Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر ۳۲
- مرزا اسد اللہ خان غالب
تعارف شاعر
مرزا اسد اللہ خان غالب آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میں اسد اور بعد میں غالب تخلص اختیار کیا۔ شاہی دربار سے نجم الدولہ اور دبیر الملک کے خطاب پائے۔ غالب کے آباؤ اجداد ترک سلجوق تھے جو مغلیہ عہد میں ماوراء النہر سے ہندوستان آئے اور اچھے سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ ان کے چچا نصر اللہ بیگ شاہی فوج میں رسالدار تھے۔ نوابان لوہارو سے مرزا غالب کا سسرالی رشتہ تھا۔ اپنی خاندانی وجاہت پر انھیں ناز تھا:
| سو پشت سے ہے پیشہ آبا سپہ گری کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے |
اپنی شعر گوئی کے پہلے دور میں غالب نے مشکل پسندی اختیار کی لیکن پھر سادہ طرز اپنایا۔ خیال کی لطافت ، بلندی ، روزمرہ اور محاورات کا لطف ، طرز ادا کی شوخی اور موضوعات کی رنگا رنگی نے ان کے کلام کو منفرد اور دلکش بنا دیا۔ زندگی کے غموں اور دکھوں کے باوجود وہ خوش طبعی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ ان کی شاعری کی ایک اہم خوبی محاکات ہے۔ وہ لفظوں سے تصویر کھینچ کر رکھ دیتے ہیں۔ اُنھوں نے اپنی شاعری کا انتخاب دیوان غالب کی شکل میں کیا اور ان کی شاعرانہ عظمت میں اس انتخاب کو بڑا دخل ہے۔ اُردو کا یہ عظیم شاعر دلی میں انتقال کر گیا۔
تصانیف : دیوان غالب، اُردوئے معلی، عود ہندی، لطائف غیبی، کلیات غالب فارسی، قاطع برهان، دستنبو وغیره۔
غزل نمبر ایک کی تشریح
| دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اے محبوب میں تو تیرے گھر کے دروازے پر پڑا ہوا پتھر بھی نہیں ہوں بلکہ میری حالت تو اس سے بھی بدتر ہے کیونکہ کم از کم وہ پتھر تیرے قریب ہے اور روز تیرے قدم چومتا ہے لیکن میں تو تیرے قرب کی صرف تمنا ہی کرسکتا ہوں۔
| کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل انسان ہوں، پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر اپنی زندگی کے مسلسل مسائل کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ میں بھی انسان ہی ہوں جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے اور مسلسل پریشانیوں سے میں بھی گھبرا ہی جاتا ہوں کیونکہ میں کوئی پیالہ و ساغر نہیں ہوں یعنی کوئی بےجان شے نہیں ہوں جسے کچھ محسوس ہی نہ ہو۔
| یا رب! زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر اپنی اہمیت کا احساس دلانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں کوئی فضول یا اضافی لفظ تو نہیں ہوں جسے غیر ضروری سمجھ کر مٹادیا جائے تو یہ لوگ مجھے مٹانے پر کیوں تُلے ہیں اور یہ لوگ میری اہمیت کا اندازہ کیوں نہیں کرتے کہ میرے جیسے شعراء صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
| حد چاہیے سزا میں، عقوبت کے واسطے آخر گنہگار ہوں، کافر نہیں ہوں میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں خدا کے وجود سے انکار کرنے والے لوگوں کے علاوہ ہر شخص کو یہ چھوٹ حاصل ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر عذابِ الہی سے چھٹکارا پالے گا لیکن میری سزا کی کوئی حد اب تک کیوں نہیں آئی ہے اور میری دائمی پریشانیاں آخر ختم کیوں نہیں ہوتی ہیں میں کوئی کافر تو نہیں جسے مستقل عذاب دیا جائے۔
| کسی واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر سب سے اور خاص طور پر بادشاہ بہادر شاہ ظفر سے شکوہ کرتے ہیں کہ آخر تم سب مجھے عزیز کیوں نہیں رکھتے ہو پھر وہ کہتے ہیں کہ شاید میں ہیرے جواہرات جیسا قیمتی نہیں ہوں اس لیے تم مجھے نظر انداز کرتے ہو۔ یہاں شاعر کا شکوہ بادشاہ سے ہے کہ جیسے تم ان ہیروں کو اپنے کپڑوں تک میں جڑواتے ہو کیونکہ یہ تمھیں عزیز ہیں ویسے میں تمھیں عزیز کیوں نہیں ہوں۔
| رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ رتبے میں مہر و ماہ سے کمتر نہیں ہوں میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر بادشاہ ہی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ مانا کے آپ کی شان کے آگے سورج اور چاند بھی پھیکے پڑ جاتے ہیں لیکن آپ پھر اپنے قدموں کو میری آنکھوں پر پڑنے سے کیوں بچارہے ہیں کیا میں آپ کے لیے سورج و چاند سے بھی زیادہ قیمتی ہوں۔ اس شعر میں شاعر نے دراصل طنزیہ لہجہ اپنا کر اپنی خود ساختہ تعریف بیان کی ہے۔
| کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ آسمان بھی آپ کے قدموں تلے ہے یعنی آپ کی قدم بوسی کرتا ہے لیکن کیا میرا رتبہ آسمان جتنا بھی نہیں کہ میں آپ کی قدم بوسی ہی کرسکوں کیونکہ اپنے حلقہ میں تو میں آسمان کی مانند ہی ہوں یعنی اس وقت جو شعراء موجود ہیں ان میں سب سے اونچا رتبہ میرا ہے لیکن آپ پھر بھی مجھے اہمیت نہیں دیتے ہیں۔
| غالب وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا وہ دن گئے، جو کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں |
تشریح:
اس شعر میں شاعر خود سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ وہ دن گئے جب تم کسی کے نوکر نہیں تھے اب تم دربار شاہی میں ان لوگوں کے لیے تنخواہ پر کام کرتے ہو تو تم بادشاہ کو دعا دو جس کی وجہ سے تمھارے مالی مصائب تو حل ہوگئے لیکن اب تم ان کے نوکر بھی بن گئے ہو۔
- غزل نمبر دو
- انتخاب: دیوان غالب
غزل نمبر دو کی تشریح
| ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارمان ، لیکن پھر بھی کم نکلے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر نے انسانی فطرت بیان کی ہے کہ ایک انسان کی جتنی بھی خواہشات پوری ہوجائیں لیکن پھر بھی وہ یہی کہتا رہتا ہے کہ میری یہ خواہش پوری نہیں ہوئی میری وہ خواہش پوری نہیں ہوئی اور وہ کسی نہ کسی بات پر ہر وقت افسردہ رہتا ہے۔ ایک انسان کو جتنا عطا کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ اس سے زیادہ کا لالچ ہی کرتا ہے۔
| ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اس کی گردن پر؟ وہ خون جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکل |
تشریح:
اس شعر میں غالب نے طنزیہ لہجہ اپنایا ہے اور کہا ہے کے میرے قتل کا الزام میرے محبوب پر کیسے آسکتا ہے کیونکہ میرا تو سارا خون آنکھوں کے راستے سے نکل چکا ہے یعنی میں دن رات جو محبوب کی یاد میں خون کے آنسو بہاتا ہوں تو اب میرے بدن میں خون ہی موجود نہیں کے میرے قتل کا الزام کسی پر آ سکے۔
| نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں ، لیکن بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے |
تشریح :
اس شعر میں صنعت تلمیح استعمال کر کے حضرت آدم کے جنت سے نکالے جانے کا ذکر کرنے کے بعد غالب کہتے ہیں کہ اے محبوب ہم نے تو کوئی گناہ بھی نہیں کیا پھر ہمیں کیوں تیرے کوچے یعنی تیری گلی سے بےعزت اور بےآبرو کر کے نکالا جارہا ہے۔
| بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا اگر اس طرہ پر پیچ و خم کا بیچ و خم نکلے |
تشریح :
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی زلفوں کی تعریف بیان کی ہے اور کہا ہے کہ اے محبوب تمھیں اپنے دراز قد پر ناز ہے لیکن اصل ناز تو تمھیں اپنی زلفوں پر ہونا چاہیے جو بیچ و خم کے باوجود دراز ہیں اور اگر ان کا یہ پیچ و خم نکل جائے تو یہ مزید دراز ہوجائیں گے۔
| ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ خستہ تیغ ستم نکلے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ مجھے جن لوگوں سے یہ امید تھی کہ وہ میری خستہ حالی دیکھ کر مجھ سے ہمدردی کریں گے انھیں دیکھ کر مجھے علم ہوا کہ وہ تو مجھ سے بھی زیادہ خستہ حال اور تباہی کا شکار ہیں۔ یعنی شاعر کہنا چاہتے ہیں آج کے زمانے میں ہر انسان ہی مصائب کا شکار ہے۔
| محبت میں نہیں ہے فرق مرنے اور جینے کا اُسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں جب کسی کو محبت ہوجاتی ہے تو اس کا جینا مرنا ایک جیسا ہی ہوجاتا ہے کیونکہ پھر انسان جس شخص کو دیکھ کر جیتا ہے اسی پر مرتا ہے یعنی اس کا جینا مرنا ایک شخص سے وابستہ ہوجاتا ہے اور باقی ساری دنیا اس کے لیے بےمعنی ہوجاتی ہے۔
| کہاں مے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے |
تشریح:
