Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر:11
- سبق : شیراز اور کنارِ آبِ رکنا باد وغیرہ
- مصنف : ابنِ انشا
- ماخوذ : ابن بطوطہ کے تعاقب میں
تعارفِ مصنف:
ابنِ انشا کا اصل نام شیر محمد قیصر تھا۔ وہ جالندھر میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور چلے آئے۔ ادبی زندگی کا آغاز بحیثیت شاعر کیا۔ بعد میں بطور مزاح نگار، افسانہ نویس، صحافی اور سفر نامہ نویس شہرت حاصل کی۔ مزاح کے میدان میں انھوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ہر طرح کے قاری سے داد وصول کی۔ ان کا أسلوبِ تحریر سادہ، رواں، دلکش اور شگفتہ ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں مزاح پیدا کرنا ان کا خاصہ ہے۔
ہر موقع پر ہنسنے ہنسانے کی گنجائش پیدا کر لیتے ہیں۔ الفاظ کے صحیح انتخاب اور ان کے درست استعمال پر انھیں قدرت حاصل ہے۔ چلتے ہو تو چین کو چلیے، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، اور آوارہ گرد کی ڈائری میں ابن انشا ایک ایسے بنجارے کے روپ میں نظر آتے ہیں، جو گرد و پیش پر بیگانہ روی سے نظر ڈالتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی آنکھ اشیا کے باطن کو دیکھتی ہے، اور قاری کو ماضی اورحال سے آشنا کرتی چلی جاتی ہے۔
وہ اپنے قاری کی دلچسپی کے لیے معلوماتی مواد اور تاریخی واقعات کو موثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں طنزِ لطیف پایا جاتا ہے، جس سے بات میں عمق اور اثر آفرینی پیدا ہوتی ہے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں بھولے بسرے اور متروک الفاظ کے استعمال سے منفرد دلکشی پیدا کی ہے۔
تصانیف:
خماد گندم، اردو کی آخری کتاب، آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، نگری نگری پھرا مسافر، چاند نگر، دل وحشی، اس بستی کے اک کوچے میں وغیرہ۔
خلاصہ :
کتاب کا یہ سبق”شیراز اور کنارِ آب رکنا باد وغیرہ“ مصنف ابن انشاکا سفرنامہ ہے،جسے ان کی شہرہ آفاق تصنیف ”ابن بطوطہ کے تعاقب میں“ سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سفرنامہ مملکت ایران کا ہے۔ اس سفرنامے میں ابن انشااپنے ایران میں بیتے وقت کی روداد بیان کرتے ہیں۔ مصنف جب ایران کے شہر شیراز کے سفر پر گئے تو وہاں خزاں کا موسم چل رہا تھا۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ چند غیر ملکی بھی شامل تھے ، وہ بھی ایران کی سیر کے لیے آئے ہوئے تھے۔
مصنف نے ٹیکسی لی اور سب سے پہلے حافظ شیرازی کے مزار پر حاضری کی غرض سے گئے اور وہاں لوگوں کو ٹولیوں کی شکل میں مزار کے ارد گرد بیٹھے پایا۔ کچھ دیر کے توقف کے بعد مصنف نے دور سے ہی فاتحہ پڑھی اور ٹیکسی والے کو شیخ سعدی کے مزار پر جانے کا کہہ دیا تھا۔شیخ سعدی کے مزار پر مصنف پر عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی تھی، ان کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہنے لگے، انھیں وہ وقت یاد آگیا کہ جب بچپن میں انھوں نے گلستان پڑھنا شروع کیا تھا۔
مصنف ہمیشہ سے شیخ سعدی کو اپنا دوست اور ہمنواں سمجھتے تھے۔ سعدی کے مزار سے مصنف کا جانے کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔مصنف بادل ناخوواسہ وہاں سے اٹھے اور یاد گار کے لیے گل صد برگ کا غنچہ بھی ساتھ لے گئے۔
مصنف نے مسجد وکیل کا دورہ کیا، جو ماضی سے پوستہ ایک اہم مقام تھی۔دروازہ قرآن دیکھنے کے بعد تخت جمشید کے لیے نکل گئے، اس سارے سفر میں مصنف کا ہم راہ ٹیکسی ڈرئیور منصور رہا تھا ۔منصور خود کو ملنسارثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اسے انگریزی کا فقط ایک لفظ ” Yes” ہی آتا تھا۔ تخت جمشید کا دورہ کیا، یہ تاریخ کا ایک اہم باب تھا۔ یہاں سے مصنف ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ نقش رستم چلا گیا، تقریباً ڈھائی گھنٹے میں اس تاریخی شہر کی سیر کی گئی۔
اس دوران مصنف نے من ہی من ڈرائیور کو پیسے دینے کا حساب کر لیا تھا۔ مصنف نے اپنی طرف سے 25 تومان کا حساب بٹھایا اور 5 تومان اضافی یعنی 30 تومان دے دیئے تھے۔ لیکن ٹیکسی ڈرائیور نے 35 تومان کی مانگ کی اورگاڑی سے اتر کر مصنف کے سامنے آکھڑا ہوا، جس پر مصنف نے جھگڑے اور وقت کےضیائع کو ٹالنے کے لیے 35 تومان دے دیئے، ٹیکسی ڈرائیور کرایہ لے کر بغیر سلام کے ناک بھویں چڑھا کر چلا گیا۔
مشق
سوال نمبر ۱ : مندرجہ ذیل سوالوں کے مختصر جوابات لکھیں۔
(ا) مصنف سحر خیزی کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
جواب : مصنف اپنے چنچل اور مزاحیہ انداز میں سحر خیزی کے بارے میں کہتے ہیں کہ چرند پرند صبح سویرے اٹھتے ہیں تو ٹھیک ہےمگر آدمیوں کا علی الصباح اٹھنا میری سمجھ میں نہیں آتا۔سحر خیزی کے بارے میں لوگوں کی مشہور کردہ باتوں کو بھی وہ رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ، اکثر سویرے دیر دے اٹھنے والے بھی جلدی اٹھنے والوں سے زیادہ عمریں پاتے ہیں۔
(ب) حافظ کے مزار پر ان کے دیوان کا نسخہ کیوں رکھا گیا تھا؟
جواب : حافظ کے مزار پر ان کا دیوان اس لیے رکھا گیا تھا کہ لوگ اس میں فال دیکھتے ہیں اور اپنی قسمت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آنے والا وقت ان کے لیے اچھا ہوگا یا برا۔
(ج) شیخ سعدی کے مزار پر مصنف کی کیا کیفیت ہوئی؟
جواب : شیخ سعدی کے مزار پر مصنف نے فاتحہ کو ہاتھ اٹھائے تو ان پر الگ کیفیت تاری ہو گئی، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے،انھیں ان کا بچپن یاد آنے لگا تھا، وہ اپنے آنسوؤں پر جتنا بھی ضبط کرنا چاہ رہے تھے مگر ناکام رہے۔
(د) ڈرائیور منصور کی انگریزی کے بارے میں مصنف نے کیا مثال پیش کی؟
