Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر۱۹
- سبق (نام): شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا
- شاعر: میرحسنؔ
- ماخوذ : سحر البیان
تعارف شاعر:
میر غلام حسن ۱۷۲۷ میں پیدا ہوئے اور حسنؔ تخلص ہے۔ وہ نامور ہجوگر میر ضاحکؔ کے بیٹے، میر خلیقؔ کے والد اور مشہور مرثیہ نگار میر انیسؔ کے دادا تھے۔ دلی کے سید واڑا میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ ولی کا شہر جو کئی بار اجڑا، ان کے زمانے میں بھی ویران ہو گیا، تو وہ اپنے والد کے ساتھ فیض آباد چلے گئے جو اس زمانے میں اودھ کا دارالحکومت تھا، یہاں وہ نواب سالار جنگ کے دربار سے وابستہ ہوگئے۔ جب نواب آصف الدولہ نے اپنا دارالحکومت فیض آباد سے لکھنؤ منتقل کیا تو یہ بھی لکھنؤ آگئے۔
شعر و شاعری کا ملکہ ان کو ورثے میں ملا۔ صاحب دیوان شاعر تھے، ان کی شہرت غزلیات یا قصائد سے نہیں، بلکہ صرف مثنوی ”سحرالبیان“ کی وجہ سے ہے۔ ایک روایتی داستان جو دراصل شہزادہ بے نظیر اور شہزادی بدرمنیر کا افسانہ عشق ہے لیکن میر حسنؔ نے اپنے انداز بیان سے اسے واقعیت اور حقیقت کا رنگ دے دیا۔ واقعہ نگاری، کردار نگاری، اور منظر کشی کے ساتھ انھوں نے اپنے زمانے کے رسم و رواج اور تمدن کی تصویر کشی بھی کی ہے۔
میر حسنؔ کے کلام میں ان کی یادگار غزلیات و قصائد کا ایک دیوان، مثنویات کا ایک مجموعہ اور شاعروں کا ایک تذکرہ شامل ہے۔
| قضا را وہ شب تھی شب چاہ دہ پڑا جلوہ لیتا تھا ہر طرف مہ |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ کہتے ہیں کہ شہزادہ بے نظیر جب بارہ سال کی سن کو پہنچا تو اس نے بادشاہ سے ضد لگائی کہ اسے چھت پر سونا ہے۔ بادشاہ نے بھی اسے اجازت دے دی اس رات چودہویں کی رات تھی اور چاند کی روشنی چاروں اور پھیلی ہوئی تھی۔
| نظارے سے تھا اس کے دل کو سرور عجب عالم نور کا تھا ظہور |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ کہتے ہیں کہ شہزادے نے جس رات چھت پر سونے کی ضد کی تو اس رات چاند کی روشنی، شہزادے کو انتہائی خوشی اور شادمانی کا إحساس دلا رہی تھی۔ چاند اپنی روشنی چاروں اور پھیلا رہا تھا جیسے روشنی کا کوئی غبارہ پھٹ ہو گیا۔
| عجب لطف تھا سیر مہتاب کا کہے تو کہ دریا تھا مہتاب کا |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ کہتے ہیں کہ چاند کی روشنی انتہائی حسین اور دلربا معلوم ہو رہی تھی، ایسے لگتا تھا کہ جیسے روشنی کا دریا بہہ رہا ہو۔ جیسے چشمہ سے پانی ابلتا ہوا نکلتا ہے اور وہ بہتے ہوئے انتہائی شفاف ہونے کی وجہ سے آنکھوں کو بھلا معلوم ہوتا ہے، بالکل ایسے ہی چاند سے بھی روشنی ایسے ہی بہہ رہی تھی۔
| ہوا شاہ زادے کا دل بے قرار یہ دیکھی جو وہاں چاندنی کی بہار |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ کہتے ہیں کہ چاندنی رات کا یہ حسین منظر دیکھ کر شہزادے کا دل بے چین ہو گیا۔ شہزادے نے اپنی عمر کے 12 سال محل کے اندر ہی گزارے تھے پہلی بار باہر آکر اس لیے اس کھلی فضا نے کو دیکھا تھا جس نے اس کے دل کو بے چین کر دیا تھا۔
| کچھ آئی جو اس مہ کے جی میں ترنگ کہا آج کوٹھے پہ بچھے پلنگ |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ کہتے ہیں کہ شہزادے نے چاندنی رات کے حسن کو دیکھا تو اس کا دل ایک دم سے بے قرار ہو گیا تھا، اس کے من میں خؤاہش جاگی کہ وہ آج سونے کا پلنگ چھت پر لگائے۔ شاعر نے استعارے کا استعمال کیا ہے جس میں شہزادے کی خوبصورتی کو مہ یعنی چاند سے تشبیہ دی ہے۔
| کہا شہ نے اب تو گئے دن نکل اگر یوں ہے مرضی، تو کیا ہے خلل |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ کہتے ہیں کہ شہزادہ بے نظیر اپنی عمر کے 12 برس گزار چکا تھا، جو کہ نجومیوں کے بتائے متوقع خطرے کا دورانہ ٹل چکا تھا۔ اس لیے بادشاہ نے شہزادے کو چھت پر سونے کی اجازت دے دی تھی کیونکہ اس پر خطرے کا وقت ٹل چکا تھا۔
| قضاراہ وہ دن تھا اسی سال کا غلط وہم ماضی میں تھا حال کا |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ کہتے ہیں کہ بادشاہ نے سوچا کہ اب شہزادہ بارہ برس ہو ہو چکا ہے، نجومیوں کے مطابق اب اس کی جان خطرے سے باہر آچکی ہے، مگر یہ بادشاہ کی غلط فہمی تھی، کیونکہ یہ نجومیوں کے بتائے وقت کا آخری دن تھا، اور بادشاہ کا لگایا ہوا اندازہ غلط ثابت ہوا۔
| سخن مولوی کا یہ سچ ہے قدیم کہ آگے قضا کے، ہو احمق حکیم |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے تلمیح کا سہارا لیتے ہوئے مولانا جلال الدین رومیؒ کے قول ”چوں قضا آید طبیب آبلہ شود“ کی طرف اشارہ کیا ہے، یعنی جب موت کے آنے کا وقت آپہنچے تو بڑے بڑے حکیم و ماہر سے بھول چوک ہو جاتی ہے۔اسی طرح جب شہزادے کا برا وقت آیا ہوا تھا تو بادشاہ کی ہزاروں تدبیریں بھی دھرے کی دھرے رہ گئیں۔
| وہ سونے کا جو تھا جڑاؤ پلنگ کہ سیمیں تنوں کو ہو جس پر امنگ |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایا کہ جب شہزادے کی خواہش پر ان کا پلنگ چھت پر لگایا گیا تو وہ پلنگ سونے کا بنا ہوا تھا جو کہ شہزادے کے شایان شان تھا۔ اس پلنگ میں انتہائی قیمتی جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ اس پلنگ کی خوبصورت دیکھ کر ہر خاص و عام کے دل میں اس پر سونے کو دل میں تمنا پیدا ہو جاتی۔
| کھنچی چادر ایک اس پہ شبنم کی صاف کہ ہو چاندنی، جس صفا کی غلاف |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاشہزادے کے لیے چھت پر جو پلنگ کا اہتمام کیا گیا تھا، اس پر نفیس سی سفید چادر بچھی ہوئی تھی۔ اس سفید ململ کی چادر شبنم سے بنی ہوئی تھی جو کہ نہایت ہی ملائم کپڑا ہوتا ہے۔یہ سفید چادر بہت اجلی تھی اور چاند کی روشنی اسے مزید حسین بنا کر پیش کر رہی تھی۔
| دھرے اس پہ تکیے کئی نرم نرم کہ مخمل کو ہو جس کے دیکھے سے شرم |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے شہزادہ بے نظیر کے لیے چھت پر سونے کا جو اہتمام کیا گیا تھا، اس میں نہایت ہی نرم و گداز تکیے بھی شامل تھے۔ یہ تکیے اس قدر نرم اور ملائم تھے کہ مخمل جیسے نرم کپڑے کو اسے دیکھ کر بھی ندامت محسوس ہو۔
| کبھی نیند میں جب کہ ہوتا تھا وہ تو رخسار رکھ اس پہ سوتا تھا وہ |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ شہزادہ بے نظیر کے لیے جو تکیے بچھائے گئے تھے ، وہ انھیں نرم و گداز تکیوں پر اپنے رخسار رکھ کر سوتا تھا، شہزادہ بادشاہ کا چہیتا اور اکلوتا بیٹا تھا ، جو نازوں کا پلا ہوا تھا، اس لیے اس کے آرام کا خصوصی خیال رکھا جاتا تھا۔
| چھپائے سے ہوتا نہ، حسن اس کا ماند دیے تھے لگا اس کے مکھڑے کو چاند |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ شہزادے کی ضد پر جو اہتمام چھت پر سونے کے لیے کیا گیا وہ چھپائے نہیں چھپتا تھا۔شہزادےکے لیٹنے سے اس پلنگ، تکیوں اور اس کے چادر کی خوبصورتی کو اور چار چاند لگ گئے تھے۔
| ہوئی دونوں کے حسن کی ایک جوت کہ جیسے ہوں دو چشموں کی ایک سوت |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ شہزادہ جب اس پلنگ پر بیٹھا تو اس پلنگ کی خوبصورتی میں کمی تھی وہ پوری ہو گئی تھی۔ یعنی ایک جانب تو شہزادے کی خوبصورتی اور حسین تھا اور دوسری طرف وہ سونے جواہرات سے بنا ہوا پلنگ خوبصورت تھا۔
| وہ سویا جو اس آن سے بے نظیر رہا پاسباں اس کا بدر منیر |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ شہزادہ بے نظیر جب اس خوبصورت پلنگ پر سویا تو، چودھویں کا چاند خود اس کی حفاظت پر معمور ہو گیا تھا۔ یعنی جب شہزادہ کھلے آسمان میں چھت پر اس پلنگ پر سویا تو چودھویں کے چاند کی روشنی آرہی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ چاند خود شہزادے کی حفاظت کر رہا ہے۔
| ہوا اس کے سونے پہ عاشق جو ماہ لگا دی ادھر اس نے اپنی نگاہ |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ جب شہزادہ چھت پر کھلے آسمان کے نیچے سویا تو آسمان پر چاند پورےجوبن پر آکر چمک رہا تھا۔اس وقت چاند نے شہزادے کو دیکھا تو وہ اس کا عاشق ہو گیا۔ گویا کہ چاند نے شہزادہ بے نظیر کو دیکھا تو اس کے جمال کا گرویدا ہو گیا تھا۔
| وہ مہ اس کے کوٹھے کا ہالہ ہوا غرض وہاں کا عالم دوبالا ہوا |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ چاند کی روشنی چونکہ ہر جانب پھیلی ہوئی تھی، مگر چاند نے شہزادے پر اپنی روشنی کا سے احاطہ کر لیا تھا۔ جس سے شہزادے کی پلنگ اور زیادہ نمایاں ہو گیا تھا۔ جس سے رات کے اس خوبصورت سماں میں مزیداضافہ ہو گیا تھا۔
| وہ پھولوں کی خوشبو، وہ ستھرا پلنگ جوانی کی نیند اور وہ سونے کا ڈھنگ |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ رات کو محل میں پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، چاروں اور خوشبو کا راج تھا۔ اس میں شہزادہ اور اس کے پلنگ کا حسن بھی شامل تھا۔ شہزادہ ابھی بارہ سال کا ہوا تھا اس کی نیند گہری تھی اور اس کے سونے کا انداز بھی دلربا تھا۔
| جہاں تک کہ چوکی کے تھے باری دار ہوا جو چلی، سو گئے ایک بار |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ شہزادہ جس دوران سو رہا تھا، اس کے لیے محل کے چند پہرے دار بھی تعینات کیے گئے تھے، رات کو جو ٹھنڈی اور لطیف ہوا چلی تھی وہ ان پہرے داروں کو بھی متاثر کر رہی تھی۔ہوا کی خنکی اور لطافت سے پہرےداروں کو بھی نیندآئی اور وہ بھی سو گئے تھے۔
