سبق نمبر: 22: نظم ستارے، تشریح،خلاصہ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر: ۲۲
  • نظم: ستارے
  • شاعر: ن م راشدؔ
  • ماخوذ: پابند نظمیں

تعارفِ شاعر:

ن۔ م ۔ راشد کا اصل نام راجا نذر محمد جنجوعہ تھا۔ وہ علی پور چٹھہ ( گوجرانوالہ) کے گاؤں کوٹ بھاگاں میں پیدا ہوئے۔گورنمنٹ کالج لاہور سے اقتصادیات میں ایم ۔اے کرنے کے بعد اقتصادی بد حالی کا ایک طویل دور گزارا۔ بآخر تقدیر ان پر مہربان ہوگئی اور وہ یو این او سے منسلک ہو گئے۔ انھوں نے کئی ممالک میں کام کیا۔ عمر کا آخری حصہ بیرونِ ملک گزارا اور وہیں وفات پائی۔ ن ۔م ۔راشد اردو کی روایتی شاعری سے فنی اور معنوی انحراف کی ایک انوکھی مثال ہیں۔ وہ سخت اور کھردرے جذبات کے شاعر ہیں۔ نظم کے مروجہ روایتی سانچے اُن کے فکر و فن کا ساتھ دینے سے یکسر قاصر تھے۔ چنانچہ وہ ایک نیا رنگ لے کر اُبھرے۔

راشد جدید اردو نظم کے اولین معماروں میں سے ہیں۔ اُن کے تخلیقی ذہن نے نظم کے مروجہ سانچوں کو قبول نہیں کیا۔ اُنھوں نے نظم میں ہیئت کے متعدد تجربے کیے، اگر چہ اُن کی نظموں کی ہیئت اور تکنیک اردو نظم کے قاری کے لیے نئی اور انوکھی چیز ہے، لیکن اُنھوں نے زبان کے کلاسیکی اسلوب کو بھی مد نظر رکھا۔ اُنھوں نے قوافی کا ایک ایسا نظام مرتب کیا جو نظموں کی داخلی ضرورت نظر آتی ہے۔

اقبؔال کے عہد تک پہنچتے پہنچتے اُردو نظم میں کئی ایک فنی و فکری تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں لیکن بہر حال اُردو نظم سیدھی سادی اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی چیز تھی۔ راشدؔ کی نظمیں اس کے برعکس پیچیدگی اور ابہام لیے ہوئے ہیں۔ اُن کی نظم سادہ اور بیانیہ نہیں ہے بلکہ اُن کی نظموں میں ڈارمائی اور افسانوی انداز ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے علامت نگاری سے بھی خوب کام لیا، اس لیے اکثر اوقات قاری کے لیے اُن کی نظموں کے معنی اور مفہوم کی تہہ تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اُن کے بارے میں کئی ایک نقادوں کا خیال ہے کہ وہ آج کے نہیں بلکہ آنے والے کل کے شاعر ہیں۔
مجموعۂ ہائے کلام: ماورا، ایران میں اجنبی، لا= انسان، گماں کا ممکن۔

نظم ستارے کی تشریح

نکل کر جوئے نغمہ خلد زار ماہ و انجم سے
فضا کی وسعتوں میں ہے رواں آہستہ آہستہ
بہ سوئے نوحہ آباد جہاں آہستہ آہستہ
نکل کر آ رہی ہے اک گلستان ترنم سے

تشریح:

”ستارے“ شاعر ن م راشد کی لکھی ہوئی نظم ہے اس میں شاعر ن م راشد کہتے ہیں کہ آسمان پر چمکتے ہوئے چاند ستاروں کو جت کے راہگیز بتاتے ہیں۔ وہ ان ستاروں کو ندی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ غم و الم سے بھر پور دنیا، جہاں لوگ بھیڑ میں رہتے ہوئے بھی اپنی اپنی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں، کی طرف گامزن ہیں۔ستارے دنیا کی طرف مسافت کرتے ہوئے ندی کی طرح ایک ترنم پیدا کرتے ہیں جو کہ جنت کا ہی گیت معلوم ہوتی ہے۔ جیسے ندی میں بہتے پانی سے ایک مدھر سی دھن بنتی ہے ویسے ہی ستاروں کے اس قافلے کی روانی سے بھی کانوں کو بھانے والی لے پیدا ہو رہی ہے۔

ستارے اپنے میٹھے مدھ بھرے ہلکے تبسم سے
کیے جاتے ہیں فطرت کو جواں آہستہ آہستہ
سناتے ہیں اسے اک داستاں آہستہ آہستہ
دیار زندگی مدہوش ہے ان کے تکلم سے

تشریح:

”ستارے“ شاعر ن م راشد کی لکھی ہوئی نظم ہے اس میں شاعر ن م راشد کہتے ہیں کہ ستارے جو اداس دنیا کی جانب گامزن ہیں وہ تبسم بکھرتے ہیں، ان ستاروں کی مسکراہٹ بہت ہی دلکش و دل نشین ہے جو دل میں گھر کر جاتی ہے۔ ان ستاروں کی خوبصورت میٹھی مسکراہٹ قدرت کو ایک نیا حسن بخشتی ہے۔ یہ ستاروں کا قافلہ آپس میں بھی گفت گوکرتا ہے، ان کی باتوں کے انداز بھی جادوئی اثرات رکھتے ہیں۔ جو بھی اس گفتگو کو سنتا ہے وہ سرور سے مست ہو کر رہ جاتا ہے۔

