Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر ۲۱
- سبق (نام): تخت فرس پہ علیؒ اکبر کا خطاب(مرثیہ)
- شاعر: مرزا دبیرؔ
- ماخوز :
تعارف شاعر:
مرزا سلامت علی دبیرؔ ۱۸۰۳ میں دلی میں پیدا ہوئے۔ سات برس کے تھے جب ان کے والدین دہلی سے لکھنؤ چلے آئے اور یہاں مستقل سکونت اختیار کی۔ مرزا دبیرؔ نے مروجہ علوم کی تحصیل کا سلسلہ یہاں سے شروع کیا۔ عربی اور فارسی یہاں کے چند علما سے پڑھی۔
فن شاعری میں مرزا دبیرؔ، میر ضمیرؔ کے شاگرد ہوئے۔ مرزا دبیرؔ نہایت سلیم الطبع اور عالی ظرف انسان تھے۔ اپنے ہم عصر مرچیہ گو انیس سے شاعرانہ چشمک کے باوجود کبھی نازبیا جملہ منہ سے نہیں نکالا۔
مرزا دبیر کے مرثیے اپنی گھن گرج، آب و تاب اور زبان و بیاں کے اعتبار سے خاصے کی چیز ہیں۔ انداز بیان کا رعب و دبدبہ، لکھنوی اثرات، منظر نگاری، لفظی صنعت گری، واقعہ نگاری، بے ساختہ پن، حسن تشبیہ اور سراپا نگاری وغیرہ ان کے کلام کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
مرزا دبیرؔ میر انیسؔ کے ہم عصر تھے۔ مگر یہ بات مسلمہ ہے کہ مرزا دبیر مرثیہ گوئی کے میدان میں انیس سے پہلے داخیل ہوئے۔ میر انیسؔ کے کلام شہرہ ہوجانے کے باوجود ان کے کمالات کا ہمیشہ اعتراف کیا جاتا رہا۔۹ مارچ ۱۸۷۵ کو آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا مجموعۂ کلام مراثی دبیرؔ کے نام سے شائع ہے۔
مرثیہ کی تشریح
| شہزادے نے جلوہ جو کیا دامن زیں پر پھر زین نے آوازہ کسا مہر مبیں پر مرکب نے قدم فخر سے رکھا نہ زمیں پر سرعت سے کہا فرش بچھا عرش بریں پر پلکوں سے لیا پنجے میں شہباز قضا کو بغلوں کے شکنجے میں کیا قید ہوا کو |
تشریح: نظم ”تخت فرس پہ علی اکبرؒ کا خطاب“ کے درج بالا بند میں شاعر مرزا سلامت علی دبیرؔ کہتے ہیں کہ جب میدان کربلا میں شہزادہ علی اکبرؒ گھوڑےپر سوار ہو کر آئے، تو ان کے حسن اور ولولے کو دیکھ کر سورج کو طعنہ دیا گیا کہ علی اکبرؒ کے چہرے کے ہاشمی نور کے آگے سورج بھی مانند نظر آتا ہے۔ گویا سورج کی حیثیت علی اکبرؒ کے مقابل ایک چھوٹے سے چراغ کی ہو گئی تھی۔ ان کی شان و شوکت دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا کہ کسی ملک کا شہزادہ اپنی سواری پر آرہا ہے، مجمع سے کسی نے صدا لگائی کہ ان کی راہ میں عرش بریں فرش بچھایا جائے تاکہ شہزادے کا شایان شان سفر ہو۔ آپؒ کی شان تھی کہ آپ نے موت کو اپنے شکنجے میں لے لیا تھا، گویا لوگ موت سے دور بھاگتے تھے آپ اسی کی جانب گامزن تھے۔یعنی علی اکبرؒ کو راہ حق سے پیچھے ہٹانے میں موت بھی ناکام نظر آتی تھی۔
| اک عالم حیرت تھا، چہ لاہوت، چہ ناسوت سب جرم سے تائب تھے چہ ہارو، چہ ماروت سب خوف سے تھے زرو چہ خورشید، چہ یاقوت سکتہ تھا سلاطین کو، نے تخت، نہ تابوت بے خود جو کیا روئے درخشاں کی چمک نے بالائے زمیں ٹیک دیے ہاتھ فلک نے |
تشریح: نظم ”تخت فرس پہ علی اکبرؒ کا خطاب“ کے درج بالا بند میں شاعر مرزا سلامت علی دبیرؔ کہتے ہیں کہ میدان کربلا میں علی اکبرؒ کے جاہ و جلال کو دیکھ کر ہر چند حیران تھے، ظاہری دنیا ہی کی تمام قوتیں کیا عالم أرواح سے فرشتے بھی تمام انھیں دیکھ کر رشک کر رہے تھے۔ علی اکبرؒ جیسے نوجوان کو ایمان کی طاقت سے لبریز اور اسلام کی راہ میں شہادت کا جام پی کر سوئے مقتل گھوڑے پر روانہ دیکھ کر تمام گنہگاروں نے معافی مانگ کر اسے رشک کی نگاہ سے دیکھا، حتیٰ کہ ہاروت و ماروت نامی فرشتے بھی اپنی گناہ پر توبہ کے طلبگار دیکھائی دیے۔حضرت علی اکبرؒ کی ایمان کی طاقت سے جو روشنی اور نور چاروں اور پھیل چکا تھا، وہ سورج اور یاقوت جیسے قیمتی پتھروں کا رنگ بھی زرد کر سکتا تھا۔ تمام سلاطین و بادشاہ حضرت علی اکبرؒ کا رخ روشن دیکھ کر دم بخود ہو گئے تھے، وہ اپنے تخت و تابوت کی پروا سے بھی بے نیاز ہو چکے تھے۔
| راہوار کے کاوؤں سے زمیں چرخ میں آئی پر عرق عرق ہوگای وہ حق کا فدائی چہرے پہ عجب آب پسینے نے دکھائی ان قطروں سے نیساں پہ گھٹا شرم کی چھائی یہ قدر عرق کی نہ کسی رو سے بڑھی تھی شبنم کبھی خورشید کے منہ پر نہ پڑی تھی |
تشریح: نظم ”تخت فرس پہ علی اکبرؒ کا خطاب“ کے درج بالا بند میں شاعر مرزا سلامت علی دبیرؔ کہتے ہیں کہ حضرت علی اکبرؒ کا جاہ و جلال اس درجہ عروج پر تھا کہ جس گھوڑے پر سوار ہو کر آپ سوئے مقتل گئے، وہ گھوڑا میدان میں گول گول گھوم رہا تھا، جس سے زمین پر دائرے کے نشانات بن گئے تھے، اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زمین بھی دائرے کے نشان پر رشک کر رہی ہے اور اسی دائرے کے گرد گھوم رہی ہے۔ میدان جنگ میں سخت گرمی کا عالم تھا، جس سے حضرت علی اکبرؒ کے چہرہ أنور پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جس بارش کا قطرہ موتی بن سکتا ہے وہ بھی اس پسینے کی چمک کے آگے شرمندہ تھی۔ پسینے کے یہ قطرے ابرنیساں سے بھی زیادہ قدر و منزلت والے تھے۔ حضرت علی اکبرؒ کے چہرے پر پسینے کے قطرے ایسے چمک رہے تھے کہ جیسے سورج پر شبنم پڑی ہو۔
| ماتھے کا عرق پاک کیا انگلی سے بارے سورج سے کیے دور مہ نو نے ستارے حیدرؓ کے لب ولہجے میں لشکر کو پکارے ہاں غافلو! آگاہ ہو رتبے سے ہمارے اللہ کے بندے ہیں پہ اللہ نہیں ہیں بندے مگر اس طرح کے واللہ نہیں ہیں |
