضر کی ہر ڈیجیٹل ماں پر بھی فرض ہے وہ خود نماز پڑھے، اپنے بچوں میں بھی یہ عادت ڈالے، اپنے بچوں کے سامنے اپنوں کی برائیاں کرنے سے گریز کریں۔ دور چاہے جیسا بھی ہو۔ اگر ایک ماں اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرے گی، تو بچوں کے نام کے ساتھ کبھی بھی بدتمیز، اور پڑھے لکھے جاہل ہونے کا لیبل نہیں لگے گا۔