سبق نمبر 9: خوبصورت بَلا، خلاصہ، سوالات و جوابات

0

تعارفِ مصنف :

آغا حشر بنارس میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک مشہور و معروف کشمیری خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ابتدائی تعلیم حافظ عبد الصمد کے مدرسے میں ہوئی۔ مدرسے سے فارغ ہونے کے بعد جے نارائن سکول میں داخل ہوئے، وہیں سے اُنھوں نے شاعری کا آغاز کیا۔ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ زمانہ طالب علمی میں احسن لکھنوی کے ایک ڈرامے سے اتنے متاثر ہوئے کہ ڈرامہ نگاری کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور کم عمری ہی میں شہرت حاصل کر لی۔ سکول ہی کے زمانے میں اُنھوں نے ” آفتاب محبت” نامی ڈرامہ لکھا۔ ڈرامہ نگاری کے شوق میں بمبئی چلے گئے اور یوں تعلیمی سلسلہ ختم ہو گیا۔

اُن کا پہلا مقبول ڈرامہ مرید شک تھا۔ اُنھوں نے اُردو ڈراموں میں ایک نئی جہت پیدا کی اور سٹیج ڈراموں کو بازاری بین اور عامیانہ ماحول سے نکال کر خالص ادبی صنف بنایا۔ آغا حشر کو زبان پر عبور حاصل تھا۔ وہ شاعرانہ تخیل کو سیدھے سادے الفاظ اور عام بول چال میں بیان کرتے۔ آغا حشر کی بدیہہ گوئی بہت مشہور ہے۔ وہ اتنی جلدی اشعار کہتے تھے کہ سنے والوں کو حیرت ہوتی۔ ان کے ڈراموں کی کامیابی میں اُن کا شاعرانہ اسلوب بھی کار فرما ہے۔ ان میں مکالمہ نگاری کی استعداد بہت تھی۔ اُن کے مکالموں میں مبالغے کا انداز ہے لیکن ان کے اثر سے انکار ممکن نہیں۔

تصانیف:

رستم و سہراب، صید ہوس، یہودی کی لڑکی، خواب ہستی، اسیرِ حرص اور خوب صورت بلا، نیک پروین، پاک دامن وغیره

خلاصہ :

اس ڈرامے کا جو حصہ ہماری کتاب میں شامل ہے اس کی شروعات کچھ یوں ہوتی ہے کے بدی و نیکی کے درمیان کلام ہوتا ہے جس میں بدی اپنی بڑائی بیان کرتی ہے جب کے نیکی اسے سمجھاتی ہے کہ میرے راستے پر چلنے والوں کو بہشت کی منزل ملے گی۔ بدی اس کی بات سن کر اس کا تمسخر اڑا کر کہتی ہے کہ اگر تم نہ ہو تو میں دنیا کو ہی بہشت بنادوں لیکن تم ہی لوگوں کو مجھ سے آنے سے روکتی ہو۔

پھر وہ نیکی سے کہتی ہے کہ تم میرے پیروکاروں کا حال دیکھو کس قدر اچھا ہے اور پھر اسٹیج پر بدی کے پیروکار کرداروں کی آمد ہوتی ہے جو نشے میں مست اور خوش ہوتے ہیں۔ یہ دیکھ کر بدی نیکی کو کہتی ہے کہ میرے پیروکار کی خوشی تم نے دیکھ لی اور اب اپنے پیروکار کا حال بھی تم خود دیکھ لو لیکن نیکی اسے جواب دیے بنا چلی جاتی ہے۔ پھر منظر بدلتا ہے جہاں شمسہ جو کے اپنے بھائی کو قتل کرنے کے بعد رانی بن چکی ہے وہ اپنے غلام قتلو کو کہتی ہے کہ توفیق کو پیش کیا جائے۔

توفیق مرحوم بادشاہ کا وفادار ہوتا ہے جو اپنی جان پر کھیل کر بادشاہ کے بیٹے کو شمسہ سے بچا رہا ہوتا ہے۔ شمسہ اور قتلو توفیق پر بہت دباؤ ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں شہزادے کا پتہ دے دو تو تم پر دولت اور رحم کی بارش کردی جائے گی لیکن توفیق انھیں منع کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ہرگز بھی تمھیں شہزادے کا پتہ نہ دوں گا ورنہ تم لوگ اسے قتل کر کے اس پوری سلطنت پر راج کرنے کا اپنا خواب پورا کرلو گے لیکن میں ایسا نہیں ہونے دونگا۔

بادشاہ کی بیشک وفات ہوچکی ہے لیکن میں ان کا وفادار ہوں اور میں نمک حرامی نہیں کرونگا۔ پھر توفیق شمسہ کو بہت برا بھلا کہتا ہے جس پر شمسہ اسے کہتی ہے کہ اتنا کچھ سننے کے بعد تو میں تمھیں قتل کردینا چاہتی ہوں۔ اس منظر کے ساتھ ہی اسٹیج پر پردہ گرجاتا ہے اور سین ختم ہوجاتا ہے۔

مشق

سوال نمبر ۱: ڈرامے کی تعریف کریں اور آغا حشر کاشمیری کے چند دیگر ڈراموں کے نام لکھیں۔

جواب : ڈرامے کی تعریف : ڈراما ایسی کہانی یا قصہ ہے جو اداکاری کے لیے لکھا جائے یا اداکاری کے ذریعے پیش کیا جائے۔
آغا حشر کے دیگر ڈراموں کے نام یہ ہیں : آفتابِ محبت، مریدِ شک۔

سوال نمبر ۲ : بدی نے اپنی تعریف میں جو کچھ کہا، اسے اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

جواب : بدی نے اپنی تعریف میں کہا کہ وہ اس دنیا جہاں کی خوشی ہے۔ دنیا کی قسمت اس کے داہنے ہاتھ میں ہے اور اس کی کنجی اس کے بائیں ہاتھ میں ہے۔

سوال نمبر ۳ : شمسہ نے توفیق سے کیا مطالبہ کیا؟

جواب : شمسہ نے توفیق سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس کے بھتیجے شہزادے سہیل کو شمسہ کے حوالے کردے اور شمسہ کا وفادار بن جائے۔

سوال نمبر ۴ : مقفی نثر کسے کہتے ہیں۔ اس سبق میں سے مقفی نثر کی کم از کم پانچ مثالیں لکھیں۔

جواب : ایسی نثری عبارت جس کے فقروں میں وزن نہ ہو لیکن قافیہ کا استعمال کیا گیا ہو۔

  • (ا) بس کر قیل و قال۔ اب دیکھ میرے عاشقوں کا حال۔
  • (ب) دنیا عاشقوں کا بازار ہے۔ اس میں کوئی تیرا خریدار ہے، کوئی میرا طلب گار ہے۔
  • (ج) تیرا ہر لفظ عداوت سے بھرا ہے، دنیا کا چمن بس میری ہی کوشش سے ہرا ہے۔
  • (د) تاج کا تابعدار ہو، ورنہ خوفناک انجام کی پیشوائی کے لیے تیار ہو۔
  • (ہ) کس حال میں ہے؟ شیر لوہے کے جال میں ہے۔

سوال نمبر ۵ : توفیق نے عورت کی تعریف کن جملوں میں کی ہے؟

جواب : توفیق نے کہا عورت کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ عورت وہ ہوتی ہے جس میں رحم ہو، شرم ہو، سچائی ہو، با وفائی ہو، پارسائی ہو، فرشتوں کی طنیت اور حور کی عصمت ہو۔

سوال نمبر ۶ : معانی تحریر کریں۔

سرکش :نافرمان
عداوت :دشمنی
قیل و قال :تکرار
چھتر : بڑی چھتری
پابہ زنجیر :پاؤں زنجیر میں بندھ جانا
طینت :طبیعت
جنبش :ہلچل
چرخ :آسمان
سحاب :بادل
تبر : کلہاڑی رکھنے والا

سوال نمبر ۷ : توفیق کے کردار کے بارے میں چند سطریں لکھیں۔

جواب : توفیق کا کردار اس ڈرامے میں ایک وفادار شخص کا ہے جو اپنی جان سے تو چلے جاتے ہیں لیکن وفاداری اور ایمانداری چھوڑ کر اپنے مفاد کے لیے کبھی بدی کا راستہ اختیار نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ جنت کی امید اور اپنی آخری آرام گاہ میں کامیابی کی امید لئے دنیا کے ہر ظلم کو برداشت کرلیتے ہیں لیکن سیدھی راہ سے کبھی نہیں بھٹکتے ہیں۔

سوال نمبر ۸ : شیر لوہے کے جال میں ہے یہاں شیر بہادر آدمی کے لیے استعارہ ہے۔ استعارے کی تعریف کریں اور مثالیں دیں۔

جواب : جب کوئی لفظ اپنے اصل معنوں کے بجائے اپنے مجازی معنی میں استعمال کیا جائے اور دونوں کے درمیان تعلق موجود ہو تو اسے استعارہ کہتے ہیں۔
جیسے : تم بڑے چھپے رستم ہو
ماں کا لعل

یہاں لعل اور رستم استعارہ ہیں۔ اصل میں لعل موتی کو کہتے ہیں لیکن یہاں بیٹے کو لعل کہا گیا ہے کیونکہ ماں کے لیے بیٹا موتی جیسا قیمتی ہے۔ اسی طرح رستم ایک پہلوان کا نام تھا یہاں رستم کا مطلب طاقتور ہے یعنی کوئی طاقتور ہے لیکن ظاہر نہیں کررہا ہے۔

سوال نمبر ۹ : اپنے معاشرے اور ماحول کے حوالے سے قتلو کے کردار کا تنقیدی جائزہ پیش کریں۔

جواب : قتلو کا کردار ایک ایسا کردار ہے جو اپنے فائدے کے لیے کسی کی جان تک لینے پر راضی ہے اور وہ وقت کے بادشاہ کا وفادار ہے۔ اس ڈرامے میں وقت کی بادشاہ شمسہ ہے تو وہ شمسہ کا وفادار بن گیا ہے اور نہ صرف توفیق پر ظلم کررہا ہے بلکہ چاہتا ہے کسی طرح شہزادہ کے متعلق بھی معلومات حاصل ہوجائے تاکہ اسے بھی راستے سے ہٹا کر وہ شمسہ کو خوش کرسکے۔

سوال نمبر ۱۰ : جب کسی جملے میں دو افعال اکٹھے استعمال ہوں، ان میں ہر دوسرا فعل امدادی فعل کہلاتا ہے۔ امدادی فعل کے استعمال سے جملہ موثر اور واضح ہو جاتا ہے۔ جیسے آجانا، کھا لیا، دے دیا، مار ڈالا، ہو گیا وغیرہ کوئی سے پانچ جملے لکھ کر ان میں امدادی فعل کی نشاندہی کریں۔

  • وہ تکلیف سے بلبلا اٹھا۔ (امدادی فعل : بلبلا اٹھا)
  • اس نے کھانا کھالیا۔ (امدادی فعل : کھالیا)
  • تم بھی وہاں آجانا۔ (امدادی فعل : آجانا)
  • میں نے اسے بستہ دے دیا۔ (امدادی فعل : دے دیا)
  • بلی نے چوہے کو مار ڈالا۔ (امدادی فعل : مار ڈالا)