تشریح: نظم ”تخت فرس پہ علی اکبرؒ کا خطاب“ کے درج بالا بند میں شاعر مرزا سلامت علی دبیرؔ کہتے ہیں کہ حضرت علی اکبرؒ کا گھوڑا سخت گرمی کے عالم میں میدان جنگ میں تھا، اسی دوران آپؒ کا چہرہ پسینے سے تر ہو چکا تھا، جسے انگلی کی مدد سے ماتھے سے پونچھا گیا۔ یہ منظر اتنا دلکش تھا کہ جیسے سورج کے رخ سے چاند، ستاروں کو ہٹادے اور سورج دوبارہ سے اپنی آب و تاب کے ساتھ چمکنے لگے۔ حضرت علی اکبرؒ ، حضرت علی المرتضیؓ کی أولاد میں سے ہیں، ان میں بالکل حضرت علیؓ کی طرح گرجدار اور بارعب للکاردکھائی دیتی تھی۔ حضرت علی اکبرؒ نے یزیدی لشکر کو مخاطب کرکے کہا کہ، اے غفلت میں ڈوبے لوگو! کیا تم نہیں جانتے ہم لوگ کون ہیں؟ہم خدا کی راہ میں کٹ مرنے والے ہیں، ہم بلاوجہ کی لڑائی نہیں چاہتے نہ اپنی طاقت کے زور میں مست ہیں بلکہ ہم حق کے لیے ڈٹ جانے والے اور قربانی دینے والے ہیں۔
| تن پر رہ معبود میں ہم سر نہیں رکھتے ہم سر کے کٹا دینے میں ہمسر نہیں رکھتے جز دست گدا اور کہیں زر نہیں رکھتے تکیہ کرم حق پہ ہے، بستر نہیں رکھتے یہ ان پہ کھلا ہے کہ جو خاصان خدا ہیں ہر بندے کے ہم بند کشا عقدہ کشا ہیں |
تشریح: نظم ”تخت فرس پہ علی اکبرؒ کا خطاب“ کے درج بالا بند میں شاعر مرزا سلامت علی دبیرؔ کہتے ہیں کہ حضرت علی اکبرؒ نے یزیدی لشکر سے اپنا خطاب جاری رکھا اور انھیں اپنا تعارف کروایا کہ، ہم اس دین کے ماننے والے ہیں جسے ہمارے نانامحمدؐ لائے ہیں، ہم خدا کے راستے میں اور اس کی خوشنودی کے لیے سروں کی قربانی دینے سے ہرگز دریغ نہیں کریں گے۔ ہم حق کی راہ میں ڈٹے رہیں گے بھلے ہمارے سر تن سے جدا ہو جائیں، خواہ ہماری تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو ہم کبھی پسپائی اختیار نہیں کریں گے۔ حضرت علی اکبرؒ نے اپنے زہد و تقویٰ کا ذکر کیا اور اپنی انکساری کا بتایا کہ ہم لوگ خالی ہاتھ ہیں ہمیں نہ دنیا کی کسی زر و دولت کا لالچ ہے نہ ہم مال و أسباب کی رہا میں نکلے ہیں، بلکہ ہم تو فقروں کی سی زندگی گزارتے ہیں، اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ بے شک ہمارے پاس آرام کرنے کے لیے بستر میسر نہیں، مگر ہم خدا پر تقویٰ کرتے ہیں، وہی ہماری غیب سے مدد فرماتا ہے۔
| احکام یزید اور ہیں اور اپنے أمور اور باطل کی نمود اور ہے اور حق کا ظہور اور نمرود کی آگ اور ہے اور آتش طور اور زنبور کا غل اور ہے الحان زبور اور سمجھو تو سہی تم کو بشر کیا ہیں ملک کیا بت کیا ہے ، خدا کیا ہے، زمیں کیا ہے، فلک کیا |
