Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: 4
- سبق : پاکستانی قومیت کا مسئلہ
- مصنف : ڈاکٹر سید عبداللہ
- ماخوذ : مباحث
تعارفِ مصنف :
ڈاکٹر سید عبد اللہ ضلع ہزارہ کے گاؤں منگلور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ قرآن مجید کے ساتھ اردو کی درسی کتب، حساب، خوش خطی، ابتدائی فارسی اور خطوط نویسی کی تعلیم گھر پر پائی۔ پھر مقامی سکول میں داخلہ لے کر مڈل پاس کیا۔ ۱۹۲۳ء میں میٹرک کا امتحان انھوں نے اسلامیہ ہائی سکول لاہور سے پاس کیا۔ ۱۹۲۳ء میں ایف اے اور ۱۹۲۶ء میں بی اے کرنے کے بعد ۱۹۲۷ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے ایم اے فارسی کیا۔
یہاں انھوں نے پروفیسر حافظ محمود شیرانی، قاضی فضل حق اور پروفیسر اسمعیل جیسے اساتذہ سے فیض پایا۔ ۱۹۳۲ء میں ایم اے عربی کا امتحان بھی امتیاز سے پاس کیا۔ ۱۹۳۲ء میں ہی جرمن سرٹیفکیٹ اور ۱۹۳۳ء میں لائبریری سرٹیفکیٹ کے امتحان پاس کیے۔ سید عبد اللہ پنجاب یونیورسٹی میں عریبک اسسٹنٹ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۲ء میں اسی شعبے میں پروفیسر اور پھر صدر شعبہ مقرر ہوئے۔ انھیں اردو سے بے پناہ لگاؤ تھا اور وہ دن رات، بلکہ آخری سانس تک اردو کے نفاذ کے لیے کوشاں رہے۔ وہ شعبۂ اردو دائرہ معارف اسلامیہ میں اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے کہ ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ کئی ماہ اس مرض میں مبتلا رہنے کے بعد آخر یہ نامور استاد، ادیب، صحافی، عالم اور محسن اردو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
تصانیف:
نقد میر، سرسید اور ان کے رفقاء، وجہی سے عبدالحق تک، مباحث اور اشارات تنقید وغیرہ۔
سوال نمبر ۱ : صحیح یا غلط پر نشان لگائیں۔
- (ا) پاکستان کے بعض خطوں کی تحریک دراصل نسلی تحریک ہے۔ (ص/ غ✔)
- (ب) پاکستانی قومیت بالکل غیر واضح چیز ہے۔ (ص/ غ✔)
- (ج) پاکستانی قومیت کی اب پھر تعریف پوچھی جانے لگی ہے۔ (ص✔/ غ)
- (د) مسلمان اپنی تہذیب اور زندگی کے نقطہ نظر کو چھوڑنے کے لیے تیار تھے۔ (ص/ غ✔)
- (ہ) اقبال ، عقائد اور وطن کی وحدت میں گہرا عقیدہ رکھتے تھے۔ (ص✔/ غ)
سوال نمبر ۲ : درج ذیل الفاظ و تراکیب کو جملوں میں استعمال کریں۔
| الفاظ و تراکیب | جملے |
| متحدہ قومیت : | ہندوستان کی متحدہ قومیت مسلمانوں کے عقائد کو تحافظ دہنے میں ناکام تھی۔ |
| حجت بازی : | ایک الگ پاکستانی قومیت کی واضح دلیل کے سامنے انگریزوں کی حجت بازی کھڑی نہ رہ سکی۔ |
| مستحکم : | پاکستانی قومیت کے مرکزی عقیدے کو مستحکم کرنا لازمی ہے۔ |
| نقطہ نظر : | ہمیں اپنی زندگی دینِ اسلام کے نقطہ نظر سے جینی چاہیے۔ |
| شکوک وشبہات : | پاکستان کی جدا قومیت کے سوال پر شکوک و شبہات کی گنجائش نہیں ہے۔ |
| تہذیبی وراثت : | ہمیں اپنی تہذیبی وراثت کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ |
| نیک نیتی : | ہمیں ہر کام نیک نیتی سے کرنا چاہیے۔ |
سوال نمبر ۳ : ڈاکٹر سید عبداللہ نے پاکستانی قومیت کا جو مسئلہ بیان کیا ہے، آپ اس سے کسی حد تک متفق ہیں؟
جواب : ڈاکٹر سید عبداللہ نے پاکستانی قومیت کا جو مسئلہ بیان کیا وہ علاقہ پرستی ہے اور میں اس بات سے متفق ہوں کہ کسی بھی شخص کو اپنے علاقے سے اس قدر وفادار نہیں ہونا چاہیے کے وہ علاقے کے لیے وطن کو قربان کرنے پر راضی ہوجائے۔ کیونکہ ہمارے ملک میں کئی قومیں آباد ہیں اور کئی زبانیں بولی جاتی ہیں لہذا ایک دوسرے کا احترام کر کے اور ملک کی محبت کو اول درجے پر رکھ کر ہی اپنے ملک سے وفاداری نبھائی جاسکتی ہے۔
سوال نمبر ۴ : قومیت اور علاقائیت کے مابین، جو امتیاز مصنف نے واضح کیا ہے، اسے اپنے لفظوں میں لکھیں۔
جواب : مصنف نے بتایا ہے کے پاکستان قومیت کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا کیونکہ اس وقت سب کا یہی نقطہ نظر تھا کے ہندو و انگریز مسلمانوں کے حقوق کا تحافظ فراہم نہیں کررہے ہیں۔ اس وقت کسی قسم کی علاقائیت کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ تو اب کسی فرد واحد پر یہ نہیں ججتا کہ وہ اپنے علاقے یا خطے کے لیے اپنے ملک کو قربان کرنے کے در پر آجائے۔
سوال نمبر ۵ : خالی جگہیں اصل متن کے مطابق پر کریں۔
- (ا) جن کے تصورات کو میں بدنیتی پر محمول نہیں کرتا۔
- (ب) پاکستان کے لیے جدا کا جوسوال اٹھایا جاتا ہے۔
- (ج) جس کی کسی نے وضاحت کرادی۔
- (د) پاکستانی قومیت بالکل واضح چیز ہے۔
- (ہ) قوم کو ابھی خود بھی معلوم نہیں کہ ہم بھی ہیں یا نہیں۔
سوال نمبر ۶ : متعلق فعل کیا ہوتا ہے ؟ فعل، فاعل اور مفعول کی مناسبت سے کیسے تبدیل ہوتا ہے؟
جن لفظوں سے فعل یعنی کام کی خصوصیت معلوم ہوتی ہے اسے متعلق فعل کہتے ہیں۔
اگر فاعل واحد ہے تو فعل بھی واحد ہی آئے گا
مثلاً : علی آیا
لیکن اگر فاعل کا احترام لازم ہو تو فعل جمع آئے گا مثلاً : والد آئے
اگر مفعول کے ساتھ ‘کو’ ہوگا تو فعل واحد مذکر ہوگا مثلاً : میں نے علی کو مارا۔