| غرض سب کو وہاں عالم خواب تھا فقط جاگتا ایک مہتاب تھا |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ جب رات کے پہر جب فضا میں خوشبو اور خنکی کا دور چلا تو سب پر نیند طاری ہو گئی تھی۔ شہزادے کی حفاظت پر کھڑے پہرےدار بھی سو گئے۔ چاند اس وقت بھی شہزادے پر اپنی نظریں جمائے ہوئے تھے جبکہ باقی تمام لوگ غفلت کی نیند سو رہے تھے۔
| قضا را ہوا اک پری کا گزر پڑی شاہ زادے پہ اس کی نظر |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ جب سب پر نیند طاری ہوئی تو اتفاق سے وہاں سے پرستان کی ایک پری کا گزر ہوا۔ پری نے نظر اس خوبصورت پلنگ پر پڑی اور پھر اس نے شہزادے محو خواب دیکھا اور دیکھتی رہ گئی۔
| ہوئی حسن پر اس کے جی سے نثار وہ تخت اپنا لائی ہوا سے اتار |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ پری نے گزرتے ہوئے شہزادے کو اس دل موہ لینے والے انداز میں سویا دیکھا تو وہ شہزادے پر فریفتہ ہو گئی تھی۔ پری نے اپنا تخت نیچے چھت پر اتار دیا تھا جس پر وہ بیٹھ کر آئی تھی۔
| جو دیکھا تو عالم عجب ہے یہاں منور ہے سارا زمیں آسماں |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ پری نے شہزادے پر فریفتہ ہو کر اپنا تخت اس چھت پر اتار دیا تھا جہاں شہزادہ گہری نیند سو رہا تھا۔ اس چھت کا نظارہ ہی الگ تھا جہاں زمین سے آسمان تک سب چمک رہا تھا۔ چاند کی روشنی ہر چیز بالکل شفاف اور اجلی نظر آرہی تھی۔
| ہوئی دونوں کے حسن کی ایک جوت کہ جیسے ہودو چشموں کی ایک سوت |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ جب پری نیچے چھت پر اتر آئی تو اس نے شہزادے کے حسن کو بغور دیکھا، چاند کی روشنی میں سب کچھ صاف نظر آرہا تھا۔ شہزادی نے شہزادے اور اس پلنگ کو دیکھا جو ایک دوسرے کی خوبصورتی میں اضافہ کا باعث بن رہے تھے۔
| مے عشق میں پھر یہ سوجھی ترنگ کہ لے چلیے اس کا امانت پلنگ |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ اس حسین ماحول میں شہزادے کا حسن نکھر کر سامنے آرہا تھا جس نے پری پر اثر کر دیا تھا۔ پری شہزادے کے عشق میں مبتلا ہو گئی تھی۔ اسی میں پری کو شرارت سوجھی کہ کیوں نہ وہ شہزادے کو اس کے پلنگ کے ساتھ یہاں سے لے اڑے اور اپنے ساتھ پرستان لے جائے۔
| محبت کی آئی جو دل میں ہوا وہاں سے اسے لے اڑی دل رہا |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ شہزادے کی محبت پری کے دل میں اتر گئی تھی، اب اس سے رہا نہ گیا ۔ وہ پری فوراً سے پہلے شہزادے کو پلنگ کے ساتھ چھت سے لے کر اڑ گئی اور پرستان کی جانب چل پڑی۔
| غرض لے گئی آن کی آن میں اڑا کر وہ اس کو پرستان میں |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایا کہ پری نے شہزادے کی محبت میں گرفتار ہو کر شہزادے کو پلنگ سمیت پرستان لے جانے کی ٹھان لی۔ عام تاثر کے مطابق پریوں کے پاس غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے، جسے شاعر نے آن کے آن میں باندھا ہے جس کا مطلب ہے کہ پلک جھپکنے سے پہلے ہی وہ شہزادے کو پرستان لے گئی۔
