خودی میں ہم

0
  • ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ( گوجرانوالہ)
  • صنف : کالم
  • عنوان : خودی میں ہم

اس کا سوٹ زیادہ پیارا، میرا اچھا نہیں لگ رہا۔ سب مہنگے ہوٹل میں کھاتے ہیں، میں بھی آج فائیو سٹار ہوٹل میں ہی کھانا کھاؤں گی۔ مجھے بھی مہنگے کپڑے ہی خریدنے ہیں۔

لوگوں نے کیا کیا؟ کیوں کیا؟ کیسے کیا؟ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ ہم نے تو فقط اپنی ذات سے مطمئن ہونا ہے۔
پتا ہے!! جب ہم خود اپنے آپ سے متاثر نہیں، تو لوگ کیسے ہم سے متاثر ہوں گے۔ آپ سے بہترین کوئی بھی نہیں ہو سکتا۔ آپ اپنی ذات کو ایسا بنا لیں کہ لوگ آپ سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکیں۔ جو آپ ہو اس پر ڈٹ جاؤ۔ آپ سے بہترین کوئی بھی نہیں ہو سکتا۔

اللہ تعالیٰ کا بنایا گیا ہر انسان خاص ہے۔ تو خود کو خاص ہی رہنے دیں۔ نفسانی خواہشات کے لیے رب کو ناراض نہ کریں۔ اس وقت سے ڈرنا چاہیے، جب اللہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بارے میں اپنے فرشتوں سے کہیں “میرا یہ بندہ کبھی خوش نہیں ہوتا۔” اپنی زندگی کا مقصد فقط اللہ کو راضی کرنا بنا لو کہ اللہ اپنے فرشتوں سے یہ کہیں “میرا یہ بندہ میری رضا میں راضی رہتا ہے جاؤ اسے کشیدہ رزق سے نواز دو۔”
اقبال کا اک شعر ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

کبھی ہم نے یہ سوچا: کہ ہماری ان چھوٹی چھوٹی اغلاط کی وجہ سے چاہتے نا چاہتے ہوئے بھی ہمارا شمار حاسدین میں ہو جاتا ہے۔ کبھی غور کیجئے گا اگر لوگ بھی ہماری چیزوں کو ایسے ہی حسد سے دیکھیں، تو پھر ہمیں بہت برا لگتا ہے۔ جو آپ کے پاس ہے اس پر راضی رہنا سیکھیں، یقیناً رب العالمین کو بہترین پتا ہے کس کو کب اور کس چیز سے نوازنا ہے۔