تشریح: نظم ”تخت فرس پہ علی اکبرؒ کا خطاب“ کے درج بالا بند میں شاعر مرزا سلامت علی دبیرؔ کہتے ہیں کہ حضرت علی اکبرؒ نے اپنے خطاب میں یزیدی لشکر کو یہ فرق واضح کیا کہ، یزید احکام شریعت کی کھلی خلاف ورزی کرتا ہے، اس نے تخت پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے معاملات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں،شریعت کے سفیر ہمارے اجداد ہیں۔ ہم اسی شریعت کے تابع ہیں، یزید باطل کی قوتوں پر یقین رکھتا ہے جبکہ ہم حق کے علمبردار ہیں۔ جیسے نمرود کی سلگائی آگ اور کوہ طور کی آگ بھڑکنے میں ایک جیسی ہی تھی مگر دونوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ جیسے بھڑوں کی بھنبھناہٹ اور حضرت داؤد علیہ السلام کی تلاوت زبور اور خوش الحانی میں فرق ہے، اسی طرح یزید اور ہمارے معاملات میں بہت فرق ہے۔ ہم حق اور یزید باطل پر ہے، ہمارے مابین بہت بڑا فرق ہے۔
| ساماں سے کوئی صاحب ایماں نہیں ہوتا ہر اہل عصا موسیؑ عمراں نہیں ہوتا پہنے جو انگوٹھی وہ سلیماں نہیں ہوتا آئینہ گر اسکندر دوراں نہیں ہوتا لاکھ اوج ہو پشے کا، ہما ہو نہیں جاتا بت سجدۂ کافر سے خدا ہو نہیں جاتا |
تشریح: نظم ”تخت فرس پہ علی اکبرؒ کا خطاب“ کے درج بالا بند میں شاعر مرزا سلامت علی دبیرؔ کہتے ہیں حضرت علی اکبرؒ نے یزید کی فوج سے خطاب میں کہا ہے کہ دنیاوی مال و متاع یا برسراقتدار آنے والا ہر شخص منصف نہیں ہوتا۔ اسی طرح کوئی اگر عصا ہاتھ میں رکھ کر موسیٰ علیہ السلام بن عمران نہیں بن جاتا، بلکہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جو معجزہ تھا وہ ان کے مرتبے سے تھا، ہرکوئی عصا اٹھا کر معجزے نہیں کر سکتا یہ عطا خداوند ہے۔اگر کوئی انگوٹھی پہن کر سلیمان علیہ السلام کی طرح ہونے کا دعویٰ کرے گا وہ بے وقوفی کرے گا کیونکہ آپؑ کو جو طاقتیں دی گئیں وہ بازن اللہ تھیں۔ بالکل ایسے مثال سکندر اعطم کی ہے جو آئینے کا موجد تھا، اس نےدنیا فتح کی تھی جس سے اس کا ایک نام بنا، اب ایک عام آئنہ ساز کبھی اسکندر جیسی پذیرائی نہیں پا سکتا۔ ایسے ہی کافر ساری زندگی پتھر کی پوجا کرے وہ پتھر کبھی بھی خدا نہیں بن سکتا، وہ بے جان و بے حس رہے گا۔
مشق:۔
سوال نمبر۱: حضرت علی اکبرؒ نے اپنے خطاب میں کیا ارشاد فرمایا؟
جواب:حضرت علی اکبرؒ نے یزیدی لشکر سے خطاب کیا تھا، جس میں انھوں نے اپنے رتبے کو بیان کیا کہ ہم خدا کے بندے ہیں، ہم کسی قسم کے تکبر و غرور میں مبتلا نہیں البتہ ہم ایمان کی طاقت سے لبریز ہیں۔ ہمارے پاس کوئی دولت ہے نہ تو کوئی بادشاہی ہم راہ خدا میں سر کٹانے کو تیار ہیں۔ یزید باطل پرستی کرنے والا ہے اور ہم حق کی خاطر اس مقتل تک پہنچ آئے ہیں۔
سوال نمبر۲: اس نظم میں جن تاریخی شخصیات کا ذکر ہوا ہے، ان کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
- جواب:۔اس نظم میں بہت ساری تاریخی شخصیات کا ذکر ہوا ہے:
- ہاروت و ماروت: دو فرشتے ہیں جن کے متعلق مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو لوگوں کی آزمائش کے لیے زمین پر بھیجا تھا
- یزید:۔یزید کا تعلق بنو امیہ سے تھا وہ انتہائی فاسق و فاجر اور سنگدل بادشاہ تھا۔جو اسلام کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔
- نمرود: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں عراق کا بادشاہ تھا۔
- آتش طور: آتش طور سے مراد وہ آگ ہے، جب تجلی خداوند نے طور کے پہاڑ کو جلا کر راکھ بنا دیا تھا اسے آتش طور سے یاد رکھا جاتا ہے۔
- موسیٰ علیہ اسلام: موسیٰؑ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر تھے ۔
- انگوٹھی سلمان علیہ السلام:حضرت سلیمان علیہ السلام نبی اور صاحب شاہ و شکوہ بادشاہ تھے۔
- سکندر: سکندر اعظم ایک بادشاہ تھا جس نے مشرق کا کثیر علاقہ فتح کیا تھا۔
- حیدرؓ: خلیفہ چہارم اور آپؐ کے چچازاد بھائی اور داماد، حضرت علی کرم اللہ وجہہ جن کا لقب حیدر تھا۔
سوال نمبر۳: نظم سے ایسے مصرعے تلاش کرکے لکھیں جن میں صنعت تضاد کا استعمال ہو۔
- جواب:1۔ بت کیا ہے خدا کیا ہے، زمیں کیا ہے فلک کیا
- 2۔ باطل کی نمود اور ہے حق کا ظہور اور
- 3۔ بالائے زمیں ٹیک دیے ہاتھ فلک نے
- 4۔ اک عالم حیرت تھا، چہ لاہوت، چہ ناسوت
- 5۔ بت سجدۂ کافر سے خدا ہو نہیں جاتا
سوال نمبر ۴:۔ مرثیہ کی تعریف کریں اور مرثیے کے ارکان کی وضاحت کریں۔
جواب:مرثیہ عربی لفظ ”رثا“ سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی مرنے والے کی تعریف و توصیف کرنا ہے۔ ادب کی اصطلاح میں مرثیہ اشعار کے اس مجموعے کو کہتے ہیں جس میں اپنے عزیزوں، دوستوں یا رہنما کی موت یا شہادت کا حال، مصائب و آلام اور اوصاف بیان کیا جائے۔
مرثیے کے ارکان:
- چہرہ: مرثیہ کا پہلا رکن جسے تمہید کہہ سکتے ہیں۔
- سراپا: اس حصے میں شاعر مرثیے کے مرکزی کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی تعریف و توصیف بیان کرتا ہے۔
- رخصت: مرثیے کے اس حصے میں مرکزی کردار کی رخصتی کا بیان ہوتا ہے۔
- آمد: مرثیے کے اس حصے میں مرکزی کردار کی میدان جنگ میں آمد ہوتی ہے۔
- رجز: مرثیے کے اس حصے میں شاعر مرکزی کردار سے مکالمہ کراتا ہے۔
- جنگ: مرثیے کے اس حصے میں جنگ کا منظر پیش ہوتا ہے، جس میں دلیری اور شجاعت کی تصویر کشی ہوتی ہے۔
- شہادت: مرثیے کے اس حصے میں مرکزی کردار کی شہادت کے دلخراش منظر کو پیش کرتا ہے۔
- بین: مرثیے کے اس حصے میں نوحہ یا گریہ بیان کیا جاتا ہے۔
سوال نمبر۵:۔ کسی اور مرثیے کے تین اشعار لکھیں، جن کا موضوع واقعات کربلا ہو۔
جواب:
| 1۔ گر کر کبھی اٹھے کبھی رکھا زمیں پہ سر ابلا کبھی لہو تو سنبھالا کبھی جگر 2۔ رہ کر حسین کہتے تھے بھائی سے دم بہ دم دولت پدر کی لٹتی ہے اور دیکھتے ہیں ہم 3۔ دیکھو تو حال سبط رسول فلک اساس بیٹے کا غم بھتیجے کا ماتم ہجوم یاس |