سبق نمبر 26: نظم یہ سڑکیں ، تشریح، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر ۲۶
  • سبق (نام): یہ سڑکیں
  • شاعر: سید ضمیر جعفریؔ
  • ماخوز :

تعارف شاعر:

اصل نام سید ضمیر حسین ہے۔ آپ یکم جنوری ۱۹۱۶ کو ضلع جہلم کے ایک گاؤں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول میں حاصل کی۔ ثانوی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول جہلم سے پائی۔ گورنمنٹ کالج کیمبل پور (اٹک) سے ایف اے کیا اور بی اے کی ڈگری اسلامیہ کالج لاہور سے حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد صحافت کے کوچے میں قدم رکھا اور مولانا چراغ حسن حسرت کے اخبار ”شیرازہ“ میں بطور معاون مدیر کام کرتے رہے۔ بعد میں ایک فوجی اخبار کے عملۂ ادارت میں شامل ہوگئے۔ وہاں سے فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ میجر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ بعدازاں مختلف سرکاری عہدوں پر فائزرہے۔

سید ضمیر جعفری نے مزاحیہ شاعری میں زندگی کی ناہمواریوں کو آشکار کرنے اور تاثر کی شدت سے اصلاحی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے ہاں زندگی کو اعتنا کی نظر سے دیکھنے اور اس کی حالت بدلنے کا انداز نمایاں ہے۔ ان کے منتخب کردہ موضوعات پھول کی طرح کھلتے اور بے ساختہ مسکراہٹ کو جنم دیتے ہیں۔آپ کی وفات ۱۲ مئی ۱۹۹۹ کو ہوئی۔

آپ کی تصانیف میں، قریۂ جان، مافی الضمیر، مسدس بدحالی، گزشیر خان، کتابی چہرہ، من میلہ وغیرہ شامل ہیں۔

نظم یہ سڑکیں کی تشریح

زمیں پر آدمی کی اولین ایجاد یہ سڑکیں
پرانے وقت کے بغداد کی أولاد یہ سڑکیں
مرمت کی حدوں سے زائد المیعاد یہ سڑکیں
ہمارے شہر کی مادر پدر آزاد یہ سڑکیں
بظاہر صید، لیکن اصل میں صیاد یہ سڑکیں

تشریح:۔ نظم ”یہ سڑکیں“ میں شاعر سید ضمیر جعفریؔ نے اس بند میں پرانی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں کا نقشہ کھینچا ہے۔ شاعر طنزیہ کہتے ہیں کہ یہ سڑکیں شاید بنی نوع انسان کی اولین ایجاد میں سے ایک ہیں کیونکہ سڑکوں کی پرانی اورتباہ حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پر صدیاں بیت چکی ہیں اور ان کی مرمت نہیں ہوئی۔ یہ سڑکیں بغداد کی سڑکوں کی یاد دلاتی ہیں جسے ہلاکو خان نے تباہ کیا تھا، یہ انھیں سڑکوں کے آثار قدیمہ کی تصویر پیش کرتی ہیں، گویا ان سڑکوں کی یہ حالت دانستہ تباہ کرنے سے ہی ہوئی ہے ۔یہ سڑکیں ہر طرح سے لاوارث ہیں ان پر کسی نے توجہ دی نہ ہی ان کی مرمت کا خیال کیا،اور اب یہ انسانی جانوں کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہیں۔ سڑکیں بجائے سہولت کے یہ زحمت کا سبب بن چکی ہیں۔

دم باران رحمت گرد کا گرداب ہو جانا
گڑھوں کا پھیل کر تالاب ہو جانا
بپھر کر نالیوں کا رستم و سہراب ہو جانا
محلے کی گلی کوچوں کا زہرہ آب ہو جانا
مہینوں تک برنگ ہرچہ بادا باد یہ سڑکیں

تشریح:۔ نظم ”یہ سڑکیں“ میں شاعر سید ضمیر جعفریؔ نے اس بند میں سڑکوں کی حالت زار پر کہتے ہیں کہ، یہ سڑکیں جن کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور یہ اس قدر قدیم اور بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ ان میں گڈھے اور دراڑیں پڑ گئیں اور جب آسمان سے باران رحمت برستی ہے تو وہ بارش کا پانی ان گڑھوں میں رک جاتا ہے اور بھنور کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سڑکوں کے یہی گڑھے کھڈے اور دراڑیں باران رحمت سے بھر جاتے ہیں اور تالاب بن کر مسافروں کے لیے سر درد اور زحمت بن جاتے ہیں۔ نقاسی کی نالیوں سے زیادہ پانی سڑک پر جمع ہوتا ہے۔ پانی کے اس قدر شور سے ایرانی پہلوان رستم اور سہراب کے میدان میں اترتے والے رجب اور دبدبہ کا منظر آنکھوں میں دکھتا رہ جاتا ہے۔

بہر گامے سڑک کھا جانے والی کھائیاں دیکھو
چٹختے راستوں کی ٹوٹتی انگڑئیاں دیکھو
کھڑی اونچائیوں کے پیٹ میں گہرائیاں دیکھو
گڑھوں کی جابجا بہزادیاں، چغتائیاں دیکھو
نقوش مانی و چغتائی وبہزاد یہ سڑکیں

تشریح:۔ نظم ”یہ سڑکیں“ میں شاعر سید ضمیر جعفریؔ نے اس بند میں سڑکوں کی خستہ حالت پر کہا ہے کہ ٹوٹی پھوٹی ان سڑکوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر گہرے کھڈے بن چکے ہیں کہ یہ اب جان لیوا کھائیں بن چکی ہیں۔ سڑکوں پر یہ کھڈے مسافروں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کھڈوں کو مستقل نظر انداز کیا گیا اور اب یہ کسی حادثے کا پیش خیمہ معلوم ہوتے ہیں۔ ان سڑکوں پر موجود کھڈے اور دراڑیں دراصل ایران کے مشہور مصور بہزاد اور پاکستانی شہر یافتہ مصور عبدالرحمٰن چغتائی کے فن کے نمونے معلوم ہونے لگے ہیں۔

ہم ان سے حلم و صبر و شکر کا پیغام لیتے ہیں
کہ جب چلتے ہیں کم از کم خدا کا نام لیتے ہیں
یہ کام آئیں نہ آئیں ہم انھی سے کام لیتے ہیں
”گلوں سے خار بہتر ہیں، جو دامن تھام لیتے ہیں“
ہم ان سے مطمئن ہیں اور ہم سے شاد یہ سڑکیں

تشریح:۔ نظم ”یہ سڑکیں“ میں شاعر سید ضمیر جعفریؔ نے اس بند میں سڑکوں کی حالت پر کہا ہے کہ جس قدر یہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، یہ ہماری طبیعت میں صبر و تحمل کے مادے کو بڑھا دیتی ہیں۔ ان سے زندگی کا ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ چاہے زندگی میں ہزار مشکلات ہی کیوں نہ ہوں ہمیں صبر و برداشت سے ان مشکلات کا سامنا کرنا چاہیے۔ ان زبوں حال سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے ہم میں جذبہ ایمانی انتہائی پختہ ہو جاتا ہے اور ہمیں ذکر الہیٰ میں مشغول کر دیتا ہے، کیونکہ ان سڑکوں پر سفر کر کے ہمیشہ جان جانے کا شائبہ ہوتا رہتا ہے، اور لب مسلسل خیر و سلامتی کے لیے بارگاہ الہیٰ میں دعا کرتے رہتے ہیں۔ان سڑکوں کا ہم سے رشتہ کانٹے کی طرح ہے، دامن اگر خار میں اٹک جائے تو وہ اسے آسانی سے نہیں چھوڑتا نہیں اسی طرح ان سڑکوں سے بھی ہمارا تعلق چھڑائے نہیں چھوٹتا۔

مشق:

سوال نمبر۱: نظم میں شہر کی سڑکوں کا نقشہ کس طرح کھینچا گیا ہے؟

جواب: شاعر ضمیر جعفری نے نظم ”یہ سڑکیں“ میں شہر کا نقشہ کچھ اس انداز میں کھنچا ہے کہ یہ سڑکیں اپنی عمر پوری کر چکی ہیں، یہ سڑکیں بہت قدیم اور بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کی اولین ایجاد کے اثار ہیں۔ اس پر بغداد کی قدیم تہذیب کے آثار کا گمان ہوتا ہے۔ کہنے کو تو یہ سڑکیں ہمارے لیے سہولت کے لیے بنائی گئیں ہیں مگر ان پر سفر کر کے ہم صبر کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں یہ سڑکیں بھنور اور تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔ ان میں بارش کا پانی ہفتوں کھڑا رہتا ہے ۔

سوال نمبر۲:۔ نظم ”یہ سڑکیں“ کا خلاصہ لکھیں۔

جواب:نظم ”یہ سڑکیں“ میں شاعر سید ضمیر جعفری اپنے مخصوص انداز میں آج کل کے اپنے ارد گرد کے ترقیاتی کاموں کو دیکھتے ہوئے سڑکوں کی زبوں حالی پر کہتے ہیں کہ، یہ سڑکیں اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور اتنی پرانی معلوم ہوتی ہیں کہ جیسے انسان کی ابتدائی ایجادوں میں سے ہے ۔ ان سڑکوں کو دیکھ کر یہ خیال بھی گزرتا ہے کہ یہ بغداد کی وہی سڑکیں ہیں جنھیں ہلاکو خان نے برباد کیا تھا یہ اپنی عمر پوری کر چکی ہیں، ان کی دیکھ بھال کرنے والا یا کوئی ذمہ داری لینے والا بھی نہیں ہے۔ان سڑکوں کی حالت اس قدر خستہ ہے کہ بارش ہوتے ہی اس میں موجود بڑے بڑے گڑھے پانی سے بھر کر ایک مصنوعی تالاب کا منظر پیش کرتے ہیں۔ بارش کے اس پانی کی نقاسی نہیں ہو پاتی اور ہفتوں یہ پانی وہیں کا وہیں کھڑا رہتا ہے۔یہ سڑکیں ہمیں خدا کے ذکر کا بھی موقع دیتی ہیں اور صبر و استقامت کا سبق بھی سکھاتی ہیں۔

سوال نمبر۳: تلمیح سے مراد شاعری میں کسی تاریخی واقعے یا کردار کا ذکر ہوتا ہے، اس نظم میں شاعر نے کون کون سی تلمیحات بیان کی ہیں؟

جواب:اس نظم میں شاعر نے درج ذیل تلمیحات استعمال کی ہیں:
چغتائی، بہزاد، مانی، رستم و سہراب، بغداد

سوال نمبر ۴: مصرعے کی وضاحت کریں:

پرانے وقت کے بغداد کی اولاد یہ سڑکیں

جواب: درج بالا مصرع سے شاعر سید ضمیر جعفری کی مراد عراق کا شہر بغداد ہے، جو گئے وقتوں میں دانش کندہ کی حیثیت رکھتا تھا، جو اسلامی تہذیب و تمدن کا مرکز تھا۔مسلمانوں نے اس شہر کو بہت اچھے سے تزائن و آرائش سے بنایا تھا، اس دور میں بغداد اتنا ترقی یافتہ تھا کہ سڑکیں بنی ہوئی تھی۔

سوال نمبر۵: درج ذیل کے چار چار ہم قافیہ الفاظ لکھیں۔

  • ایجاد: أولاد، فولاد، صیاد، آزاد
  • گرداب: کم یاب، کامیاب، شادات، آفتاب
  • نگر: ڈگر، شکر، جگر، مگر
  • قلم : علم، بھرم، کرم، گرم
  • خار: کار، پار، وار، بار

سوال نمبر ۶: ”گلیوں سے خار بہتر ہیں، جو دامن تھام لیتے ہیں“
شاعر نے یہ مصرع واوین میں کیوں لکھا ہے؟ وضاحت کریں۔

جواب: نظم یہ سڑکیں شاعر سید ضمیر جعفری نے درج بالا مصرع واوین (”“) میں اس لیے لکھا ہے کہ یہ شاعر کا اپنا مصرع نہیں ہے، بلکہ کسی اور شاعر کا مصرع یہاں پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس مصرع کا مکمل شعر ایسے ہے:

رفیقوں رقیب اچھے، جو جل کر نام لیتے ہیں
گلوں سے خار بہتر ہیں، جو دامن تھام لیتے ہیں