Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر ۲۰
- سبق (نام): در مراد
- شاعر: میر ببر علی انیسؔ
- ماخوذ :
تعارف شاعر:
میر ببر علی انیس میر خلیقؔ کے فرزند اور میر حسنؔ کے پوتے تھے۔ خاندانی روایات کے مطابق انہیں گھر پر ہی تعلیم دی جاتی رہی۔ گھر کے باہر ان کے پہلے استاد میر نجف علی فیض آبادی تھے۔ زمانہ طالب علمی میں انیسؔ کو معقولات اور لسانی مسائل سے بڑی دلچسپی تھی۔ان کے ذاتی کتب خانے میں لگ بگ دو ہزار کے قریب نسخے تھے۔ زمانے کے رواج کے مطابق انھوں نے شہ سواری اور شمشیر زنی بھی سیکھی۔ بعد میں فوجی تربیت بھی حاصل کی۔ ہمیشہ چاق و چوبند رہا کرتے تھے۔ طبعاً خوش اور حاضر جواب تھے۔
انیس نے شاعری کا آغاز غزل سے کیا لیکن ان کی شہرت کا مدار مرثیہ نگاری پر ہے۔ ان کے زمانے میں مرثیہ خوانی کے لیے تحت اللفظ اور سوز کا انداز اپنایا جاتا تھا۔ انیس نے دونوں طرح پر پڑھنے کے لیے مرثیے لکھے اور کامیاب رہے۔ ان کا أسلوب سادہ، رواں اور آسان ہے۔ انسانی جذبات کا بیاں انھوں نے جس طرح کیا ہے، شاید ہی کوئی کر سکے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کے مرثیوں کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے۔
میر انیس کے مرثیے پانچ جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے مرثیوں کے علاوہ سلام اور رباعیات بھی کہی ہیں۔ ان رباعیات میں بھی ان کا رنگ صوفیانہ ہے۔ مگر ان کا کمال مرثیے کے فن میں زیادہ کھل کر سامنے آتا ہے۔ان کا مجموعہ کلام کلیات میراثی انیس ہے۔
مرثیہ کی تشریح
| جب کربلا میں داخلۂ شاہ دیں ہوا دشت بلا نمونۂ خلد بریں ہوا سر جھک گیا فلک کا، یہ اوج زمیں ہوا خورشید محو حسن حسینؓ حسیں ہوا پایا فروغ نیر دیں کے ظہور سے جنگل کو چاند لگ گئے چہرے کے نور سے |
تشریح:
مرثیہ”در مراد“ کے دربالا بند میں شاعر میر انیسؔ نے کرب و بلا کے اس منظر کی تصویر کشی کی ہے کہ جب، امام حسینؓ دشت کربلا میں داخل ہوئے، اس وقت اس صحرا میں جو ویرانی اور رنج و آفت تھی وہ جنت کے نظارے میں تبدیل ہو گئی۔ امام حسینؓ کی آمد سے اس بے نام و نشان صحرا کا مرتبہ بہت بلند ہو گیا۔ اس گمنام سے صحرا کو کوئی نہیں بھی جانتا تھا تو امام کی آمد سے اس صحرا کا چرچا سارے عالم میں پھیل گیا۔ اس دن صحرا میں نواسۂ رسولﷺ کا حسن دیکھ کر سورج بھی دیکھتا رہ گیا، زرے زرے نے زہراؓ کے لخت جگر کا جمال دیکھا اور اس کے حسین کے گرویدہ ہو گئے۔ آپؓ کے چہرے کا نور پورے صحرا پر پھیل گیا اور خوبصورتی دوبالا ہو گئی۔
| خوشبو سے ان گلوں کی ہوا دشت باغ باغ غنچے کھلے، ہرے ہوئے بلبل کے دل کے داغ پہنچا سر فلک پہ ہر اک کوہ کا دماغ دریا نے بھی حبابوں کے روشن کیے چراغ خورشید بن گئے طبقے ارض پاک کے تاروں کو گرد کر دیاذروں نے خاک کے |
تشریح:
مرثیہ”در مراد“ کے دربالا بند میں شاعر میر انیسؔ نے کربلا کے میدان میں آئے نواسۂ رسولﷺ اور ان کے اصحاب کے بارے میں کہا ہے کہ ان گلوں نے یعنی ان پھولوں نے سارے صحرا میں اپنی خوشبو سے معطر کر دیا تھا۔ یہ راہ حق کے مسافر شہادت کا جام پی کر صحرا میں اترے تو صحرا کی جون ہی بدل گئی۔ان جوانان اسلام نے صحرا کا مرتبہ و منزلت بڑھا دیا تھا، پہاڑوں کا سر فخر سے فضا بوس ہو گیا تھا۔ راہ حق کے مسافروں کی آمد سے صحرا گلستان بن گیا تھا۔ گلستان میں کلیاں کھل کر پھول بن گئیں اور چاروں اور ایک تازگی کا چھڑکاؤ ہو گیا۔ امام عالیٰ مقامؓ کی آمد سے صحرا کی ریت کا زرہ ذرہ چمک اٹھا، اس کی چمک اس قدر تھی کہ ستاروں کی روشنی اس کے سامنے مانندپڑ جائے۔
| بولے فرس کو روک کے شاہ فلک وقار منزل پہ ہم پہنچ گئے، احسان کردگار آگے نہ اب بڑھائے کوئی یاں سے راہوار یہ وہ زمین تھی، جس کے لیے دل تھا بے قرار قربان اس مکان سعادت نشان کے پایا در مراد بڑی خاک چھان کے |
تشریح:
مرثیہ”در مراد“ کے دربالا بند میں شاعر میر انیسؔ نے علی الشان شہزادے امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا ہے کہ، جب امام عالیٰ مقامؓ کا گھوڑا اس میدان میں رکا اور امام نے اپنا چہرہ انور اپنے اصحاب کی جانب موڑ دیا۔ آپؓ تمام اصحاب کو مخاطب ہوئے اور کہا کہ باری تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم اپنی منزل مقصود پر پہنچ گئے ہیں، یہی ہماری امتحان گاہ ہے۔ یہاں سے کوئی بھی آگے نہ بڑھے، پس یہی وہ زمین کا ٹکڑا ہے جس کے لیے ہماری جانیں اور دل بے قرار تھے۔ جتنے ہمارے دل اس زمین کے بے قرار تھے اتنا ہی یہ زمین بھی ہمارے آنے کی منتظر تھی، یہ مقام اس زمین اور ہمارا لیے خوش بختی کی علامت ہے ۔یہ مقام ہمارے لیے تمام دنیا کی ثروت سے زیادہ عزیز ہے۔
| اترو مسافرو! کہ سفر ہو چکا تمام کوچ اب نہ ہوگا حشر تک، ہے یہیں مقام مقتل یہی زمیں ہے، یہی مشہد امام اونٹوں سے بار اتار کے برپا کرو خیام بستر لگاؤ شوق سے، اس ارض پاک پر چھڑکا ہوا ہے آب بقا یاں کی خاک پر |
تشریح:
مرثیہ”در مراد“ کے دربالا بند میں شاعر میر انیسؔ نےامام عالیٰ مقام کے ان کے اصحاب سے خطاب کو بیان کرتے ہیں کہ، شہزادہ جوانانِ جنت امام حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ، اے میرے ہمسفر ساتھیو! یہیں پر اپنے گھوڑوں کو روک لو ، یہیں پر ہم اپنا سفر تمام کرتے ہیں، گھوڑوں سے اتر کر تمام رخت سفر کو گھوڑوں کی پیٹھوں سے اتار دو۔ یہیں ہمارا وہ مقام ہے کہ جہاں سے اب ہم کہیں اور کا سفر نہیں کریں گے۔ یہیں وہ زمین ہے جس پر ہماری شہادت لکھی ہوئی ہے، سو یہیں پر اپنے اپنے خیمے باندھ لو کہا ب روز حشر ہم یہیں سے اٹھائے جائیں گے۔
| توشہ مسافروں کا یہی، اور یہی ہے زاد یہ خاک آب خضر سے رتبے میں ہے زیاد طوفان میں اس کو ڈالے گا جو مردِ خوش نہاد لے آئے گی ہوائے موافق در مراد دیکھے گا یاس میں کرم کارساز کو تھامے گا دست موج سے دریا جہاز کو |
تشریح:
مرثیہ”در مراد“ کے دربالا بند میں شاعر میر انیسؔ نےامام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے کربلا کے میدان میں آنے کا منظر بیان کیا ہے کہ ، کربلا کی خاک کوئی عام مٹی نہیں ہے، بلکہ یہ کربلا کی عظیم مٹی ہے، یہ مٹی ہمیشہ کی زندگی بخشنے والے آب حیات سے بھی زیادہ عظیم ہے۔ کربلا کی اس مٹی نے امام حسینؓ اور ان کے اصحاب کو ہمیشہ کی زندگی اور عزت دے دی تھی۔ یوں تو صحرا میں آنے والا ریت کا طوفان تباہی لاتا ہے مگر کربلا کی مٹی اس طوفان میں بھی خوش نصیبی اور رحمت لائے گی۔ اس مٹی پر شہداء اسلام کا لہو بہا ہے، اس مٹی کو وہ مقام حاصل ہے جو آب حیات کو بھی حاصل نہیں۔
| اترا یہ کہہ کے کشتی امت کا ناخدا جتنے سوار تھے وہ ہوئے سب پیادہ پا حضرتؓ نے مسکرا کے یہ ہر ایک سے کہا دیکھو تو! کیا ترائی ہے، کیا نہر، کیا فضا اکبرؓ شگفتہ ہو گئے صحرا کو دیکھ کر عباسؓ جھومنے لگے دریا کو دیکھ کر |
تشریح:
مرثیہ”در مراد“ کے دربالا بند میں شاعر میر انیسؔ نےامام عالیٰ مقامؓ کے بارے میں بتایا ہے کہ جب امام حسینؓ اپنے گھوڑے سے اترے، اس وقت ان کا مقام ملاح کی طرح تھا، وہ پوری امت مسلمہ کی رہنمائی کر رہے تھے، انھیں امت مسلمہ کی کشتی کا ملاح یعنی کشتی کا ناخدا سمجھا جا رہا تھا، ان کی اس بے مثال قربانی کی وجہ سے آج اسلام کا بول بالا ہے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو فرداً فرداً مخاطب کرکے کہا، غور کرو کہ کربلا کی زمین کتنی تر و شاداب ہے۔ محرم الحرام کے مہینے میں دن گرم تھے اس لیے دریائے فرات کے کنارے پڑاؤ ڈالا اور خیام گاڑھے گئے۔ اس سارے منظر کو دیکھ کر علی اکبرؓ اور عباسؓ بھی خوشی سے جھومنے لگے۔
| بولے یہ اشک بھر کے شہنشاہ سربلند کیوں، یہ مقام ہے تمہیں شاید بہت پسند؟ کی مسکرا کے عرض کہ یا شاہ ارجمند بس یاں تو خود بخود ہوئی جاتی ہے آنکھ بند شیراب یہیں رہیں گے عنایت جو رب کی ہے میں کیا کہوں حضور! ترائی غضب کی ہے |
تشریح:
مرثیہ”در مراد“ کے دربالا بند میں شاعر میر انیسؔ نےامام عالیٰ مقامؓ کے جذبات کو بیان کیا ہے کہ، جب علی اکبرؓ اور عباسؓ نے کربلا کی پرنور فضا اور تر و مرعوب زمین کو دیکھا تو خوشی سے جھوم اٹھے تھے، تو آپؓ نے ان سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ لگتا ہے کہ یہ زمین تمہیں پسند آگئی ہے، اسی لیے تم لوگ اس قدر خوش ہو۔ اس پر دونوں جوانانِ اسلام نے کہا کہ اے ذی الشان آقا! یہ جگہ اور اس کی پرنوز اور اس قدر محسور کن فضا کہ یہاں آکر دل اور روح خوش ہو گئی۔ اس شدید گرمی میں بھی کربلا کی زمین اس قدر تر اور ٹھنڈی ہے، کہ تمام بہادروں نے یہاں قیام کرنے پر مسرت محسوس کی۔
