Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر :16
- سبق : حمد
- شاعر : ماہر القادری
تعارفِ شاعر
منظور حسین نام اور ماہر تخلص تھا لیکن ماہر القادری کے نام سے شہرت پائی۔ اتر پردیش کے ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی۔ حیدر آباد دکن میں ان کی ادبی شہرت بام عروج پر تھی۔ پاکستان بننے پر کراچی آگئے ۔ ہندوستان میں کچھ عرصہ روزنامہ مدینہ سے وابستہ رہے۔ ۱۹۴۹ء میں رسالہ فاران نکالا۔ جدہ کے ایک مشاعرے میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے اور وصیت کے مطابق مکہ معظمہ میں دفن کیے گئے۔ ماہر القادری نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن اُن کی اصل شہرت نعت گوئی کی وجہ سے ہے۔
اُن کی شاعری کی نمایاں خصوصیت سادگی اور بے تکلفی ہے۔ چونکہ اُن کی شاعری کا محور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے، اس لیے موضوع کی مناسبت سے اُن کی زبان پاکیزہ اور شستہ ہے۔ اُن کا دل عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معمور تھا۔ رسول اللہ کی محبت ہی اصل ایمان ہے اور یہی عشق ان کی نعتوں کا محور و مرکز ہے۔ اسی جذبے سے سرشار ہو کر جب آپ نعت لکھتے ہیں تو سماں بندھ جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے یہی والہانہ محبت آپ کا سرمایہ حیات ہے۔ آپ کا انتقال بھی مکہ مکرمہ میں ہوا اور وہاں کے مشہور قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
مجموعہ ہائے کلام:
محسوسات ماہر ، نغمات ماہر، جذبات ماہر، ذکر جمیل وغیرہ
مشق
| فکر و دانش کی ہے معراج خدا کا اقرار یہی وجدان کی آواز ہے، فطرت کی پکار |
تشریح :
اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ خدا کو پانے کے لیے انسان کو فکر و دانش کی معراج تک جانا پڑتا ہے۔ اور اگر خدا کسی کے لیے اقرار کردے تو اس شخص کو اس مقام تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ شاعر کہتے ہیں وجدان کی آواز اور فطرت کی پکار ہمیں یہی بات سمجھارہی ہے۔
| ذرے ذرے کی شہادت کہ خدا ہے موجود بچے بچے کو ہے صانع کی صفت کا اقرار |
تشریح :
شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں موجود ہر ایک ذرہ اللہ کے ہونے کی گواہی ہے کیونکہ کوئی بھی چیز خالق کے بغیر نہیں بن سکتی تو اتنی بڑی دنیا کو بنانے والا بھی کوئی نہ کوئی ہوگا ہی اور یہی بات اللہ کے ہونے کی شہادت ہے۔ شاعر کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کا اقرار اس دنیا کے بچے بچے کے دل میں موجود ہے کیونکہ ہمارے روزمرہ کے تمام معاملات میں ہر جگہ اللہ کی کئی صفات ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
| اسی خلاق نے جوہر کو توانائی دی پھول پتوں کو عطا جس نے کیسے نقش و نگار |
تشریح :
شاعر کہتے ہیں جوہر کو توانائی و طاقت بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہی ہے۔ اس کی دی گئی توانائی کے بغیر کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ اس دنیا میں موجود ہر شے اللہ تعالیٰ کی ہی بنائی ہوئی ہے یہاں تک کے پھول پودوں اور پتوں پر موجود نقش بھی اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ ہیں۔
| اسی خالق ، اسی مالک کی ہے سب حمد و ثنا آبشاروں کا ترنم ہو کہ گلبانگ ہزار |
تشریح :
شاعر کہتے ہیں کہ تمام تر تعریفیں اور حمد و ثناء اسی خالق و مالک کی ہے جس کا اس دنیا پر اختیار ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں گلبانگ ہوں یا آبشار کا ترنم یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے کہ وہ کس شے کو کونسی خوبی عطا کرے۔
| یہ سب آیات الہی ہیں، ذرا غور سے دیکھ اس کی پھر حمد بیان کر، اسی خالق کو پکار |
تشریح :
اس شعر میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ اب تک جو کچھ میں تمھیں بتاچکا ہوں وہ سب میری کہی باتیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی ہی باتیں ہیں جو میں تمھیں اپنے لفظوں میں بتارہا ہوں اور اگر تم غور کروگے تو تمھیں یہ بات سمجھ آجائے گی۔ پھر شاعر کہتے ہیں اب جب تمھیں سمجھ آجائے کہ یہ کلامِ الہیٰ کیسے ہے تو تم اللہ کی حمد بیان کرو اور اسی خالق و مالک کو پکارو کیونکہ وہی سب کی پکار کا جواب دیتا ہے۔
| اس کی صنعت کے نمونے ہیں وہ نکہت ہو کہ رنگ اس کی قدرت کے کرشمے ہیں ، خزاں ہو کہ بہار |
تشریح :
آخر میں شاعر کہتے ہیں کہ نکہت ہو یا اس دنیا میں موجود منفرد رنگ یہ اب چیزیں اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہیں اور اس کی ہی صنعت کے نمونے اس دنیا میں موجود ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ چاہے خزاں ہو یا بہار ہو یا کوئی بھی موسم وہ وہ موسم اور اس کی خوبصورتی اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہی ہے۔
