Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: 14
- سبق: علامہ اقبال
- مصنف: چراغ حسن حسرت
- ماخوذ:
تعارفِ مصنف:
اصل نام چراغ حسن تھا جبکہ تخلص حسرتؔ تھا۔ وہ کشمیر کے مشہور علاقے بارہ مولا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم جموں سے حاصل کی۔ مزید تعلیم کے حصول کے لیے لاہور آگئے۔ یہاں ان کے حلقۂ احباب میں اکثر لوگوں کا تعلق صحافت سے تھا۔ چنانچہ حسرت بھی کوچۂ صحافت میں جا نکلے۔ حسرت نے مختلف اخبارات میں کام کیا۔ انھوں نے ”سند باد جہازی“ کے نام سے فکاہیہ کالم لکھنا شروع کیے۔ ان کالموں میں حسرت کی فطری صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں۔ مختلف اخبارات میں کام کرتے ہوئے بالآخر ”روزنامہ امروز“ سے وابستہ ہوئے اور آخری دم تک اسی سے منسلک رہے۔
حسرت ایک مشہور صحافی اور مقبول عالم مزاح نگار تھے۔ ان کے مضامین کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ کالم جو اخبارات کی زینت بنتے رہتے تھے۔ دوسرے وہ شخصی خاکے جو انھوں نے مختلف شخصیات کے تعارف کے طور پر لکھے۔ دونوں میں حسرت کی روایتی ظرافت جھلکتی ہے۔ ان کی فکاہیہ کالم نویسی نے اخبارات کی دنیا میں اہم روایات کی بنیاد ڈالی۔ ان کے کالموں کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔حسرت کی زبان سادہ، رواں اور سلیس ہے۔ ان کو الفاظ و تراکیب کے استعمال کا خاص ملکہ تھا۔ خاکہ نگاری میں انھوں نے ایسی شخصیات کا انتخاب کیا، جن کے ساتھ ان کی گہری وابستگی اور خلوص تھا۔
تصانیف: فکاہیات، حرف و حکایت، کیلے کا چھلکا، جدید جغرافیہ پنجاب، مردم دیدہ ،وغیرہ۔
مشق
سوال نمبر ایک: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیں:
(الف): علامہ اقبال کے گھر ہونے والی محفلوں کا حال لکھیں؟
جواب: علامہ اقبال کے گھر ہونے والی محفلوں میں ملنے کے لیے ہر قسم کے لوگ آیا کرتے تھے۔ان کے ہاں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ صبح سے رات تک محفل جمی رہتی تھی۔ ان محفلوں میں علامہ صاحب زیادہ تر خود باتیں کرتے۔وہ اپنی محافل میں شعر سنتے تھے اور نہ سناتے تھے۔
(ب): شعر سننے اور سنانے کے معاملے میں یو پی کے شعراء کا کیا طرز عمل ہے؟
جواب:شعر سننے اور سنانے کے معاملے میں یو-پی کے شعراء ہمیشہ ”بے پناہ “ ہوتے تھے، وہ خود بھی محافل میں شعر سناتے اور دوسرے شعراء سے اشعار سنانے کا تقاضا کرتے ہیں۔
(ج): سر شہاب الدین کون تھے؟
جواب:سر شہاب الدین علامہ محمد اقبال کے گہرے دوست اور پنجاب اسمبلی کے ممبر تھے۔
(د): علامہ اقبال کے ان دوست احباب کا نام لکھیں۔ جس کا ذکر اس خاکے میں ہے؟
جواب: علامہ اقبال کے دوست جن کا ذکر خاکے میں ہوا ہے ان میں محمد دین تاثیر، چراغ حسن حسرت ،سرشہاب الدین ، سالک صاحب، مولانا گرامی، عبداللہ چغتائی وغیرہ شامل تھے۔
(ہ): ”میں اس فکر میں ہوں کہ کالج کے نوجوانوں کو بھی پردے میں بٹھایا جائے۔“علامہ اقبال نے یہ جملہ کیوں کہا؟
جواب: ایک بار علامہ محمد اقبال کی محفل برپا تھی اور کالج کے چند نوجوان بھی وہاں موجود تھے۔ ان کے بال لمبے تھے اور خوب بن سنور کر آئے تھے۔ ایک طالب علم نے سوال کیا کہ عورتوں کا پردہ اب ختم ہونا چاہیے، جس پر علامہ نے جواب دیا:”میں اس فکر میں ہوں، کہ کالج کے نوجوانوں کو بھی پردے میں بٹھایا جائے۔“۔ اس فقرے میں علامہ صاحب نے طالب علموں کےبناؤ سنگھار پر طنز کیا ہے۔
سوال نمبر دو: اس مضمون میں علامہ اقبال کی زندگی کے چن پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان پر ایک تفصیلی نوٹ لکھیں۔
جواب:علامہ اقبال سیدھی سادی زندگی بسر کرتے تھے، وہ لذیذ کھانا کھانے کے شوقین تھے۔ ان کے دسترخوان پر دو تین قسم کے سالن ہوا کرتے تھے مگر وہ خود بسیار خور نہیں تھے۔ رات کو نمکین کشمیری چائےپیتے تھے۔ وہ پھلوں میں آم کھانا پسند کرتے تھے اور لوگوں کو بھی کھلاتے تھے۔
علامہ اقبال کا رنگ سرخ و سفید، جسم بھرا ہوا اور سر کے بال سیاہ سفید سے تھے۔ گھر میں اکثر تہہ بند میں رہتے تھے مگر باہر نکلتے تو کوٹ پتلون ، شلوار کرتا اور پگڑی پہنتے زیب تن کرتے۔ان کی محافل سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں پر مشتمل ہوتی تھیں، جن میں وہ بھرپور حصہ لیتے تھے۔ان کی طبیعت ظرافت سے پر تھی۔
سوال نمبر تین: خالی جگہ پر کریں:
- الف: ان دنوں نمک کی ستیاگرہ زوروں پر تھی۔
- ب: موضوع روکھا پھیکا مگر بیچ بیچ میں لطیفے بھی ہو جاتے تھے۔
- ج: وہ جاڑے میں بڑےشوق سے شب دیگ پکواتے تھے۔
- د: علامہ اقبال عام طور پر پنجابی بولتے تھے۔
- ہ: علامہ اقبال کے مطابق شاعروں نے شاعری کو غارت کر ڈالا۔
سوال نمبر چار: آپ ”میرے اساتذہ“ کے عنوان پر کم از کم پانچ سو الفاظ کا مضمون تحریر کریں۔ روزمرہ کا خیال رکھیں اور محاورات استعمال کریں۔
میرے استاذہ:
بطور ایک مسلمان، ہمارے مذہب میں اساتذہ کی بہت تعظیم ہے۔ استاد کو روحانی باپ بھی کہا جاتا ہے۔ ماں باپ کے بعد استاد کو قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ جہاں والدین بچے کی جسمانی پرورش اور ضروریات کو پورا کرتے ہیں وہاں ایک معلم اس کی روحانی تربیت کرتا ہے۔
میرے ابتدائی استاد میرے والد ہیں۔ جنھوں نے مجھے نماز پڑھنا اور لکھنا سکھایا ہے۔ میں اپنے والدین کے بعد تعلیم کے حصول کے لیے مدرسہ میں داخل ہوا جہاں میں نے لکھنا پڑھنا سیکھا۔ میری زندگی پر میرے اساتذہ کی گہری چھاپ ہے۔ میری زندگی میں بہت سے اساتذہ رہے ہیں جن سے میں نے زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں تعلیم لی ہے۔ میں آج بھی اپنے تمام اساتذہ جو حیات ہیں اور جو راہی ملک عدم ہو گئے کے لیے دعا کرتا ہوں۔
سوال نمبر پانچ: درج بالا اسمی جملوں میں استعمال ہونے والے تمام حروف سے دو دو جملے بنائیں؟
- ۱: میری خواہش ہے کہ عدیل بھی میرے ساتھ لاہور گھومنے جائے۔
- ۲: چولہے کو اچھے سے چیک کرو کہ کہیں گیس لیک نہ ہو۔
- ۳:میرے والدین اس کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ بااخلاق ہے۔
- ۴: وہ خوش تھا کیونکہ وہ پاس ہو گیا تھا۔
- ۵: اس کے قریب نہ جاؤ کہ وہ تمہیں نقصان پہنچائے۔
- ۶: بارش میں نہ جاؤ ایسا نہ ہو کہ بیمار ہو جاؤ۔
- ۷: افسردہ نہ ہو کہ مشکل کے بعد آسانی ہے۔
- ۸:دھیان سے کہ کہیں ہاتھ نہ جلا لو۔