سبق نمبر 1: مسلمانوں کا قدیم طرزِ تعلیم، خلاصہ، سوالات و جوابات

0

تعارفِ مصنف :

مولانا شبلی نعمانی اعظم گڑھ کے ایک گاؤں بندول میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام شیخ حبیب اللہ تھا۔ ابتدائی تعلیم اعظم گڑھ سے حاصل کرنے کے بعد عربی و فارسی ادب کی تحصیل کے لیے غازی پور جا کر مولوی محمد فاروق کے شاگرد ہو گئے۔ اُنھوں نے حصول تعلیم کے لیے دور دراز کے سفر کیے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد انھوں نے وکالت شروع کی اور کچھ عرصہ امین دیوانی کی حیثیت سے کام کیا، لیکن جلد ہی طبیعت اُچاٹ ہو گئی۔ سرسید سے ملاقات کے بعد وہ علی گڑھ کالج میں پروفیسر مقرر ہو گئے شبلی نعمانی نے مختلف ممالک کے سفر بھی کیے۔

علی گڑھ کالج سے علیحدگی کے بعد اُنھوں نے دار المصنفین کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ اسلام اور اسلامیات کے لیے ممتاز تھا۔ شبلی نعمانی ایک نابغہ روزگار ہستی تھے۔ وہ بیک وقت شاعر ، مورخ، سوانح نگار، انشا پرداز ، مفکر اور مصلح تھے۔ وہ سرسید کے دبستان سے وابستہ تھے لیکن اُن کا اسلوب اور طرز بیان منفرد ہے۔ وہ اپنی تحریر میں تشبیہات اور استعارات کا بخوبی استعمال کرتے ہیں۔ اُن کی عبارت مختصر اور پُر جوش ہے۔ تحریر میں روانی اور دلکشی ہے۔ وہ اپنی بات کو منطقی استدلال اور عقلی دلائل سے ثابت کرتے ہیں۔ اُن کو اُردو کا پہلا مورخ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اُن کی تاریخ نگاری کی بنیاد تحقیق اور سند پر ہے۔ اُن کا سب سے بڑا کارنامہ سیرت النبی ﷺ ہے۔ اگرچہ وہ اس تصنیف کو اپنی زندگی میں مکمل نہ کر سکے اور اُن کی وفات کے بعد اُن کے ہونہار شاگرد سید سلیمان ندوی نے اس کی تکمیل کی۔
تصانيف: سيرة النبی، الفاروق، المامون، الغزالی، سیرت النعمان، شعر الحجم وغیره

خلاصہ:

اس سبق میں مصنف نے مسلمانوں کے طرز تعلیم اور تعلیم کے مختلف دوروں کا موازنہ کیا ہے اور مسلمانوں کے تعلیمی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ۱۴۵ھ سے پہلے مسلمانوں کے علوم کا تعلق حافظہ سے تھا۔ سند و روایت جیسا قدیم طرزِ تعلیم رائج تھا۔ اس زمانے میں تصنیف و تعلیم کا رواج نہ تھا۔ پھر وہ تعلیمی دور کے دوسرے دور کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تعلیم کے دوسرے دور میں عجیب و غریب دلچسپیاں تھیں۔ اسلام کی حکومت دریائے سندھ کے کنارے تک پہنچ گئی تھی۔

لوگ مسلمان ہورہے تھے لیکن ہندوستان میں کوئی مدرسہ یا یونی ورسٹی موجود نہ تھی۔ اس زمانے میں تمام علوم پر عربی زبان کی مہر لگی ہوئی تھی۔ لیکن اس سب کے باوجود اس زمانے میں علم و فنون کا چرچا تھا اور اسلامی دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں تعلیم عام ہورہی تھی۔ تعلیم کے لیے مکتب قائم کئے جارہے تھے لیکن ان مکاتب میں حکومت کا کوئی حصہ نہ تھا بلکہ تعلیم کے لیے مسجد کے صحن، خانقاہوں کے حجرے، اور علماء کے ذاتی کمرے استعمال ہوتے تھے۔ لیکن اس دور میں تعلیم کا معیار بہت اونچا تھا۔

