سبق نمبر 25: نظم پرانا کوٹ، تشریح، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر ۲۵
  • سبق (نام): پرانا کوٹ
  • شاعر: سید محمد جعفری
  • ماخوز : شوخی تحریر

تعارف شاعر:

سید محمد جعفری نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی ایس سی آنرز(کیمیا) کی سند حاصل کرنے کے بعد علم کی تشنگی بجھانے کے لیے ایم اے فارسی اور ایم اے انگریزی ادبیات کیا۔ ان کے اساتذہ میں ممتاز مزاح نگار پطرس بخاری بھی شامل تھے۔

سید محمد جعفری نے مصوری اور خطاطی کی تعلیم و تربیت بھی حاصل کی۔ کچھ عرصہ محکمۂ تعلیم سے منسلک رہے۔ بعد ازاں وزارت اطلاعات و نشریات سے وابستہ ہوگئے اور وہیں سے ریٹائرمنٹ لی۔ سید محمد جعفری کا شمار ایسے طنزیہ اور مزاحیہ شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے ظرافت اور طنز کی ملکی اور سماجی اصلاح کا ہر ہتھیار بنایا۔ ان کا طنز کاری ضرور ہے مگر اس قدر شگفتہ ہے کہ قاری کو نہ صرف لطف اندوز کرتا ہے بلکہ غور و فکر اور اصلاح کی دعوت بھی دیتا ہے۔ وہ ملکی ثقافت اور تہذیب و تمدن کی مغربی اثرات سے پاک دیکھنا چاہتا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نظم ”پرانا کوٹ“ میں انھوں نے غلامانہ ذہنیت کو طنز کا نشانہ بنایا ہے اور ماضی سے عبرت حاصل کرنےکا درس دیا ہے۔
مجموعۂ کلام: شوخئ تحریر

خریدا جاڑوں میں نیلام سے پرانا کوٹ
جو پھٹ کے چل نہ سکے، یہ نہیں ہے ایسا نوٹ

تشریح:نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ جاڑے کی آمد پر میں نے ٹھنڈ سے بچنے کے لیے نیلامی سے جو پرانا کوٹ خریدا ہے، یہ پھٹا ہوا ہے ۔ یہ کسی پھٹے نوٹ کی طرح بے کار نہیں ہو گیا بلکہ پھٹے ہونے کے باوجود کارآمد ہے اور استعمال کے قابل ہے۔

بنا ہے کوٹ یہ نیلام کی دکاں کے لیے
”صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے “

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کا یہ شعر تضمین کی اچھی مثال ہے، اس میں شاعر سید محمد جعفری نے دوسرا مصرع مرزا غالب کا باندھا ہے۔ شاعر نے مزاح پیدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ، یہ پرانا کوٹ نیلام کے لیے ہی خاص طور پر بنایا گیا ہے، نیلام کی دکان پرتمام لوگوں کو دعوت ہے کہ وہ آئیں اور اس کوٹ کو خرید لیں۔

بڑا بزرگ ہے یہ آزمودہ کار ہے یہ
کسی مرے ہوئے گورے کی یادگار ہے یہ

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ یہ پرانا کوٹ اس قدر پرانا ہے کہ اس کی عمر خاصی زیادہ ہوگی جس کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا۔البتہ یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملکوں ملکوں اور شہروں شہروں گھوم کر، بہت سے لوگوں نے اسے پہنا ہوگا اور کرتے کراتے یہ اس نیلام کی دکان تک پہنچ گیا۔پرانے کوٹ کی وضع قطع سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی پرانے انگریز کا کوٹ ہوگا۔

پرانی وضع کا بے حد عجیب جامہ ہے
پہن چکا اسے خود ”واسکوڈی گاما“ ہے

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ یہ کوٹ پرانے زمانے کی تزائین پر بنا ہوا ہے۔ اس کا ڈیزائن اس قدر عجیب ہے کہ چودہویں صدی کے ملبوسات کی طرز کا معلوم ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی دور میں پرتگال کے مشہور سیاح واسکوڈی گاما نے بھی پہنا ہوگا۔

نہ دیکھ کہنیوں پہ اس کی خستہ سامانی
پہن چکے ہیں اسے ترک اور ایرانی

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ یہ کوٹ بہت زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے کہنیوں کے قریب سے خستہ حال ہو چکا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک کوٹ یورپ سے سفر کرتا ہوا ترکی اور ایران پہنچا ، جسے صدیوں کا وقت لگا ہوگا کیونکہ اس کوٹ کی حالت بھی کچھ ایسا ہی قصہ بیان کرتی ہے۔

جگہ جگہ وہ پھرا مثلِ ”مارکو پولو“
وہ کوٹ کوٹو کا لیڈر ہے اس کی جے بولو

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ اس پرانے کوٹ کی پیرانہ سالی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ملبوسات کی دنیا کا مارکوپولو ہے جس نے دنیا کا سفر کیا تھا۔کوٹ بھی بہت سے ملکوں اور سلطنتوں میں صدیوں تک سفر کرتا رہاتھا جو کہ اب کوٹوں کا سردار بن چکا ہے اور اس کے لیے زندہ باد کے نعرے لگائے جائیں۔

بڑا بزرگ ہے یہ گو قلیل قیمت ہے
میاں بزرگوں کا سایہ بڑا غنیمت ہے

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ یہ کوٹ بھلے ہی انتہائی سستا اور پرانا ہے مگر اس کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جیسے ہم اپنے بزرگوں کا احترام کرتے ہیں، اسی طرح اس کوٹ کی بھی پیری کو دیکھتے ہوئے اس کا احترام بھی ہم سب پر واجب ہے۔

ہیں اس پہ دھبے جو سرخی کے اور سیاہی کے
نشان ہیں کسی ٹیچر کی بادشاہی کے

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ پرانے کوٹ پر جگہ جگہ چند سرخ اور سیاہ دھبےلگے ہوئے ہیں، جو کہ کسی معلم کے قلم کے استعمال سے لگے ہیں۔ جو اس چیز کی گواہی دیتے ہیں کہ کسی معلم نے بھی اس کوٹ کو پہنا ہے اور اپنی نشانی یعنی قلم کے یہ دھبے اس پر چھوڑ دیئے تھے۔

جگہ جگہ جو یہ کیڑوں کی ضرب کاری ہے
نئی طرح کی یہ صنعت ہے، دستکاری ہے

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری جدید فیشن پر طنز کہتے ہوئے کہتے ہیں کہ جیسے آج کے جدید طرز کے بے ڈھنگے ملبوسات مارکیٹ میں آرہے ہیں اسی طرح یہ پرانا کوٹ بھی جدید فیشن کا ہی نمونہ ہے۔ پرانے کوٹ میں چوہے نے جگہ جگہ سے کپڑا کتر کر اس میں سوراخ بنا دیئے ہیں، اور وہ اس پر برے معلوم نہیں ہوتے بلکہ یہ جدید طرز فیشن کے تحت کاریگری اور دستکاری کا نمونہ دکھائی دیتا ہے۔

جو قدردان ہیں وہ جانتے ہیں قیمت کو
کہ آفتاب چرا لے گیا ہے رنگت کو

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ جو لوگ نادر و کم یاب چیزوں کی قدر و قیمت لگانا جانتے ہیں وہی اس پرانے کوٹ کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں کہ اس کوٹ کی دراز عمر اس کی خامی نہیں بلکہ خوبی ہے۔ البتہ اس کی رنگت ماند پڑگئی ہے مگر اس کے باوجود قدر دان اس کی قدر و قیمت سے آگاہ ہیں۔

یہ کوٹ کوٹوں کی دنیا کا باوا آدم ہے
اگرچہ ہے وہ نگہ جو نگاہ سے کم ہے

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ جس طرح اسانوں میں سب سے قدیم اور معتبر حضرت آدم علیہ السلام ہیں اسی طرح کوٹوں کی دنیا کا اگر کوئی بڑا بزرگ ہے تو وہ یہی پرانا کوٹ ہے۔ گویا یہ کوٹ سب سے پہلے بنایا گیا تھا جس سے اس کی اہمیت اور واضح طور پر عیاں ہوتی ہے۔

دہانِ زخم کی مانند ہنس رہے ہیں کاج
وصول کرتے ہیں چینی کی انکھڑیوں سے خراج

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ اس کوٹ میں جو کاج کا کام ہوا ہے وہ وقت اور کثرت استعمال سے پھٹ چکے ہیں مگر زخموں کے منہ کی طرح مسکرا رہے ہیں۔ کاج کے پھٹ جانے کے باوجود بھی یہ کاج اتنے چھوٹے نظر آرہے ہیں جیسے چینی باشندوں کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں ہوں۔

جگہ جگہ جو یہ دھبے ہیں اور چکنائی
پہن چکا ہے کبھی اس کو کوئی حلوائی

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ اس کوٹ پر کچھ چکنائی کے داغ لگے ہوئے تھے، جس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ پرانا کوٹ کسی دور میں کسی حلوائی کی ملکیت رہا ہے۔ حلوائی نے میٹھائی یا حلوہ بناتے ہوئے اس کوٹ کو پہن رکھا ہوگا جس سے چکنائی کے چھینٹے اس کوٹ پر گر گئے ہونگے۔

گزشتہ صدیوں کی تاریخ کا ورق ہے یہ کوٹ
خریدو اس کو کہ عبرت کا اک سبق ہے یہ کوٹ

تشریح: نظم ”پرانا کوٹ“ کے اس شعر میں شاعر سید محمد جعفری کہتے ہیں کہ یہ کوٹ بہت زیادہ پیرانہ سال ہے اس نے کئی صدیوں کی تاریخ دیکھی ہے۔ یہ وہ واحد عینی شاہد ہے جس نے تاریخ میں ہوئے تمام واقعات اور سرد و گرم ہوتے دیکھے ہیں۔ یہ کوٹ ہمارے لیے تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کا استعارہ ہے۔

مشق:

