پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے تشریح، سوالات و جوابات

0

تعارفِ شاعر

میر تقی میر کی شاعری زندگی کے انقلابات کی ترجمان رہی ہے۔ اگرچہ بعض ناقدین نے میر کو قنوطیت کا حامل شاعر بھی کہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میر تقی میر کا تخلیقی شعور زندگی کی مایوسیوں کی نشان دہی کر کے بھی گم کر دینے والی یاسیت کی منزل سے نہ صرف فاصلے پر رہتا ہے، بلکہ زیر سطح ایک نشاطیہ احساس کو جگانے کا باعث بھی بنتا رہتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ میر کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف نہ صرف ان کے معاصرین نے کیا ہے، بلکہ اب تک کے تمام مستند ناقدین اور غزل کے معتبر شعرا نے میر کے کلام کی ہمہ گیریت، نشتریت اور افادیت کو کھلے دل سے تسلیم کیا ہے۔ غالب جیسے یگانہ روزگار شاعر نے برملا یہ کہا

ریختہ کے تمھیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

میر کو خدائے سخن کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ میر کا اُسلوب بیان سادہ اور سلیس ہونے کے باوجود محدرت اور انفرادیت کا حامل ہے۔ ان کے کلام میں روز مرہ اور محاورے کا التزام بخوبی موجود ہے۔ ان کے عہد کو اردو شاعری کے زریں عہد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے اردو ادب کو چھے ضخیم مجموعہ ہائے کلام دیے، جن کی قدر و قیمت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے۔ گویا میر تقی میر کا یہ دعوئی بالکل درست ثابت ہوا ہے۔

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا

تصانیف : چھے دیوان اردو، دیوان میر فارسی ، ذکر میر خودنوشت اور نکات الشعراء تذکرہ

غزل نمبر :1 کی تشریح

فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں ! خوش رہو ہم دعا کر چلے

تشریح :

اس شعر میں میر تقی میری کہتے ہیں کے ہم اس دنیا میں ایک فقیر کی طرح آئے تھے اور اسی کی طرح صدائیں لگاتے لگاتے ہم اس دنیا سے چلے جائیں گے پھر وہ کہتے ہیں کہ تم بس خوش رہو ہم یہی دعا کرتے ہیں اور چلے جانے تک یہی دعا کرتے رہیں گے۔

وہ کیا چیز ہے آہ ! جس کے لیے
ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے

تشریح :

اس شعر میں میر تقی میر سوال کررہے ہیں کے ایسی بھی کیا ناامیدی اور بیزاری کے تم نے کسی ایک چیز کے پیچھے باقی ہر چیز سے اپنا دل اٹھا لیا ہے اور وہ ایک چیز آخر کیا ہے جو تمھارے لیے اتنی اہم ہے کے باقی ہر شے کو تم نظر انداز کررہے ہو۔

کوئی ناامیدانہ کر کے نگاہ
سو تم ہم سے منھ بھی چھپا کر چلے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کے اپنی نگاہ میں ناامیدی پیدا کرنے کے بعد تم ہم سے منہ چھپا کر جارہے ہو کیونکہ تم جانتے ہیں کہ ہم تم سے تمھاری ناامیدی کے متعلق سوال کریں گے۔

دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کے جب مجھے میرا محبوب نظر آیا تو اس نے مجھے یوں بےخود کردیا کہ میں خود سے بھی جدا ہوگیا اور صرف اسی کا ہو کر رہ گیا۔

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حق بندگی ہم ادا کر چلے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میری پیشانی جب سجدے میں گئی تو وہ سجدے کرتی چلی گئی اور میں نے بندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کی تاکہ اس دنیا سے جانے سے پہلے میرا حق بندگی ادا ہو جائے۔

پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم نے ایک بت کی اتنی پرستش کی اور اسے ایسا اعلیٰ مقام عطا کردیا کہ ہمارے آس پاس سب کو لگنے لگا جیسے وہ بت ہی خدا ہے اور ایسا صرف اس لیے ہوا کیونکہ ہم نے اسے اتنی اہمیت دی۔

کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے ، کیا کر چلے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں کسی خاص مقصد کے لیے بھیجے گئے تھے لیکن ہم اس مقصد سے بھٹک گئے اور اب اگر کوئی ہم سے پوچھے کے تمھیں یہاں کیا کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا اور تم یہاں کیا کررہے ہو تو ہم اسے کیا جواب دیں گے۔

غزل نمبر 2 کی تشریح

پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے
اب صبح ہونے آئی ہے ، اک دم تو سوئیے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب تم نے پیری اختیار کر ہی لی ہے تو پھر تم اپنی جوانی کو کیوں روتے ہو کیونکہ پیری میں تو تمام عمر ہی دینی پڑتی ہے۔ اگلے مصرعے میں شاعر کہتے ہیں اب تو صبح ہونے کو آئی اور تم رات بھر جاگتے رہے ہو اب تمھیں کچھ دیر آرام کرلینا چاہیے یعنی جس مقصد کے لیے رات بنائی گئی وہ مقصد پورا کرلینا چاہیے۔

اخلاص دل سے چاہیے سجدہ نماز میں
بے فائدہ ہے ورنہ جو یوں وقت کھوئیے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ نماز میں کیے جانے والے سجدے میں دلی اخلاص بھی شامل ہونا چاہیے ورنہ اگر اخلاص کے بغیر صرف رواج پورا کرنے کے لیے سجدہ کیا جائے تو یوں وقت کھونا بالکل بے فائدہ ہے اور ایسے سجدے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی انسان کو ایسے سجدے سے کوئی سکون نصیب ہوتا ہے۔