ڈاکٹر سپرنگر کہتے ہیں کہ اس دور کے مسلمانوں کے اسماء الرجال میں پانچ لاکھ تک مہشور عالموں کا حال مل سکتا ہے۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے تیسرے دور تعلیم میں یہ خرابیاں پیدا ہوئیں کہ املاء کا طریقہ رفتہ رفتہ ختم ہوتا گیا۔ اور جو فن مقصود بالذات نہ تھے ان کی تعلیم میں وہ اہتمام ہونے لگا کہ عمر کا بڑا حصہ اس کی نذر ہونے لگا اور اتنا وقت ہی نہ ملتا کہ جن علوم کی تکمیل مقصود تھی ان کو توجہ دی جاسکتی۔ علاوہ ازیں تصانیف کی کثرت اور ان کے درس گاہوں میں شامل ہونے نے بھی اس تعلیمی دور کو نقصان پہنچایا۔ پہلے اور دوسرے دور میں فن کی تعلیم ہوتی تھی جب کے تیسرے دور نے کتابی تعلیم کی بنیاد ڈالی۔ تعلیم کے لیے جداگانہ قانون سلطنت عثمانیہ میں بنایا گیا۔ آخر میں مصنف کہتے ہیں اس مفصل آرٹیکل کے باوجود ابھی مسلمانوں کے تعلیمی دور کے متعلق تفصیل پوری نہیں بتائی جاسکی ہے کیونکہ ان کے کارنامے بے شمار ہیں۔

مشق

سوال نمبر ایک: سوالات کے جوابات لکھیں۔

الف: ۱۴۵ھ سے پہلے مسلمانوں کا طرز تعلیم کیسا تھا؟

جواب: ۱۴۵ھ سے پہلے مسلمانوں کے علوم کا تعلق حافظہ سے تھا۔ سند و روایت جیسا قدیم طرزِ تعلیم رائج تھا۔ اس زمانے میں تصنیف و تعلیم کا رواج نہ تھا۔

ب: مسلمانوں کے طرز تعلیم کے دوسرے دور پر روشنی ڈالیں۔

جواب: تعلیم کے دوسرے دور میں عجیب و غریب دلچسپیاں تھیں۔ اسلام کی حکومت دریائے سندھ کے کنارے تک پہنچ گئی تھی۔ لوگ مسلمان ہورہے تھے لیکن ہندوستان میں کوئی مدرسہ یا یونی ورسٹی موجود نہ تھی۔ اس زمانے میں تمام علوم پر عربی زبان کی مہر لگی ہوئی تھی۔ لیکن اس سب کے باوجود اس زمانے میں علم و فنون کا چرچا تھا اور اسلامی دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں تعلیم عام ہورہی تھی۔ تعلیم کے لیے مکتب قائم کئے جارہے تھے لیکن ان مکاتب میں حکومت کا کوئی حصہ نہ تھا بلکہ تعلیم کے لیے مسجد کے صحن، خانقاہوں کے حجرے، اور علماء کے ذاتی کمرے استعمال ہوتے تھے۔ لیکن اس دور میں تعلیم کا معیار بہت اونچا تھا۔ ڈاکٹر سپرنگر کہتے ہیں کہ اس دور کے مسلمانوں کے اسماء الرجال میں پانچ لاکھ تک مہشور عالموں کا حال مل سکتا ہے۔

ج: مسلمانوں کے تیسرے دور تعلیم میں کیا خرابیاں پیدا ہوئیں؟

جواب: مسلمانوں کے تیسرے دور تعلیم میں یہ خرابیاں پیدا ہوئیں کہ املاء کا طریقہ رفتہ رفتہ ختم ہوتا گیا۔ اور جو فن مقصود بالذات نہ تھے ان کی تعلیم میں وہ اہتمام ہونے لگا کہ عمر کا بڑا حصہ اس کی نذر ہونے لگا اور اتنا وقت ہی نہ ملتا کہ جن علوم کی تکمیل مقصود تھی ان کو توجہ دی جاسکتی۔ علاوہ ازیں تصانیف کی کثرت اور ان کے درس گاہوں میں شامل ہونے نے بھی اس تعلیمی دور کو نقصان پہنچایا۔ پہلے اور دوسرے دور میں فن کی تعلیم ہوتی تھی جب کے تیسرے دور نے کتابی تعلیم کی بنیاد ڈالی۔

د: مسلمانوں کی تعلیم و تدریس کے مراکز کون کون سے تھے؟

جواب: مساجد ، علماء کے ذاتی کمرے اور خانقاہوں کے حجرے مسلمانوں کی تعلیم و تدریس کے مراکز تھے۔ بعض شہروں میں تعلیم کے لیے جگہوں کو مخصوص بھی کیا گیا تھا۔

ہ: تعلیم کے لیے جداگانہ قانون کس زمانے میں بنایا گیا؟

جواب: تعلیم کے لیے جداگانہ قانون سلطنت عثمانیہ میں بنایا گیا۔

سوال نمبر دو: خالی جگہ پر کریں۔

  • الف: علوم وہ تھے جن کو حافظہ سے زیادہ تر تعلق تھا۔
  • ب: مذہبی غلط فہمی کی وجہ سے فلسفہ اور منطق سے ہمدردی نہ تھی
  • ج: دریائے سندھ کے کنارے تک اسلام حکومت کر رہا تھا۔
  • د: مناظرہ کی مجلسوں میں شرکت اعلیٰ تعلیم کے لیے ضروری تھا۔
  • ہ: تیسرے دور نے کتابی تعلیم کی بنیاد ڈالی۔