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کے واعظ کا مے خانے سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے لیکن کل جب میں مے خانے سے نکل رہا تھا تو مجھے وہاں واعظ مل گیا یعنی شاعر کہنا چاہتے ہیں کہ اکثر اس دنیا میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں لیکن خود وہ ہر برے کام میں ملوث ہوتے ہیں۔
مشق
سوال:
| کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں |
غالب کے اس شعر کی تشریح کریں نیز یہ بتائیں کہ اس میں علم بیان کی کون سی خوبی پائی جاتی ہے۔
جواب: اس شعر میں شاعر اپنی زندگی کے مسلسل مسائل کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ میں بھی انسان ہی ہوں جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے اور مسلسل پریشانیوں سے میں بھی گھبرا ہی جاتا ہوں کیونکہ میں کوئی پیالہ و ساغر نہیں ہوں یعنی کوئی بےجان شے نہیں ہوں جسے کچھ محسوس ہی نہ ہو۔ نیز اس شعر میں علم بیان کی خوبی تشبیہ کا استعمال کیا گیا ہے۔
سوال: مندرجہ ذیل مصرعوں کا مفہوم واضح کریں۔
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں
جواب: شاعر کہنا چاہتے ہیں میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو غلطی سے لکھ دیا گیا ہو اور اسے مٹادیا جائے۔
رتبے میں مہروماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
جواب: شاعر کہتے ہیں کہ بطورِ شاعر میرا مرتبہ بہت بلند ہے اور میں سورج و چاند سے بھی کم نہیں ہوں۔
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
جواب: شاعر کہتے ہیں میرے بہت سے ارمان پورے ہوچکے ہیں لیکن اب بھی میرے دل میں کئی ارمان ہیں اس لیے مجھے لگتا ہے اب بھی میرے سارے ارمان پورے نہیں ہوئے ہیں۔
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
جواب: شاعر کہتے ہیں کہ وہ پرانے دن تھے جب میں کسی کے یہاں نوکری نہیں کرتا تھا لیکن اب غم روزگار کی وجہ سے میں بھی بادشاہ کا نوکر بن گیا ہوں۔
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں، جس کافر پہ دم نکلے
جواب: شاعر کہتے ہیں کہ محبت ہونے کے بعد انسان ایک ہی انسان کو دیکھ کر جیتا ہے اور اسی انسان پر مرتا بھی ہے۔
سوال: غالب کی پہلی غزل کی ردیف تحریر کریں۔
جواب: نہیں ہوں میں
سوال: غالب کی دوسری غزل کے قافیوں کی نشان دہی کریں۔
- جواب: دم
- کم
- ہم
- خم
- ستم
سوال: آپ کو غالب کا کون سا شعر زیادہ پسند ہے اور کیوں؟
جواب : مجھے غالب کا یہ شعر پسند ہے
| ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارمان ، لیکن پھر بھی کم نکلے |
کیونکہ اس شعر میں شاعر نے انسانی فطرت بیان کی ہے کہ ایک انسان کی جتنی بھی خواہشات پوری ہوجائیں لیکن پھر بھی وہ یہی کہتا رہتا ہے کہ میری یہ خواہش پوری نہیں ہوئی میری وہ خواہش پوری نہیں ہوئی اور وہ کسی نہ کسی بات پر ہر وقت افسردہ رہتا ہے۔ ایک انسان کو جتنا عطا کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ اس سے زیادہ کا لالچ ہی کرتا ہے۔
سوال: مندرجہ ذیل الفاظ و تراکیب کو جملوں میں استعمال کریں۔
| حرف مکرر: | تقریر میں جگہ جگہ حرف مکرر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ |
| لعل و زمرد: | لعل و زمرد بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ |
| مہروماه: | غالب شاعری کے آسمان کے مہر و ماہ ہیں۔ |
| کمتر: | کسی کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ |
| عقوبت: | آخرت کی عقوبت سے بچنے کے لیے تقوی اختیار کرنا چاہیے۔ |
| گردش مدام: | گردش مدام سے گھبرانا انسانی فطرت ہے۔ |
| بھرم کھلنا: | عمل کرنے سے ہی انسان کی باتوں کا بھرم کھلتا ہے۔ |
| چشم تر: | ناکامی پر چشم تر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ |
سوال: غالب کے کلام کی نمایاں خصوصیات تحریر کریں۔
جواب: اپنی شعر گوئی کے پہلے دور میں غالب نے مشکل پسندی اختیار کی لیکن پھر سادہ طرز اپنایا۔ خیال کی لطافت ، بلندی ، روزمرہ اور محاورات کا لطف ، طرز ادا کی شوخی اور موضوعات کی رنگا رنگی نے ان کے کلام کو منفرد اور دلکش بنا دیا۔ زندگی کے غموں اور دکھوں کے باوجود وہ خوش طبعی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ ان کی شاعری کی ایک اہم خوبی محاکات ہے۔ وہ لفظوں سے تصویر کھینچ کر رکھ دیتے ہیں۔