Back to: Class 11 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر ۲۳
- سبق (نام): نصحیت اخلاقی
- شاعر: اکبر ؔالہ آبادی
- ماخوز : کلیات اکبرؔ حصہ اول
تعارف شاعر:
اصل نام سید اکبر حسین اور اکبرؔ ہی تخلص تھا۔ ۱۸۴۵میں الٰہ آباد میں ولادت ہوئی۔رسمی تعلیم بہت کم تھی۔ ذاتی کوشش سے وکالت کا امتحان پاس کیا۔ ۱۸۸۰ میں ”جوڈیشنل سروس“ کے لیے منتخب ہوئے۔ ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج کے عہدے تک پہنچے۔ ان کا شمار اردو کے نام ور شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری امتیازی اور انفرادی خصوصیات کی حامل ہے اور ان کی مقبولیت کا دار و مدار ان کی طنزیہ اور ظریفانہ شاعری پر ہے۔
اکبرؔ نے اپنی شاعری کا آغاز سنجیدہ کلام سے کیا تھا لیکن جلد ہی انھوں نے ایک پیامی شاعر کا منصب اختیار کیا۔ انگریز جو تہذیب اپنے ساتھ لائے تھے، وہ اکبر کو سخت ناپسند تھی۔ چنانچہ قدیم تہذیب کی حمایت اور جدید تہذیب کی مخالفت ان کی زندگی کا نصب العین رہا۔ اکبر بہت بے خوف آدمی تھے۔ سرکاری ملازم ہونے کے باوجود انگریزی تہذیب و تمدن پر سخت تنقید کرتے رہے۔ اس سلسلے میں آنے والی مشکلات کا اندازہ لگاتے ہوئے انھوں نے طنز اور ظرافت کا انداز ختیار کیا۔ ان کے انداز اور أسلوب نے ایسی عالمگیر شہرت اختیار کی کہ آج بھی لوگ انھیں”لسان العصر“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اکبرؔ الہ آبادی نے ۱۹۲۱ میں الٰہ آباد میں وفات پائی۔
| بیٹے کو لوگ کہتے ہیں آنکھوں کا نور ہے ہے زندگی کا لطف، تو دل کا سرور ہے گھر میں اسی کے دم سے ہے ہر سمت روشنی تازاں ہے اس پہ بات تو ماں کو غرور ہے |
تشریح:۔ نظم ”نصحیت اخلاقی“کے درج بالا بند میں شاعر اکبرؔ الٰہ آبادی کہتے ہیں کہ عموماً لوگ اپنی أولاد سے محبت کرتے ہیں، اسی محبت میں اپنے بیٹے کو آنکھوں کا نور اور زندگی میں سرورکا سبب مانتے ہیں، گویا کہ گھر میں تمام روشنی اور لطف و مزہ اسی کے دم سے ہے۔ بیٹا گھر میں موجود ہو تو جیسے در و دیوار پر خوشی و شادمانی کا راج ہو جاتا ہے۔ ہر والدین کے لیے ان کی أولاد نرینہ سکون و راحت کا باعث ہوتی ہے، وہ اس میں اپنے بڑھاپے کا سہارا دیکھتے ہیں، اسی وجہ سے وہ بیٹے کو خدا تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت گردانتے ہیں، اور زمانے میں بیٹے کے ہونے سے فخر کی زندگی گزارتے ہیں۔
| خوش قسمتی کی اس کی نشانی سمجھتے ہیں کہتے ہیں یہ خدا کے کرم کا ظہور ہے اکبرؔ بھی اس خیال سے کرتا ہے اتفاق اس کا بھی ہے یہ قول کہ ایسا ضرور ہے |
تشریح:۔ نظم ”نصحیت اخلاقی“کے درج بالا بند میں شاعر اکبرؔ الٰہ آبادی کہتے ہیں کہ أولاد نرینہ کو ہر میاں بیوی اپنے لیے سعادت اور خدا کی طرف سے ملا ہوا تحفہ مانتے ہیں۔ ہر والدین اپنی أولاد نرینہ کو اپنی خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں، گویا کہ یہ خدا کے انعام کا ظہور ہو۔ شاعر اکبر الٰہ آبادی کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ بیٹے خدا کا خاص کرم اور مہربانی ہوتے ہیں۔ خدا جب کسی میاں بیوی پر اپنا خاص کرم کرتا ہے تو انھیں أولاد نرینہ کی نعمت سے نوازتا ہے۔
| البتہ شرط یہ ہے کہ بیٹا ہو ہونہار مائل ہے نیکیوں پر، برائی سے دور ہے سنتا ہے دل لگا کر بزرگوں کی پند کو وقت کلام لب پہ جناب و حضور ہے |
تشریح:۔ نظم ”نصحیت اخلاقی“کے درج بالا بند میں شاعر اکبرؔ الٰہ آبادی کہتے ہیں کہ مجھے والدین کے اولاد نرینہ کے بارے میں، خدا کی نعمت ہونے پر اتفاق ہے مگر اس کے لیے یہ شرط ہے کہ بیٹا سعادت مند، نیک اور اہل ہو، اس کا رجحان اچھائیوں کی طرف زیادہ ہو۔ وہ ہمیشہ برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے ،بے سہاروں اور درد مندوں کے کام آئے۔ اس کے لہجہ میں نرمی ہو اور بزرگوں کی نصحیت کو ہمہ تن گوش ہو کر سنے۔ اس کی گفتار نہایت ہی تابعدارانہ لہجہ میں ہونی چاہیے۔ گویا وہ اپنی ذات میں عاجزی اور انکساری کا عنصر پیدا کرے اور بڑوں بزرگوں کا احترام بجائے لائے۔
| برتاؤ اس کا صدق و محبت سے بھرا اس میں نہ ہے فریب نہ ہے مکر و زور ہے افکار والدین میں ہے دل سے وہ شریک ہمدرد ہے معین ہے اہل شعور ہے |
تشریح:۔ نظم ”نصحیت اخلاقی“کے درج بالا بند میں شاعر اکبرؔ الٰہ آبادی کہتے ہیں کہ والدین کا أولاد نرینہ کو نیک بخت اور خدا کی رحمت سمجھنے کے لیے شرط یہ ہے کہ بیٹا نیک سیرت ہو۔ اس کی ذات میں اخلاص، محبت اور سچائی کے مثبت جذبات ہونے چاہیے۔ اس کی ذات کسی کے لیے دھوکہ دہی اور فریب و مکر کا باعث نہ بنے۔ ایسی أولاد میں والدین کی فرمانبرداری ہونی چاہیے، والدین کا حکم بجا لانا اور سرتسلیم خم رہنے کے ساتھ ساتھ عاجزانہ رویہ اختیار ہونا چاہیے۔ ایسا بیٹا معاشرے میں ہر مفلس و نادر کے لیے مددگار ثابت ہونا چاہیے۔
| راضی ہے اس پہ باپ کی جو کچھ ہو مصلحت صابر ہے یا ادب ہے عقیل و غیور ہے رکھتا ہے خاندان کی عزت کا وہ خیال ہے نیکیوں کا دوست صحبت بد سے نفور ہے |
تشریح:۔ نظم ”نصحیت اخلاقی“کے درج بالا بند میں شاعر اکبرؔ الٰہ آبادی کہتے ہیں کہ والدین کا أولاد نرینہ کو خدا کی نعمت سمجھنے کی میں بھی حمایت کرتا ہوں، مگر اس کے ساتھ کچھ شرائط ہیں۔ بیٹے کو اپنے والدین کی ہر نیک صلاح اور مشورے کو دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔ اسے اپنے والدین کی رضا پر راضی ہونا چاہیے، اور والدین کے ہر تعین کردہ راستے پر بخوشی چلنے کے لیے ہر وقت تیار ہونا چاہیے۔ اسے اپنے خاندان کے لیے بدنامی کا باعث بننے سے گریز کرنا چاہیے اور ہر قسم کے برے قماش سے بچ بچ کر قدم رکھنا چاہیے۔ اسے ہر بات کو پرکھنا اور پھر اچھے برے کی پہچان کر کے معاملات کرنے چاہیے۔
| کسب کمال کی ہے شب و روز اس کی دھن علم و ہنر کے شوق کا دل میں وفور ہے لیکن جو ان صفات کا مطلق نہیں پتا اور پھر بھی ہے خوشی تو خوشی کا قصور ہے |
تشریح:۔ نظم ”نصحیت اخلاقی“کے درج بالا بند میں شاعر اکبرؔ الٰہ آبادی کہتے ہیں کہ ہونہار اور قابل رشک أولاد نرینہ کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ محنت اور ہمت سے کام لیتا ہے۔ وہ اپنی ہر صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف خاندان بلکہ ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کرے۔ وہ اپنے علم و ہنر کو بہتر سے بہتر کرنے کی تگ و دو میں لگا رہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جو بیٹے اس قسم کی سیرت و کردار کے مالک نہیں وہ والدین کے لیے کبھی بھی نیک بختی کا باعث نہیں بنتے، بلکہ وہ بیٹے والدین اور معاشرے میں ایک اچھے انسان بن کر رہتے ہیں وہی والدین کے لیے راحت و مسرت کا باعث بنتے ہیں۔
مشق:
سوال نمبر۱: اس نظم میں اکبرؔ الٰہ آبادی نے ہونہار بیٹے کی کیا خصوصیات بتائی ہیں؟
- جواب:۔اس نظم میں اکبرؔ الٰہ آبادی نے ہونہار بیٹے کی جو خصوصیات بتائی ہیں وہ درج ذیل ہیں:
- ۱۔ وہ نیکی کی طرف راغب ہو اور برائی سے دور رہے۔
- ۲۔ بزرگوں کی عزت کرے اور ہمہ تن گوش ان کی نصیحت کو سنے اور عمل کرے۔
- ۳۔ اس کے معاملات راست ہوں اور دھوکا فریب اس کی ذات سے منسوب نہ ہو۔
- ۴۔ والدین کے احکام کو سر تسلیم خم ہو کر پورے دل سے ماننے۔
- ۵۔ والدین، خاندان اور ملک و قوم کی عزت کو اپنے ہنر و لگن سے بڑھانے کی تگ و دو کرے۔
سوال نمبر۲:۔ نظم ”نصیحت اخلاقی“ کا خلاصہ لکھیں۔
جواب:۔نظم ”نصیحت اخلاقی“ میں شاعر اکبر الٰہ آبادی نے نوجوانوں کو کم و بیش پندرہ نصیحتیں کی ہیں، جو ایک نیک اور صالح بیٹے میں ہونی چاہیے۔ أولاد نرینہ خدا کی جانب سے نعمت ہے، مگر أولاد نرینہ ہونہار اور نیک عمل ہو تو یہ نعمت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت بھی بن جاتی ہے۔ بیٹے کو والدین کا فرمانبردار اور اطاعت گزار ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی سیرت سے اپنےو الدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن سکے۔ اس کے کردار سے نہ صرف گھر بلکہ سارا معاشرہ ہی جگمگا اٹھے۔ أولاد نرینہ کو بزرگوں کی نصیحت کو سننا اور سمجھنا چاہیے۔ والدین کے بتائے گئے راستے پر سر تسلیم خم چل پڑے اور اپنی صلاحیتوں کو نیکی کے کاموں میں صرف کرے۔
سوال نمبر۳:۔ درج ذیل الفاظ و محاورات کے معنی لکھیں اور جملوں میں استعمال کریں۔
| نازاں: | میری سعادت مند طبیعت پر میرے والدین مجھ پر نازاں ہیں۔ |
| ظہور: | قیامت سے قبل امام مہدیؓ کا ظہور ہوگا۔ |
| مکرو زور: | ہمیں مکر و زور سے بچنے کے لیے بچوں کو اسکولوں میں ہی تربیتی ورکشاپ دینی چاہیے۔ |
| کسب کمال: | کسب کمال انسان کا معاشرے میں قد بڑھا دیتا ہے۔ |
| اہل شعور: | اہل شعور اساتذہ کی زیر نگرانی ہماری تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی اچھی ہوئی ہے۔ |
سوال۴:۔ اس نظم کا مرکزی خیال تحریر کریں۔
جواب:۔نظم ”نصیحت اخلاقی“ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ، والدین اور أولاد کو یہ اخلاقی نقطہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ صرف أولاد نرینہ کا گھر میں پیدا ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کو اصل معنوں میں زندگی کے ہر قدم پر ، اپنی سیرت و کردار سے ثابت کرنا چاہیے۔ بیٹے کو والدین کا فرمانبردار اور معاشرے کا اچھا فرد بننا چاہیے اسی وجہ سے وہ والدین کے لیے باعث فخر بیٹا بن سکتا ہے۔
سوال۵:۔ اس نظم کے قوافی لکھیں۔
جواب:۔ نور، سرور، غرور، ظہور، ضرور، دور، حضور، زور، شعور، غیور، نفور، وفور، قصور۔