سوال نمبر۱: شاعر نے پرانے کوٹ کی خامیوں کو کیسے خوبیاں بنا کر پیش کیاہے۔

جواب:شاعر نے نظم پرانے کوٹ میں کوٹ کی خامیوں اور خوبیوں کا تذکرہ کیا ہے کہ اگرچہ یہ کوٹ پرانا پھٹا ہوا ہے مگر یہ اب بھی پہنے جانے کے قابل ہے، یہ پھٹے نوٹ کی طرح پھٹ کر ناکارہ نہیں ہو گیا۔ یہ پرانا ہونے کے باوجود اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ اسے واسکوڈے گاما، ترکی اور ایران کے بہت سے باشندوں نے صدیوں پر محیط مختلف أوقات میں پہنا ہے۔یہ کورٹ مشہور سیاح مارکوپولو کی طرح بہت سے ممالک کی سیر بھی کر چکا ہے۔ اس میں جو بدنما داغ ہیں وہ بھی آج کل کے جدید فیشن کی مانند معلوم ہوتے ہیں۔ کوٹ پر سیاہ اور سرخ دھبے ، کسی معلم کی ملکیت میں ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔اور اس کے بٹنوں کے کاج چینی باشندوں کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں کی طرح خوبصورت نظر آرہے ہیں۔

سوال نمبر۲: تشبیہ اور استعارے سے کیا مراد ہے؟ اس نظم میں شاعر نے پرانے کوٹ کے لیے کیا تشبیہات اور استعارات استعمال کیے ہیں؟

جواب: تشبیہ سے مراد کہ کسی ایک چیز کو مشترکہ خصوصیات کی بنا پر کسی دوسری چیز کی مانند قرار دینا ہے۔ مثلا:

  • چشمے کا پانی شہد کی طرح میٹھا ہے۔
  • اس کا چہرہ چاند کی طرح روشن ہے۔

استعارہ کے لغوی معنی ہیں”ادھار لینا“۔ علم بیان کی رو سے استعارہ سے مراد کوئی لفظ مجازی معنوں میں اس طرح استعمال کیا جائے کہ اس کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تشبیہ کا تعلق بھی پایا جائے۔مثلا:

  • میرا بھائی شیر ہے۔
  • آج تو آگ برس رہی ہے۔

سوال نمبر۳: مصرعے مکمل کریں۔

  • ا: کسی مرے ہوئے گورے کی یادگار ہے یہ
  • ب: پہن چکے ہیں اسے ترک اور ایرانی
  • ج: میاں بزرگوں کا سایہ بڑا غنیمت ہے
  • د: نئی طرح کی یہ صنعت ہے دستکاری ہے
  • ہ: گذشتہ صدیوں کی تاریخ کا ورق ہے کوٹ

سوال نمبر ۴: نظم ”پرانا کوٹ“ کا مرکزی خیال لکھیں۔

جواب:اس نظم کا مرکزی خیال دراصل ہماری غلامانہ ذہنیت پر طنز ہے، شاعر نے اس نظم کے ذریعے ہمیں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جب کوئی قوم کسی بیرونی قوت کی محکوم ہو تو اس کے ذہن غلامی کے قفل سے بند ہو جاتے ہیں۔ وہ قوم آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی بڑی مدت تک اپنے ذہنوں سے ان غلامانہ تصورات کو مٹا نہیں سکتے۔ حاکم قوموں کی ہر چیز کو فیشن اور اپنے لیے باعث فخر گردانتے ہیں۔ ان کے پہناوے اور ثقافت کو اپنا کر اپنے لیے خود ساختہ سا افتخار محسوس کرتے ہیں۔

سوال نمبر۵: قافیہ ہم آواز الفاظ کو کہتے ہیں، جیسے کوٹ اور نوٹ، دکان اور نکتہ داں، اس نظم میں اور کون کون سے قافیت استعمال ہوئے ہیں؟

جواب:اس نظم کے قوافی درج ذیل ہیں:
کوٹ اور نوٹ، اور نکتہ دان، آزمودہ کار اور یادگار، جامہ اور واسکوڈی گاما، سامانی اور ایرانی، مارکوپولو اور بولو، قیمت اور غنیمت، سیاہی اور بادشاہی، کاری اور دستکاری، قیمت اور رنگت، آدم اور کم، کاج اور خراج، چکنائی اور حلوائی ، ورق اور سبق

سوال نمبر ۶: کسی شاعر کے ایک مصرعے پر دوسرا مصرع لگا کر نیا شعر کہنا ”صنعت تضمین“ کہلاتا ہے۔ مثلاً:

بنا ہے کوٹ یہ نیلامی کی دکان کے لیے
”صدائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے“

ایسے تین اشعار تحریر کریں جن میں صنعت تضمین کا استعمال ہو۔

1۔ غالب اپنا بھی عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں

2۔ ایسی ہی بے قراری رہی متصل اگر
اے شیفتہ ہم آج نہیں بچتے شب تلک

3۔ ان کی نظروں سے تو اپنی نظر سے گر گیا
کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا