Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر ۳۳
- داغ دہلوی
تعارف شاعر
نواب مرزا خان داغ دلی میں پیدا ہوئے۔ قلعہ معلی میں پرورش پائی۔ قلعہ میں مشاعروں کی رونق کو داغ نے قریب سے دیکھا اور یہیں سے ان کا ذوق شاعری اُبھرا اور نکھرا۔ شاعری میں استاد ذوق کے شاگرد تھے۔ داغ کے یہاں جو چیز سب سے نمایاں ہے وہ لطف محاورہ اور زبان کا چٹخارہ ہے۔ اُن کا انداز بیان بڑا خوبصورت ہے۔ داغ کی غزلوں میں عشق کی معاملہ بندی، شوخی اور مسرت کے جذبات کی فراوانی ہے۔
ان کی شاعری میں میر کا غم یا غالب کا غور و فکر نہیں ہے مگر ان کا انداز بیان سہلِ ممتنع کی بہترین مثال پیش کرتا ہے جس کی بدولت ان کی شاعری کو ایک خاص مقام حاصل ہوا ہے۔ ان کی زبان کو سند کا درجہ حاصل ہے۔ ان کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال بھی انھیں اپنا کلام اصلاح کے لیے ارسال کیا کرتے تھے۔ ان کی موت پر اقبال نے ایک پُر تاثیر مرثیہ لکھا جس میں داغ کی شاعری کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں ۔ اُردو غزل کی تاریخ میں داغ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اردو زبان کے فروغ میں بھی ان کی شاعری کا بڑا حصہ ہے۔ داغ کا کلیات اردو شاعری کا قابل قدر سرمایہ ہے۔
مجموعہ ہائے کلام: ماہتاب داغہ، گلزار داغ، آفتاب داغ اور یادگار داغ، داغ دہلوی کے نمایاں شعری مجموعے ہیں۔ ۱۹۰۵ء میں حیدر آباد میں ان کا انتقال ہوئی۔
- غزل ماخوذ کلیات داغ
| آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو کوئی دم اور بھی آپس میں ذرا ہونے دو |
تشریح:
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے محبوب تم جو خود کو آئینے میں تک رہے ہو اور ہماری جانب متوجہ نہیں ہورہے ہو تو تم ایسا کرو اپنی نظروں کے سامنے سے یہ آئینہ بالکل مت ہٹاؤ اور اپنے عکس کو ہی دیکھتے رہو اور اسی کام میں مگن رہو۔
| کم نگاہی میں اشارا ہے، اشارے میں حیا نہ ہونے دو مجھے چین سے یا ہونے دو |
تشریح:
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو کہتے ہیں کہ جو تم مجھے یوں کن اکھیوں سے تکتے ہو میں سمجھتا ہو کہ یہ کم دیکھنا تمھاری حیا کا تقاضا ہے لیکن یوں مجھے دیکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو لیکن پھر شاعر کہتے ہیں کہ اے محبوب تو تم مجھے اس طرح دیکھتے رہا کرو تاکہ مجھے چین آجائے۔
| ہم بھی دیکھیں ، تو کہاں تک نہ توجہ ہوگی کوئی دن تذکرہ اہل وفا ہونے دو |
تشریح:
اس شعر میں شاعر محبوب کی بےرخی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آخر ہم بھی دیکھیں کے ہمارا محبوب کب تک ہماری جانب متوجہ نہ ہوگا اور ہم سے بےرخی برتے گا۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہم روز اس کے سامنے اہل وفا کا تذکرہ کرتے رہیں گے اور آخر ایک دن ہمارا محبوب ہماری جانب متوجہ ہوجائے گا۔
| آنکھ ملتے ہی کہوں خاک حقیقت دل کی دیکھ کر جلوہ مرے ہوش بجا ہونے دو |
تشریح:
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ایک روز اچانک میرا محبوب میرے سامنے اگیا اور مجھ سے میرا حال پوچھنے لگا لیکن اے محبوب تم سے نگاہیں ملتے ہی میرے ہوش فنا ہوگئے تو میں اپنا حال تمھیں کیا بیان کرتا اس لیے تم میرے ہوش بجا ہونے دو جو تمھارا جلوہ دیکھ کر فنا ہوچکے ہیں۔
| تم دل آزار بنے رشک مسیحا کیسے کم نہ ہونے دو مرا درد سوا ہونے دو |
تشریح:
اس شعر میں شاعر طنز کرتے ہوئے اپنے محبوب کو کہتے ہیں کہ آخر تم تو میرا دل توڑنے والوں میں سے ہو تم آج مسیحا کیسے بن گئے ہو۔ پھر وہ ناراضی کا اظہار کر کے اپنے محبوب کو کہتے ہیں کہ تم دل آزار ہی بنے رہو اور میرے درد کو بڑھنے ہی دو اور مجھ سے جھوٹی ہمدردی کر کے میرا درد کم کرنے کی کوشش نہ کرو۔
| کیا نہ آئے گا اسے خوف مرے قتل کے بعد دست قاتل کو ذرا دست دعا ہونے دو |
تشریح:
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جو لوگ مجھے آج قتل کردینا چاہتے ہیں کیا انھیں کبھی بھی اپنے عمل کا افسوس نہیں ہوگا۔ پھر شاعر کہتے ہیں کہ تم بس انتظار کرو یہ لوگ جو آج قتل و غارت میں مبتلا ہیں ان کے ہاتھوں کو دعا میں بلند ہونے دو تب انھیں ضرور اپنے اعمال پر پچھتاوا ہوگا۔
| جب سنا داغ کوئی دم میں فنا ہوتا ہے اس ستمگر نے اشارے سے کہا : ہونے دو |
تشریح:
اس شعر میں شاعر محبوب کی بےرخی بیان کر کے کہتے ہیں کہ اے داغ جب میرے محبوب نے سنا کہ میرا دم فنا ہونے والا ہے اور میں مرنے والا ہوں تو میری دلجوئی کرنے کے بجائے اس نے اشارے سے کہا کہ اس کا دم فنا ہوجانے دو۔
مشق
سوال نمبر ایک: موزوں الفاظ کی مدد سے خالی جگہ پر کریں۔
آئینہ اپنی _____ سے نہ جدا ہونے دو
نظر✔۔ جگر۔ اثر۔ سفر۔
_____ ملتے ہی کہوں خاک حقیقت دل کی
بال۔ ہاتھ ۔ آنکھ✔۔ ناک
جب سنا _____ کوئی دم میں فنا ہوا ہے۔
میر ۔ درد ۔ ذوق ۔ ✔داغ
تم دل ____ بنے رشک مسیحا کیسے
آرام – آزار✔ – آویز – افروز
اس ستمگر نے _____ سے کہا ہونے دو۔
اشارے✔- شرارے۔ ستارے- نظارے
سوال نمبر دو: داغ دہلوی کی غزل کا مطلع تحریر کر کے اس کا مفہوم واضح کریں۔
| آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو کوئی دم اور بھی آپس میں ذرا ہونے دو |
مفہوم:
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے محبوب تم جو خود کو آئینے میں تک رہے ہو اور ہماری جانب متوجہ نہیں ہورہے ہو تو تم ایسا کرو اپنی نظروں کے سامنے سے یہ آئینہ بالکل مت ہٹاؤ اور اپنے عکس کو ہی دیکھتے رہو اور اسی کام میں مگن رہو۔
سوال نمبر تین: داغ نے غزل کے مقطع میں محبوب کی نفسیات کی کون سی تصویر پیش کی ہے۔
جواب: اس مقطع میں محبوب کی نفسیات کی یہ منظر کشی کی گئی ہے کہ محبوب انتہائی سفاک ہے اور وہ شاعر کو مرتا دیکھ کر اس کے پاس جانے کے بجائے اشارے سے کہہ رہا ہے کہ اس کا دم نکل جانے دو۔
سوال نمبر چار: مندرجہ ذیل الفاظ و تراکیب کو جملوں میں استعمال کریں۔
- کم نگاہی: کم نگاہی حیا کا تقاضا ہے۔
- حیا: دین اسلام ہمیں حیا کا درس دیتا ہے۔
- رشک مسیحا: لوگ اپنے رویے کے سبب رشک مسیحا کا کردار ادا کرتے ہیں۔
- دست دعا: ہمیں رب کی بارگاہ میں دست دعا بلند کرنے چاہیے۔
- اہل وفاء: اہل وفا کبھی بےوفائی نہیں کرتے۔
- فنا: اس دنیا میں موجود ہر جاندار کو فنا ہوجانا ہے۔
سوال نمبر پانچ: داغ کی شاعری پر مختصر نوٹ لکھیں۔
جواب: داغ کے یہاں جو چیز سب سے نمایاں ہے وہ لطف محاورہ اور زبان کا چٹخارہ ہے۔ اُن کا انداز بیان بڑا خوبصورت ہے۔ داغ کی غزلوں میں عشق کی معاملہ بندی، شوخی اور مسرت کے جذبات کی فراوانی ہے۔ ان کی شاعری میں میر کا غم یا غالب کا غور و فکر نہیں ہے مگر ان کا انداز بیان سہلِ ممتنع کی بہترین مثال پیش کرتا ہے جس کی بدولت ان کی شاعری کو ایک خاص مقام حاصل ہوا ہے۔ ان کی زبان کو سند کا درجہ حاصل ہے۔