Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر:12
- سبق : روم: زندہ شہر اور مردہ شہر
- مصنف : جمیل الدین عالی
- ماخوذ : دنیا میرے آگے
تعارفِ مصنف:
ملی نغمہ”جیوے جیوے پاکستان“ کے خالق جمیل الدین عالی دلی میں پیدا ہوئے۔ دلی سے بی اے کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز وزارت تجارت میں اسسٹنٹ کی حیثیت سے کیا۔ بعد میں مقابلے کا امتحان پاس کیا اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ ایوان صدر میں بھی بطور افسر بکارِ خاص خدمات سر انجام دیں۔ وزارتِ تعلیم سے بھی منسلک رہے۔ کاپی رائٹ رجسٹرار اور نیشنل پریس ٹرسٹ کے سیکرٹری بھی رہے۔
۱۹۶۱ء میں یونیسکو کی فیلوشپ ملنے کے بعد مختلف ممالک کی سیاحت کی۔ پاکستانی مندوب کی حیثیت سے بھی کئی ممالک کے دورے کیے۔ رائٹرز گلڈ کے قیام کے بعد اس کے اعزازی مرکزی سیکرٹری اور سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ انجمن ترقی اردو کے مرکزی رکن رہے اور تاحال اس کے معتمد اعزازی ہیں۔ روزنامہ جنگ میں اس کا کالم باقاعدگی سے چھپتا ہے۔ ان کے سفر ناموں کے بارے میں ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں: ”جمیل الدین عالی نے تماشا میرے آگے “اور ”دنیا میرے آگے “ میں سفر کے فوری تاثر کو اخباری کالم میں سمیٹ لیا۔ انھوں نے ادب کے کلاسیکی پس منظر کو زندگی کے موجودہ مناظرہ سے مربوط کیا۔ ان سفرناموں میں مصنف خود نگر و خداوند خودی بن کر ظاہر ہوتا اور مشرقی درویشی کا بھرم قائم رکھتا ہے۔“
تصانیف:۔
اے میرے دشتِ سخن، دعا کر چلے، صدا کر چلے، انسان، لاحاصل، تماشا مرے آگے، اور دنیا مرے آگے وغیرہ۔
خلاصہ :
کتاب کا یہ سبق”روم: زندہ شہر اور مردہ شہر“ مصنف جمیل الدین عالیؔ کا مشہور سفرنامہ ہے،جسے ان کی شہرہ آفاق تصنیف ”دنیا میرے آگے “ سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف جمیل الدین عالی نے ہلکے پھلکے مزاج میں اپنے اٹلی کے سفر کی روداد بیان کی ہے۔ وہ روم کے کھانوں کا ذکرلطیف انداز میں کرتے ہیں کہ، یہاں ایک خاص قسم کا پراٹھابنایا جاتا ہے جسے مقامی پیتسا اور انگریزی میں پی زا کہا جاتا ہے۔ پی زا کو میدے سے بنی ہوئی روٹی کے اوپر، انڈا ، ٹماٹر، پیاز، ادرک، کالی مرچ نمک اور پسا ہوا گوشت لگا کرتیز آگ میں پکایا جاتا ہے۔
وہ Spaghetti کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ جسے ہمارے ہاں سویاں کہتے ہیں وہ یہاں کی مشہور سوغات ہے۔ اٹلی چونکہ یورپ کے شمال میں واقع ہےیہاں دیگر یورپ کے مقابلے میں گرمی زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں کے لوگ دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ لیتے ہیں۔ مصنف نے اپنی بسیار کوششوں کے بعد بھی اطالوی زبان سیکھنے میں پیش آنے والی مشکل کا بھی ذکر کیا ہے۔ مصنف نے یہاں پر ٹائبر بینک کے قریب اپنا ٹھکانہ کیا ہے۔ جہاں سے سارے شہر کا نظارہ بآسانی کیا جا سکتا ہے۔ مصنف نے کیپٹول جگہ کا ذکر کیا ہے ، اور لکھا ہے کہ یہی لفظ امریکیوں نے واشنگٹن کی ایک عمارت کا رکھا ہے جس میں امریکی سینٹ کے ارکان بیٹھتے ہیں۔
روم سات پہاڑؤں کو تراش خراش کرکے عمارتیں اور سڑکیں نکال کر بنایا گیا ہے، کیپٹول نامی عمارت انھیں میں سے ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ یہاں زیادہ تر سیاسی اور مذہبی سرگرمیاں ہوتی ہیں ، یہ قدیم رومی تہذیب کی یادگار بھی ہے۔ مشہور مصور مائیکل انجلیو نے اس شہر کو دوبارہ آراستہ کرنے کے لیے منصوبہ بنایا تھا۔
مصنف نے وینس کے شہر کی سیر کرتے ہیں، وینس شہر پانی پر بنا ہوا ہے، یہاں سڑکوں کی جگہ چھوٹی نہریں اور گاڑیوں کی جگہ کشتیاں استعمال ہوتی ہیں۔ مصنف نے سسلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاحوں کی جنت ہے۔ مصنف نے پومپی آئی شہر کا ذکر کیا جو زلزلے سے تباہ ہو چکا تھا، اسے ہر سال سیاحوں کی بڑی تعداد دیکھنے آتی ہے۔ مصنف نے اس تباہ کاری کو دیکھ کر ذکر الہیٰ کیا، اور انسان کو اس فانی دنیا سے کوچ کرنا ہے اسے اپنی آخرت کو یاد کرنا چاہیے ۔
مشق
سوال نمبر ۱ : مندرجہ ذیل سوالوں کے مختصر جوابات لکھیں۔
(ا) مصنف نے کن کن اطالوی کھانوں کا ذکر کیا ہے؟
جواب : مصنف نے دو اطالوی کھانوں کا ذکر کیا ہے، ایک پیتسا، جسے انگریزی میں Pizza کہا جاتا ہے، جو کہ اطالوی پراٹھا ہے، اور دوسرا ایسپاگیٹی Spaghetti یعنی لمبی لمبی سویوں کی طرح کی ایک سوغات جسے اٹلی میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔
(ب) پیزا کیسے تیار کیا جاتا ہے؟
جواب : پیزا کے بارے میں مصنف نے بتایا کہ یہ اطالوی پراٹھا ہے، جسے گندم اور میدے کے خمیر کے ساتھ گوندا جاتا ہے، اس کی روٹی بنا کر، اس پر ٹماٹر، پیاز، ادرک، کالی مرچ، نمک اور خوب پسا ہوا گوشت لگایا جاتا ہے، جسے تیز آنچ پر تندور میں پکایا جاتا ہے۔تیار ہونے کے بعد پیزا کو گرم گرم کھایا جاتا ہے جو کہ نہایت ہی لذیذ ہوتا ہے۔
(ج) اطالوی، کھانے کے بعد قیلولہ کیوں کرتے ہیں؟
جواب : اطالوی لوگ، دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ اس لیے کرتے ہیں ، اٹلی یورپ کے انتہائی شمال میں واقع ہے، جہاں کا موسم دوپہر کو گرم رہتا ہے۔ زیادہ تر اطالوی دوپہر کے کھانے میں پیزا کھاتے ہیں جو گندم اور میدے کے خمیر سے بنا ہوتا ہے، جس سے آدمی پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ اسی لیے اطالوی قیلولہ کرتے ہیں اور دو بجے سے سہ پہر تک تمام کاروبار ہائے زندگی بند رہتا ہے۔
(د) مایکل انجلو کون تھا؟
جواب :مایکل انجلو یورپ کا ایک مشہور مصور تھا۔ مائیکل انجلو نے کیپٹول شہر کو آراستہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ مائیکل انجلو آج بھی روم میں اچھی شہرت رکھتا ہے۔
(ہ) اس سفرنامے میں جن اطالوی شہروں کا ذکر ہے ان کے نام لکھیں؟
جواب : اس سفرنامے میں جن اطالوی شہروں کا ذکر ہے ان میں، کیپٹول (کے پی ٹول)، روم، وینس، نیپلز، سسلی(صیقیلہ)، میلان اور پومپی اے (پومپی آئی) شامل ہیں۔
(و) پومپی آئی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب:پومپی آئی کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے کہ پومپی ای جسے انگریزی دان پومپی آئی کہتے ہیں۔ اٹلی کا عظیم اور خوشحال شہر تھا جس پر خدا کا عذاب نازل ہوا، ایک ایسا زبردست زلزلہ آیا جس سے سارا شہر زمین میں دھنس گیا۔ ماہرین آثار قدیمہ ابھی تک مکمل شہر کو دوبارہ دریافت نہیں کر پائے۔ پوری دنیا سے سیاح اس بدقسمت شہر آج بھی دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔
سوال نمبر ۲ : متن کی مدد سے خالی جگہ پر کریں:۔
- (ا) اطالوی پراٹھے کا نام پیتسا ہے۔
- (ب) رومن پارلیمنٹ کو انگریزی میں کیپٹول کہتے ہیں۔
- (ج) سامنے تے وے رے ہے جو ماضی کا دکھاتی ہے۔
- (د) زبان یار من ترکی۔
- (ہ) میلان ایک صنعتی شہر ہے۔
- (و) سسلی کا عربی نام صیقلہ ہے۔
- (ز) وینس پانی پر بنا ہوا ایک قدم شہر ہے۔
- (ح)نزلہ ہمیشہ کسی نہ کسی پر گرتا ہے۔
سوال۳: اس سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں:۔
جواب: اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔
سوال۴: اپنے کسی سفر کی روداد شگفتہ پیرائے میں بیان کریں۔
گرمیوں کی آمد تھی اور دل آوارگی کو مائل ہوا، میں نے اس سے قبل کبھی اکیلے سفر نہیں کیا تھا، مگر اب کہ میری شرارت کہ میں نے اکیلے سفر کرنا ہے۔ گھر سے منت سماجت کر کے اجازت لی اور سیدھا منہ کیا لاہور کی جانب، لاہور میں میری نانی کا گھر تھا، سفر لوکل ٹرین سے تھا اس لیے میں نے اپنے سفر کے آغاز پر فون کر کے آگے ماموں کو اطلاع کر دی تھی۔ میں نے اپنا بیگ لیا اور گھر والوں سے وہی رٹی رٹائی باتیں سن کر ٹرین پر چڑھ گیا۔
ٹرین چلتی گئی اور میرے پیٹ میں تتلیاں سی لوٹ گئیں ، میں ساری رات کا جاگا ہوا تھا اور کچھ دیر کو سر ٹکا کر سو گیا۔ میری آنکھ کھلی تو ریل کسی پلیٹ فارم پر رکی ہوئی تھی۔ میں نے اپنا بیگ لیا اور باہر منہ ہاتھ دھونے نکل گیا تھا۔ سوچا چائے کا ایک کپ پی کر چلتا ہوں، چائے کا آڈر کیا ۔ ٹی وی پر پاکستان انڈیا کا میچ چل رہا تھا، میں نے چائے لی اور میچ پر نظریں ٹکائے ہوئے بیٹھا رہا۔ مجھے خبر ہی نہیں ہوئی کہ کب میری ٹرین چل پڑی۔ یہ ہڑبڑاہٹ میں، بھاگتے ہوئے میں ٹرین تک تو پہنچ گیا تھا، مگر میرا بیگ، بیچارہ وہیں اسٹیشن پر پڑا رہ گیا۔
میں بہت پریشان تھا، میں نے اپنے ساتھ ہونے والے اس واقعے کی روداد ماموں کو فون کر کے بتا دی تھی۔ پریشانی میں اگلا اسٹیشن آہی نہیں رہا تھا، اور بے بسی سی محسوس ہونے لگی تھی، اس بیگ میں میری ڈائری تھی جو میں بہت شوق سے لکھتا تھا۔ میری ڈائری پر میری بہت سی یادداشتیں درج تھیں۔ اگلے اسٹیشن پر اتر کر میں اور ماموں سیدھا اسٹیشن ماسٹر کے پاس گئے، وہاں میں نے میرے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو بیان کیا۔انھوں نے مجھے بیٹھنے کا کہا۔
ساعت کے ساعت میں ایک فون آیا ، مجھے میرے بیگ کے مل جانے کی یقین دہانی کرا دی گئی، میں تسلی سے نانی کے گھر چلا گیا تھا۔ اگلے روز میں نے اسٹیشن ماسٹر کے آفس سے اپنا بیگ لے لیا تھا۔ میرے سفر میں مجھے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا مگر اس پریشانی سے نکل کر مجھے سفر کی خوشی بھی دوہری ہوئی۔
سفرنامہ:
سفرنامہ نگاری دنیا کے تقریباً ہر ادب کی ایک مستقل صنف رہی ہے۔ جب کوئی ادیب سفر کے لیے گھر سے باہر نکلتا ہے۔ خواہ وہ سفر اندرونِ ملک ہو یا بیرون ملک اور وہ اپنے سفر کے تمام أحوال قلمبند کرے تو ایسی تحریر کو ”سفر نامہ“ کہتے ہیں۔
سفرنامے میں وہ کسی خطے یا کسی ملک کی تاریخ بھی شامل کرتا ہے اور اس کا جغرافیہ بھی، وہاں کی تہذیب و تمدن بھی اور اس جگہ کے معاشی و معاشرتی حالات کی جھلکیاں بھی۔ ان تمام باتوں کو دلچسپ اور پرلطف بنانے کے لیے سفر نامہ نگار اس میں کہانی کا عنصر شامل کر دیتا ہے۔ یعنی سفر نامہ نگار انجانی دنیا کی سیر کے دوران تحیر(تعجب، حیرت) اور تجسس (Suspense) کے جن مراحل سے گزرتا ہے۔ انھیں افسانوی رنگ دے کر اپنے سفر نامے کو قاری کے لیے دلچسپ اور معلومات افزا بنا دیتا ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سفر نامہ کسی ملک کی جغرافیائی، سماجی، معاشی اور معاشرتی حالات کی ایک دلچسپ اور مستند تاریخ ہوتی ہے۔ اردو زبان کا پہلا سفر نامہ نگار یوسف حلیم خان کمبل پوش ہے۔