سبق نمبر 10: تعلیمِ بالغاں، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر:10
  • سبق : تعلیمِ بالغاں
  • مصنف : خواجہ معین الدین
  • ماخوذ : ایک ایکٹ کا طنزیہ و مزاحیہ کھیل

تعارفِ مصنف :

خواجہ معین الدین حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حیدر آباد دکن میں حاصل کی۔ ۱۹۴۹ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ سندھ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ انھوں نے انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں بڑی مشقت کے بعد بچوں کے لیے ایک تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی۔

سکول کے قیام کے لیے چندہ مہم میں انھوں نے ایک ڈراما زوالِ حیدرآباد سٹیج کیا اور اس کی ساری آمدنی سکول کے لیے وقف کر دی۔ یہیں سے خواجہ معین الدین اور اُردو ڈراما لازم و ملزوم ہو گئے۔ قیام پاکستان کے بعد اردو ڈرامے اور تھیٹر میں ان کا نام بہت نمایاں ہے۔ ان کے ڈراموں میں سماجی طنز، تہذیبی روایات اور تبدیل ہوتے اقدار کی واضح جھلک موجود ہے۔

تصانیف:

لال قلعے سے لالو کھیت تک، مرزا غالب بندر روڈ پر اور تعلیم بالغاں وغیرہ۔

خلاصہ :

اس سبق کے شروعات میں ایک جھونپڑی کا منظر پیش کیا گیا ہے جو مولوی صاحب کا گھر ہے۔ پردہ اٹھتا ہے تو چارپائی پر مولوی صاحب نظر آتے ہیں اور دائیں جانب قصائی موجود ہوتا ہے۔ باہر سے شمشو حجام کی آواز آتی ہے وہ بھی اندر آجاتا ہے۔ مولوی صاحب حجام سے بات کرنے کے بعد قصائی کو درخواست نکالنے کا کہتے ہیں اور اسے درخواست لکھوا رہے ہوتے ہیں کہ باہر سے وکٹوریہ والا کی آواز آنے لگتی ہے۔

اس سے کچھ دیر بات کر کے مولوی صاحب اسے اندر بلاتے ہیں تو وہ مولوی سے اپنا قرض طلب کرتا ہے۔ مولوی صاحب اسے بتاتے ہیں کے وہ آدھا قرض تو دے چکے ہیں۔ ابھی وہ باقی آدھا قرض مانگ ہی رہا ہوتا ہے کہ ان کی بیوی کی آواز آتی ہے یہ گھوڑا کس کا ہے مولوی صاحب وکٹوریہ کو بھگاتے ہیں کہ تیرا گھوڑا میری جگی کھارہا ہے۔ وکٹوریہ کے جانے کے بعد قصائی اور حجام ہنس کر مولوی کو داد دینے لگتے ہیں کہ کوئی قرض لینے آنے والوں کو بھگانا آپ سے سیکھے۔

مولوی صاحب دوبارہ درخواست کی طرف دھیان دیتے ہیں۔ مولوی قصائی کو درخواست سے ایک جملہ کاٹنے کا کہتے ہیں تو حجام غلطی سے مولوی کی ازار بند کاٹ دیتا ہے۔ پھر مولوی صاحب انھیں مارنے کو ڈنڈا اٹھاتے ہی ہیں کہ قصاب اور حجام اپنے ہتھیار اٹھا لیتے ہیں۔ مولوی صاحب پیار سے دونوں سے ان کے ہتھیار واپس رکھواتے ہیں اور پھر انھیں ڈنڈا مارتے ہیں۔

مولوی صاحب درخواست میں لکھواتے ہیں کہ اتحاد کا اور تنظیم کا برا حال ہے۔ ان سے قصائی اور حجام پوچھتے ہیں کہ برا حال کیوں ہے تو وہ کہتے ہیں کوئی یہاں سندھی بن بیٹھا ہے کوئی پنجابی کوئی بلوچ آپس میں لڑتے ہو پھر کہتے ہو برا حال کیوں ہے اتحاد کا۔ پھر تنظیم کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ شاگرد کلاس میں بیڑی پی رہا ہے , چپڑاسی افسر سے سیگڑیٹ جلانے کو ماچس مانگ رہا ہے , سب رشوت لے رہے ہیں تو تنظیم کا گھڑا بھی ٹوٹنا ہی ہے۔ پھر مولوی صاحب کہتے ہیں اب بس یقین محکم رہ گیا ہے جس پر کام چل رہا ہے لیکن حالات ایسے ہی رہے تو اس کا حال بھی اتحاد اور تنظیم جیسا ہوجائے گا۔

مشق

سوال نمبر ۱ : مندرجہ ذیل سوالوں کے مختصر جوابات لکھیں۔

(ا) مولوی صاحب قرض کیوں واپس نہ کر سکے؟

جواب : مولوی صاحب شاگردوں کا قرض اس لیے واپس نہیں کرسکے کیونکہ انھیں چھ ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی۔