سوال نمبر تین: درج ذیل الفاظ پر اعراب لگائیں اور معنی لکھیں۔

معمور :مَعْمُوْر
معنی: بھرپور
دفعتا :دَفْعَتاً
معنی:اچانک
غارت گری : غَاَرتْ گِریْ
معنی:لوٹ مار
مجتہدین :مُجْتَہِدِیْن
معنی: اجتہاد کرنے والے

سوال نمبر چار: موجودہ تعلیمی اور امتحانی نظام کے حُسن و قبح پر ایک مفصل مضمون لکھیں۔

جواب : ہمارے ملک پاکستان کا تعلیمی نظام مشہور انگریز ماہر تعلیم لارڈ میکالے کا وضع کردہ ہے۔ انگریزوں نے جب ہندوستان پر باقاعدہ حکومت کا آغاز کیا۔ تو انہیں تعلیم یافتہ خدمت گاروں اور کلرکوں کی ضرورت تھی۔ تاکہ اُن کے دفاتر میں فائل ورک کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے ملک بھر میں مدارس قائم کئے۔ اور انگریزی تعلیم کو لازمی قرار دیا۔ صرف اس شخص کو سرکاری نوکری ملتی تھی۔ جو انگریزی زبان میں ماہر ہوتا تھا۔

اس طریقہ تعلیم سے انگریزوں نے ہندوستانیوں کی ایک بہت بڑی کھیپ تیار کی جو ان کے دفتروں میں کلرک اور معمولی ملازم بن گئے۔ آزادی کے بعد پاکستان میں انگریزوں کا وضع کردہ طریقہ تعلیم رائج رہا۔ دنیا کے تمام ممالک میں عصری علوم مادری زبان میں پڑھائے جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں تمام عصری اور سائنسی علوم انگریزی میں پڑھائے جاتے ہیں۔ جس کے لئے پہلے انگریزی زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ اور طالب علموں کی عمریں انگریزی سیکھے سیکھتے گزر جاتی ہیں۔ اسی فیصد سے زیادہ طالب علم انگریزی کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ کر تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔

جو طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل بھی کرلے۔ وہ صرف کتابی تعلیم ہوتی ہے۔ جس سے قوم و ملک کی خدمت نہیں کی جاسکتی۔ موجودہ نظام تعلیم سے نہ کوئی قابل ڈاکٹر یا انجینئر بن سکتا ہے۔ نہ قابل ذکر سائنس دان۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے انجینئر ترقی کیلئے لوگ بیرون ملک جاتے ہیں۔ جبکہ سائنس کے میدان میں بھی ہمارے سائنس دانوں نے کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ بجلی کے بحران میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ معیشت کی حالت بہت بدتر ہے۔ ناقص نظام تعلیم ہی کی وجہ سے کرپشن عام ہے۔ دہشت گردی کا دور دورہ ہے۔

سیاست دان پیسہ بنانے کیلئے سیاست کرتے ہیں۔ ہر طرف لوٹ مار اور غارت گری ہے۔ ہمارا امتحانی نظام فرسودہ اور ناقص ہے۔ نقل کی وبا عام ہے امتحانوں کے دوران بوٹی مافیا سرگرم عمل رہتی ہے۔ پورے پورے ہال خریدے اور فروخت کئے جاتے ہیں۔ امتحانی بورڈوں اور یونیورسٹیوں میں سیاسی اور سفارشی لوگ مقرر کئے گئے ہیں۔ جو رقم بٹورنے میں مصروف ہیں۔ پرچے ایسے افراد سے چیک کروائے جاتے ہیں۔ جو اس مضمون کے ابجد سے بھی واقف نہیں ہوتے ۔ امتحانی نظام پر مخصوص مراعات یافتہ طبقہ قابض ہے۔ جو لوٹ مار اور کرپشن میں ملوث ہے۔

جب تک ہمارا نظام تعلیم ملکی اور قومی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کیا جاتا۔ اور امتحان کا یہ فرسودہ نظام ختم نہیں کیا جاتا۔ اس ملک میں تعلیمی بحران اسی طرح رہے گا۔ اور سند یافتہ ان پڑھوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

سوال نمبر پانچ: درج بالا علامات کو استعمال کرتے ہوئے ہر علامت کی دو دو مثالیں دیں۔

جواب:
رابطہ کی مثالیں
اس نے کہا: تم سب میری بات سنو
بقول شاعر: لب پہ آتی ہے دعا
تفصیلہ کی مثالیں
مثلا :- کھانا اور سونا
تشریح :- اس شعر میں شاعر کہتے ہیں