یہی عادت ہے روز اولیں سے ان ستاروں کی
چمکتے ہیں کہ دنیا میں مسرت کی حکومت ہوں
چمکتے ہیں کہ انساں فکر ہستی کو بھلا ڈالے
لیے ہے یہ تمنا ہر کرن ان نور پاروں کی

تشریح:

”ستارے“ شاعر ن م راشد کی لکھی ہوئی نظم ہے اس میں شاعر ن م راشد کہتے ہیں کہ ستارے جو آسمان پر چمکتے ہیں اور ادھر ادھر سفر بھی کرتے ہیں۔ یہ سہل رواں کی طرح مسافر کرتے ہوئے مدھر سی آواز بھی پیدا کرتے ہیں، یہ ان ستاروں کی پہلے دن سے عادت ہے یعنی جب سے کائنات کو وجود بخشا گیا ہے تب سے یہ بھی اسی طرح اپنی روشنیاں بکھرتے رہے ہیں۔ ان کی موجودگی خوشی و شادمانی کی علامت ہے۔ ان ستاروں کو شاید اسی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ انسان جب اپنے غموں سے نڈھال ہو تو ان ستاروں کو دیکھ کر اپنا دل بہلا لے۔

کبھی یہ خاک داں گہوارۂ حسن و لطافت ہو
کبھی انسان اپنی گم شدہ جنت کو پھر پا لے

تشریح:

”ستارے“ شاعر ن م راشد کی لکھی ہوئی نظم ہے اس میں شاعر ن م راشد کہتے ہیں کہ آسمان پر بے ترتیب بکھرے ستارے نور کے ٹکڑے ہیں، جو ہر ساعت روشنی کی کرن بکھرتے ہیں، روشنی کی یہ کرنیں اپنے ساتھ امید لے کر دنیا کی جانب آتی ہیں کہ یہ دنیا خوبصورتی اور شادمانی کا مرکز بن جائے۔ دنیا پر ہر انسان دکھ و مصیبت سے نجات پا لے اور انسان اپنے عمل سے دنیا کو جنت بنا دے۔

مشق

سوال نمبر ا: اس نظم کا خلاصہ لکھیں:

جواب:نظم ”ستارے“ شاعر ن م راشد کی لکھی ہوئی ہے،ستاروں کی قطاریں آسمان پر بے ترتیب بکھری ہوئی ہیں یہ دکھ اور تاسف میں ڈوبی دنیا کو ایک حسین منظر پیش کرتے ہیں۔ ستاروں کی چمک دمک تاریکی میں ڈوبے آسمان پر موتیوں کی سی تزئین و آرائش کا مظہر معلوم ہوتے ہیں۔ ستارے ہمیں شادمانی اور مسرت کا إحساس دلاتے ہیں ۔ ستارے انسانوں سے گویا گفتگو کرتے ہیں وہ انھیں اپنے غم بھلانے اور ہمت نہ ہارنے کا سبق دیتے ہیں، وہ اپنی منفرد جھگمگاہٹ سے انسانوں کو مہمیز دیتے ہیں کہ وہ خوبصورتی کے اس منظر کے لیے کوشاں ہوں اور کسی روز اس جنت کو پالے جس سے وہ نکالے گئے ہیں۔

سوال نمبر ۲: رات کے وقت آسمان پر جگمگاتے ستاروں کا منظر اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

جواب: شام ہوتے ہی جب افق پر سیاہی چھا جاتی ہے، ہر طرف تاریکی کا راج ہو جاتا ہے ، تب آسمان پر بے ترتیب بکھرے ستارے روشن ہوتے ہیں، یہ منظر انتہائی دل لبھانے والا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ستارے اس رات کی تاریکی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اپنی روشنی سے اس تاریکی کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بے شک ستارے خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں، ان کی روشنی اور جھلملاہٹ موتیوں کی مثل معلوم ہوتی ہے، وہ آسمان کی تزئین و آرائش میں چار چاند لگا دیتی ہے۔

سوال نمبر ۳: نظم ”ستارے“ کا مرکزی خیال لکھیں۔

جواب:نظم ”ستارے“ شاعر ن م راشد کی لکھی ہوئی نظم ہے، اس نظم سے شاعر نے ستاروں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ ستاروں کی چمک دمک بے مقصد نہیں ہے ان کی جھلملاہت میں ایک راز مضمر ہے، یہ خدا کی نعمتوں میں سے ایک انعام ہے۔

سوال نمبر۴: شاعر کے مطابق ستاروں کی روز اولین سے کون سی عادت ہے؟

جواب:نظم ستارے میں شاعر ن م راشد کیے مطابق ستاروں کی روز اولین کی عادت سے مراد ستاروں کا ازل سے چمکنا ہے۔ یہ ان کا معمول ہے چاہے دنیا پر خوشی اور مسرت کا راج ہو انسانوں کی زندگیاں امن و شانتی سے گزر رہی ہوں ستارے بس چمکتے رہیں گے۔

سوال نمبر۵: اس نظم سے مرکب اضافی اور مرکب عطفی الگ الگ کر کے لکھیں۔

جواب:حروف اضافی، ”جوئے غم، فضا کی وسعت، سوئے نوحہ آباد جہاں، گلستانِ ترنم، دربارِ زندگی، روز اولین، مسرت کی حکومت، فکر ہستی، گہوارہ حسن“ ہیں
حروف عطفی: ”ماہِ و انجم، حسن و لطافت “ہیں۔

سوال۶: ”گم شدہ جنت“ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جواب: نظم میں گم شدہ جنت سے شاعر ن م راشد کی مراد وہ جہاں ہے جہاں سے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ ان کی غلطی کی پاداش پر بے دخل کیا گیا۔