(ب) مولوی صاحب نے اتحاد کے ٹکڑے ہونے کی کیا وجوہات بتائیں؟

جواب : مولوی صاحب نے بتایا کے شاگردوں میں آپس میں لڑ جھگڑ کر اتحاد کے ٹکڑے کردیے ہیں۔

(ج) مدرسہ تعلیم بالغاں کہاں واقع تھا؟

جواب : مدرسہ تعلیم بالغاں بکرا پیڑھی میوہ شاہ لائن کراچی میں واقع تھا۔

(د) اس اقتباس میں وزیروں پر کیا طنز کیا گیا ہے؟

جواب : اس اقتباس میں وزیروں پر یہ طنز کیا گیا ہے کے زیرِ تعلیم کو اگر ووٹ کا واؤ دے دیا جائے تو وہ وزیر بن جاتا ہے۔

(ہ) مولوی صاحب کسی محکمہ کے نام درخواست لکھوار ہے تھے؟

جواب : مولوی صاحب محکمہ تعلیم کے نام درخواست لکھوا رہے ہیں۔

سوال نمبر ۲ : جملے بنائیں۔

سر پر چڑھنا : کچھ لوگوں کو سر پر چڑھنے کی عادت ہوتی ہے۔
رحم و کرم پر ہونا : چھوٹے بچے اپنے والدین کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
ستیاناس کرنا : علی کے غصے نے پورے پلین کا ستیاناس کردیا۔
از راہ مرحمت : مولوی صاحب کو از راہ مرحمت مدرسے کے لیے چند چیزیں دی گئی تھیں۔
آسمان سر پر اٹھانا : کچھ لوگوں کو ہر بات پر آسمان سر پر اٹھانے کی عادت ہوتی ہے۔

سوال نمبر ۳ : متن کے مطابق خالی جگہ پر کریں۔

  • (ا) دیکھ خلیفہ نے ہتھیار رکھ کر دیے ہیں تم بھی رکھ دو۔
  • (ب) چپڑاسی افسروں سے ماچس مانگتے ہیں۔
  • (ج) کوئی چھرا دکھا رہا ہے کوئی کمچی دکھا رہا ہے۔
  • (د) ہے ہے ہے ۔ ارے! جملہ کاٹنے کو کہا تھا ازار بند کاٹ دیا۔
  • (ہ) مدرسے کو شاگردوں کا قرضہ ہو گیا ہے۔

سوال نمبر ۴ : مکالمہ نگاری کی تعریف کیجیے نیز استاد اور شاگرد کے درمیان ، بے ہنگم ٹریفک سے پیدا ہونے والے مسائل پر مکالمہ تحریر کریں۔

جواب : مکالمہ نگاری : مکالمہ تحریر یا گفتگو کے دوران ایسی بات چیت کو کہتے ہیں، جو دو افراد کے درمیاں ہو یا کسی ادبی تصنیف یا ڈرامے کی صورت میں اسٹیج پر پیش کیا جائے۔

  • استاد : آج تم پھر اتنی دیر سے آئے ہو
  • شاگرد : استاد جی بہت زیادہ ٹریفک تھا
  • استاد : اچھا اچھا آؤ بیٹھ جاؤ
  • شاگرد : (کرسی کے ہتھے پر سر رکھ دیتا ہے)
  • استاد : تم یہاں پڑھنے آئے ہو یا سونے
  • شاگرد : استاد اتنی دور سے آتا ہوں اور پورا راستہ ٹریفک کا شور اتنا زیادہ ہوتا ہے کے سر میں سرد ہونے لگتا ہے
  • استاد : ہاں ٹریفک کا بے جا شور بہت بری چیز ہے
  • شاگرد : جی استاد جی جہاں ضرورت نہ ہو وہاں بھی لوگ ہارن بجاتے ہیں اور بائک والے تو نجانے کیسی کیسی آوازیں پیدا کرتے ہیں اپنی بائک سے
  • استاد : اس معاشرے کا اللہ ہی حافظ ہے ہمارے نوجوانوں کی یہ حالت ہے اس ملک کا مستقبل نجانے کیا ہوگا
  • شاگرد : لیکن استاد جی کچھ اچھے لوگ بھی تو ہوتے ہیں جو بلاوجہ ہارن نہیں بجاتے
  • استاد : ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو ہر جگہ اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں

سوال نمبر ۵ : محاورے کی تعریف کریں اور کوئی سے پانچ محاورے لکھیں۔

  • محاورے : جس کلمے یا کلام کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے اس کے مجازی معنی میں استعمال کیا جائے محاورہ کہلاتا ہے۔
  • آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا
  • مگر مچھ کے آنسو بہانا
  • دل باغ باغ ہونا
  • ٹسوے بہانا
  • اپنے منہ میاں مٹھو بننا