غزلیات میر درد تشریح، سوالات و جوابات

0

تعارف شاعر

خواجہ میر درد دلی میں پیدا ہوئے۔ گو تصوف کے مضامین اُردو کے بیشتر شعرا نے باندھے ہیں لیکن ان میں جو تکمیلی شان درد نے پیدا کی ہے ، وہ انھی کا حصہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صوفی تھے۔ درد قلبی واردات کے اظہار کے لیے جن الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں ، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ الفاظ بنے ہی اس مقصد کے لیے ہوں۔ درد کی صوفیانہ شاعری وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے فلسفوں کا خوب صورت امتزاج پیش کرتی ہے۔

خواجہ میر درد تصوف کے فلسفیانہ مضامین کو جس بے ساختگی اور سادگی سے بیان کرتے ہیں، وہ انھیں کے ساتھ مخصوص ہے۔ اُن کی غزل میں تغزل صرف تصوف کی بدولت پیدا ہوتی ہے۔ درد کے ہاں عشق اور تصوف ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں۔ انھوں نے محاورہ اور روزمرہ کثرت سے استعمال کیا اور نہ صرف غزل کی تہذیبی روایت پیدا کی بلکہ اسے ارتقا کے اگلے زینے پر چڑھنے کا راستہ بھی دکھایا۔ اُردو شاعری کو درد نے ایک ہی مجموعہ کلام دیوان درد دیا ہے لیکن معیار کے اعتبار سے وہ اتنا بلند پایہ ہے کہ اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور جس نے درد کو غزل گو شعرا کے صف اول میں کھڑا کر دیا ہے۔
تصانیف: شمع محفل، آه سرد، ناله درد، واردات، دردِ دل اور علم الکتاب۔

غزل کی تشریح

قتلِ عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا
پر ترے عہد کے آگے تو یہ دستور نہ تھا

تشریح:

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کے ہر معشوق اپنے عاشق کے ہاتھوں قتل ہوتا ہی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ بہت عام بات ہے کے ایک عاشق کو اس کا معشوق کبھی اپنی بےرخی سے قتل کرے تو کبھی کسی اور طرح۔ پھر شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ یہ باتیں تو عام لوگوں کی ہیں تیرے عہد میں تو ایسا نہ تھا کہ تو اپنے عاشق یعنی مجھے یوں قتل کرے۔

رات مجلس میں ترے حسن کے شعلے کے حضور
شمع کے منہ پہ جو دیکھا ، تو کہیں نور نہ تھا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ رات کی مجلس میں ہم نے شمع کو دیکھا تو ہمیں وہاں کوئی نور یا اجالا نظر نہ آیا کیونکہ تیرے حسن کا شعلہ اتنا تیز اور روشن تھا کہ اس نے باقی تمام روشنی کو اپنے پیچھے بےمعنی کر کے رکھ دیا تھا۔

ذکر میرا ہی وہ کرتا تھا صریحاً ، لیکن
میں جو پہنچا تو کہا ، خیر یہ مذکور نہ تھا

تشریح :

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کی ادا بیان کرتے ہیں کہ وہ ہر جگہ میرا ذکر کرتا پایا جاتا تھا لیکن جب میں اس کے پاس جاتا تو وہ اپنی بات سے مکر جاتا اور کہتا کہ میں نے تمھارا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی تمھارا ذکر کرنے کا میرا کوئی مقصد یا ارادہ تھا۔

باوجودیکہ پر و بال نہ تھے آدم کے
واں پہ پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا

تشریح :

اس شعر میں شاعر معراج کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیشک فرشتوں کے پاس پر موجود ہوں اور ابنِ آدم اس سے محروم ہو پھر بھی آدم یعنی ایک انسان ایسی جگہ پہنچ سکتا ہے جہاں پر فرشتے بھی نہیں جاسکتے ہیں۔

پرورش غم کی ترے ہاں تئیں تو کی ، دیکھا
کوئی بھی داغ تھا سینے میں کہ ناسور نہ تھا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ مجھے لگتا تھا میں بہت غم زدہ ہوں لیکن جب میں نے اپنے پروردگار کے سامنے اپنے غموں کی فریاد کی اور اپنے غم اس کے سامنے رکھے تو میں بہتر محسوس کرنے لگا اور پھر اپنے دل میں جھانکا تو یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ میرے سینے میں اب کوئی درد نہیں تھا نہ ہی کوئی داغ ناسور بن کر میرے سینے میں موجود تھا۔

محتسب آج تو مے خانے میں تیرے ہاتھوں
دل نہ تھا کوئی، کہ شیشے کی طرح چور نہ تھا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اے محبوب میں نے اپنا دل تمھیں دے دیا ہے لیکن آج میں نے دیکھا کہ تم میرے دل کو اس طرح استعمال کررہے ہو جیسے وہ کوئی دل نہ ہو بلکہ شیشے کا ایک برتن ہو جس کے ٹوٹ جانے سے تمھیں کوئی فرق کہ پڑے۔

درد کے ملنے سے اے یار ! برا کیوں مانا
اس کو کچھ اور سوا دید کے ، منظور نہ تھا

تشریح :

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اے یار اگر میں تم سے بار بار ملنے کا کہتا ہوں تو تم برا کیوں مناتے ہو۔ میں تم سے کچھ حاصل نہیں کرنا چاہتا تم سے بار بار ملنے کا صرف یہی مقصد ہوتا ہے کہ میں تمھاری دید سے اپنی نظروں کی پیاس بجھانا چاہتا ہوں۔ء

مشق

سوال نمبر ایک : خالی جگہ مناسب لفظ کے انتخاب سے پُر کریں۔

  • ا: قتل عاشق کسی ___ سے کچھ دور نہ تھا
  • معشوق✔ ، محبوب ، دشمن
  • ب: رات مجلس میں ترے _____ کے شعلے کے حضور
  • آگ ، حسن✔ ، نار
  • ج: واں پہ پہنچا کہ ____ کا بھی مقدور نہ تھا
  • انسان ، آدمی ،✔ فرشتے
  • د: محتسب آج تو ____ میں تیرے ہاتھوں
  • تھانے ، جیل خانے ،✔ مے خانے
  • درد کے ملنے سے اے ____ برا کیوں مانا
  • یار✔ ، دوست ، دشمن

سوال نمبر دو : ردیف کسے کہتے ہیں؟ درد کی غزل کی ردیف کی نشان دہی کریں۔

جواب : شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد وہ لفظ یا الفاظ کا مجموعہ ہے جو قافیے کے بعد آئیں اور بالکل یکساں ہوں۔ ردیف کا ہر مصرعے میں ہونا لازمی نہیں ہے۔ عام طور پر یہ غزل کے اشعار میں مصرعۂ ثانی میں دہرائے جاتے ہیں۔
اس غزل کا ردیف “نہ تھا” ہے

سوال نمبر تین : دور، دستور، مذکور وغیرہ اس غزل کے قافیے ہیں۔ ایسے پانچ ہم قافیہ الفاظ لکھیں جو اس غزل میں موجود نہ ہوں۔

ہم قافیہ الفاظ : روئیے، سوئیے، کھوئیے، ڈبوئیے، ڈھوئیے۔

سوال نمبر چار : کنایہ قریب اور کنایہ بعید میں ، مثالوں کی مدد سے فرق واضح کریں۔

جواب : کنایہ قریب ایسی مثال ہوتی ہے جو کسی شخص سے منسوب ہو اور اسے پڑھ کر موصوف کا خیال ذہن میں آجائے۔ کنایہ بعید سے مراد یہ ہے کہ الگ الگ صفتیں ایک موصوف سے مراد ہو لیکن ان صفتوں کو الگ الگ بھی بیان کیا جاسکتا ہو۔

سوال نمبر پانچ : اس غزل کے قوافی لکھیں۔

  • دور
  • دستور
  • حضور
  • نور
  • مذکور
  • مقدور
  • ناسور
  • چور
  • منظور

سوال نمبر چھ : مندرجہ ذیل کی تعریف کریں اور دو دو مثالیں لکھیں۔

  • مراعاة النظير: شاعر جب ایک چیز کا ذکر کرے اور پھر اُس چیز کی مناسبت سے اور چیزوں کا ذکر اگلے مصرعے میں کرے جن میں کوئی تضاد نہ ہو تو صنعت مراعات النظیر کہلاتی ہےـ
  • مثال:
شوق اگر نہ ہوتا میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی جحاب
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
  • حسن تعلیل: اس سے مراد ہے کسی چیز کی ایسی علت بیان کرنا جو درحقیقت علت نہ ہو۔
  • مثال:
پھول کا بلبل کو دیکھ کر کِھلنا
موسم کا محبوب کے تیور کے ساتھ بدلنا
  • لف ونشر: لف کے معنی لپیٹا اور نشر کے معنی پراگندہ کے ہیں۔ کلام میں پہلے چند چیزوں کا ذکر کیا جائے پھر ان کے مناسبات و متعلقات کا تذکرہ ہو۔ چنانچہ پہلے کو لف اور دوسرے کو نشر کہتے ہیں۔
  • مثال:
ترے رخسار و قد و چشم کے ہیں عاشق زار
گل جدا سرو جدا نرگسِ بیمار جدا
یاد میں اس طرہ در خار کے
ہاتھ سر پر مارتا ہوں صبح و شام
  • تلمیح: شاعری کی اصطلاح میں تلمیح سے مراد ہے کہ ایک لفظ یا مجموعہ الفاظ کے ذریعے کسی تاریخ سیاسی اخلاقی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ کیا جائے۔ مثال:
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آﺅ نا ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی

سوال نمبر سات : آپ کو اس غزل میں درد کا کون سا شعر پسند ہے اور کیوں؟

اس غزل کا آخری شعر مجھے پسند ہے کیونکہ اس میں درد اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ اے یار اگر میں تم سے بار بار ملنے کا کہتا ہوں تو تم برا کیوں مناتے ہو۔ میں تم سے کچھ حاصل نہیں کرنا چاہتا تم سے بار بار ملنے کا صرف یہی مقصد ہوتا ہے کہ میں تمھاری دید سے اپنی نظروں کی پیاس بجھانا چاہتا ہوں۔