بنت حوا

0
  • عنوان : بنت حوا
  • صنف: کہانی
  • ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ

“تم تو ایک بور لڑکی ہو ملیحہ۔” تمہیں فیشن کے بارے میں کیا پتہ ہو۔ آج کل میک اپ کرنا لڑکوں سے دوستی کرنا بہت عام ہے۔ اور ہم تو ویسے بھی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ ایمن ہم یہاں پڑھائی کرنے آتے ہیں۔ ملیحہ!!! کب سے ایمن کو سمجھا رہی تھی۔ لیکن ایمن کوئی بات سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھی۔ ایمن اور ملیحہ بچپن کی دوستیں تھیں۔ اُن دونوں نے اسکول، کالج کی تعلیم ایک ساتھ حاصل کی تھی۔ اور اب یونیورسٹی بھی ایک ساتھ پڑھ رہیں تھیں۔

ملیحہ امیر گھرانے سے تعلق رکھتے ہوئے بھی ایک سادہ سی لڑکی تھی۔ ایمن کا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے تھا۔ لیکن ایمن کا نخرہ بہت تھا۔ایمن کو دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا۔ کہ اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ایمن کا ایک بھائی بھی تھا۔ملیحہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ لیکن اس کی تربیت بلکل ایسے کی گئی تھی جیسے ایک “بنت حوا” کی ہونی چاہیے۔ملیحہ اکثر پریشان ہو جاتی تھی کہ کاش!!!! ایمن سمجھ جائے کہ بنت حوا اپنے رب کو ناراض نہیں کرتی۔

ایک بنت حوا کبھی بھی اس دنیا کی جھوٹی حلاوت کا حصہ نہیں بنتی۔ ایک بنت حوا اگر تیار بھی ہوتی ہے تو صرف اپنے محرم کے لیے اور ایک بنت حوا کبھی بھی اپنی باتیں اپنی پریشانیاں ہر کسی کو نہیں بتا دیتیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کو اپنی باتیں بتاتی ہے۔ ایک بنت حوا نامحرم کو دوست نہیں بناتی۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ہمارے دین میں نامحرم سے دوستی سے منع کیا گیا ہے۔

ملیحہ ہر روز ایمن کو سمجھاتی اور ایمن روز ملیحہ کی باتوں کو نظر انداز کر دیتی۔ لیکن پچھلے دو دنوں سے ملیحہ جو بات بھی کرتی۔ ایمن اس کی مخالفت نہیں کر رہی تھی بلکہ ہاں!!! میں سر ہلا دیتی۔ پچھلے دو دنوں سے ایمن عبایا پہن کر بھی آرہی۔ملیحہ کو یقین تھا کوئی پریشانی ہے۔ لیکن وہ منتظر تھی کہ ایمن خود بتا دے۔ ملیحہ کو مزید انتظار کرنا مناسب نہیں لگا اور ایمن کے نہ بتانے کی وجہ سے ملیحہ کو ایمن سے پوچھنا پڑا: “تم کچھ پریشان ہو۔کوئی بات ہے کیا؟”

یہ پوچھنے کی دیر تھی۔ ایمن نے اسے تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ایمن نے ملیحہ کو بتایا!!! کہ اس کے ایک ہم جماعت نے جو کہ ایمن کا بہت اچھا دوست تھا۔ اس نے ایمن کی تصاویریں اپنے دوستوں کو بھیج دیں ہیں۔ایمن کو پتہ نہ چلتا اگر اس کا ہم جماعت علی اسے نہ بتاتا۔ملیحہ کو سن کر دھجکا لگا۔ یہ معاملہ اتنا آسان نہ تھا جتنا دیکھائی دے رہا تھا۔ وہ لڑکا ایمن کی تصاویروں کو سوشل میڈیا پر بھی اپلوڈ کر سکتا تھا۔لیکن ملیحہ نے ہمت نہیں ہاری اور ایمن کی بہت مدد کی۔

ملیحہ کی انتھک کوششوں کے بعد عمر جس کے پاس ایمن کی تصاویریں تھیں ڈیلیٹ کروا دیں اور اس کے دوستوں کے موبائل سے بھی ڈیلیٹ کروائیں۔ ایمن نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ زندگی میں کچھ حادثے انسان کو مکمل بدل دیتے ہیں اور یہ حادثہ ایمن کو بدلنے کے لیے کافی تھا۔ ایمن نے اللہ سے معافی مانگی اور خود کو اپنے محرم کے لیے سنبھال کر رکھنے کا وعدہ بھی کیا۔ “ایک بنت حوا صرف سادگی میں حسین لگتی ہے۔” ایمن نے اس بات کا اعتراف بھی کیا۔
*ختم شد*

ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