سوال۱: مرثیہ کسے کہتے ہیں؟
جواب:مرثیہ عربی لفظ”رِثا“ سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی تعزیت، تعریف کے ہیں۔ یعنی ایسے اشعار جس میں مرنے یا شہید ہونے والے شخص کی تعزیت اور تعریف دونوں کی جائے۔ ادب کی دنیا میں مرثیہ کی اصطلاح ایسی نظم ہے جس میں اپنے پیاروں، دوستوں کی موت یا شہادت کا حال بیان کیا جائے۔
سوال۲: شاہ دیں، کشی امت کا ناخدا، شہنشاہ سر بلند ان تمام تراکیب سے کون سی ہستی مراد ہے؟ مندرجہ بالا تراکیب میں کون سی ہستی مراد ہے؟
جواب: شاہ دیں، کشی امت کا ناخدا، شہنشاہ سر بلند ان تمام تراکیب سے امام عالیٰ مقام حضرت امام حسینؓ کی ہستی مراد ہیں۔
سوال۳: ”پایا در مراد بڑی خاک چھان کے“ اس مصرعے کی وضاحت کریں۔
جواب:اس مصرعےمیں شاعر نے بتایا ہے کہ امام حسینؓ نے اپنے ساتھیوں سے کربلا پہنچنے پر کہا تھا کہ یہی وہ زمین ہے جہاں کی ہمیں تلاش تھی، یہاں ہماری شہادت لکھی گئی ہے۔گویا ہم نے بڑی محنت سفر سے اس خزانے کو پالیا ہے جو ہمارے لیے یہاں پوشیدہ رکھا گیا تھا۔
سوال۴:اپنے جملوں میں اس طرح استعمال کریں کہ مفہوم واضح ہو جائے۔
| خلد بریں: | غزوہ بند کے شہداء کو خلد بریں جانے کی بشارت ہے۔ |
| سعادت نشاں: | فرمانبردار اور نیک أولاد والدین کے لیے سعادت نشاں ثابت ہوتی ہے۔ |
| ناخدا: | سمندری طوفان سے بچنے کے لیے ناخدا کا ماہر ہونا لازمی ہے۔ |
| عنایت: | مجرموں کے سدھار کے لیے جیلر نے سب کا ایک ایک کتاب عنایت کی۔ |
| پیادہ پا: | حضرت ابوذرغفاریؓ نے پیادہ پا تبوک کی جنگ میں جا کر جذبہ ایمانی کی ایک لاثانی مثال قائم کر دی۔ |
سوال۵: دوسرا مصرع بیان کریں۔
- الف۔ پایا فروغ نیر دیں کے ظہور سے
- ب۔ بستر لگاؤ شوق سے ارض پاک پر
- ج۔ اکبر شگفتہ ہوگئے صحرا کو دیکھ کر
- جواب: ا: جنگل کو چاند لگ گئے چہرے کو نور سے
- ب: چھڑکا ہوا ہے آب بقا یاں کی خاک پر
- ج: عباسؓ جھومنے لگے دریا کو دیکھ کر
سوال۶: کلام میں کسی بات کی کوئی ایسی وجہ بیان کرنا جو درحقیقت اس کی وجہ نہ ہو، لیکن کلام میں خوبصورتی پیدا کرتی ہے، ”حسن تعلیل“ کہلاتی ہے۔ مثلاً ”درمراد“کے پہلے بند میں فلک کے سر جھکانے کی وجہ شاہ دیں کے کربلا میں داخل ہونے کو قرار دیا گیا ہے، جو فلک کے جھکنے کی اصل وجہ نہیں ہے۔ آپ حسن تعلیل کی دومثالیں پیش کریں۔
جواب:۔ صنعت حسن تعلیل کی دو مثالیں:
| 1۔ پیاسی جو تھی سپاہ خدا تین رات کی ساحل سے سر پٹکتی تھیں موجیں فرات کی 2۔ بے سبب زلزلہ عالم میں آتا کوئی بے تاب تہ خاک تڑپتا ہوگا |