سبق نمبر 14: خطوطِ غالب، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر:14
  • سبق : خطوطِ غالب
  • مصنف : غالب
  • ماخوذ : مکاتیبِ غالب مرتبہ غلام رسول مہر

مشق

ا۔ غالبؔ نے مراسلہ کو مکالمہ کیسے بنایا؟ وضاحت کریں؟

جواب : غالب نے پرانے اور فرسودہ طرزِ آداب و القاب سے گریز کیا ۔ سیدھی سادی زبان میں مکتوب الیہ کو خطاب کیا۔ غالب نے نئی وضع اختیار کرتے ہوئے مراسلے کو مکالمہ بنادیا۔

۲۔ غالبؔ اپنے کلام کو کیوں ترستا ہے؟

جواب : غالب کا کلام ان کے پاس نہ تھا بلکہ نواب ضیاء الدین خاں اور نواب حسین مرزا ان کے کلام کو جمع کیا کرتے تھے ۔ جو کچھ غالب کہتے وہ دونوں اس کو لکھ کر جمع کرلیتے ۔ لیکن ان دونوں کے گھر لُٹ گئے اور ہزاروں روپے کے کتب خانے بھی برباد ہوگئے ۔ اسی وجہ سے غالب اپنے کلام کو ترستے ہیں۔

۳۔ غالبؔ کے خطوط میں اکثر ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی سے پیدا شدہ صورت حآل کا ذکر ملتا ہے۔ آپ اس بارے میں کیا جانتے ہیں؟

جواب : ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں نے آخری زور لگا کر انگریزوں سے اپنا وطن حاصل کرنے کے لیے ان سے جنگ لڑی جس میں بد قسمتی سے مسلمانوں کو شکست ہوئی اور انگریر مکمل طور پر پورے ہندوستان پر قابض ہو گئے۔ دہلی قلعہ میں بہادر شاہ ظفر کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔ اوران کو قید کر کے رنگون بھیج دیا گیا۔ جنگ کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر بغاوت کا الزام لگاتے ہوئے جنگ آزادی کو غدر کا نام دیا اور دہلی کو بھی تباہ کردیا۔

اس میں غالب کے رشتہ دار، دوست احباب بھی زد میں آگئے۔ کچھ مر گئے اور جو بچے وہ جان بچا کر ادھر ادھر ہجرت کر کے چلے گئے۔ غالب ان تمام تباہی و بربادی کے دوران دہلی ہی میں رہے اور دہلی کی تباہی و بربادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خطوط میں ان تمام المناک واقعات کی تصویر کشی جا بجا ملتی ہے۔

۴۔ ان خطوط کی روشنی میں خطوط غالب کی خصوصیات لکھیں۔

جواب : غالب نے خطوط نگاری کو ایک نیا معنی عطا کیا۔ وہ خط ایسے لکھتے تھے جیسے سامنے بیٹھے شخص سے مخاطب ہوں۔ وہ آسان زبان کا استعمال کرتے تھے اور انھوں نے فرسودہ طرز کے القابات کا استعمال بھی نہیں کیا تھا۔ غالب کے خطوط سے اس زمانے کے حالات کا بھی پتہ چلتا ہے اور ان کی ذاتی زندگی کی معلومات بھی ملتی ہے۔

۵۔ ان خطوط میں مقفیٰ جملے تلاش کرکے لکھیں۔

  • جواب : آنکھوں کی نگرانی اور دل کی پریشانی
  • ایک فقیر کے خوش آواز بھی ہے اور زمزمہ پر داز بھی ہے
  • بہ زبان قلم باتیں کیا کرو ہجر میں وصال کے مزے لیا کرو
  • اس نے وہ کاغذ مجھ کو دکھایا یقین سمجھنا کہ مجھ کو رونا آیا
  • تم آتے ہو چلے آؤ خام چند کے کوچے کی سڑک دیکھ جاؤ

۶۔ دوسرے خط کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں۔

خلاصہ : یہ خط میر مہدی مجروح کے نام لکھا گیا ہے۔ اس خط کے آغاز میں غالب میر مہدی صاحب کو بتارہے ہیں کہ دلی کی پانچ چیزیں جو دلی کو دلی بنانے کی وجہ تھیں وہ اب نہیں رہی ہیں تو تم ہی بتاؤ کے اب دلی کہاں رہ گیا ہے۔ پھر وہ انھیں بتارہے ہیں کے پندرہ دسمبر کو نواب بہادر کی آمد متوقع ہے لیکن اس بات کا علم نہیں کہ وہ کس جگہ آئیں گے۔ وہ کہتے ہیں پہلے سات جاگیردار تھے اور ان سب کے الگ الگ دربار ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب ان میں سے چار تو معدومِ محض ہیں اور باقی تین رہ گئے۔ ان میں بھی تین رئیس ہوں گے یا ایک ابھی خبر نہیں۔ پھر وہ میر مہدی کو اپنے پاس آنے اور اپنا غم زدہ دل دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے بعد اختتامیہ جملوں کے ساتھ خط اختتام پذیر ہوجاتا ہے۔

۷۔ اپنے دوست کو اپنے علاقےکے حالات کے متعلق خط لکھیں۔

پیارے دوست
السلام علیکم
امید ہے تم خیریت سے ہو گے میں بھی خیریت سے ہوں۔ تمہارا خط ملا اور تم نے اپنی جن کامیابیوں اور مستقبل کے جن منصوبوں کا ذکر کیا سن کر بہت خوشی ہوئی۔ اپنے علاقے کا تم نے احوال پوچھا تو اب تمھیں کیا بتاؤں کہ کس تیزی سے ہر شے میں تبدیلی آرہی ہے۔ جگہ جگہ اب دکانیں کھل گئی ہیں اور بازار میں بھی اب ایسے رش لگی رہتی ہے جیسے کوئی میلا ہو۔ پہلے سارے دوست روز ملا کرتے تھے لیکن اب کسی کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ سب کامیابیوں کی منازل طے کررہے ہیں لیکن پرانے ساتھی ایک دوسرے سے بچھڑتے جارہے ہیں۔ اب تمھیں ہی دیکھ لو دوسرے دیس سدھار گئے ہو لیکن شکر ہے تم باقاعدگی سے خط لکھ کر حال احوال بتاتے رہتے ہو۔ مجھے تمھہارے خط کا بہت انتظار رہتا ہے اور بہت خوشی ہوتی ہے تمھارے لکھے خط پڑھ کر۔
اپنا خیال رکھنا اور گھر والوں کی فکر مت کرنا ہم دوست ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے لیکن تمھارے گھر والوں کی برابر خبر گیری کرتے رہتے ہیں۔
ولسلام
تمھارا دوست
ا-ب-ج