Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر :2
- سبق : جھوٹے آدمی
- مصنف : مولوی ذکاء اللہ
- ماخوذ : محاسن الاخلاق
تعارفِ مصنف:
مولوی ذکاء اللہ دلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ثناء اللہ تھا۔ تعلیم سے فارغ ہو کر کالج میں معلم ریاضی مقرر ہو گئے۔ پھر آگرہ کالج میں سات سال تک اردو اور فارسی کے معلم رہے۔ ۱۸۵۵ء میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس ہو گئے۔ گیارہ سال یہ فرائض انجام دے کر ۱۸۶۶ء میں نارمل اسکول دلی کے ہیڈ ماسٹر ہوئے۔ ۱۸۸۵ء میں پنشن حاصل کی۔ پھر عمر کے باقی ۲۴ سال خانہ نشین رہ کر تصنیف وتالیف میں گزار دیے۔
ان کی وفات کے بعد ڈپٹی نذیر احمد کا ایک مضمون ، ان کے متعلق ، رسالہ تمدن دہلی ( بابت اگست 1911ء) میں شائع ہوا تھا۔ اس میں مولوی ذکا اللہ کے بعض خاص حالات لکھے گئے ہیں۔ اس مضمون کا ایک اقتباس درج کیا جاتا ہے۔
بعض مسلمان یہ بھی پوچھ بیٹھے ہیں کہ مسلم یونیورٹی کس قسم کے عالم پیدا کرے گی جو پانچ یونیورسٹیاں آج تک پیدا نہ کر سکیں۔ آج کو مولوی ذکاء اللہ زندہ ہوتے ، تو میں انھیں کو پیش کر دیتا کہ مسلم یونیورسٹی درجہ تکمیل کو پہنچ کر، ان جیسے عالم پیدا کرے گی: کریم النفس، وسیع الاخلاق، منکسر المزاج ، روشن دماغ ، متنوع المعلومات، کثیر التصانیف ، خیر خواه عامہ خلق، فیاض طبع — راسخ الاعتقاد صلح کل، مرنجاں مرنج۔
تصانیف: تاریخ ہندوستان، کرزن نامه، آئین قیصری، فرهنگ فرنگ وغیره
سبق کا خلاصہ:
اس سبق میں جھوٹے آدمی کے حادفظے کے بارے میں مولانا زکا اللہ نے جو ضرب المثل بیان کی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص کا حافظہ کمزور ہوتا ہے وہ جھوٹ نہیں کہہ سکتا اور وہ اپنے جھوٹ کو اگے نہیں چلا سکتا کیونکہ دراصل وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے پہلے کسی شخص کے سامنے کیا جھوٹ گڑھا تھا اور جب اس سے دوبارہ پوچھا جاتا ہے تو وہ کوئی اور بہانہ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔
مصنف کہتے ہیں کہ وہ شخص جس کا حافظہ کمزور ہوتا ہے وہ اپنے وعدے بھی پورے نہیں کرتا ہے کیونکہ وہ حافظہ کمزور ہونے کی وجہ سے اپنا وعدہ بھول جاتا ہے اور پھر اسے ایفا نہیں کر پاتا ہے۔ اس سبق میں مصنف نے جھوٹوں کی دو قسمیں بتائی ہیں :
ایک وہ جو جھوٹ کہتے ہیں لیکن دل میں اس بات کو سچا مانتے ہیں۔
وہ جو جب جھوٹ کہتے ہیں تو دل میں اس بات کو جھوٹا ہی مانتے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ سامنے والوں ان کی بات کو سچ مان جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسانوں میں باہمی رشتہ مندی نطق کے سبب سے ہے۔ اور جب اس نطق میں کذب شامل ہو تو کوئی ایسی بات نہ ہوگی جو فساد سے خالی ہو۔
مصنف کے حساب سے جھوٹ سے سچ کا جاننا اس لیے مشکل ہے کیونکہ جھوٹا آدمی ہر جگہ اپنے فائدے کے حساب سے بات کرتا ہے اور ہر جگہ مختلف بات کرنے کی وجہ سے وہ خود بھی یاد نہیں رکھ پاتا کہ اس نے کسی معاملے میں پہلے کیا رائے دی تھی اور اس طریقے سے اس کا جھوٹ جلد سامنے آجاتا ہے۔
جھوٹے لوگوں کی کچھ خصلتیں مصنف نے بیان کی ہیں جو یہ ہیں کہ جھوٹے لوگ ہر جگہ اپنے فائدے کی بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مختلف جگہوں پہ مختلف آراء دیتے ہیں اور اگر کوئی ان کی ایک ہی معاملے پر مختلف آراء کو ایک جگہ لکھے تو وہ دیکھے کہ ان کی باتوں میں کس قدر فریب موجود ہے اس کے علاوہ مصنف کہتے ہیں کہ جھوٹے لوگ اپنی ہی کہی گئی باتوں کو یاد نہیں رکھ پاتے ہیں اور اس طریقے سے وہ اکثر اوقات پھنس جاتے ہیں مصنف نے یہ بھی بتایا ہے کہ جھوٹے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنی کہی گئی بات کو صدق دل سے سچ مانتے ہیں جبکہ دوسرے وہ جو اپنی کہی گئی بات کو دل میں تو جھوٹ مانتے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ سامنے والا ان کی بات کو سچ مانے۔
