سبق نمبر 3:نظریہ پاکستان، سوالات و جوابات

0

تعارفِ مصنف:

ڈاکٹر غلام مصطفی خان جبل پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جبل پور سے حاصل کی ، پھر اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ چلے گئے۔ وہاں سے اُنھوں نے فارسی، اردو اور قانون کا امتحان پاس کیا اور امراوتی کالج ناگ پور میں بطور استاد مقرر ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی چلے آئے۔ یہاں وہ پہلے اردو کالج اور پھر سندھ یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو مقرر ہوئے۔

ڈاکٹر صاحب کو بے شمار سرکاری و غیر سرکاری اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کی یونیورسٹیوں میں پی۔ ایچ۔ ڈی سطح پر لکھے جانے والے کئی مقالات کے ممتحن رہے۔ اردو تحقیق کی روایات کو مستحکم کرنے میں مصطفی خان کا اہم کردار ہے۔ اُنھوں نے خود بھی گراں قدر خدمات انجام دیں اور تحقیقی کام کرنے والوں کی سرپرستی بھی کی۔ اُنھوں نے زبان کے ساتھ ادبی اثرات کی دریافت کا فریضہ بھی انجام دیا۔

ڈاکٹر صاحب کا اسلوب سادہ اور سلیس ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں معنی اور مطلب کی پوری وضاحت کر دیتے تھے۔ دینی معلومات ہوں، علمی، ادبی یا تحقیقی، ان کا انداز بیان توضیحی اور تشریحی تھا۔ وہ دقیق خیالات کو بڑی آسانی اور روانی سے قلم بند کرتے تھے۔ انکسار اور سادہ بیانی ان کے اسلوب کا حصہ ہے۔ فارسی میں ان کی مہارت مسلم الثبوت ہے۔

تصانیف:

علمی نقوش، تاریخ اسلاف، ادبی جائزے، تحقیقی جائزے، تاریخ بہرام شاہ، سرگزشت کابل، چند فارسی شعرا، برصغیر میں فارسی ادب، اقبال اور قرآن، معارف اقبال، مطالب اقبال، مقدمات ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان، ہمارا تلفظ ، جامع القواعد وغیره

سبق کا خلاصہ :

بادشاہ اکبر کی بےجارواداری اور ہندوؤں کے سیاست میں بےجا دخل کا یہ نقصان ہوا کے ملک بھر میں کافرانہ طور طریقے رائج ہوگئے اور مسلمانوں کی آزادی ان کے اپنے دینی معاملات میں بھی ختم ہوگئی۔ اکبر کے دور کے آخر میں اسلام کی سر بلندی کے لیے مجدد الف ثانی کھڑے ہوئے۔ انھوں نے محض دین کی سر بلندی کے لیے جہانگیر کے زمانے میں قید و بند کی سختیاں جھیلیں اور اسلامی اقدار کو نئے سرے سے فروغ دیا۔ میسور کے سلطان حیدر علی اور سلطان ٹیپو نے ملک میں پھیلتے انتشار اور مغلیہ سلطنت کے زوال کو دیکھتے ہوئے ہندوؤں اور انگریزوں کا مقابلہ کیا اور افغانستان ترکی اور فرانس کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی لیکن ملک کے دوسرے سرداروں نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور وہ ناکام ہوگئے۔

اس کے بعد کانگریس کی بنیاد ہندوؤں نے ۱۸۸۵ء میں ڈالی اور اس کا بنیادی مقصد یہ ظاہر کیا کہ وہ تمام قوموں کو ان کے حقوق دلوائیں گے لیکن یہ بات بعد میں واضح ہوگئی کے ان کا اصل مقصد اپنے حقوق کا تحفظ تھا۔ جب پہلی جنگ عظیم چِھڑی تو انگریز کا مقابلہ جرمنی سے ہوا اور جرمنی کا ساتھ ترکی نے دیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے ترکی کو طبی و مالی امداد فراہم کی جس کی وجہ سے انگریزوں کے دل میں عناد پیدا ہوگیا۔ پھر بھی انگریزوں نے یہ وعدہ کیا کہ اگر وہ فتح حاصل کرلیں تو ترکی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے لیکن فتح حاصل کرنے کے بعد انھوں نے سلطنت ترکی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔

اس بات سے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی اور انھوں نے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی قیادت میں تحریکِ خلافت شروع کی۔ اسی تحریک کے جواب میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے تحریک شدھی اور سنگٹھن شروع کی۔ اس سب صورتحال کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ نظریہ پاکستان میں اسلامی زندگی اور قدروں کا تصور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اخوت، مساوات، عدل، دیانت، خدا ترسی، انسانی ہمدردی اور عظمتِ کردار کے بغیر نظریہ پاکستان کا فروغ نہیں ہوسکتا۔ نظریہ پاکستان کا مقصد پاکستان کو ایک فلاحی اور اسلامی مملکت بنانا ہے۔ اس مقصد کے حصول میں ہم اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں اور اس کردار کو ادا کرنے کے لیے ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے۔ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے لیے ہونا چاہیے اور قومی مفاد کے سامنے ذاتی مفاد کو ہمیں دل سے نکال دینا چاہیے۔

سوال نمبر ۱ : درج ذیل سوالات کے مختصر جواب تحریر کریں۔

(ا) بادشاہ اکبر کی بے جا رواداری سے کیا نقصان ہوا؟

جواب : بادشاہ اکبر کی بےجارواداری اور ہندوؤں کے سیاست میں بےجا دخل کا یہ نقصان ہوا کے ملک بھر میں کافرانہ طور طریقے رائج ہوگئے اور مسلمانوں کی آزادی ان کے اپنے دینی معاملات میں بھی ختم ہوگئی۔

(ب) مجدد الف ثانی نے اسلام کی کیا خدمت انجام دی؟

جواب : اکبر کے دور کے آخر میں اسلام کی سر بلندی کے لیے مجدد الف ثانی کھڑے ہوئے۔ انھوں نے محض دین کی سر بلندی کے لیے جہانگیر کے زمانے میں قید و بند کی سختیاں جھیلیں اور اسلامی اقدار کو نئے سرے سے فروغ دیا۔

(ج) حیدر علی اور سلطان ٹیپو انگریزوں کے خلاف جنگ میں کیوں ناکام ہوئے؟

جواب : میسور کے سلطان حیدر علی اور سلطان ٹیپو نے ملک میں پھیلتے انتشار اور مغلیہ سلطنت کے زوال کو دیکھتے ہوئے ہندوؤں اور انگریزوں کا مقابلہ کیا اور افغانستان ترکی اور فرانس کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی لیکن ملک کے دوسرے سرداروں نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور وہ ناکام ہوگئے۔

(د) کانگریس کا قیام کب عمل میں آیا اور اس کے بنیادی مقاصد کیا تھے؟

جواب : کانگریس کی بنیاد ہندوؤں نے ۱۸۸۵ء میں ڈالی اور اس کا بنیادی مقصد یہ ظاہر کیا کہ وہ تمام قوموں کو ان کے حقوق دلوائیں گے لیکن یہ بات بعد میں واضح ہوگئی کے ان کا اصل مقصد اپنے حقوق کا تحفظ تھا۔

(ہ)شدھی اور سنگٹھن جیسی انتہا پسند تحریکیں چلانے کا مقصد کیا تھا؟

جواب : جب پہلی جنگ عظیم چِھڑی تو انگریز کا مقابلہ جرمنی سے ہوا اور جرمنی کا ساتھ ترکی نے دیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے ترکی کو طبی و مالی امداد فراہم کی جس کی وجہ سے انگریزوں کے دل میں عناد پیدا ہوگیا۔ پھر بھی انگریزوں نے یہ وعدہ کیا کہ اگر وہ فتح حاصل کرلیں تو ترکی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے لیکن فتح حاصل کرنے کے بعد انھوں نے سلطنت ترکی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ اس بات سے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی اور انھوں نے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی قیادت میں تحریکِ خلافت شروع کی۔ اسی تحریک کے جواب میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے تحریک شدھی اور سنگٹھن شروع کی۔

(و) نظریہ پاکستان سے کیا مراد ہے؟

جواب : نظریہ پاکستان میں اسلامی زندگی اور قدروں کا تصور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اخوت، مساوات، عدل، دیانت، خدا ترسی، انسانی ہمدردی اور عظمتِ کردار کے بغیر نظریہ پاکستان کا فروغ نہیں ہوسکتا۔

(ن) نظریہ پاکستان کے مقاصد کے حصول کے لیے آپ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

جواب : نظریہ پاکستان کا مقصد پاکستان کو ایک فلاحی اور اسلامی مملکت بنانا ہے۔ اس مقصد کے حصول میں ہم اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں اور اس کردار کو ادا کرنے کے لیے ہمیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے۔ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے لیے ہونا چاہیے اور قومی مفاد کے سامنے ذاتی مفاد کو ہمیں دل سے نکال دینا چاہیے۔

سوال نمبر ۲ : درست جواب کا انتخاب کریں۔

  • (ا) مصنف کے خیال کے مطابق مسلمانوں نے ہمیشہ کسی چیز کو اپنا شیوہ بنایا؟
  • انسانيت
  • رواداری ✔
  • صداقت
  • (ب) مجدد الف ثانی نے کس کے عہد میں سختیاں جھیلیں؟
  • جہانگیر ✔
  • اکبر
  • اورنگزیب
  • (ج) شاہ اسماعیل کا شاہ ولی اللہ دہلوی سے رشتہ تھا:
  • والد كا
  • بھائی کا
  • پوتے کا ✔
  • (د) تحریک خلافت کے رہنما تھے:
  • مولانا شوکت علی
  • مولانا محمد علی جوہر
  • دونوں ✔
  • (ہ) مسلمانوں کو زبرستی ہندو بنانے کی ناپاک تحریک کا نام تھا
  • آریہ سماج
  • برہو سماج
  • شدھی ✔
  • (و) آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا
  • ۱۹۰۳ میں
  • ۱۹۰۵ میں
  • ۱۹۰۶ء میں ✔
  • (ز) اقبال نے سب سے پہلے خطبہ الہ آباد میں آزاد وطن کا نظریہ پیش کیا
  • ۱۹۰۳ء میں
  • ۱۹۳۰ء میں ✔
  • ۱۹۳۵ء میں
  • (ح) نہرو رپورٹ شائع ہوئی
  • ۱۹۲۳ میں
  • ۱۹۲۸ء میں ✔
  • ۱۹۲۹ء میں

سوال نمبر ۳ : درج ذیل الفاظ و تراکیب کو جملوں میں استعمال کریں۔

الفاظ و تراکیبجملے
کفر و الحاد : جب کفر و الحاد مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو منہ کی کھاتے ہیں۔
رائج :بادشاہ اکبر کے زمانے میں ملک بھر میں کافرانہ طور طریقے رائج ہوگئے تھے۔
تہذیبی اصلاح : سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی اخلاقی و تہذیبی اصلاح پر توجہ دی۔
خلیفه اسلام :ہندوستان کے مسلمان سلطان حجاز کو خلیفہ اول سمجھتے تھے۔
قومیت : دنیا میں قومیت کی تشکیل کی دو بنیادیں ہیں۔
مثالی مملکت : نظریہ پاکستان کا مقصذد ایک مثالی مملکت فراہم کرنا ہے۔
انتشار : ہمیں انتشار پسند عناصر سے بچ کر رہنا چاہیے۔
مستحکم : ہمیں اپنے فیصلوں پر مستحکم رہنا چاہیے۔
معرض وجود : ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔

سوال نمبر ۴ : اس مضمون سے کم از کم پانچ ایسے جملے تلاش کر کے لکھیں جن میں امدادی فعل کا استعمال ہو۔

  • (ا) جب کفر و الحاد اپنا غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
  • (ب) مسلمان اس کے مقابلے کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے۔
  • (ج) ملک میں انتشار پھیل گیا۔
  • (د) کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
  • (ہ) مسلمانوں کے دلوں میں جوش و ولولہ پیدا کردیا تھا۔