Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: 7
- سبق : داروغہ جی کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں
- مصنف : رتن ناتھ سرشار
- ماخوذ : فسانہ آزاد
تعارفِ مصنف :
پنڈت رتن ناتھ سرشار کا شمار اُردو ادب کے ممتاز ادیبوں میں ہوتا ہے۔ وہ لکھنو میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ تخلیق نگاری کا شوق انھیں اخبارات اور رسائل کی طرف کھینچ لایا، وہ مختلف رسالوں اور اخبارات کے مدیر رہے۔ مہاراجہ کرشن پرشاد کی دعوت پر حیدر آباد چلے گئے اور دبدبہ آصفی کے ایڈیٹر بن گئے۔
اُردو ناول کے ارتقا اور فروغ میں سرشار کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اُن کی تخلیقات فسانہ آزاد، جام سرشار، اور سیر کہسار نے ایسی شہرت پائی کہ بہت سے نامی گرامی مصنفین اور مصلحسین قوم ناول نگاری کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کا ابتدائی ناول “ فسانہ آزاد” ، اخبار اودھ میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ ان کے ناولوں میں سیر سپاٹے ہنسی مذاق اور عجیب وغریب کمالات موجود ہیں۔
ان کا قلم رواں دواں تھا اور انداز اتنا پختہ تھا کہ محیر العقول واقعات پر بھی حقیقت کا گماں ہوتا تھا۔ دراصل ان کا نظریہ تھا کہ ناول محض حظ اٹھانے اور وقت گزاری کا وسیلہ ہے۔ اُن کے ناولوں میں بالواسطہ مقصدیت اور اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اُنھوں نے اپنی نثر کو آرائش سے محفوظ رکھا ہے۔ تاہم محاورات ، روزمرہ اور تمثیل و تشبیہ کی معاونت سے اس کا رشتہ قدیم طرز تحریر سے جڑتا نظر آتا ہے۔
تصانیف:
شمس الضحی، اعمال نامہ روس، کامنی، الف لیلہ اور خدائی فوجدار وغیرہ۔
خلاصہ :
اس ناول میں محاورے استعمال کئے گئے ہیں اور اس کی زبان لکھنو کا منظر پیش کرتی ہے. اس ناول میں مصنف نے نصیحتیں کرنے کے بجائے معاشرے کا عکس انسان کے سامنے رکھا ہے کہ کیسے ہر شخص اپنے مطلب کے لیے دوسرے کا نقصان کرنے پر راضی ہوتا ہے اور کیسے ایک نواب کی غفلت اس کے نوکروں تک کو اتنی ہمت دے دیتی ہے کہ وہ نواب کو دھوکہ دیتے رہیں.
اس ناول کے دیے گئے اقتباس میں داروغہ کے پاس حلوائی آیا اور اس نے ایک سو بیالیس روپے دس آنے رقم بتائی. داروغہ نے اپنا حصہ مانگا تو کہنے لگا سو روپے ہمارے بیالیس تم لے لو. داروغہ نے کہا بیالیس کے باون کردو. سو تم لو باون ہم رکھیں گے. پھر پوچھا اس ماہ مٹھائی کتنے کی آئی تو حلوائی نے بتایا اس ماہ کی مٹھائی اڑتیس روپے کی آئی اور کبھی کبھار میں ناپ تول میں بھی کم کردیتا ہوں.
پھر حلوائی کہنے لگا ہم سو نہیں سو پانچ روپے لیں گے باقی تم رکھو لیکن داروغہ نے سو روپے پر حلوائی کو راضی کرلیا. حلوائی کے جانے کے بعد خوجی نے داروغہ کے سامنے انکشاف کیا کے وہ سب سچ جان چکا ہے اور پھر اس نے بھی داروغہ سے پندرہ روپے لیے. جب حلوائی جاچکا اور داروغہ نواب کے ساتھ محفل میں موجود تھا جب بزاز اپنا حساب کتاب کرنے چلا آیا. نواب نے داروغہ سے کہا اس کا حساب کردو.
میاں خوجہ کیونکہ اصلیت سے واقف ہوچکے تھے اس لیے داروغہ کے جاتے ہی خود بھی وہیں چل دیے. داروغہ اب اسے وہاں سے بھیج نہیں سکتا تھا اس لیے اسے آواز دے کر قریب بلا لیا. بزاز معاملہ سمجھ گیا اور خوجی کو وہاں سے جانے کا کہا. خوجی نہ مانا اور بزاز اور خوجی میں مڈ بھیڑ ہوگئی جس میں داروغہ نے بھی بزاز کا ساتھ دیا. کسی نے اس کی خبر نواب کو دے دی.
نواب نے تینوں کو بلوایا تو بزاز کہنے لگا کہ میں سرکار کو کم پیسوں میں کپڑا دیتا ہوں لیکن سب کو تو اس رقم میں کپڑا نہیں دے سکتا اس لیے خوجی کو کہا تم باغ میں ٹہل لو تاکہ ہم حساب کرلیں لیکن خوجی تو مڈ بھیڑ کرنے لگے. داروغہ نے بھی بزاز کا ہی ساتھ دے کر نواب کے سامنے اپنا موقف رکھا. آخر خوجی نواب کے دربار میں رہا اور بزاز اور داروغہ حساب کرنے چل دیے. بزاز نے بتایا کے کُل کپڑا تو دو سو چھبیس روپے کا تھا لیکن کچھ دن پہلے نواب صاحب نے کہا ہمارا کپڑا پانچ چھ سو روپے تک کا ہوگا تب ہم نے انھیں کہہ دیا کے سات آٹھ سو تک کا ہے اس لیے اب آپ حساب میں سات سو ترپن روپے لکھ دیں.
داروغہ نے پوچھا اس میں تمھارا کتنا حصہ اور ہمارا کتنا تو کہنے لگے پانچ سو چھپن ہمیں دے دیں باقی حصہ آپ کا. وہ دونوں حساب کر کے جب جانے لگے تو دیکھا خوجی ان کی باتیں سن چکا ہے. آخر کار اسے بھی چالیس روپے دے کر خاموش کروانا پڑا
مشق
سوال نمبر ۱ : بزاز ، داروغہ اور میاں خوجی کے درمیان ہونے والے معاملے کو اپنے الفاظ میں لکھیے۔
جواب : داروغہ نواب کے ساتھ محفل میں موجود تھا جب بزاز اپنا حساب کتاب کرنے چلا آیا. نواب نے داروغہ سے کہا اس کا حساب کردو. میاں خوجہ کیونکہ اصلیت سے واقف ہوچکے تھے اس لیے داروغہ کے جاتے ہی خود بھی وہیں چل دیے. داروغہ اب اسے وہاں سے بھیج نہیں سکتا تھا اس لیے اسے آواز دے کر قریب بلا لیا. بزاز معاملہ سمجھ گیا اور خوجی کو وہاں سے جانے کا کہا. خوجی نہ مانا اور بزاز اور خوجی میں مڈ بھیڑ ہوگئی جس میں داروغہ نے بھی بزاز کا ساتھ دیا. کسی نے اس کی خبر نواب کو دے دی. نواب نے تینوں کو بلوایا تو بزاز کہنے لگا کہ میں سرکار کو کم پیسوں میں کپڑا دیتا ہوں لیکن سب کو تو اس رقم میں کپڑا نہیں دے سکتا اس لیے خوجی کو کہا تم باغ میں ٹہل لو تاکہ ہم حساب کرلیں لیکن خوجی تو مڈ بھیڑ کرنے لگے. داروغہ نے بھی بزاز کا ہی ساتھ دے کر نواب کے سامنے اپنا موقف رکھا. آخر خوجی نواب کے دربار میں رہا اور بزاز اور داروغہ حساب کرنے چل دیے. بزاز نے بتایا کے کُل کپڑا تو دو سو چھبیس روپے کا تھا لیکن کچھ دن پہلے نواب صاحب نے کہا ہمارا کپڑا پانچ چھ سو روپے تک کا ہوگا تب ہم نے انھیں کہہ دیا کے سات آٹھ سو تک کا ہے اس لیے اب آپ حساب میں سات سو ترپن روپے لکھ دیں. داروغہ نے پوچھا اس میں تمھارا کتنا حصہ اور ہمارا کتنا تو کہنے لگے پانچ سو چھپن ہمیں دے دیں باقی حصہ آپ کا. وہ دونوں حساب کر کے جب جانے لگے تو دیکھا خوجی ان کی باتیں سن چکا ہے. آخر کار اسے بھی چالیس روپے دے کر خاموش کروانا پڑا
سوال نمبر ۲ : داروغہ اور حلوائی میں کیا معاملہ طے پایا؟
جواب : داروغہ کے پاس حلوائی آیا اور اس نے ایک سو بیالیس روپے دس آنے رقم بتائی. داروغہ نے اپنا حصہ مانگا تو کہنے لگا سو روپے ہمارے بیالیس تم لے لو. داروغہ نے کہا بیالیس کے باون کردو. سو تم لو باون ہم رکھیں گے. پھر پوچھا اس ماہ مٹھائی کتنے کی آئی تو حلوائی نے بتایا اس ماہ کی مٹھائی اڑتیس روپے کی آئی اور کبھی کبھار میں ناپ تول میں بھی کم کردیتا ہوں. پھر حلوائی کہنے لگا ہم سو نہیں سو پانچ روپے لیں گے باقی تم رکھو لیکن داروغہ نے سو روپے پر حلوائی کو راضی کرلیا. حلوائی کے جانے کے بعد خوجی نے داروغہ کے سامنے انکشاف کیا کے وہ سب سچ جان چکا ہے اور پھر اس نے بھی داروغہ سے پندرہ روپے لیے
سوال نمبر ۳ : اس اقتباس کی روشنی میں داروغہ کے کردار پر ایک پیراگراف لکھیے۔
جواب : داروغہ ایک بےایمان شخص تھا جو نواب کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا تھا اور اس کے بھروسے اور غفلت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا تھا. وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا فائدہ بھی کروارہا تھا تاکہ کوئی اس کے خلاف کچھ نہ کہے اور وہ اضافی رقم حاصل کرتا رہے
سوال نمبر ۴ : درج ذیل محاورات اور ضرب الامثال کو اس طرح جملوں میں استعمال کریں کہ ان کا مطلب واضح ہو جائے۔
| پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں : | چاند رات کو مہندی والے کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوتا ہے |
| ہوائیاں اڑنا : | وہ نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کی ہوائیاں اڑ گئیں |
| مینڈھے لڑانا : | نوجوانوں کو مینڈھے لڑانے کے بجائے اپنے مستقبل پر دھیان دینا چاہیے |
| اندھیر نگری چوپٹ راج : | قانون کی بالا دستی کی وجہ سے اندھیر نگری چوپٹ راج والا حال ہے |
| وارے نیارے ہونا : | اس پراجیکٹ کے فائنل ہونے سے اس کے وارے نیارے ہوگئے |
سوال نمبر ۵ : اس عبارت کی روشنی میں بتائیے کہ اس وقت لکھنو کے نوابوں کے کیا رنگ ڈھنگ تھے۔
جواب : اس وقت لکھنو کے نواب شاہ خرچ تھے. وہ مالی معاملات اور سرکاری معاملات سے غفلت برتتے تھے اور ان کے عیش و غفلت کا عالم تھا کے معمولی ملازم بھی چھوٹے چھوٹے خرچوں کے نام پر انھیں لوٹ لیا کرتے اور انھیں علم تک نہ ہوتا تھا
سوال نمبر ۶ : کسی پیشے یا طبقے کے لوگ تبادلہ خیال کے لیے الفاظ کو وضعی کی بجائے کچھ اور مخصوص معانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے الفاظ کو سلینگ کہا جاتا ہے جیسے سیاسی وفاداری بدلنے والے شخص کو لوٹا کہنا۔ آپ ایسے ہی کوئی سے پانچ سلینگ تلاش کر کے نئے معانی کی وضاحت کے ساتھ لکھیں۔ نیز درج ذیل سلینگ الفاظ کے معنی لکھیں۔
| اڑی ڈالنا : | ضد کرنا |
| اگرائی : | چھوٹے تاجروں سے ہول سیل والوں کا روزانہ رقم وصول کرنا |
| باقیات : | کسی چیز کے ختم ہونے کے بعد اس کے اثرات |
| بچہ پارٹی : | بچوں کا ٹولا |
| بڑی مچھلی : | طاقتور لوگ |
| فلائینگ کوچ : | تیز رفتار |
| پانچ سلینگ اور ان کے معنی | |
| بھتہ : | کسی کی زبردستی دکان والوں سے وصول کی گئی رقم |
| دماغ کی دہی کرنا : | دماغ کھانا |
| ماموں بنانا : | بیوقوف بنانا |
| سکریو ڈھیلا ہونا : | پاگل پن کا مظاہرہ کرنا |
| استاد : | چلاک انسان |
سوال نمبر ۷ : آپ کو اس ناول کا کونسا کردار اچھا لگا اور کیوں؟
جواب : اس ناول کے ہر کردار میں کوئی نہ کوئی خامی موجود ہے لیکن بزاز کا کردار مجھے پسند آیا کیونکہ وہ موقع دیکھ کر فوراً بات سمجھنے والا شخص تھا اور وہ خوجی کے آتے ہی داروغہ کے دل کی بات سمجھ گیا اور اس نے ایسی چال چلی کے آخر خوجی کو نواب کے دربار میں ٹھہرنا پڑا. گو کہ بعد میں خوجی نے بزاز کو شکست دے دی لیکن بزاز کی عقل مندی متاثر کن ہے۔
سوال نمبر ۸ : اس ناول پر زبان وبیان کے حوالے سے تبصرہ کریں۔
جواب : اس ناول میں محاورے استعمال کئے گئے ہیں اور اس کی زبان لکھنو کا منظر پیش کرتی ہے. اس ناول میں مصنف نے نصیحتیں کرنے کے بجائے معاشرے کا عکس انسان کے سامنے رکھا ہے کہ کیسے ہر شخص اپنے مطلب کے لیے دوسرے کا نقصان کرنے پر راضی ہوتا ہے اور کیسے ایک نواب کی غفلت اس کے نوکروں تک کو اتنی ہمت دے دیتی ہے کہ وہ نواب کو دھوکہ دیتے رہیں۔