جواب : ڈرائیور منصور کی انگریزی کے بارے میں مصنف نے مثال پیش کی کہ ٹیکسی ڈرائیور جس کا نام منصور تھا، نے دعویٰ کیا کہ اسے انگریزی آتی ہے، یہ دعویٰ اس کے ہمنام منصور کے دعویٰ “اناالحق” سے بھی زیادہ مبالغہ آمیز تھا، کیونکہ اصل میں اسے صرف یک لفظ “Yes” آتا تھا۔
(ہ) دارا اور سکندر کون تھے؟
جواب : دارا ایران کی وسیع سلطنت کا مشہور بادشاہ تھا۔ جبکہ سکندر اعظم یونان کا رہنے والا تھا۔ سکندر اعظم نے دارا کو شکست دے کر اس عظیم سلطنت کا خاتمہ کیا تھا۔
(و) ڈرائیور منصور اور مصنف کے درمیان کرائے کا کیا معاملہ پیش آیا؟
جواب: ڈرائیور منصور اور مصنف کے درمیان کرائے کا معاملہ یہ پیش آیا کہ، منصف نے اپنا حساب لگایا کہ ڈرائیور منصور کا ۲۵ تومان کرایہ بنتا ہے، اور مصنف نے اپنی خوشی سے اسے ۳۰ تومان دے دیئے تھے، لیکن ڈرائیور نے ۳۵ تومان کا تقاضا کر لیا تھا،ٹیکسی ڈرائیور نے اتر کر راستہ روک لیا جس پر مصنف کو ۳۵ تومان ادا کرنے پڑے تاکہ وہ جھگڑے فساد میں پڑ کر اپنے جہاز کے لیے لیٹ نہ ہو جائیں۔
سوال نمبر ۲ : درج ذیل جملوں کی وضاحت کریں۔
(ا) نہ زبان سے علاقہ، نہ ادب و تہذیب سے نسبت، ایک کیمرہ لٹکایا میم کو ساتھ لیا، جہاں کی تعریف سنی ادھر سدھارے۔
وضاحت:۔
مصنف کہتے ہیں کہ یہاں کچھ امریکی سیاح بھی آئے ہوئے تھے، یہ لوگ نہ تو فارسی جانتے تھے نہ یہاں کی تہذیب سے واقف تھےبس جہاں کی تعریف سنی وہاں کی سیر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بس یہ لوگوں کیمرہ اٹھاتے ہیں اور چھٹیاں منانے اپنی بیوی یا دوست کو لے کرنکل جاتے ہیں۔
(ب) ہم نے فاتحہ کے لیے ہاتھ اٹھائے، تو آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب رواں تھا، جتنا ضبط کی کوشش کرتے تھے، سیلاب اور امڈتا تھا۔
وضاحت:
مصنف جب شیخ سعدی شیرازی کے مزار پر پہنچے، تو انھوں نے فاتحہ کے لیے ہاتھ اتھائے تو آن کی آن ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔انھوں نے آنسوؤں کو بہت ضبط کیا مگر بے سود، ان کی آنکھوں سے آنسووں کی قطاریں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
(ج) ان سے فریاد یا استغاثہ کیا کرتے؟ منصور ہم سے اچھی اور تیز فارسی بولتا تھا، ممکن ہے ہم مقدمہ جیت بھی جاتے ،لیکن اصفہان کا جہاز ضرور چھوٹ جاتا۔
وضاحت:۔
مصنف جب ٹیکسی والے کو حساب کر کے پیسے دے چکے، بلکہ اضافی 5 تومان بھی دیئے تو ڈرائیور منصور نے مزید رقم کا مطالبہ کیا، اس دوران مصنف نے ڈرائیور کو حساب کر کے بھی بتا دیا مگر ڈرائیور بضد تھا کہ اسے اس کی مطلوبہ رقم ہی چاہیے۔ ڈرائیور طیش میں آگیا اور مصنف کے سامنے کھڑا ہو گیا، جس پر مصنف نے سوچا کہ اس وقت اگر میں بحث میں پڑ جاوں تو میں شاید یہ مقدمہ جیت بھی جاؤں مگر میری اصفہان کی فلائٹ ضرور چھوٹ جائے گی۔ اس لیے مصنف کو ۳۵ تومان ادا کرنے پڑے۔
(د) یہاں کے آثار کچھ طہران چلے گئے، کچھ اپنے آبا کی کتابوں کی طرح لندن اور پیرس میں۔
