Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر ۲۷
- سبق (نام): قطعات
- شاعر: مرزا محمود سرحدی
- ماخوز :
تعارف شاعر:
مرزا محمود سرحدی ۱۹۱۴ میں پشاور میں پیدا ہوئے۔ وہ أوائل زندگی ہی سے غم روزگار کے چکر میں پڑگئے۔ انھیں زندگی گزارنے کے لیے بڑے جتن کرنے پڑے۔ فوجی نوکری سے لے کر اسکول میں مدرسی تک اور کلرکی سے مزدوری تک کئی مراحل سے گزرنا پڑا۔
انھوں نے اکبرالہٰ آبادی کے طنزیہ و مزاحیہ انداز کی تقلید کی ہے اور اسی وجہ سے انھیں ”اکبر سرحد“ بھی کہا جاتا ہے۔ مرزا کی مزاح میں لفظوں کی ہیرا پھیری نہیں ملتی، بلکہ ان کا مزاح ایک حقیقت پسند کا مزاح تھا، جو وہ حالات و واقعات اور ان کے نتائج سے پیدا کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے لیے، جس میدان کا انتخاب کیا، وہ فن کے اعتبار سے دشوار ترین رہگزار سے کم نہیں۔ طنز اور مزاح کی تمام تر لطافتوں کو برقرار رکھتے ہوئے انتہائی مختصر پیرائے میں جامع اور مکمل بات کا اظہار کرنا بے حد مشکل کام ہے، اس میں ایک طرف شاعر سنجیدگی سے دامن بچاتا ہے، تو دوسری طرف پھکڑپن کی حدود سے دور رہتا ہے۔
مرزا محمود سرحدی نے ہر موضوع پر طبع آزمائی کی، لیکن ان کا اصل میدان ”قطعات“ ہیں۔ انھوں نے چھوٹے چھوٹے معاشرتی مسائل کو بڑی خوبصورتی سے اپنے قطعات میں سمویا ہے۔ مثلاً: چوری، رہزنی، ذخیرہ اندوزی، گراں فروشی، ملاوٹ، جھوٹ اور مکر و فریب وغیرہ۔ ان کا طنز سماجی ناسوروں کے لیے کسی نشتر سے کم نہیں۔ مرزا محمود سرحدی نے ساری عمر شادی نہیں کی زندگی کے آخری ایام میں دمے کے مرض کی وجہ سے علیل رہنے لگے تھے، انھوں نے ۱۹۶۸میں پشاور میں وفات پائی۔
ان کے مجموعۂ کلام سنگینے اور اندیشہ شہر ہیں۔
| کبھی تو ان کی حسینوں سے شکل ملتی ہے کبھی پناہ گزینوں سے شکل ملتی ہے خدا کی شان ہے، وہ ہیں مرے وطن کے جواں کہ جن کی پردہ نشیوں سے شکل ملتی ہے |
تشریح:۔ اس قطعہ میں مزرا محمود سرحدی نے طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جب آج کل کے نوجوانوں کو دیکھتے ہیں تو انھیں بڑی حیرت ہوتی ہے۔ نوجوانوں کے چال چلن بہت زیادہ لطیف اور نزاکت سےبھرپور ہیں۔ آج کل کے نوجوان نے عورتوں سے مماثلت رکھنے کی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، منہ پر مونچھوں اور داڑھی کے بال صاف کر دیئے گئے ہیں ۔ان نوجوانوں کو دیکھ کر مرد و زن میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ آج کل کے نوجوانوں میں نسوانیت کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئی ہے ، انھیں ملک و قوم کا مستقبل بننا تھا مگر یہ حسن کو سنوارنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔
| کیا بتائیں آپ کو کیا ہے ہمارا ہسپتال انتظام ایسا کہ بس دل کو کلی کھل جائے ہے حادثات اتفاقی کا بھی ہے اک ڈاکٹر الفاقی طور پر مل جائے تو مل جائے ہے |
تشریح: اس قطعہ میں مزرا محمود سرحدی نےمحکمہ صحت کی گرفت کرتے ہوئے طنز کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہمارا ملک جو پہلے سے ہی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہے، اوپر سے ہمارے ادارے سستی کاہلی اور کام چوری سے کام لے رہے ہیں۔ چاہیے تھا کہ ہمارے ادارے اچھا کام کر کے مثال قائم کرتے مگر یہاں تو بدعوانی کا بازار گرم ہے۔ ان ہسپتالوں کا نظام بھی آفرین ہے، ڈاکٹر موجود ہے نہ ادویات و آلات، اور اس پر طرہ یہ کہ اہم ترین شعبہ میں ڈاکٹر کی عدم موجودگی پر یہ نظام خدا واسطے ہی چل رہا ہے۔
| اگر کوچوں میں بھنگی رات کو جاروب کش پاؤ تو جانو یہ بھی ہے اک شان بیداری کمیٹی کی غلاظت جس سڑک پر جابجا بکھری ہوئی دیکھو تو سمجھو اس طرف سے گزری ہے لاری کمیٹی کی |
تشریح: اس قطعہ میں مزرا محمود سرحدی نے اداروں کی نااہلی پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ، شہر میں جا بجا کوڑا کرکٹ پھیلا ہوا ہے جسے دیکھ کر ہم محکمہ صفائی کی کارکردگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ محکمہ صفائی کی جانب سے جس سستی اور کام چوری کا مظاہرہ ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے میونسپل کمیٹی اپنے فرائض بھولے بیٹھی ہوئی ہے۔ اس ادارے کی نااہلی سے سارا کا سارا شہر ہی متاثر ہوا ہے۔ محکمہ صفائی سے شہر صاف رکھنے کی توقع تو درکنار جا بجا گندگی اور کوڑا کرکٹ پھیلا ہوا ہے۔ اس میں بھی میونسپل کمیٹی کا کردار ہے کہ جو گاڑیاں شہر کی صفائی پر معمور ہیں وہ جگہ جگہ کچرا پھینکتی جا رہی ہیں، جیسے یہ کچرا پھیلانے کے کام پر معمور کی گئی ہوں۔
| کالے چشمے بھی ایک نعمت ہیں دھوپ میں خوب کام دیتے ہیں جونگاہیں ملا نہیں سکتے رات دن ان سے کام لیتے ہیں |
تشریح: اس قطعہ میں مزرا محمود سرحدی نےاس نوسر باز طبقے پر طنز کیا ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ شاعر نے کالے چشموں کو ان نوسر باز لوگوں کے لیے خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت کہا ہے ، کیونکہ یہ لوگ کالے چشمے سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کالے چشمے کا ایک فائدہ تو ہماری آنکھوں کی دھوپ سے حفاظت ہے اور دوسرا یہ کہ ایسے نوسر باز لوگوں کے لیے اس لیے مفید ہے کیونکہ یہ منفی رویوں کی وجہ سے لوگوں سے آنکھیں نہیں ملا سکتے۔ جب یہ نوسر باز کسی قسم کے منفی معملات کرتے ہیں، تو انھیں ایسی صورتحال میں شرمندگی سے بچنے کے لیے کالے چشمے کا بھرپور فائدہ اٹھانا پڑتا ہے۔
| محتسب سے کہوں، تو کیا جا کر میری مانند وہ بھی روتا ہے پہلے ہوتا تھا دودھ میں پانی آج پانی میں دودھ ہوتا |
تشریح: اس قطعہ میں مزرا محمود سرحدی نے قاضی اور اپنی بے بسی کا رونا رویا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کسی علاقے میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کسی محتسب کو بھیجا جاتا ہے، میں اس کے پاس کون کون سی شکایات لے کر جاؤں کیونکہ جن مسائل کا میں شکار ہوں، انھیں تمام مسائل کا وہ محتسب پہلے سے شکار ہے۔پہلے جب بازار سے دودھ خریدتے تھے تو ہماری شکایت ہوتی تھی کہ دودھ میں پانی کی ملاوٹ ہے، مگر اب اس قدر یہ جرم ناقابل یقین حد تک بڑھ گیا ہے کہ اب گمان گزرتا ہے کہ دودھ میں پانی نہیں بلکہ پانی میں کچھ دودھ کی آمیزش کی گئی ہے۔ اور اس سب میں انتظامیہ بھی بے بس ہے کیونکہ وہ خود بھی انھیں چیزوں کو استعمال کرنے پر مجبور ہے۔
مشق:
سوال نمبر۱: شاعر کو نوجوان نسل سے کیا شکایت ہے؟
جواب: شاعر کو نوجوان نسل سے یہ شکایت ہے کہ وہ ایسے طور طریقے اپنارہے ہیں جس سے ان میں نسوانیت جھلکتی ہے۔ وہ اپنے مردانہ پن کے بجائے نسوانیت کی جانب راغب ہیں۔نوجوانوں کے طور اطوار سے نسوانیت ، نزاکت و نفاست ظاہر ہوتی ہے۔
سوال نمبر۲:ان قطعات میں کن معاشرتی برائیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔
جواب:اس سبق کے قطعات میں شاعر نے ، نوجوان نسل کی نسوانی وضع قطع، ہسپتالوں میں نااہلی اور ڈاکٹروں کی کاہلی، سرکاری اداروں کے عملے کا کام چوری کرنا،بدعنوانی اور حقوق غضب کرنا جیسی معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کی ہے۔
سوال نمبر۳: مصرعے مکمل کریں۔
- ا: انتظام ایسا کہ بس دل کی کلی کھلی جائے ہے۔
- ب: اگرچہ کوچوں میں بھنگی رات کوجاروب کش پاؤ۔
- ج: کالے چشمے بھی ایک نعمت ہیں۔
- د: آج پانی میں دودھ ہوتا ہے۔
سوال نمبر ۴: جملوں میں استعمال کریں:
| دل کی کلی کھلنا | پردیس سے آئے بیٹے کو دیکھ کر ماں کے دل کی کلی کھل گئی۔ |
| نعمت | خدا کا شکر ہے ، اس نے ہمیں اس سال پھر سے رمضان کی نعمت عطا کی۔ |
| نگاہیں ملانا | جوان أولاد کے أفعال کی بدولت بوڑھا باپ معاشرے میں نگاہیں ملانے کے قابل نہ رہا۔ |
| محتسب | فیصلے کے لیے محتسب کے لیے ہمیشہ غیر جانبدار کا انتخاب کرنا چاہیے۔ |
| مانند | چشمے کا پانی شہد کی مانند میٹھا ہے۔ |
سوال نمبر۵: قطعہ کسے کہتے ہیں؟ کسی شاعر کا قطعہ لکھیں جس میں شگفتہ پیرائے میں کسی سماجی برائی کا ذکر کیا گیا ہو۔
جواب:قطعہ کے لغوی معنی”ٹکڑا“ یا ”جزو“ کے ہیں۔ شعری اصطلاح میں قطعہ سے مراد ایسی نظم ہے جس میں کوئی ایک خیال، موضوع یا واقعہ مسلسل بیان کیا گیا ہو۔ قطعہ کے لیے کم سے کم دو اشعار ضروری ہیں، قطعہ کے اشعار کا ہر دوسرا مصرعہ ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتا ہے۔
| میں دیکھتا ہوں صلح و محبت ہے اٹھ گئی ہر دل سے ہر گردہ سے ہر خاندان سے اس کا سبب نہیں ہے سوا اس کے اور کچھ یعنی کہ اٹھ گیا ہے خدا درمیان سے |