مشق:
۱)جھوٹے آدمی کے حافظے کے بارے میں مولانا ذکاء اللہ نے جو ضرب المثل بیان کی ہے۔ اس کا مفہوم بیان کریں۔
جواب : جھوٹے آدمی کے حادفظے کے بارے میں مولانا زکا اللہ نے جو ضرب المثل بیان کی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص کا حافظہ کمزور ہوتا ہے وہ جھوٹ نہیں کہہ سکتا اور وہ اپنے جھوٹ کو اگے نہیں چلا سکتا کیونکہ دراصل وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے پہلے کسی شخص کے سامنے کیا جھوٹ گڑھا تھا اور جب اس سے دوبارہ پوچھا جاتا ہے تو وہ کوئی اور بہانہ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔
۲)کس چیز کے نہ ہونے کی وجہ سے آدمی کو اپنے وعدے یاد نہیں رہتے؟
جواب : حافظے کے نہ ہونے کی وجہ سے آدمی کو اپنے وعدے یاد نہیں رہتے۔
۳)مصنف نے جھوٹوں کی کتنی قسمیں بیان کی ہیں؟
جواب : مصنف نے جھوٹوں کی دو قسمیں بتائی ہیں
ایک وہ جو جھوٹ کہتے ہیں لیکن دل میں اس بات کو سچا مانتے ہیں۔
دوسرے وہ جو جب جھوٹ کہتے ہیں تو دل میں اس بات کو جھوٹا ہی مانتے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ سامنے والوں ان کی بات کو سچ مان جائے۔
۴)انسانوں میں باہمی رشتہ مندی کس سبب سے ہے؟
جواب : انسانوں میں باہمی رشتہ مندی نطق کے سبب سے ہے۔ اور جب اس نطق میں کذب شامل ہو تو کوئی ایسی بات نہ ہوگی جو فساد سے خالی ہو۔
۵)جھوٹ سے سچ کا جاننا کیوں مشکل ہوتا ہے؟
جواب : جھوٹ سے سچ کا جاننا اس لیے مشکل ہے کیونکہ جھوٹا آدمی ہر جگہ اپنے فائدے کے حساب سے بات کرتا ہے اور ہر جگہ مختلف بات کرنے کی وجہ سے وہ خود بھی یاد نہیں رکھ پاتا کہ اس نے کسی معاملے میں پہلے کیا رائے دی تھی اور اس طریقے سے اس کا جھوٹ جلد سامنے آجاتا ہے۔
۶)درج ذیل الفاظ و تراکیب کو جملوں میں استعمال کریں۔
| اختراعی جھوٹ : | اس کو ہر معاملے میں بلاوجہ اختراعی جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ |
| نقش اول : | حضور کی زندگی ہمارے لیے نقش اول ہے۔ |
| سچی حکایت : | سچی حکایت میں رد و بدل ہمیشہ نقصان کا باعث بنتی ہے۔ |
| اندیشہ : | جس بات کے کرنے سے فساد کا اندیشہ ہو وہ بات نہیں کرنی چاہیے۔ |
| جانشین : | آباؤ اجداد کی جائداد اکثر ان کے جانشین کو ملتی ہے۔ |
| منقش : | اپنے والدین کی نصیحتوں کو دل پر منقش رکھنا چاہیے۔ |
| ملکات نفسانی : | حافظہ ملکاتِ نفسانی کا رئیس ہے۔ |
۷)جھوٹے لوگوں کی جو خصلتیں مصنف نے بیان کی ہیں۔ انھیں مفصل لکھیے۔
جواب : جھوٹے لوگوں کی یہ خصلتیں مصنف نے بیان کی ہیں کہ جھوٹے لوگ ہر جگہ اپنے فائدے کی بات کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مختلف جگہوں پہ مختلف آراء دیتے ہیں اور اگر کوئی ان کی ایک ہی معاملے پر مختلف آراء کو ایک جگہ لکھے تو وہ دیکھے کہ ان کی باتوں میں کس قدر فریب موجود ہے اس کے علاوہ مصنف کہتے ہیں کہ جھوٹے لوگ اپنی ہی کہی گئی باتوں کو یاد نہیں رکھ پاتے ہیں اور اس طریقے سے وہ اکثر اوقات پھنس جاتے ہیں مصنف نے یہ بھی بتایا ہے کہ جھوٹے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنی کہی گئی بات کو صدق دل سے سچ مانتے ہیں جبکہ دوسرے وہ جو اپنی کہی گئی بات کو دل میں تو جھوٹ مانتے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ سامنے والا ان کی بات کو سچ مانے۔