وضاحت:۔
مصنف نے تخت جمشید کے عجائب گھر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ عجائب گھر بہت چھوٹا ہے اور زیادہ آثار بھی موجود نہیں ہیں کیونکہ اس تاریخی ورثے کے آثار یا تو تہران میں بڑے عجائب گھر میں رکھ دیئے گئے ہیں یا پھر لندن اور پیرس کے عجائب گھروں میں۔بالکل اسی طرح جس طرح مسلمانوں کی بہت سی نادر و نایاب کتابیں اورآثار لندن اور پیرس کے عجائب گھروں کی زینت ہیں۔
(ہ) اس نے دعویٰ کیا کہ مجھے تھوڑی انگریزی بھی آتی ہے۔ یہ دعویٰ، اس کے ہم نام منصور کے دعوے انالحق سے بھی زیادہ مبالغہ آمیز تھا۔
وضاحت:۔
مصنف جب ٹیکسی میں بیٹھا تو ڈرائیور منصور نے کہا کہ اسے انگریزی آتی ہے۔ حالانکہ اسے انگریزی کے نام پر صرف “Yes” کا ایک لفظ آتا تھا۔ مصنف کے مطابق ڈرائیور منصور کا انگریزی کا دعویٰ اس کے ہم نام منصور کے “انا الحق” کے دعویٰ سے بھی زیادہ مبالغہ آرائی پر مبنی تھا۔
سوال نمبر ۳ : امدادی فعل کی تعریف کریں اور مثالیں دیں۔
جواب: امدادی فعل وہ فعل ہوتا ہے جو کسی جملے میں اصل فعل کے ساتھ مل کر پرزور انداز میں بات کو مکمل کر دیتا ہے۔ اس فعل کے ذریعے تحریر میں ایک خاص قسم کی خوبصورتی اور لطافت پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے کہ بول بیٹھے،سن لینا، دیکھنا چاہیے تھا وغیرہ وغیرہ۔
سوال نمبر ۴ : درج ذیل الفاظ و تراکیب کو اس طرح جملوں میں استعمال کریں کہ مفہوم واضح ہو جائے۔
| قدامت و عظمت: | ہسپانیہ کے مسلمانوں کی قدامت و عظمت کی مثالیں آج تک دی جاتی ہیں۔ |
| غنودگی: | لسی پینے کے بعد طبیعت میں غنودگی سی چھا گئی۔ |
| دیوان خاص: | اگلے زمانوں میں بادشاہوں کے ہاں دیوان خاص کی روایات ہوا کرتی تھیں۔ |
| رفیع الشأن: | اسلامی تاریخ میں کیا ہی رفیع الشأن سورما ہو گزرے ہیں۔ |
| عفریت: | بجلی چوری کی وارداتیں ملک بھر میں عفریت کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ |
| خانہ زاد: | ہمارے گھر کے لڑکوں کی زمانہ گواہی دیتا ہے، کہ خانہ زاد ہیں کبھی پولیس کچہری کا منہ نہیں دیکھا۔ |
| بھلا مانس: | ہمارے محلے کے حکیم صاحب جیسے، بھلے مانس معاشرے میں بہت کم یاب ہیں۔ |
سوال نمبر۵: سفر نامے کی تعریف کریں اور اس کے فنی لوازمات لکھیں۔
جواب:۔ سفرنامہ نگاری ادب کی ایک ایسی صنف ہے، جس میں کوئی شخص کسی جگہ کا سفر کرے، اور اس سفر کا تمام أحوال قلم بند کرے۔ سفرنامہ میں اندرونی یا بیرون ملک کی کوئی قید نہیں۔ اس سفر کے دوران خطہ ، ملک یا معاشرہ جس کی سیر کی جا رہی ہے، کی ایک مختصر تاریخ اور موجودہ حالات کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ سفر نامہ کسی ملک کی جغرافیائی، سماجی، معاشی، ثقافتی، معاشرتی حالات کی ایک دلچسپ اور مستند تاریخ ہوتی ہے۔اردو میں سفرنامہ کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا۔