سوال نمبر ۱ : یہ سب آیات الہی ہیں، ذرا غور سے دیکھ۔حمد کے اشعار کے پس منظر میں اس مصرعے کی وضاحت کریں۔
جواب : اس مصرعے میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ اب تک جو کچھ میں تمھیں بتاچکا ہوں وہ سب میری کہی باتیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی ہی باتیں ہیں جو میں تمھیں اپنے لفظوں میں بتارہا ہوں اور اگر تم غور کروگے تو تمھیں یہ بات سمجھ آجائے گی۔
سوال نمبر ۲ : اس حمد میں اللہ تعالی کی جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے، انھیں اپنے الفاظ میں لکھیں۔
جواب : اس حمد میں اللہ کی کئی صفات کا ذکر کیا گیا ہے جیسے کہ وہ جوہر کو توانائی دے سکتا ہے۔ پھول پتوں پر نقش و نگار اسی نے بنائے ہیں۔ آبشاروں کو ترنم اس کا عطا کردہ ہے۔ خزاں بہار اس کے دم سے ہے اور دنیا کا ہر ایک رنگ اس کے ہونے کا ثبوت ہے۔
سوال نمبر ۳ : حمد کی تعریف کریں۔ اس حمد کے علاوہ کوئی سے تین حمدیہ اشعار تحریر کریں۔
جواب : حمد ایک عربی لفظ ہے،جس کے معنی‘‘تعریف‘‘ کے ہیں۔ اللہ کی تعریف میں کہی جانے والی نظم کو حمد کہتے ہیں۔
| وہی ہے کائنات اور اُس کی مخلوقات کا خالق نباتات و جمادات اور حیوانات کا خالق بنائے اپنی حکمت سے زمین و آسماں تو نے دکھائے اپنی قدرت کے ہمیں کیا کیا نشاں تو نے تو ہے خلوت میں تو ہے جلوت میں کہیں پنہاں کہیں عیاں ہے تو |
سوال نمبر ۴ : قواعد کے حوالے سے جملے درست کریں۔
| یا کھانا کھاؤ یا چائے پیو۔ | کھانا کھاؤ یا چائے پیو۔ |
| اے لوگوں! میری بات سنو۔ | اے لوگو! میری بات سنو۔ |
| وہ ہنستا ہوا بولا۔ | وہ ہنستے ہوئے بولا۔ |
| جب میں لاہور پہنچ جاؤں گا تمھیں خط لکھوں گا۔ | جب میں لاہور پہنچوں گا تو تمھیں خط لکھوں گا۔ |
| میں نے در حقیقت میں اُسے تمام صورت حال بتادی۔ | درحقیقت میں نے اُسے تمام صورت حال بتادی۔ |
سوال نمبر ۵: اس حمد کے قوافی لکھیں۔
- اقرار
- پکار
- نگار
- ہزار
- بہار
سوال نمبر ۶ : حمد کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں۔
خلاصہ : اس نظم میں شاعر کہتے ہیں کہ خدا کو پانے کے لیے انسان کو فکر و دانش کی معراج تک جانا پڑتا ہے۔ اور اگر خدا کسی کے لیے اقرار کردے تو اس شخص کو اس مقام تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ شاعر کہتے ہیں وجدان کی آواز اور فطرت کی پکار ہمیں یہی بات سمجھارہی ہے۔
شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں موجود ہر ایک ذرہ اللہ کے ہونے کی گواہی ہے کیونکہ کوئی بھی چیز خالق کے بغیر نہیں بن سکتی تو اتنی بڑی دنیا کو بنانے والا بھی کوئی نہ کوئی ہوگا ہی اور یہی بات اللہ کے ہونے کی شہادت ہے۔ شاعر کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کا اقرار اس دنیا کے بچے بچے کے دل میں موجود ہے کیونکہ ہمارے روزمرہ کے تمام معاملات میں ہر جگہ اللہ کی کئی صفات ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
شاعر کہتے ہیں جوہر کو توانائی و طاقت بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہی ہے۔ اس کی دی گئی توانائی کے بغیر کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا ہے۔ اس دنیا میں موجود ہر شے اللہ تعالیٰ کی ہی بنائی ہوئی ہے یہاں تک کے پھول پودوں اور پتوں پر موجود نقش بھی اللہ تعالیٰ کے تخلیق کردہ ہیں۔
شاعر کہتے ہیں کہ تمام تر تعریفیں اور حمد و ثناء اسی خالق و مالک کی ہے جس کا اس دنیا پر اختیار ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں گلبانگ ہوں یا آبشار کا ترنم یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے کہ وہ کس شے کو کونسی خوبی عطا کرے۔ اس نظم میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ اب تک جو کچھ میں تمھیں بتاچکا ہوں وہ سب میری کہی باتیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی ہی باتیں ہیں جو میں تمھیں اپنے لفظوں میں بتارہا ہوں اور اگر تم غور کروگے تو تمھیں یہ بات سمجھ آجائے گی۔
پھر شاعر کہتے ہیں اب جب تمھیں سمجھ آجائے کہ یہ کلامِ الہیٰ کیسے ہے تو تم اللہ کی حمد بیان کرو اور اسی خالق و مالک کو پکارو کیونکہ وہی سب کی پکار کا جواب دیتا ہے۔ آخر میں شاعر کہتے ہیں کہ نکہت ہو یا اس دنیا میں موجود منفرد رنگ یہ اب چیزیں اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہیں اور اس کی ہی صنعت کے نمونے اس دنیا میں موجود ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ چاہے خزاں ہو یا بہار ہو یا کوئی بھی موسم وہ وہ موسم اور اس کی خوبصورتی اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہی ہے۔