نظم:محبت

0
  • عنوان : محبت
  • صنف: نظم
  • ازقلم : فاطمہ عطاالمصطفیٰ
اسے کہنا
محبت چاند جیسی ہے
یہ احساس ہوتی ہے
بڑی حساس ہوتی ہے

اسے کہنا
محبت دل پر دستک ہے
محبت جہان سے بھاگے
محبت لاڈ ہوتی ہے

اسے کہنا
محبت کا نہیں ہے ہم شکل کوئی
اسے کہنا
محبت کا کوئی نعم البدل ہے نا
کوئی محبوب جیسا ہے
اسے کہنا محبت یاد ہوتی ہے
یہ فریاد ہوتی ہے

اسے کہنا
محبت آزماتی ہے
سب کو یہ رلاتی ہے
محبت تو ستاتی ہے

اسے کہنا
محبت پھول جیسی ہے
محبت شجر ہوتی ہے
لگا کر بھول جائیں تو
یہ مرجھا بھی جاتی ہے
محبت میں نہیں چلتی کبھی بھی لا تعلقی

اسے کہنا
محبت نے نہیں دیکھا
کبھی بھی شکل و صورت کو

اسے کہنا
محبت نام ہے روحوں کے ملنے کا
محبت نام ہے زخموں کے مرہم کا
محبت نا دکھ نہیں جانے محبت سکھ نہیں جانے
محبت میں محبوب کا ملنا ہی ہر سُکھ ہے

اسے کہنا
محبت کی راحتیں اکثر
نہیں ملتی سبھی کو پر

اسے کہنا
محبت میں محب خود سے ہم کلام ہے رہتا

اسے کہنا
محبت دیکھے صبح نہ
محبت شام دیکھے ہے
محبت تو محبت ہے محبت ہی سبھی کچھ ہے
ازقلم :فاطمہ عطاالمصطفیٰ