شیخ غلام ہمدانی مصحفی کی غزل، تشریح، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر ۳۱
  • شیخ غلام ہمدانی مصحفی

تعارفِ شاعر:

مصحفی کی غزل دبستان دلی اور دبستان لکھنو کے دل آویز امتزاج کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ اُن کی غزل میں ایک طرف دبستان دلی کا سوز و گداز ہے تو دوسری جانب دبستان لکھنو کی پیکر تراشی کا رجحان بھی نظر آتا ہے۔ مصحفی کا اسلوب نہایت سلیس، بے حد سادہ اور تخلیقی نفاست کا حامل ہے۔ اُن کے لہجے میں ایک دھیما پن اور ٹھہراؤ ہے جو ان کی غزل میں ایک طلمساتی فضا پیدا کرتا ہے۔ مصحفی کو غزل پر ایک استادانہ کمال حاصل ہے۔ وہ پائمال موضوعات کو بھی نئے انداز سے برتتے ہوئے ان میں کوئی نہ کوئی جدت کا پہلو پیدا کرتے ہیں۔

ان کے کئی ایک اشعار کو ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہے مولانا محمد حسین آزاد نے “آب حیات” میں لکھا ہے کہ یہ اصول فن سے بال برابر بھی سرکتے نہ تھے۔ کلام پر قدرت کامل پائی تھی۔ الفاظ کو پس و پیش اور مضمون کو کم و بیش کر کے اس دروبست سے شعر میں کھپاتے تھے ، کہ جو حق استادی کا ہے ادا ہو جاتا تھا۔ مصحفی کی غزلیات میں روانی اور جوانی پائی جاتی ہے۔ وہ صحت زبان کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ ان کے اشعار میں ترنم پایا جاتا ہے اور یہ کیفیت موزوں اصوات کی تکرار سے پیدا ہوتی ہے۔

غزل کی تشریح

ناگہ چمن میں جب وہ گل اندام آگیا
گل کو شکست رنگ کا پیغام آگیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میرا محبوب اس دنیا میں موجود ہر شے سے خوبصورت ہے۔ خوبصورتی کو عموماً پھول سے تشبیہ دی جاتی ہے لہذا شاعر کہتے ہیں کہ ایک روز جب میرا محبوب اچانک سے باغ میں چلا گیا تو باغ میں موجود پھولوں کا حسن بھی میرے محبوب کے حسن کے سامنے ماند پڑگیا۔ گویا میرا محبوب اس دنیا میں ہر شے سے زیادہ خوبصورت ہے۔

اٹھا جو صبح خواب سے وہ مست پر خمار
خورشید کف کے بیچ لیے جام آگیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کی ایک ادا کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا محبوب جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تب بھی اتنا نشیلا معلوم ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کو یوں لگتا ہے جیسے سورج اپنی ہتھیلی پر جام کا پیالہ لئے آیا ہو جس کی وجہ سے میرا محبوب جاگ جانے کے باوجود اتنا نشیلا ہے۔

افسوس ہے کہ ہم تو رہے مست خواب صبح
اور آفتاب عمر لب بام آگیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر افسوس کررہے ہیں اور کہتے ہیں میری زندگی کا بہترین حصہ میں نیند میں مست رہا یعنی اپنے خدا سے غافل رہا اور جب مجھے ہوش آیا تو میری زندگی کا سورج ڈھلنے کو ہے یعنی میری عمر بہت زیادہ ہوچکی ہے اور میں اپنی عمر کو رائیگاں کرچکا ہوں۔

ہے جائے رحم حال پر یاں اس اسیر کے
جو گرتے ہی ہوا سے تہہ دام آگیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر نے اپنی زندگی کے حالات کو بیان کیا ہے اور کہا ہے مجھے اس پرندے پر افسوس ہوتا ہے جو تیز ہوا کی وجہ سے زمین پر گرے اور گرتے ہی شکاری کے بچھائے جال میں پھنس جائے۔ یعنی شاعر کہنا چاہتے ہیں میرا حال ایسا تھا کے میں ایک مشکل سے نکلتا ہی نہیں تھا کے اگلی مشکل میں گرفتار ہوجاتا تھا۔

سمجھو خدا کے واسطے پیارے برا نہیں
دو دن ، اگر کسی کے کوئی کام آگیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر سب کو ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ترغیب دلا کر کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص دو روز کسی کے کام آجائے تو یہ توفیق اور عزت اسے اس کے رب نے دی ہے اس لیے اس میں کچھ برائی نہیں کہ آج ہم کسی کے کام آجائیں اور کل کوئی ہمارے کام آجائے۔

کر قطع کب گیا ترے کوچے سے مصحفی؟
گر صبح کو گیا ، وہیں پھر شام آگیا

تشریح :

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو کہتے ہیں کہ تم مجھ پر الزام لگاتے ہو کہ میں تمھارا در چھوڑ کر چلا گیا لیکن میں نے تم سے کب قطع کیا ہے۔ اگر میں کبھی صبح کے وقت تمھارے کوچے سے چلا بھی جاتا ہوں تو شام میں واپس تمھارے پاس ہی تو آتا ہوں۔

مشق

سوال: مصحفی کی شامل نصاب غزل میں جو تراکیب استعمال ہوئی ہیں انھیں تحریر کریں۔

  • جواب: گل اندام
  • شکست رنگ
  • مست پرخمار
  • مست خواب صبح
  • آفتاب عمر

سوال : مصحفی کی غزل میں ردیف اور قافیوں کی نشان دہی کریں۔

  • جواب
  • ردیف: آگیا
  • قوافی: گل اندام
  • پیغام
  • جام
  • بام
  • کام
  • دام
  • شام

سوال : اس غزل میں سے چند مرکبات اضافی لکھیں۔

  • جواب: شکست رنگ
  • کف کے بیچ
  • مست خواب صبح
  • آفتاب عمر

سوال : ان مصرعوں کا مفہوم واضح کریں۔

  • گل کو شکست رنگ کا پیغام آگیا
  • جواب: پھول کو اپنی ہار کا پیغام مل گیا
  • خورشید کف کے بیچ لیے جام آگیا
  • جواب: سورج جام کا پیالہ لے آیا
  • جو گرتے ہی ہوا اسے تہہ دام آگیا
  • جواب: جو تیز ہوا کی وجہ سے گر گیا

سوال: درج ذیل الفاظ و تراکیب کو جملوں میں استعمال کریں۔

گل اندام: گل اندام محبوب کے سامنے ہر شے پھیکی ہے۔
پرخمار:اس کی آنکھیں پرخمار تھیں۔
کف:اگر تم پڑھ لو تو تمھیں کف افسوس نہ ملنا پڑے۔
تہہ دام:پرندہ اڑے بغیر تہہ دام اگیا۔
اسیر:اپنی خواہشات کا اسیر نہیں بننا چاہیے۔
آفتاب عمر:آفتاب عمر کے ڈھلنے سے پہلے توبہ کرلینی چاہیے۔

سوال: مصحفی کی غزل کے دوسرے شعر میں جس صنعت کا استعمال ہوا ہے، اس کی تعریف کریں اور دو مثالیں دیں۔

جواب: اس شعر میں تشبیہ کا استعمال کیا گیا ہے۔ جہاں شاعر نے محبوب کے چمکتے چہرے کو آفتاب اور اس کی آنکھوں کو شراب کے پیالہ سے تشبیہ دی ہے۔