Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر ۱۷
- سبق (نام): نعت
- شاعر: محسن کاکوروی
- ماخوز : کلیات نعت محسن
تعارف شاعر:
نام محسن اور محسنؔ ہی ان کا تخلص تھا۔ محسن کاکوروی ۱۸۲۶ کو لکھنؤ کے ایک قصبے کاکوری میں پیدا ہوئے۔ علوم متداولہ کے حصول کے بعد انگریزی تعلیم حاصل کی اور عدالتی کاموں میں مشغول ہوگئے۔ بعد ازاں وکالت کا امتحان پاس کیا اور اگرے میں پریکٹس کرتے رہے۔روایت ہے کہ محسن نوسال کے تھے کہ انھں خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی، جس پر اظہار مسرت کے طور پر انھوں نے ایک فارسی نظم لکھی۔ محسن کاکوروی کا زیادہ تر کلام حمدیہ اور نعتیہ ہے۔ ان کی وجۂ شہرت بھی ان کا نعتیہ کلام ہے۔ ان کا کلام ”کلیات نعت محسن“ کے نام سے طبع ہو چکا ہے۔
محسن کی شاعری مجموعی طور پر زبان دانی کا ایک عمدہ نمونہ ہے، جس میں عربی فارسی کے علاوہ ہندی الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ ان کی نعتوں میں صداقت اور خلوص موجود ہے۔ ان کا اسلوب شگفتہ اور رواں دواں ہے۔ دبستان لکھنؤ سے تعلق کی وجہ سے ان کے ہاں شوکت تشبیہات اور استعارات نے ان کے کلام کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ ان کے ہاں الفاظ کا چناؤ اور مضمون کی بلندی ہمیشہ ہم آہنگ نظر آتی ہے اور یہ چیز ان کی قادر الکلامی کی دلیل ہے۔ نعتوں کے علاوہ ان کے مجموعہ کلیات میں صحابہ کرامؓ کے مناقب بھی موجود ہیں اور بعض دیگر اصناف پر بھی اشعار ملتے ہیں جن میں تاریخ گوئی بھی ملتی ہے۔ان کی وفات ۱۹۰۵ میں ہوئی۔
| سب سے اعلٰی تری سرکار ہے سب سے افضل میرے ایمانِ مفصل کا یہی ہے مجمل |
تشریح:۔
اس شعر میں شاعر محسن کاروی، آنحضرتﷺ کے حضور اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں کہ، اے ہم سب کے محبوب پیمبرؐ آپ کی ذات مبارکہ دنیا میں سب سےافضل ہے۔ آپؐ کی بادشاہت اور حکومت لاکھوں دلوں پر ہے، جس سب دنیاوی بادشاہوں سے بہتر و برتر ہے۔ آپؐ کو خاتم النبین کا خطاب ملا، آپ تمام جہانوں کے لیے رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجے گئے ہیں، یہ مرتبہ رہتی دنیا تک کسی اور کو نہیں مل سکتا، یہ فقط آپؐ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔
| گلِ خوشرنگ رسولِؐ مدنی عربی زیب دامانِ ابد طُرّہِ دستارِ ازل |
تشریح:
محسن کاکوروی اپنی منفرد تشبیہات اور استعارات کا استعمال کرتے ہوئے اس شعر میں، آپﷺ کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے کہتے ہیں، آپﷺ ایک ایسا خوشبودار پھول ہیں جن کی خوشبوسے تمام جہاں معطر ہو گیا ہے۔ آپﷺ کے لیے عربی اور مدنی کے القابات ان کے قبیلے اور نسل کی نسبت سے پکارے گئے ہیں۔ شاعر نے آنحضرتﷺ کی ذات گرامی کو باعث تخلیق کائنات کہا ہے۔
| اوجِ رفعت کا قمر نخلِ دو عالَم کا ثمر بحرِ وحدت کا گہَر چشمۂِ کژت کا کنول |
تشریح:۔
شاعر محسن کاکوروی نے اس شعر میں آپﷺ کی تعریف کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ، آپﷺ کائنات کی بلندیاں کا چمکتا ہوا چاند ہیں، جس کی روشنی سے تمام دنیا پر پھیل چکی ہے، اس روشنی سے سارے جہاں کی جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے۔ آپؐ زمانے کے لیے رحمت بنائے کر بھیجے گئے، آپ کی تعلیمات سے لوگوں نے جہالت کی تمام رسومات سے توبہ کر کے توحید کو اپنایا اور دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کے لیے بھی نجات پا لی۔
| ہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالی نہ مرا شعر نہ قطعہ نہ قصیدہ نہ غزل |
تشریح:۔
شاعر محسن کاکوروی نے اس شعر میں آپﷺ کی تعریف کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزل، قصیدہ، مثنوی جیسے دوسرے ادبی اصناف میں بھی طبع آزمائی کی، مگر جس عقیدت اور الفت سے وہ نعت رسولﷺ کہتے ہیں وہ سب سے الگ اور نمایاں رنگ ہے۔وہ ہر أصناف ادب میں آپﷺ کی محبت و عقیدت کا قصیدہ پڑھیں گے۔ شاعر انتہائی درجہ عشق رسولﷺ میں مبتلا ہیں، کہ وہ ہر صنف ادب میں حب رسولﷺ کو بیان کرتے ہیں۔
| ہو مرا ریشہِ امید وہ نخلِ سر سبز جسکی ہر شاخ میں ہو پھول ہر اِک پھول میں پھل |
تشریح:۔
شاعر محسن کاکوروی نے اس شعر میں مسلمان ہونے کے ناطے اپنا عقیدہ بتاتے ہیں کہ، آنحضرتﷺ سے انھیں روز محشر شفاعت کی امید ہے۔وہ اپنے حب رسولﷺ اور اطاعت دین سے اپنی شفاعت کے لیے آنحضرتﷺ سے آس لگائے ہوئے ہیں۔ شاعر نے اپنی اسی امید پر کہ وہ اطاعت دین اور احکام رسول خداﷺ پر عمل کر کے شفاعت کی سرخروری کی امیدوں کا درخت ہمارے دل میں ہرا کر چکے ہیں، وہ یہ امید روز قیامت تک تر و تازہ رہے گی۔
| رُخِ انور کا ترے دھیان رہے بعدِ فنا میرے ہمراہ چلے راہِ عدم میں مشعل |
تشریح:۔
شاعر محسن کاکوروی نے اس شعر میں اپنی الفت و عقیدت کے پیش نظر کہتے ہیں کہ جب تک وہ زندہ ہیں انھیں آپﷺ کا سہارا ہے، وہ اپنی زندگی کی رہنمائی آپؐ کے احکامات میں کرتے ہیں، جس سے انھیں دنیا میں ایک اچھی زندگی گزارنے میں مدد ملتی ہے۔ جبکہ وہ مرنے کے بعد آپﷺ کا رخ مبارک دیکھنے کے خواہش رکھتے ہیں۔ مرنے کے بعد کا کٹھن اور روز قیامت کا مشکل ترین سفر وہ آپؐ کی رہنمائی میں کرنے کے لیے پرامید ہیں۔
| صفِ محشر میں ترے ساتھ ہو تیرا مدّاح ہاتھ میں ہو یہی مستانہ قصیدہ یہ غزل |
تشریح:۔
شاعر محسن کاکوروی نے اس شعر میں اپنے جذبات کا احاطہ کیا ہے کہ، جب روز محشر تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے میدان حشر میں جمع کر دیا جائے گا، تو ہر آدمی کو اس وقت اپنی فکر ہوگی۔ لوگوں کو مختلف صفوں میں قطار در قطار کھڑا کیا جائے گا۔ اس وقت سب کو ان کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔ اس پر شاعر کی یہ خواہش ہے کہ انھیں آپؐ کی صف میں کھڑا کر دیا جائے اور انھیں ان کا یہ نعتیہ مجموعہ اعمال نامے کے طور پر دیا جائے جو ان کے لیے نجات کا ذریعہ بنے۔
مشق:
سوال نمبر ۱۔ حمد، نعت اور منقبت میں فرق واضح کریں۔
جواب:حمد سے مراد وہ نظم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کی تعریف کی ہو۔
نعت اس نظم یا غزل کو کہتے ہیں، جس میں آپﷺ کی سیرت و اوصاف حمیدہ کی تعریف بیان ہو۔
منقبت اس نظم یا غزل کو کہتے ہیں جس میں صحابہ کرامؓ و اہل بیت رسولؐ کی تعریف، فضیلت یا جذبۂ ایثار کا تذکرہ کیا گیا ہو۔
سوال نمبر۲۔ شاعر نے رسولِ کریمؐ کے کیا کیا اوصاف بیان کیے ہیں؟ ان کی وضاحت کریں۔
جواب:۔شاعر نے رسول کریمؐ کے اوصاف حمیدہ بیان کیے ہیں کہ، آپؐ کی ذات سب سے بالا و برتر ہے، آپ ؐ کی بادشاہت عظیم اور دلوں پر ہے، آپ ؐ کی سیرت تمام جہانوں کے لیے عملی نمونہ ہے۔ آپؐ عرب کی سرزمین کے پھول تھے جن کی خوشبو تمام عالم پر پھیل گئی۔
سوال نمبر۳۔ آخری تین اشعار میں کیا دعا کی گئی ہے۔
جواب:۔آخری تین اشعار میں شاعر نے حضورﷺ سے شفاعت،موت کے بعد آپؐ کے دیدار اور قیامت کےآپؐ کی صف میں کھڑے ہونے کی دعا کی ہے۔
سوال نمبر۴۔ اس نعت میں کون کون سی تشبیہات استعمال ہوئی ہیں؟
جواب:۔ اس نعت میں درج ذیل تشبیہات استعمال ہوئی ہیں:
گل خوش رنگ، زیب ادامان ابد، طرۂ دستاز ازل، اوج رفعت کا قمر، نخل دو عالم کا ثمر،بحر وحدت کا گہر، چشمۂ کثرت کا کنول۔
سوال نمبر۵۔ اس نعت میں جن أصناف سخن کا ذکر ہوا ہے، ان کی تعریف کریں۔
- جواب:۔ اس نعت میں قطعہ، قصیدہ اور غزل کا ذکر ہوا ہے جن کی تعریف درجہ ذیل ہے:۔
- قطعہ:۔ قطعہ کے لغوی معنی ہیں ٹکڑا یا حصہ، یہ صنف سخن ہے جس میں دو یا دو سے زیادہ اشعار اس طرح لکھے جاتے ہیں جن میں مسلسل ایک ہی مضمون بیان ہوتا ہے۔
- قصیدہ:۔ قصیدہ کے لغوی معنی”ارادہ“ کے ہیں۔ اصطلاح ادب میں قصیدہ اس نظم کو کہتے ہیں جس میں شاعر بادشاہ، وزیر یا امرا کی تعریف قلمبند کرتے ہیں۔
- غزل:۔ غزل کا لفظ عربی زبان کا مصدر ہے، جس کے معنی ”کاتنا“(چرخے پر روئی سے سوت بنانا) ہے۔ غزل ایک ایسی صنف شاعری ہے جس میں عشق و محبت کا ذکر ہوتا ہے۔غزل میں ہر قسم کے مضمون کو بیان کیا جاتا ہے۔
سوال نمبر۶۔ کلام میں ایک چیز کی مناسبت سے مختلف چیزوں کا ذکر نا جن میں کوئی تضاد نہ ہو مراعاۃ النظیر کہلاتا ہے۔ مثلاً:
| ہو مراریشۂ امید وہ نخل سرسبز جس کا ہر شاخ میں ہو پھول، ہر اک پھول میں پھل۔ |
اس شعر کے پہلے مصرعے میں نخل سرسبز کی مناسبت سے شاخ، پھول اور پھل کا ذکر کیا گیاہے۔ کم سے کم تین اشعار لکھیں جن میں صنعتِ مراعاۃ النظیر پائی جائے۔
جواب: صنعت ”مراعاۃ النظیر“ پر مبنی تین اشعار حسب ذیل ہیں:
| پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے |
| شوق اگر نہ ہوتا میری نماز کا امام میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی جحاب |
| نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی |