Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر :15
- سبق : مکاتیب اقبال
- مصنف : علامہ اقبال
مشق
۱۔ اقبالؒ نے کھانے پینے کے معاملے میں حضورﷺ کی کیا سنت بیان کی ہے؟
جواب : اقبال نے کھانے پینے کے معاملے میں حضور ﷺ کی یہ سنت بیان کی کہ وہ کھانے پینے میں احتیاط کیا کرتے تھے کیونکہ روحانی کیفیات کا سب سے بڑا ممد و معاون کھانے پینے میں احتیاط کرنا ہی ہے۔
۲۔ اقبالؒ انجمن کے مستقر کے لیے لاہور کے انتخاب پر کیوں زور دیتے ہیں؟
جواب : درج ذیل وجوہات کی بںا پر اقبال انجمن کے مستقر کے لیے لاہور کا انتخاب کرنے پر زور دیتے ہیں ۔
مسلمانوں کو اپنے تحفظ کے لیے جو لڑائیاں آئندہ لڑنا پڑیں گی، اُن کا میدان پنجاب ہوگا۔ پنجابیوں کو اس میں بڑی دقتیں پیش آئیں گی، کیونکہ اسلامی زمانے میں یہاں کے مسلمانوں کی مناسب تربیت نہیں کی گئی مگر اس کا کیا علاج کہ آئندہ رزم گاہ یہی سرزمین معلوم ہوتی ہے۔
آپ انجمن اردو سے متعلق ایک پبلشنگ ہاؤس قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی کامیابی بھی۔ لاہور ہی میں ہو سکتی ہے، کیوں کہ یہ ایک بڑا پبلشنگ سنٹر ہے اور بہت سا طباعت کا کام مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انگریزی پبلشنگ کی طرف بھی یہاں کے مسلمان توجہ کر رہے ہیں۔
یہاں کے لوگوں میں اثر قبول کرنے کا مادہ زیادہ ہے۔ سادہ دل صحرائیوں کی طرح ان میں ہر طرح کی باتیں سننے اور ان سے متاثر ہو کر ان پر عمل کرنے کی صلاحیت اور مقامات سے بڑھ کر ہے۔ ایک معمولی جلسے کے لیے آٹھ دس ہزار مسلمانوں کا جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں، بلکہ بیس بیس ہزار کا مجمع بھی غیر معمولی نہیں ۔ یہ بات پنجاب کے ہندوؤں میں بھی نہیں پائی جاتی۔
۳۔ روحانیت کی کمی سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
جواب : روحانیت کی کمی سے معاشرہ اخلاص محبت و مروت و یک جہتی سے محروم ہوجاتا ہے . آدمی آدمی کا خون پینے کے در پے ہوجاتے ہیں اور قومیں قوموں کی دشمن بن جاتی ہیں۔
۴۔ ان جملوں کی وضاحت کریں۔
ا۔ ”عام مسلمانوں کی حالت اقتصادی اعتبار سے حوصلہ شکن ہے۔ امرا توجہ کریں تو کام بن سکتا ہے مگر افسوس کہ اکثر مسلمان امرامقروض ہیں“۔
وضاحت :
یعنی مولوی عبدالحق نے جو تجویز دی ہے اس پر عمل کرنے کے لیے جو رقم درکار ہے وہ کیسے جمع ہوگی کیونکہ عام مسلمانوں کی مالی حالت اچھی نہیں اور وہ سب قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں لیکن اگر امراء توجہ کریں اور مال فراہم کریں تو اس تجویز کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے۔
ب۔ یہ دور انتہائی تاریکی کا ہے۔ لیکن تاریکی کا انجام سفید ہے، کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے۔
وضاحت :
اگر معاشرے میں کوئی اچھائی نظر نہیں بھی آرہی اس وقت اور ہر طرف نفسا نفسی کو دور ہے جہاں انسان سے روحانیت ختم ہوگئی ہے تب بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر سیاہی کا اختتام سفیدی پر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جب چاہیں اپنا فضل کرسکتے ہیں اور معاشرہ بگڑنے کے بجائے سدھر سکتا ہے۔
ج۔ ”میری لسانی عصبیت، دینی عصبیت سے کسی طرح کم نہیں ہے۔“
وضاحت :
اس جملے میں علامہ اقبال یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ جس قدر دین کو اہمیت دیتے ہیں اسی قدر وہ زبان کو اہمیت دہتے ہیں اور اس کے فروغ کے لیے کام کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
د۔ ”وہ کہتا ہے کہ انسان کے جسم میں ایسے جراثیم ہیں جو قاطع حیات ہیں اور دہی کی لسی ان جراثیم کے لیے بمنزلہ زہر کے ہے۔“
وضاحت :
اس جملے میں اقبال کہتے ہیں کہ انھوں نے یورپ کے مشہور حکیم کی کتاب میں دیکھا ہے کہ لسی انسان کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ انسان کے جسم میں کچھ ایسے جراثیم موجود ہیں جن کے خلاف دہی کی لسی بطورِ زہر کام کرتی ہے اور انھیں ختم کردیتی ہے تاکہ وہ جراثیم انسان کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