Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر : 5
- سبق : کچھ ادب کے بارے میں
- مصنف : ڈاکٹر عبادت بریلوی
- ماخوذ : تنقیدی زوایے
تعارفِ مصنف :
ڈاکٹر عبادت بریلوی نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اینگلو عر بیک کالج دلی سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور آئے اور اورینٹل کالج لاہور سے منسلک ہو گئے اور ترقی کرتے ہوئے شعبہ اُردو کے صدر بن گئے۔ وہ اردو کے ایک نامور محقق تھے۔ اُن کی بیشتر کتابیں ہندو پاک کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ رہی ہیں لیکن بطور نقاد بھی اُن کی حیثیت مسلمہ ہے۔ ان کی تنقید کا انداز وضاحتی تجزیے کا ہے۔ ایسے تجزیے میں کسی مصنف کے ابتدائی احوال سے لے کر ارتقائی مرحلے سبھی کچھ زیر بحث آجاتے ہیں۔ اُن کا تجزیہ عام طور پر ہمدردانہ ہوتا تھا۔ وہ ادبی مسائل کی پیچیدگیوں میں نہیں الجھتے، بلکہ معنوی سطح پر رہتے ہوئے ادب پارے کا تمام احوال قاری کے سامنے رکھ دیتے تھے۔ وہ اپنے تجزیے کو درجہ بہ درجہ قاری کے سامنے کھولتے ہوئے اسے اپنے منطقی استدلال سے قائل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کے ہاں تحقیقی اور تنقید کا رشتہ زیادہ مضبوط نظر آتا ہے۔ ایک محقق کی حیثیت سے اُنھوں نے فورٹ ولیم کالج کے اساتذہ کے تصنیفی کارناموں اور غیر معمولی نوادر کو تلاش کیا۔
تصانیف:
اُردو تنقید کا ارتقاء، تنقیدی زاویے، غزل اور مطالعہ غزل، غالب کا فن، روایت کی اہمیت، جدید شاعری، جدید اردو ادب اور میر تقی میر وغیرہ
سبق کا خلاصہ :
عبادت بریلوی نے اس سبق میں کئی زاویوں سے ادب کی افادیت پر روشنی ڈالی ہے۔ ایک طرف تو وہ کہتے ہیں کہ انسان اس دنیا میں آیا اسی وقت ادب کی تخلیق شروع ہوگئی کیونکہ انسان اپنے جذبات دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے اور ادب اس کا بہترین ذریعہ ہے۔
اس کے علاوہ مصنف نے اس زاویہ کو اجاگر کیا کے انسان کو حسن متاثر کرتا ہے اور ادب واحد ذریعہ ہے جو ہر بات میں حسن پیدا کرسکتا ہے۔ پھر مصنف کہتے ہیں کہ تخلیق کرنا انسان کی فطرت کا حصہ ہے لہذا ادب تخلیق کئے بغیر انسان کا گزارہ ممکن نہیں۔ چونکہ عبادت بریلوی صاحب کا شمار تنقید نگاروں میں بھی ہوتا ہے لہذا مصنف نے اس مضمون میں ادب کے متعلق جو کچھ کہا وہ تنقید کے لغوی معنی کے مطابق تنقید پر پورا اترتا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے اس مضمون میں ادب کو مکمل طور پر پرکھا ہے اور اپنی رائے کو قارئین کے سامنے رکھ کر ان میں بھی اس صلاحیت کو پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کھرے کھوٹے کی پہچان کرسکے۔
مصنف اس مضمون میں ہمیں ادب کی اہمیت سے بھی اجاگر کررہے ہیں اور کہتے ہیں ادب کا ہماری زندگیوں میں بہت اہم کردار ہے۔ کیونکہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اور دنیا میں کئی طرح کی تبدیلیاں آنے کے باوجود ادب کی اہمیت آج تک کم نہیں ہوسکی ہے۔ ادب اس دنیا میں اسی وقت آگیا تھا جب انسان اس دنیا میں نیا نیا آیا تھا۔ کیونکہ تخلیق کرنا انسان کی فطرت میں موجود ہے لہذا چاہے انسان پڑھنے لکھنے سے ناآشنا تھا لیکن اپنے جذبات دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس وقت بھی ادب تخلیق کیا جاتا تھا۔ ادب کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ انسان کی سماجی زندگی میں ادب کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے جس کو استعمال کر کے انسان بدصورت چیزوں کو بھی خوبصورت دکھا سکے لیکن ادب چونکہ ہر چیز میں حسن پیدا کردیتا ہے اور انسان کو حسن سب سے زیادہ متوجہ کرنے والی شے ہے لہذا انسان کی زندگی میں ادب کی اہمیت بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔
اس سبق میں مصنف نے ادب کے پیدا ہونے کی دو اہم وجوہات کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کے ادب کا وجود اس دنیا میں اسی وقت پیدا ہوگیا تھا جب اس دنیا میں تخلیق آدم کا واقع رونما ہوا۔ حالانکہ اس وقت لوگ لکھنے پڑھنے سے ناآشنا تھے لیکن اس وقت بھی اپنے جذبات و احساسات دوسروں تک پہنچانے کے لیے ادب کی تشکیل لازمی ہوتی تھی۔
مصنف کہتے ہیں ہر انسان میں ادب تخلیق کرنے کی فطری خواہش موجود ہوتی ہے اور پھر انسان یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے آس پاس موجود لوگ اس کے جذبات سے باخبر رہیں اور یہ دو عناصر ایسے ہیں جو ادب کو زندہ و جاوید رکھنے کی بنیادی وجہ ہیں۔ اس لیے جب تک اس دنیا میں انسان موجود رہیں گے تب تک ادب کا وجود بھی مٹ نہیں سکتا ہے۔ مصنف کہتے ہیں کے ادب ایک واحد ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان ہر بات کو خوبصورت انداز میں پیش کرسکتا ہے۔
انسان کو سب سے زیادہ متاثر حسن ہی کرتا ہے اور ادب کی خاصیت یہی ہے کہ وہ پر بات میں حسن پیدا کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ زمانے میں جتنی بھی تبدیلیاں آئیں لیکن ادب ہمیشہ پوری آب و تاب کے ساتھ موجود رہا اور اس کا مرتبہ کم ہونے کے بجائے ہمیشہ بڑھتا ہی گیا۔ مصنف کہتے ہیں ہماری زندگی میں ادب کے سوا کوئی ایسی شے یا ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کو استعمال کر کے ہم بدصورت اور مشکل بات کو خوبصورت بنا سکیں۔
سوال نمبر ۱ : متن کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔
- (ا) انسان کے اندر حسن کا احساس سب سے زیادہ قوی ہے۔
- (ب) زمانے کی مشاطگی اس کو زیادہ سے زیادہ بناتی سنوارتی ہے۔
- (ج) ان جذبات و احساسات کو انسان نے خود اپنے تک محدود کیوں نہیں رکھا۔
- (د) ادب سے انسان کی دلچسپی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے۔
- (ہ) بہر حال یہ ادب کے ابتدائی نقوش تھے۔
- (و) ادب کے قدم ترقی کی شاہراہوں پر برابر آگے بڑھتے گئے۔
- (ز) احساس جمال کا ہونا ہر انسان کے اندر لازمی ہے۔
سوال نمبر ۲ : عبادت بریلوی نے اس مضمون میں کن زاویوں سے ادب کی افادیت پر روشنی ڈالی ہے؟
جواب : عبادت بریلوی نے اس مضمون میں کئی زاویوں سے ادب کی افادیت پر روشنی ڈالی ہے۔ ایک طرف تو وہ کہتے ہیں کہ انسان اس دنیا میں آیا اسی وقت ادب کی تخلیق شروع ہوگئی کیونکہ انسان اپنے جذبات دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے اور ادب اس کا بہترین ذریعہ ہے۔
اس کے علاوہ مصنف نے اس زاویہ کو اجاگر کیا کے انسان کو حسن متاثر کرتا ہے اور ادب واحد ذریعہ ہے جو ہر بات میں حسن پیدا کرسکتا ہے۔
پھر مصنف کہتے ہیں کہ تخلیق کرنا انسان کی فطرت کا حصہ ہے لہذا ادب تخلیق کئے بغیر انسان کا گزارہ ممکن نہیں۔
سوال نمبر ۳ : تنقید کی تعریف کریں نیز بتائیے کہ زیر نظر مضمون کچھ ادب کے بارے میں کہاں تک اس پر پورا اترتا ہے؟
جواب : کسی ادبی فن پارے کی خوبیوں اور خامیوں کو اجاگر کرنے کا عمل تنقید کہلاتا ہے۔
لغوی معنی : تنقید کے لغوی معنی پرکھنے یا کھرے کھوٹے کی پہچان کرنے کے ہیں۔
اصطلاحی معنی : اصطلاح میں فن پاروں کی خوبیوں اور خامیوں کا صحیح اندازہ لگانا اور ان پر کوئی رائے قائم کرنا تنقید ہے۔
مصنف نے اس مضمون میں ادب کے متعلق جو کچھ کہا وہ تنقید کے لغوی معنی کے مطابق تنقید پر پورا اترتا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے اس مضمون میں ادب کو مکمل طور پر پرکھا ہے اور اپنی رائے کو قارئین کے سامنے رکھ کر ان میں بھی اس صلاحیت کو پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کھرے کھوٹے کی پہچان کرسکے۔
سوال نمبر ۴ : ادب کی اہمیت پر نوٹ لکھیں۔
جواب : ادب کا ہماری زندگیوں میں بہت اہم کردار ہے۔ کیونکہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اور دنیا میں کئی طرح کی تبدیلیاں آنے کے باوجود ادب کی اہمیت آج تک کم نہیں ہوسکی ہے۔ ادب اس دنیا میں اسی وقت آگیا تھا جب انسان اس دنیا میں نیا نیا آیا تھا۔ کیونکہ تخلیق کرنا انسان کی فطرت میں موجود ہے لہذا چاہے انسان پڑھنے لکھنے سے ناآشنا تھا لیکن اپنے جذبات دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس وقت بھی ادب تخلیق کیا جاتا تھا۔ ادب کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ انسان کی سماجی زندگی میں ادب کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے جس کو استعمال کر کے انسان بدصورت چیزوں کو بھی خوبصورت دکھا سکے لیکن ادب چونکہ ہر چیز میں حسن پیدا کردیتا ہے اور انسان کو حسن سب سے زیادہ متوجہ کرنے والی شے ہے لہذا انسان کی زندگی میں ادب کی اہمیت بتدریج بڑھتی جارہی ہے۔
سوال نمبر ۵ : فعل کی فاعل سے مطابقت کے حوالے سے جملے درست کر کے لکھیں۔
| غلط | صحیح |
| (ا) میری کتابیں قلم اور کاپیاں سب کچھ کھو گئے۔ | میری کتابیں قلم اور کاپیاں سب کچھ کھو گئیں۔ |
| (ب) چار کپ ، ایک گلاس اور دو پلیٹیں ٹوٹ گئے۔ | چار کپ ، ایک گلاس اور دو پلیٹیں ٹوٹ گئیں۔ |
| (ج) شاہ جہاں نے عمارتیں بنوائیں۔ | شاہ جہاں نے عمارتیں بنوائیں۔ |
| (د) ہم نے پہاڑ کے پتھروں کو کالے پائے۔ | ہم نے پہاڑ کے پتھروں کو کالا پایا۔ |
| (ہ) فضول خرچی کی وجہ سے اُس کا سرمایہ اور احترام لٹ گئے۔ | فضول خرچی کی وجہ سے اُس کا سرمایہ اور احترام لٹ گیا۔ |
سوال نمبر ۶ : سیاق و سباق کے حوالے سے درج ذیل جملوں کی تشریح کریں۔
(ا) ایک طرف تو تخلیق کی فطری خواہش اور دوسری طرف اپنے آس پاس کے افراد سے دل پر بیتی ہوئی حالت کو ظاہر کر دینے کا خیال ، ان دونوں عناصر نے مل کر ادب کو پیدا کیا۔
تشریح :
اس اقتباس میں مصنف نے ادب کے پیدا ہونے کی دو اہم وجوہات کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کے ادب کا وجود اس دنیا میں اسی وقت پیدا ہوگیا تھا جب اس دنیا میں تخلیق آدم کا واقع رونما ہوا۔ حالانکہ اس وقت لوگ لکھنے پڑھنے سے ناآشنا تھے لیکن اس وقت بھی اپنے جذبات و احساسات دوسروں تک پہنچانے کے لیے ادب کی تشکیل لازمی ہوتی تھی۔ مصنف کہتے ہیں ہر انسان میں ادب تخلیق کرنے کی فطری خواہش موجود ہوتی ہے اور پھر انسان یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے آس پاس موجود لوگ اس کے جذبات سے باخبر رہیں اور یہ دو عناصر ایسے ہیں جو ادب کو زندہ و جاوید رکھنے کی بنیادی وجہ ہیں۔ اس لیے جب تک اس دنیا میں انسان موجود رہیں گے تب تک ادب کا وجود بھی مٹ نہیں سکتا ہے۔
(ب) اس اعتبار سے ادب کا مرتبہ بہت بلند ہو جاتا ہے، کیوں کہ ہماری سماجی زندگی میں کوئی اور مقام ایسا نہیں آسکتا، جہاں بدصورت چیز کو بھی حسین بنا کر پیش کیا جا سکے۔
تشریح :
اس اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کے ادب ایک واحد ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان ہر بات کو خوبصورت انداز میں پیش کرسکتا ہے۔ انسان کو سب سے زیادہ متاثر حسن ہی کرتا ہے اور ادب کی خاصیت یہی ہے کہ وہ پر بات میں حسن پیدا کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ زمانے میں جتنی بھی تبدیلیاں آئیں لیکن ادب ہمیشہ پوری آب و تاب کے ساتھ موجود رہا اور اس کا مرتبہ کم ہونے کے بجائے ہمیشہ بڑھتا ہی گیا۔ مصنف کہتے ہیں ہماری زندگی میں ادب کے سوا کوئی ایسی شے یا ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کو استعمال کر کے ہم بدصورت اور مشکل بات کو خوبصورت بنا سکیں۔