| کبھی دل رہے خوش کبھی درد مند زمانے کی جب سے ہے پست و بلند |
تشریح:
نظم ”شہزادے کا چھت پر سونا اور پری کے ہاتھوں اغوا ہونا“کے درج بالا شعر میں شاعر میر حسنؔ نے بتایاکہ زندگی میں اچھا برا وقت آتا رہتا ہے، زمانے میں اتار چڑھاؤ یا عروج و زوال آتے جاتے رہتے ہیں۔ ہر کسی کو اپنا ایک الگ دکھ ہے، جس طرح اس داستان میں بادشاہ کو پہلے بے اولادی کا غم تھا، پھر اولاد ملنے کی خوشی اور اب بیٹے کے گم ہونے کا درد۔ لہٰذا خوشی اور غمی زندگی کا حصہ ہیں۔
مشق:
سوال نمبر۱: چاندنی رات کا منظر اپنے الفاظ میں لکھیں۔
جواب:چاندنی رات کا منظر انتہائی خوبصورت تھا، اس رات چودھویں کی رات تھی، جب چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ عالم نور کا یہ نظارہ دل کو عجیب سرور دیتا تھا۔چاند کی روشنی ایسا سرور دیتی تھی کہ جیسے یہ چاند کا نور نہیں بلکہ دریا ہو جس کا پانی روشنی کی صورت بہہ رہا ہو۔
سوال نمبر۲: مصرعے کی وضاحت کریں۔ ”کہ آگے قضا کے ہو احمق حکیم“
جواب:یہ مصرع جلال الدین رومیؒ کے فارسی شعر ہے:
| چوں قضا آید طبیب ابلہ شود واں دوا در نفع ہم گرہ شود |
یعنی جب موت آتی ہے، تب طبیب بے وقوف ہوجاتا ہے، دوا نفع پہنچانے میں ناکام ہو جاتی ہے۔یعنی جو کام ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔
سوال نمبر۳: مثنوی کی تعریف کریں۔
جواب: مثنوی عربی زبان کے لفظ ”مثنی“ سے نکلا ہے جس کے معنی”دو“ کے ہیں۔ مثنوی کے لغوی معنی ہیں دو دو والا۔ ادب کی اصطلاح میں مثنوی سے مراد ایسی مسلسل نظم جس میں ہر شعر کا قافیہ یا قافیہ اور ردیف جدا ہوتے ہیں۔ مثنوی کے اشعار کی تعداد کی کوئی حد مقرر نہیں۔
سوال نمبر ۴: درج ذیل الفاظ محاورات کو جملوں میں استعمال کریں۔
| شب چاردہ: | شب چاردہ کا سماں دل کو تازگی بخشتا ہے۔ |
| دن نکل گئے: | اسکول کے دن نکل گئے اب بس یاددیں رہ گئیں۔ |
| خلل: | پڑوس میں شادی کے شور شرابے سےمیری امتحان کی تیاری میں خلل آرہا ہے۔ |
| دوبالا: | شام کے وقت چائے کا مزہ دو بالا ہو جاتا ہے۔ |
| پست و بلند: | والد کے رخصت ہونے کے بعد گھر کے تمام پست و بلند کا سامنا مجھے کرنا پڑا۔ |
سوال نمبر۵: اس نظم سے دو اشعار لکھیں جن میں تشبیہ استعمال ہو۔
| 1۔ عجب لفط تھا سیر مہتان کا کہے تو کہہ دریا تھا مہتاب کا 2۔ کھنچی چادر اس پہ شبنم کی صاف کہ ہو چاندنی، جس صفا کی غلاف |
سوال نمبر۶:
| کبھی دل رہے خوش کبھی درد مند زمانے کی ہے جیسے پست و بلند |
اس شعر میں خوش، درد مند اور پست و بلند متضاد الفاظ ہیں، اس طرح کے متضاد الفاظ سے کلام میں اثر اور معنی آفرینی پیدا ہوتی ہے۔ اسے صنعت تضاد کہتے ہیں۔ آپ ایسے تین اشعار لکھیں جن میں صنعت تضاد پائی جاتی ہو۔
| جواب:۔ 1۔ ایک سب اگ ایک سب پانی دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں 2۔ امیر شہر کو اس سے غرض کیا فقیر شہر کب سے دربدر ہے 3۔ زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا |