Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر:18
- سبق (نام): شہر آشوب
- شاعر: نظیرؔ اکبر آبادی
- ماخوز : کلیات نظیر اکبر آبادی
تعارف شاعر:
سید ولی محمد نظیرؔ اکبر آبادی ۱۷۴۰ کو آگرے میں پیدا ہوئے، والد کا نام سید محمد فاروق تھا۔ آگرے کے ایک مکتب میں عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ نظیر نے برے پر آشوب زمانے میں ہوش سنبھالا۔ آگرے کے برے حالات نے انھیں ہجرت پر مجبور کیا اور وہ اپنی والدہ اور نانی کے ہمراہ دلی منتقل ہو گئے۔دلی میں نظیر کا لڑکپن اور جوانی بڑی ہنسی خوشی اور رنگ رلیوں میں گزری۔ انھوں نے ہر قسم کی تقریبات اور تفریحات میں حصہ لیا۔ طبیعت موزوں تھی، اس لیے شاعری شروع کی۔
نظیر قناعت پسند، صوفی منش اور بے پروا طبیعت کے مالک تھے۔ ساری عمر معلمی کا پیشہ اختیار کیے رکھا۔ کسی نواب یا بادشاہ کے دربار سے وابستہ نہ ہوئے۔ اودھ اور بھرت پور کے حکمرانوں نے دعوت نامے بھیجے مگر نظیر نے قبول نہ کیے۔ ان کی شاعری محض تخیل کی شاعری نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ دیکھا وہی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ انھوں نے ایک طرف اپنی شاعری میں دلی کے میلوں ٹھیلوں، تفریحات، کھیل تماشوں اور مذہبی تقاریب کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا تو دوسری طرف اخلاقی مضامین اور تصوف پر بھی قلم اٹھایا۔
ان کی شاعری میں عوامی مسائل اور عوامی خیالات کی ترجمانی ملتی ہے۔ ایسی نظموں میں فکر آٹے دال کا، روپے کی فلاسفی، روٹی نامہ، اور مفلسی وغیرہ شامل ہیں۔
نظیر ؔ اکبر آبادی نظم میں ایک نئے طرز اور نئے انداز کے مؤجد تھے۔وہ پرگو شاعر تھے۔ ان کی نظموں میں موسیقیت، روانی، جزیات نگاری اور منظر نگاری عروج پر ہے۔ ان کے کلام میں مذہبی رنگ موجود ہے، انبیائےکرام ؑاور بزرگان دینؒ سے عقیدت ان کی شاعری میں موجود ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے طویل عمر پائی۔ آخری عمر میں وہ فالج میں مبتلا ہو گئے اور اسی مرض میں وفات پائی۔ ان کی وفات ۱۸۳۰ میں ہوئی۔
| ہے اب تو کچھ سخن کا مرے کاروبار بند رہتی ہے طبع سُوچ میں لیل و نہار بند دریا سخن کی فکر کا ہے موج دار ،بند ہوکس طرح نہ مُنہ میں زباں باربار بند جب آؔگرے کی خلق کا ہو روز گار بند |
تشریح:
نظم شہر آشوب کے اس بند میں میں شاعر نظیرؔ اکبر آبادی نے اپنے دور کے شہر آگرہ کا نقشہ کھینچا ہے، جب مرہٹوں اور جاٹوں نے اس کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ اس تباہی و بربادی سے عام لوگوں کی زندگیوں پر بہت زیادہ اثر پڑا تھا۔یہ سارے ماحول شاعر کے ذہن پر کچھ اس انداز سے چھایا ہوا تھا کہ وہ اپنے کلام پر اپنا اختیار کھو چکا تھا، وہ دن رات اسی میں مبتلا رہنے لگا ، لوگوں کی حالت زار اور بھوک افلاس سے شاعر کی لکھنےاور سوچنے کی صلاحیت جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ وہ دن رات انھیں مناظر کے زیر اثر رہتا ہے اور ان حالات میں وہ شعر تک کہنے کے قابل نہیں۔
| بےروز گاری بے یہ دکھا ئی ہے مُفلسی کو ٹھے کی چھت نہیں ہے، یہ چھا ئی مُفلسی دیوار و در کے بیچ سمائی ہے مُفلسی ہر گھر میں اِس طرح سے بھر آئی ہے مُفلسی پانی کا ٹو ٹ جاوے ہے جوں ایک بار بند |
تشریح:۔
نظم شہر آشوب کے اس بند میں میں شاعر نظیرؔ اکبر آبادی شہر آگرہ کی زبوں حالی کو بیان کیا ہے کہ، مرہٹوں اور جاٹوں کی تباہی کے بعد اب آگرہ میں بے روزگاری کا راج ہے، ہر فرد ہی اس سب سے متاثر ہوا ہے۔آگرہ کا ہر گھر ہی گویا مفلسی کا مسکن بن چکا ہے، گھروں کی چھتیں مٹی گاڑے کے بجائے مفلسی سے بنی ہوئی ہیں۔ شاعر کا ماننا ہے یہ تباہی بالکل اسی طرح شہر پر آئی ہے جس طرح پانی کے آگے بنا ہوا بند ٹوٹ جانے کے بعد دریا سونامی کی صورت میں سب تہس نہس کر دیتا ہے اسی طرح یہ غریبی آگرہ میں سونامی کی طرح آکر ہر جا پھیل گئی اور اس سے ہر گھر بے روزگاری کی لپیٹ میں آگیا۔
| صرّاف ،بنیے ،جو ہری،اور سیٹھ،ساہوکار دیتے تھے سب کو نقد ،سو کھا تے ہیں اب اُدھار بازار میں اُڑےہے پڑی خاک بے شمار بیٹھے ہیں یوں دُکانوں میں اپنی دُکان دار جیسے کہ چور بیٹھے ہوں قیدی،قطار بند |
تشریح:
نظم شہر آشوب کے اس بند میں میں شاعر نظیرؔ اکبر آبادی نےآگرہ میں مرہٹوں اور جاٹوں کے حملے سے آنے والی تباہی کے بعد کا منظر بیان کیا ہے، جس میں وہ روزگار زندگی سے وابستہ تمام پیشہ ور افراد کا فرداً فرداً ذکر کرتے ہیں کہ بے روزگاری اور افلاس نے سنہار، اناج فروش، تاجروں اور سود پر نقدی دینے والے تمام لوگ بے بس و پریشان ہو چکے ہیں۔ وہ سب جو منافع بخش کاروبار چلایا کرتے تھے، جو دوسروں کو ادھار دیا کرتے تھے اب وہ خود ادھار لینے پر مجبور ہیں۔ تاجر سارا سارا دن گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں، بازار میں گاہکوں کی عدم موجودگی سے ان تاجروں کے کاروباروں بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
| محنت سے ہاتھ پانوکی ،کو ڑی نہ ہاتھ آئے بے کار کب تلک کوئی قرض واُدھارکھائے دیکھو جسے،وہ کرتا ہے روروکے ہائے ہائے آتا ہے ایسے حال پہ رونا ہمیں تو ہائے دشمن کا بھی خدا نہ کرے کارو باربند |
تشریح:۔
نظم شہر آشوب کے اس بند میں میں شاعر نظیرؔ اکبر آبادی نےآگرہ میں حالات اس قدر ابتر ہیں کہ، کئی ہنر مند موجود ہیں جو مزدوری کرنے کے لیےتیار ہیں، مگر محنت مزدوری کرنے کے بعد انھیں مزدوری کے عوض رقم ادا کرنے والا کوئی موجود نہیں ہے۔ لوگ مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور ادھار پر پیٹ پال رہے ہیں۔ شاعر جہاں کہیں بھی اپنی نظر دوڑاتا ہے وہ لوگوں کو عاجز اور پریشان حال پاتا ہے، لوگوں کا رونا دیکھ دیکھ کر شاعر کو بھی رونا آجاتا ہے۔ شاعر حساس ہوتا ہے اس لیے جب وہ آگرے میں دکھ اور مفلسی دیکھتا ہے تو وہ اس حالت پر رنجیدہ ہو جاتا ہے۔
| اِس شہر کے فقیر ،بھکاری جو ہیں تباہ جس گھر میں جا سوال وہ کرتے ہیں خو اہ مخواہ ’’بھو کے ہیں، کچھ بِھجائیو بابا خدا کی راہ‘‘ واں سے صدایہ آتی ہے’’ پھر مانگو‘‘جب تو آہ کرتے ہیں ہو نٹھ اپنے، وہ ہو شرمسار،بند |
تشریح:۔
نظم شہر آشوب کے اس بند میں میں شاعر نظیرؔ اکبر آبادی نےآگرہ کا أحوال بتایا ہے کہ، آگرہ شہر اب پوری طرح تباہ ہو چکا ہے جہاں بازار آباد ہوا کرتے تھے اب وہاں کا حال یہ ہے کہ چھوٹے تاجر تو درکنار بڑے تاجر بھی بے روزگاری کے ہاتھوں برباد ہو چکے ہیں، اور ادھار لینے پر مجبور ہیں۔ شاعر بتاتے ہیں کہ آگرہ کے گداگروں کا بھی کوئی حال نہیں ہے، وہ اب کسی سے سوال بھی نہیں کر سکتے، جب وہ کسی گھر پر سوال کرنے کے لیے دستک دیتے ہیں اور نام الہیٰ پر مانگتے ہیں تو ہر در پر انھیں فاقوں کا ہی راج دیکھنے کو ملتا ہے۔ گداگر خود بھی سارے شہر کا أحوال بہتر جانتے ہیں اس لیے وہ مایوس ہو کر ہر گھر سے انکار سن کر چلے جاتے ہیں کہ جہاں خود کھانے کو کچھ نہیں ہے اس گھر سے خیرات کی توقع کرنا بھی مناسب نہیں۔
| کیا چھو ٹے کام والے،وکیا پیشہ رونجیب روزی کے آج ہاتھ سے عاجز ہیں سب غریب ہو تی ہے بیٹھے بیٹھے جب آ، شام، عن قریب اُٹھتے ہیں سب دُکان سے کہ کر کہ ’’یا نصیب! قسمت ہماری ہوگئی بے اختیار بند ‘‘ |
تشریح:
نظم شہر آشوب کے اس بند میں میں شاعر نظیرؔ اکبر آبادی نےآگرہ کی تباہی کے بعد کا منظر بیان کیا ہے کہ، آگرہ میں تباہی کے بعد جس بے روزگاری اور مایوسی نے جنم لے لیا ہے اس کی وجہ سے ہر فرد پریشان ہے، کیونکہ خوشحالی اور روزگار کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔چھوٹے بڑے تمام بیوپاری اس بے روزگاری کی وبا میں متاثر ہو چکے ہیں، سب کے حالات جمع پونجیاں لٹ لٹا گئیں ہیں، اب ہر فرد اپنا پیٹ پالنے کے لیے ادھار کا سہارا لے رہا ہے۔ کیونکہ بازار کا احوال یہ ہے کہ سارا سارا دن اپنی دکان پر بیٹھنے کے بعد بھی شام کو خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑتا ہے، کیونکہ عام لوگوں کی حالت بھی کچھ ایسی ہے کہ ان کی قوت خرید مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
| ہے کون سا وہ دل جسے فرسودگی کی نہیں وہ گھر نہیں کہ روزی کی نابودگی نہیں ہر گز کسی کے حال میں بہود گی نہیں اب آگرے کے نام کو آسود گی نہیں کو ڑی کے آکے ایسے ہو ئے رہ گذار بند |
تشریح:۔
نظم شہر آشوب کے اس بند میں میں شاعر نظیرؔ اکبر آبادی نےآگرہ کے گھروں کا ذکر کیا ہے کہ، آگرہ کا ہر ہر گھر ہی اس مصیب اور الم کا شکار ہوا ہے۔ شاعر نے آگرہ کے تمام گھروں میں غربت کو ڈیرے ڈالے دیکھا ہے کہ چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں ناجانے کب سے گھروں میں روٹی نہیں بنی۔ شہر کا شہر فاقوں پر مجبور ہے اور روٹی گویا ناپید ہو چکی ہے۔ شہر پر قحط سالی کا ایسا دور آکر رک گیا ہے کہ سب لوگ ہی پریشان ہیں اور خوشحالی کا تصور بھی لوگوں کے ذہنوں سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ خوشحالی ایک مضبوط معیشت سے آتی ہے مگر یہاں تو یہ حال ہے کہ ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں روزگار کے دروازے مکمل طور پر مقفل ہو چکے ہیں۔
| ہے میری حق سے اب یہ دعا شام اور سحر ہو آگرے کی خلق پہ پھر مہر کی نظر سب کھاویں پیویں یاد رکھیں اپنے اپنے گھر اس ٹوٹے شہر پر بھی الہیٰ تو فضل کر کھل جاویں ایک بار تو سب کاروبار بند |
تشریح:
نظم شہر آشوب کے اس بند میں میں شاعر نظیرؔ اکبر آبادی نے آگرہ شہر اور لوگوں کی حالتیں دیکھنے کے بعد، خدا تعالیٰ سے التجا کی ہے کہ، وہ خلق پر رحم اور مہربانی کی نظر کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ لوگ بہت زیادہ مشکل حال میں زندگی گزار رہے ہیں، اس مفلسی میں ادھار اور مانگنے کی ذلت سے دو چار ہیں، وہ اب شہر سے ہجرت کرنے کے در پر ہیں، یاالہیٰ تو ہی ان لوگوں کے دن پھیر دے ان پر اپنا انعام نازل فرما۔ اس برباد شہر کو اپنے رحم کی نذر کر دے، تاکہ دوبارہ سے یہاں خوشحالی بحال ہو سکے، لوگوں کی پریشانیاں ختم ہوں اور روزی کے تمام بند دروازے کھل جائیں۔
مشق:
سوال نمبر ۱۔ اس نظم کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں لکھیں۔
جواب:نظم شہر آشوب کا مرکزی خیال آگرہ شہر کی بربادی کامنظر ہے۔ شہر میں ایک تباہی کی لہر آئی اور لوگوں کے کاروبار اور روزگار زندگی سب رک کر رہ گئے۔ چھوٹے بڑے تاجر وں کا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے اور گھروں گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔
سوال نمبر۲۔ اس نظم میں کن کن پیشوں کا ذکر کیا گیا ہے؟ ان کی وضاحت کریں۔
جواب:۔اس نظم میں شاعر نےدرج ذیل پیشوں کا ذکر کیا ہے۔
| صراف | سونا چاندی پرکھنے والے کو صراف کہتے ہیں۔ |
| بنیا | اناج بیچنے والے کو بنیا کہتے ہیں۔ |
| جوہری | قیمتی پتھروں کا کاروبار کرنے والے کو جوہری کہتے ہیں۔ |
| سیٹھ | جس کے پاس پیسے کی ریل پیل ہو اور وسیع کاروبار کا مالک ہو۔ |
| ساہوکار | پیسے کا لین دین کرے اور ادھار پر سود وصول کا کام کرے اسے ساہوکار کہتے ہیں۔ |
| بھکاری | اپنے پیٹ پالنے کے لیے لوگوں کے سامنے سوال کے لیے دست پھیلائے اسے بھکاری کہتے ہیں۔ |
سوال نمبر۳۔ شہر آشوب کی تعریف کریں۔ کسی اور شاعر کے شہر آشوب کے چند اشعار لکھیں۔
جواب:۔ شہر آشوب کے معنی”فتنہ فساد“ کے ہیں۔اصطلاح میں شہر آشوب سے مراد وہ نظم ہے جس میں کسی شہر کی زبوں حالی کا قصہ بیان کیا گیا ہو۔ مثلا:
| 1۔ اب دل ہے مقام بے کسی کا یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا رونا ہے اب ہنسی خوشی کا ماتم ہے بہار زندگی کا |
| 2۔ سارا شہر ہے مُردہ خانہ کون اس بھید کو جانے گا ہم سارے لاوارث لاشیں کون ہمیں پہچانے گا |
سوال نمبر۴۔ ”پھرمانگو“ سے کیا مراد ہے؟
جواب:۔آگرہ شہر کی بربادی کے بعد جب گداگر کھانے کے لیے سوال کرتے تو انھیں جواب ملتا ”پھر مانگو“ یعنی ابھی ہم خود کھانے کے لیے پریشان ہیں، وہ کسی کا سوال نہیں سکتے۔
سوال نمبر۵۔ شاعر نے گھر کی مفلسی کا کیا نقشہ کھینچا ہے؟
جواب:۔شاعر نے گھر کی مفلسی کا نقشہ کھینچا ہے کہ، گھروں پر چھتوں کے سائے کے بجائے مفلسی چھائی ہوئی ہے، گھروں کے در و دیواروں میں مفلسی سمائی ہے، گھروں کے اندر غریبی اور بے روزگاری بھر چکی ہے۔
سوال نمبر۶۔”جیسے کہ چو بیٹھے ہوں قیدی قطار بند“ اس مصرعے میں تشبیہ پائی جاتی ہے۔ تشبیہ کی تعریف کریں اور اشعار میں مثالیں دیں۔
جواب:تشبیہ: تشبیہ کے لفظی معنی مشابہت کے ہیں۔ اصطاح میں کسی ایک چیز کو کسی دوسری چیز کی مانند قرار دینا جب کہ ان کی خصوصیات مشترکہ ہوں کو تشبیہ کہتے ہیں۔ مثلاً: یہ پانی برف کی طرح ٹھنڈا ہے۔
| 1۔ جو کہ ظالم ہے، وہ ہرگز پھولتا پھلتا نہیں سبز ہوتے کھیت دیکھا ہے کبھی شمشیر کا |
| 2۔ تمام رات ہوئی کر گیا کنارا چاند لو اترو بام سے تم جیتے اور ہارا چاند |
سوال نمبر ۷۔ یہ نظم کس ہیئت میں ہے؟ وضاحت کریں۔
جواب: یہ نظم مخمس کے ہیئت میں ہے۔ مخمس کی ہیئت کی نظم سے مراد ہے ایسی نظم جس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوں۔