کس طور آنسوؤں میں نہاتے ہیں غم گشاں
اس آب گرم میں تو نہ انگلی ڈبوئیے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ غم کرنے والے ہر وقت آنسوؤں میں نہائے رہتے ہیں اور آنسو بہاتے رہتے ہیں لیکن آپ اس آب گرم یعنی آنسو میں اپنی انگلی بھی نہ ڈبوئیں یعنی بالکل بھی غم زدہ نہ ہوں۔

اب جان جسم خاک سے تنگ آ گئی بہت
کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھوئیے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اب میری روح اس مٹی کے جسم سے تنگ آگئی ہے اور آزاد ہونا چاہتی ہے اور میری روح سوچتی ہے کہ آخر کب تک مجھے اس مٹی کی ٹوکری میں قید رہ کر اس کو ڈھونا پڑے گا۔

آلودہ اُس گلی کے جو ہوں خاک سے تو میر
آب حیات سے بھی نہ وے پاؤں دھوئیے

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس گلی کی خاک سے جو آلودہ ہوجائے یعنی جو ایک مرتبہ اگلے جہاں چلا جائے پھر وہ آبِ حیات سے بھی پاؤں نہیں دھونا چاہتا یعنی جو اُس دنیا میں جا کر خوش ہوجائے وہ واپس کبھی بھی اِس دنیا میں نہیں آنا چاہتا ہے۔

مشق

سوال نمبر ایک : درست الفاظ کا انتخاب کریں۔

  • ا: ہر شعر میں ___ مصرعے ہوتے ہیں۔
  • دو✔
  • تین
  • پانچ
  • چار
  • ب: غزل کے پہلے شعر کو ____ کہتے ہیں۔
  • ردیف
  • بيت الغزل
  • مقطع
  • مطلع✔
  • ج: غزل کے ____ میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔
  • مطلع
  • مقطع✔
  • درمیان
  • آغاز
  • د: میر کو ____ کہا گیا۔
  • خدائے سخن✔
  • بابائے اردو
  • بلبل ہند
  • ہ: غزل کے تمام اشعار کا ____ مفہوم ہوتا ہے۔
  • الگ الگ✔
  • ایک
  • متضاد
  • و: میر کی غزل کا بنیادی موضوع ____ ہے۔
  • غم✔
  • شک
  • خوشی
  • حسن

سوال نمبر دو:

کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
جہاں میں تم آئے تھے ، کیا کر چلے

میر کی غزل کے اس مقطع کی تشریح کریں نیز یہ بھی واضح کریں ، کہ اس میں علم بیان کی کون سی خوبی پائی جاتی ہے؟

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ ہم اس دنیا میں کسی خاص مقصد کے لیے بھیجے گئے تھے لیکن ہم اس مقصد سے بھٹک گئے اور اب اگر کوئی ہم سے پوچھے کے تمھیں یہاں کیا کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا اور تم یہاں کیا کررہے ہو تو ہم اسے کیا جواب دیں گے۔

سوال نمبر تین : مندرجہ ذیل مصرعوں کے ساتھ دوسرا مصرع لگا کر شعر مکمل کریں۔

  • فقیرانہ آئے صدا کر چلے
  • میاں ! خوش رہو ہم دعا کر چلے
  • وہ کیا چیز ہے آہ ! جس کے لیے
  • ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے
  • دکھائی دیے یوں کہ بے خود کیا
  • ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے
  • پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
  • نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
  • کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میر
  • جہاں میں تم آئے تھے ، کیا کر چلے

سوال نمبر چار : میر کی شاعرانہ خصوصیات پر نوٹ لکھیں۔

میر تقی میر کی شاعری زندگی کے انقلابات کی ترجمان رہی ہے۔ اگرچہ بعض ناقدین نے میر کو قنوطیت کا حامل شاعر بھی کہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میر تقی میر کا تخلیقی شعور زندگی کی مایوسیوں کی نشان دہی کر کے بھی گم کر دینے والی یاسیت کی منزل سے نہ صرف فاصلے پر رہتا ہے، بلکہ زیر سطح ایک نشاطیہ احساس کو جگانے کا باعث بھی بنتا رہتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ میر کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف نہ صرف ان کے معاصرین نے کیا ہے، بلکہ اب تک کے تمام مستند ناقدین اور غزل کے معتبر شعرا نے میر کے کلام کی ہمہ گیریت، نشتریت اور افادیت کو کھلے دل سے تسلیم کیا ہے۔ غالب جیسے یگانہ روزگار شاعر نے برملا یہ کہا:

ریختہ کے تمھیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

میر کو خدائے سخن کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ میر کا اُسلوب بیان سادہ اور سلیس ہونے کے باوجود محدرت اور انفرادیت کا حامل ہے۔ ان کے کلام میں روز مرہ اور محاورے کا التزام بخوبی موجود ہے۔ ان کے عہد کو اردو شاعری کے زریں عہد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے اردو ادب کو چھے ضخیم مجموعہ ہائے کلام دیے، جن کی قدر و قیمت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے۔ گویا میر تقی میر کا یہ دعوئی بالکل درست ثابت ہوا ہے

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا