سبق نمبر 13: لالچی وزیر ، خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر:13
  • سبق : لالچی وزیر
  • مصنف : بشیر احمد بلوچ

تعارف:

بشیر احمد بلوچ، 2 جولائی 1935ء کو تربت، مکران (بلوچستان) میں پیدا ہوئے۔تراجم میں جام درک کے کلام کا بلوچی ترجمہ درچین، ملا فاضل رند کے کلام کا بلوچی ترجمہ شپ چراگ، ملا قاسم کے کلام کا بلوچی ترجمہ پہکیں اشرفی، قدیم منظوم بلوچی داستان کا اردو ترجمہ للہ وگراناز اور بلوچی زبان کی لوک کہانیوں کا اردو ترجمہ ’’بلوچی لوک کہانیاں‘‘ شامل ہیں۔حکومت پاکستان نے انھیں 14 اگست 2003ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔بشیر احمد بلوچ نے 20 فروری 2004ء کو وفات پائی اور تربت میں آسودہ خاک ہوئے۔

خلاصہ:

کہانی لالچی وزیر ایک لوک کہانی ہے، جس میں مصنف نے بتایا ہے کہ، ایک دن بادشاہ نے وزیر کو دنیا کی سب سے خراب ترین چیز پیش کرنے کا حکم دیا۔ وزیر اس حکم کے بعد وہ دنیا کی خراب چیز کے بارے میں سوچتا سوچتا پریشان حال گھر چلا جاتا ہے ۔وزیر بادشاہ کے غضب سے بچنے کے لیے ویرانے کی جانب نکل پڑتا ہے جہاں وہ ایک بکریوں کے ریوڑ کو دیکھتا ہے، حیرت انگیز طور پر اس ریوڑ کی بکریوں کے گلے میں سونے کے پتھر حمائل ہوتے ہیں۔

وہ گڈریا سے اس بارے میں پوچھتا ہے، جس پر گڈریا اسے کہتا ہے کہ اسے یہ سونا ایک پہاڑ پر ملے ہے۔ وزیر پہاڑ پر جانے کے لیے اسے إصرار کرتا ہے۔ وزیر نے گڈریے کو پہاڑ پر لے جانے کا کہا مگر گڈریے نے کل لے جانے کا وعدہ کر لیا۔ وزیر گڈریے کے ساتھ ہی رات گزارتا ہے اور اگلے دن وزیر پہاڑ پر جانے کے وعدے کو دہراتا ہے۔ جس پر گڈریا یہ کہتا ہے کہ آج اس کا پہاڑ کی جانب گزر نہیں ہے۔ وزیر سے انتظار نہیں ہوتا وہ گڈریے سے بکریوں کے گلے میں بندھے پتھر کا مطالبہ کرتا ہے۔ جس پر گڈریا وزیر کو کتے کے برتن میں دودھ پینے کی شرط کے ساتھ حامی بھر لیتا ہے۔

وزیر نے گڈریے کی شرط مان لی اور جب وزیر دودھ پینے لگتا ہے تو گڈریا اس سے برتن دھکا دے کر گرا دیا، تب گڈریا اسے دنیا کی سب سے خراب چیز طمع یعنی لالچ کا بتاتا ہے۔ لالچ ہی دنیا کی سب سے خراب چیز ہے جو انسان کو اس حد تک لے آتی ہے جس سے وہ اپنے اقدار سے گر جاتا ہے۔ وزیر یہ جواب لے کر بادشاہ کے پاس چلا جاتا ہے جسے بادشاہ سن کر وزیر کے جواب کو درست قرار دے کر اس سے خوش ہو جاتا ہے۔

مشق

سوال نمبر۱:۔ مختصر جواب لکھیں:

(ا) لوک کہانی کی تعریف کریں۔

جواب:لوک کہانی دراصل سنسکرت زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب جہاں یا دنیا کے ہیں۔ لوک کہانی وہ کہانی ہوتی ہے جو عام عوام یا معاشرے میں رائج ہو۔ ابتداء میں ان کہانیوں کا کوئی تحریری مسودہ موجود نہیں تھا بلکہ یہ کہانیاں سینہ بہ سینہ اور نسل در نسل چلتی رہیں۔

(ب) لوک کہانی پر کون سے عناصر اور عوامل اثر انداز ہوتے ہیں؟

جواب:لوک کہانی عموماً مقامی لوگوں کے خیالات اور جذبات کی ترجمانی کرتی ہے، لوک کہانیوں پر معاشرے کے ثقافتی، سماجی، سیاسی اور معاشرتی حالات اثر انداز ہوتے ہیں۔

(ج) بادشاہ نے وزیر سے کیا فرمائش کی؟

جواب:بادشاہ نے وزیر سے فرمائش کی کہ آپ کل صبح مجھے دنیا میں موجود سب سے خراب چیز میرے سامنے پیش کریں۔

(د) وزیر نے ویرانے میں کیا دیکھا؟

جواب:وزیر نے ویرانے میں دیکھا کہ ایک گڈریا اپنے بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ جا رہا تھا، ریوڑ می بکریوں کےگلے میں سونے کے پتھر دیکھے تو حیران ہو گیا۔ وزیر کے دریافت کرنے پر گڈریے نے بتایا کہ یہ پتھر اس نے ایک سونے کے پہاڑ سے نکالے ہیں۔

(ہ) سونے کا پہاڑ دکھانے کے لیے گڈریے نے کیا شرط پیش کی؟

جواب:سونے کا پہاڑ دکھانے کے لیے گڈریے نے وزیر کو کتے کے پیالے میں دودھ پینے کی شرط پیش کی تھی، جسے لالچ میں اندھے وزیر نے مان لیا تھا۔

(و) گڈریے کے مطابق لالچ انسان کو کس حد تک گرادیتی ہے؟

جواب: گڈریے کے مطابق لالچ یا طمع انسان کو گھٹیا کام کرنے پر مجبور کرتی ہے، جیسے وزیر نے سونے کی طمع میں کتے کے برتن میں دودھ پینے کی شرط مان لی تھی ویسے ہی دیگر شعبہ ہائےزندگی میں لالچ انسان کو اس حد تک گرا دیتی ہے۔

سوال نمبر ۲: گڈریے اور وزیر کے درمیان ہونے والی گفتگو اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔

جواب:گڈریے اور وزیر کے درمیان ہونے والی گفتگو کچھ ایسے تھی کہ وزیر نے جب شہر سے دور نکل کر بکریوں کے ریوڑ میں بکریوں کے گلے میں بندھے سونے کے پتھر کو دیکھا تو حیران ہو کر گڈریے سے پوچھا، یہ پتھر تمہیں کہاں سے ملے ہیں۔ گڈریے نے ایک پہاڑ کا ذکر کیا۔ وزیر نے گڈریے سے پہاڑ پر لے جانے کا کہا مگر گڈریے نے کل لے جانے کا وعدہ کر لیا۔ اگلے دن وزیر نے پہاڑ پر جانے کے وعدے کو یاد کروایا تو گڈریے نے کہا کہ آج اس کا پہاڑ کی جانب گزر نہیں ہے۔ وزیر سے انتظار نہ ہوا تو اس نے بکری کے گلے میں بندھے پتھر کا مطالبہ کیا، جس پر گڈریے نے وزیر کو کتے کے برتن میں دودھ پینے کی شرط کے ساتھ حامی بھر لی۔وزیر نے گڈریے کی شرط مان لی اور جب وزیر دودھ پینے لگا تو گڈریے نے اس سے برتن دھکا دے کر گرا دیا، تب گڈریے نے اسے بتایا کہ دنیا کی سب سے خراب چیز طمع یعنی لالچ ہے۔

سوال نمبر ۳: قواعد کے مطابق جملے درست کریں۔

ا۔ وزیر تیار ہو گیا، کتے کی طرح دودھ پینے کے لیے۔٭ وزیر کتے کی طرح دودھ پینے کے لیے تیار ہو گیا۔
ب۔ دنیا ی سب سے بڑی چیز ہے لالچ۔٭ دنیا کی سب سے بری چیز لالچ ہے۔
ج۔ وزیر کی جب آنکھ کھلی آدھی رات کو۔٭ آدھی رات کو جب وزیر کی آنکھ کھلی۔
د۔ گڈریے نے دودھ لیا، کتے والے گندے برتن میں۔٭ گڈریے نے کتے والے گندے برتن میں دودھ لیا۔
ہ۔ وہ دوزانو ہو کر اپنے گھٹنے تہہ کرکے بیٹھ گیا۔٭ وہ اپنے گھٹنے تہہ کر کے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔

سوال نمبر۴۔ درج ذیل اقتباس کا خلاصہ لکھیں۔ جو اصل عبارت کی ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو۔

خلاصہ:۔ سوچا کہ اگر پٹنا ہی میری قسمت میں ہے تو کام کرنے کی مشقت ہی کیوں کروں، آخر میں ڈھیٹ اور بے حیاء بن گیا۔ اگر ہڈ حرام اور نکمے کا خطاب ایسے بھی ملنا ہے تو ملتا رہے۔ چنانچہ سب چیختے چلاتے، مگر مجھ پر چنداں اثر نہ ہوتا۔ کوئی زرا سا کچھ کیا کہتا سر آسمان پر اٹھاتا مگر اتنی محنت سے ڈھیٹ بننے کے بعد بھی چھوٹی صاحب زادی مجھ سے تیز نکلی۔ سیر و سوا سیر وہ مارتی مجھے اور رونا شروع کر دیتی۔جب خاتون خانہ اسے ڈانٹتی تو میں مزید چغلی لگا کرجلتی پر تیل کا کام کرتا۔ اس کام میں کبھی میری کامیابی ہوتی اور کبھی چغل خوری پر الٹا میری پٹائی ہو جاتی۔

آخر میں نے بھی بے حیائی کا جامہ پہن لیا۔ پٹنا قسمت میں لکھا ہے تو یوں ہی سہی۔ یوں بھی پٹنا، دوں بھی پٹنا۔ پھر کام کرکے اپنے آپ کو مفت میں کیوں تھائیں۔ نکمے کا خطاب ملتا ہے۔ تو ملنے دو۔ برا بھلا کہتے ہیں تو کہنے دو۔ اس کان سنو اس کان اڑا دو۔ آپ ہی بک بک کر تھک جائیں گے۔ یہ چال بھی گھورنے کی طرح کامیاب ہوئی۔ سب چیختے چلاتے مگر میں ٹس سے مس نہ ہوتا۔

جہاں کسی نے ذرا ہاتھ لگایا اور میں نے اس زور سے چیخ ماری گویا کسی نے گلاگھونٹ دیا ہے۔ کبھی کسی نے میری اس ترکیب کو دیکھ لیا تو راز کھل گیا، نہیں تو مارنے والا خود گھبرا گیا۔ دوسروں نے غل مچایا، کہ اے ہے! لونڈے کو مار ڈالا۔ کبھی تو مارنے والے صاحب مجھ سے زیادہ پٹ گئے اور کبھی ڈانٹ ڈپٹ ہو گئی۔ مگر ہم کام سے بچ گئے۔ مگر بابا ”ہر فرعونے را موسیٰ“ چھوٹی صاحب زادی صاحبہ کچھ مجھ سے زیادہ تیز تھیں۔ خود ہی مجھے مارتیں اور خود ہی رونے بیٹھ جاتیں۔

بھلا ان کے مقابلے میں مجھ بچارے کی کیا ہستی تھی۔ الٹی مجھ پر ہی لے دے ہوتی، غرض اس لڑکی کے ہاتھوں ناک میں دم آگیا۔ مگر میں بھی بدلہ لیے بغیر تھوڑی ہی مانتا تھا۔ مارنے کی توہمت نہ ہوتی تھی ہاں کبھی بیگم صاحبہ پر خفا ہوتیں، تو میں بھی الٹی سیدھی بہت کچھ لگاتا۔ مہینہ مہینہ بھر پہلے کی باتیں یاد دلاتا۔ اگر قسمت نے یاوری کی تو کام بن گیا اور صاحبزادی صاحبہ کی خوب کندی ہوگئی۔ نہیں تو لتراپے کا الزام لگا۔ بیگم صاحبہ نے بیٹی کا غصہ مجھ غریب پر اتار لیا۔