سبق نمبر 24: نظم جلوۂ سحر، تشریح، سوالات و جوابات

0

تعارف شاعر:

محمد حفیظ نام اور حفیظ ہی تخلص تھا۔ جالندھر میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حافط شمس الدین تھا۔ ان کے استاد انھیں ابوالاثر حفیظ کہتے تھے اور وہ اسی نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی ابتدائی تعلیم جالندھر ہی میں ہوئی۔ وہ خاندانی حالات اور خانگی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ وہ بائیس سال کی عمر میں جالندھر سے لاہور آئے۔ یہاں کے ادبی فضا میں ان کے ادبی جوہر خوب کھلے اور جلد ہی وہ اپنے دور کے ممتاز شعرا میں شمار ہونے لگے۔

انھوں نے پاکستان کا قومی ترانہ اور اسلام کی منظوم تاریخ ”شاہنامہ اسلام“ کے عنوان سے رقم کی۔ ان دونوں تخلیقات نے انھیں زندہ جاوید بنا دیا۔

حفیظ بنیادی طور پر گیت نگارہیں۔ ان کے گیت جذبات اور لطافت سے بھر پور ہیں۔ وہ عام طور پر چھوٹی اور مترجم بحریں استعمال کرتے ہیں۔ ان کی شاعری کی خصوصیت عنایت اور شگفتگی ہے۔ان کی شاعری میں ہندی الفاظ کا بے تکلفانہ انداز، ان کے کلام میں مٹھاس پیدا کر دیتا ہے۔ انھوں نے نظموں میں قابل قدر تجربے بھی کیے۔ سادگی، دلکشی، موسیقیت، تغزل، منظر کشی، ندرتِ تشبیہات، مقصدیت اور متنوع بحروں کا استعمال ان کے کلام کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

تصانیف: سوزوساز، تلخابہ شیریں، تصویر کشمیر، بہار کے پھول، نغمہ زار، حفیظ کے گیت، حفیظ کی نظمیں اور چیونٹی نامہ۔

چلا ستارۂسحر سنا کے صبح کی خبر
زمیں پہ نور چھا گیا فلک پہ رنگ آگیا
تمام زادگان شب چمک چمک کے سوگئے
شرار آسمان شب دمک دمک کے سو گئے
ستارے زرد ہو چکے چراغ سرد ہو چکے
وہ ٹمٹما کے رہ گئے یہ جھلملا کے رہ گئے
چلا ستارۂ سحر سنا کے صبح کی خبر

تشریح: نظم ”جلوۂ سحر“ کے درج بالا بند میں شاعر حفیظ جالندھری کہتے ہیں کہ صبح صادق جب پو پھٹنے کے قریب ہوتی ہے تب افق پر ایک چمکدارستارہ نظر آتا ہے اس ستارے کو شاعر نے ستارۂ سحر کہا ہے،اس ستارے کو صبح کے آنے کی نوید سمجھا جاتا ہے۔آسمان پر اس ستارے کے معدوم ہونے سے صبح کے آجانے کی گواہی ملتی ہے، وہ ستارہ جو اندھیرے کے خلاف اپنا محاذ لڑتا رہا اب صبح کی روشنی کےآتے ہی وہ غائب ہونے والا ہے۔صبح کے آنے سے رات کے تمام چراغ یعنی وہ ستارے جو اندھیرے کے خلاف چمکتے رہے تھے اب بجھ گئے تھے۔ یہ ستارۂ سحر چراغوں کی طرح ٹمٹمانے لگا ہے جوکہ صبح صادق کا وقت ہے اس سے ہمیں صبح کے اجالوں کے آنے کی خبر ملتی ہے۔

یکا یک ایک نور کا غبار شرق سے اٹھا
وہ رفتہ رفتہ بڑھتا چلا اور آسماں پہ چھا گیا
حسینۂ نمود نے سیہ نقاب اٹھا دیا
فسوں گر شہود نے طلسم شب مٹا دیا
یکا یک ایک تازگی یکا یک ایک روشنی
نگاہ جاں میں آگئی حیات میں سما گئی
یکا یک ایک نور کا غبار شرق سے اٹھا

تشریح: نظم ”جلوۂ سحر“ کے درج بالا بند میں شاعر حفیظ جالندھری کہتے ہیں کہ جب رات کی تاریکی میں چمکتے ہوئے تمام ستارے ایک ایک کرکے غائب ہونے لگے اورمشرق کی طرف سے طلوع آفتاب سے کی روشنی کا غبارہ اٹھتا نظر آتا ہےجو آہستہ آہستہ سارے افق پر اپنی روشنی کو پھیلا دیتا ہے۔ اس روشنی سے اندھیرا کٹنے لگتا ہے اور صبح کا یہ خوبصورت منظر جس میں شفق سے تارے معدوم ہونے لگیں اور روشنی سارے جہاں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ شاعر کے مطابق روشنی کے پھیلتے ہی جیسے حسینہ صبح نے چہرے سے سیاہ نقاب اٹھا دیا یعنی رات کی تاریکی ختم ہوئی اور صبح کی روشنی چھا گئی۔گویا کہ اس حسینۂ نے کسی طلسم سے رات کے جادوئی اندھیرے کو ختم کر دیا اور اچانک زمین والوں میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ روشنی نے آنے پر لوگ روزگار ہائے زندگی کے لیے گھروں سے نکل پڑے۔

عبادتوں کے در کھلے سعادتوں کے در کھلے
در قبول وا ہوا دعا کا وقت آگیا
اذان کی صدا اٹھی جگا دیا نماز
چلی ہے اٹھ کے بندگی لیے ہوئے نیاز کو
صنم کدہ بھی کھل گیا اٹھ ہے شور سنکھ کا
چلو نمازیو! چلو اٹھو پجاریو! اٹھو
عبادتوں کے در کھلے سعادتوں کے در کھلے

تشریح: نظم ”جلوۂ سحر“ کے درج بالا بند میں شاعر حفیظ جالندھری کہتے ہیں کہ دنیا کے تمام مذاہب میں صبح کی عبادت کا تصور پایا جاتا ہے، جب بھی صبح صادق کا وقت ہوتا ہے تو سب عبادت خانوں کے در وا ہو جاتے ہیں جو کہ مذہبی لوگوں میں مسرت اور نیک بختی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔صبح کا وقت تمام مذاہب کے لیے دعاؤں کی قبولیت اور ذات الہیٰ کی یاد کا وقت ہوتا ہے، مساجد سے اذانوں کی صدائیں چاروں اور پھیل جاتی ہیں اور پیروکاروں کو ذکر الہیٰ کی دعوت دی جاتی ہے، جس سے نمازی اپنی اپنی نیند سے بیدار ہو کر ذکر خداوند تعالیٰ میں مشغول ہونے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی وقت بت خانوں کے بھی دروازے کھل جاتے ہیں اور وہاں کے پروکار بھی گھنٹیوں کی آواز سے بیدار ہو جاتے ہیں۔ شاعر بلا تفریق ہر مذہب کے ماننے والے کو صبح کے وقت اٹھ کر عبادت کرنے میں مشغول ہونے کا کہہ رہے ہیں کیونکہ یہ وقت ان کی خوش نصیبی اور فلاح کے دروازے کھل جانے کا وقت ہے۔

کسان اٹھ کھڑے ہوئے مویشیوں کو لے چلے
کہیں مزے آگئے تو کوئی تان اڑا گئے
یہ سرد شبنمی ہوا یہ صحت آفریں سماں
یہ فرش سبز گھاس کا یہ دل فریب آسماں
بسے ہوئے پریت میں ہیں محو ان کے گیت میں
کہاں ہیں شہر کے مکیں وہ بے نصیب اٹھے نہیں
کسان اٹھ کھڑے ہوئے مویشیوں کو لے چلے

تشریح: نظم ”جلوۂ سحر“ کے درج بالا بند میں شاعر حفیظ جالندھری کہتے ہیں کہ صبح کا وقت تمام انسانوں کے لیے شروعات کا وقت ہوتا ہے، صبح کی روشنی پھوٹنے سے پہلے ہی کسان اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اپنے مویشیوں کو لے کر کھیتوں کی جانب نکل جاتا ہے۔ کئی لوگ صبح کے وقت کی مسرت سے محظوظ ہو کر خوشی میں گیت بھی گاتے ہیں۔ وہ گنگناتے ہوئے ہی اپنی منزلوں کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔ صبح کے وقت چلنے والی ہوا ٹھنڈی اور صحت بخش ہوتی ہے، جس میں شبنم کی نمی بھی شامل ہوتی ہے۔ اس وقت ہر طرف زمین پر سبز گھاس فرش کی مانند بچھا ہوتا ہے جس پر شبنم کی بوندیں اس کے نظارے کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ کسان ان مناظر سے خوش ہوتے ہیں اور دل لگا کر کام کرتے ہیں۔

اٹھی حسینۂ سحر پہن کے سر پر تاج زر
لباس نور زیب بر چڑھی فراز کوہ پر
وہ خندۂ نگاہ سے پہاڑ طور بن گئے
وہ عکس جلوہ گاہ سے سحاب نور بن گئے
نوائے جوئبار اٹھی صدائے آبشار گئے
ہواؤں کے رباب اٹھے خوش آمدید کے لیے
اٹھی حسینۂ سحر پہن کے سر پر تاج زر

تشریح: نظم ”جلوۂ سحر“ کے درج بالا بند میں شاعر حفیظ جالندھری کہتے ہیں کہ صبح حسینۂ سحر ہوتی ہے، یعنی صبح کا نظارہ آنکھوں کو اتنا بھلا لگتا ہے جیسے کسی حسینہ کے سر پر تاج سجا ہو،اور اس کے جسم اور لباس سے روشنی پیدا ہو رہی ہو۔ ان دونوں صفات کے ساتھ یہ حسینۂ صبح پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئی تھی، جو سارے عالم سے نمایاں نظر آرہی تھی۔ اس حسینۂ صبح کی مسکراتی آنکھوں سے پہاڑ کوہ طور بن گئے تھے،اس حسینہ کی نظر جس جانب کو اٹھتی تھی وہاں روشنی پھیل جاتی تھی۔ درختوں فصلوں، سرکوں مکانوں اور گویا تمام دنیا ہی اس حسینۂ صبح کے نور میں نہا کر رہ گئی تھی۔ صبح کی آمد سے جھرنوں اور آبشاروں کی مدھم مدھم سی آواز کانوں میں رس کھولنے لگی اور ہواؤں کی سنسناہٹ رباب کے ساز بجا بجا کر صبح کو خوش آمدید کہہ رہی ہے۔

مشق

سوال نمبر۱: ”جلوۂ سحر“ میں پیش کیا گیا صبح کا منظر اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

جواب:نظم ”جلوہ سحر“ میں شاعر حفیظ جالندھری نے صبح کے منظر کو نہایت ہی دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ جب صبح کو آسمان پر پو پھٹتی ہے تو اس وقت سارا آسمان اندھیرے میں ڈوبا ہوتا ہے، ستاروں کی روشنیاں ٹمٹمانے لگتی ہیں، اور ایک ایک کرکے ستارے غائب ہونے لگتے ہیں۔ستاروں کا جانا اس چیز کی نشاندہی کرتا ہے کہ صبح کی آمد آمد ہے۔ پھر اچانک مشرق کی جانب سے آسمان پر ایک غبارہ سا ابھرتا ہے جو چاروں اور روشنی پھیلا دیتا ہے، اسی وقت انسانوں کے جاگنے اور اپنی عبادت گاہوں میں جانے کا وقت ہوتا ہے، یہ صبح کا منظر انتہائی دلربا اور مسحور کن ہوتا ہے۔ جب سب لوگ اٹھ کر اپنے اپنے کاموں پر جاتے ہیں اس وقت فضا ہی اتنی خوش گوار ہوتی ہے کہ کسان بھی میشیوں کے ساتھ کھیتوں میں جاتے ہوئے گیت گاتے ہیں۔ ندیوں، آبشاروں اور جھرنوں کا شور اور ہواؤں کی سنسناہٹ صبح کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

سوال نمبر ۲:اس نظم میں صبح کا منظر بڑی خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ آپ شام کے منظر کو اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

جواب:شام کا منظر بہت ہی منفرد اور حسین ہوتا ہے، جب روشنی کی پسپائی ہونے لگتی ہے اور اندھیرا چاروں اور سے حاوی ہونے لگتا ہے، سورج اپنی روشنی کھوتا جاتا ہے، دنیا تاریکی کی آغوش میں لپٹ جاتی ہے۔ آسمان پر مختلف مگر حسین رنگوں کا امتراج ہو رہا ہوتا ہے جیسے کوئی ماہر مصور اپنے رنگوں کو گھول کر کوئی پینٹنگ بنانے کا سوچ رہا ہو، بنفشی، نارانجی، سرخی اور پھر سرخی مائل سے سیاہ ہو جاتا ہے۔پرندے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، انسان بھی اپنے اپنے کاموں سے پلٹ کر گھروں کا منہ کرتے ہیں۔ سورج اپنے آلاؤ کو بجھا کر پہاڑوں کے پیچھےچھپ جاتا ہے۔

سوال نمبر ۳: آخری بند میں شاعر نے صبح کو ”حسینۂ سحر “کے ایک کردار کی صورت میں پیش کرتے ہوئے اس کے استقبال کو کن لفظوں میں بیان کیا ہے؟

جواب:نظم کے آخری بند میں شاعر حفیظ جالندھری نے صبح کے منظر کو حسینۂ سحر کہا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب حسینۂ سحر یعنی صبح ابھرتی ہے تو وہ اس وقت آسمان کے ماتھے پر تاج اور تن پر روشنی کا ملبوس سجائے ہوئے پہاڑوں کی چوٹی سے دکھائی دیتی ہے۔ اس کی چمک چاروں طرف پھیلتی ہے تو درختوں، پہاڑوں، گھروں مکانوں سڑکوں ، اور گویا ساری کائنات کو ہی اپنے لپیٹے میں لے لیتی ہے۔

سوال نمبر ۴: جملے بنائیں۔

یکا یک:یکا یک بجلی چلی گئی تھی اور اندھیرے میں بچوں نے رونا شروع کر دیا تھا۔
سعادتبوڑھے والدین کی خدمت کرنا بڑے سعادت کی بات ہے۔
صحت آفریں: چینی کی جگہ شہد کا استعمال میرے لیے صحت آفریں تجربہ رہا۔
جلوہ گاہ:دوران سفر حج ایسے ایسے جلوہ گاہ دیکھے کہ ایمان تازہ ہو گیا
جوئبارصبح کی سیر اگر جوئبار کے کنارے کی جائے تو صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
آبشارنائیگرا فال دنیا کی حسین ترین آبشار ہے۔

سوال نمبر ۵: کنایہ کی تعریف کریں اور مثالوں کی مدد سے وضاحت کریں۔

جواب:کنایہ کے لغوی معنی اشارہ یا پوشیدہ بات کے ہیں۔ علم بیان کی اصطلاح میں کنایہ سے مراد کلام میں کوئی لفظ مجازی معنوں میں اس طرح استعمال کرنا کہ سا سے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکیں۔ جیسے یہ کہنا کہ:
”میں نے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔“
یہاں کہنے والے کی مراد یہ ہے کہ بوڑھا آدمی ہوں اس لیےتجربہ کار ہوں۔ اسی طرح ”سرچڑھنا“ مجازی معنوں میں مغرور اور گستاخ کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ اس سے حقیقی معنی یعنی ”سر پر رکھنا “چبھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔مثلاً

بند اس قفل میں ہے علم ان کا
جس کی کنجی کا کچھ نہیں ہے پتہ