Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: ۳۱
- غزل: لب کشا لوگ ہیں، سرکار کو کیا بولنا ہے
- شاعر: احمد فرازؔ
- ماخوذ:
شاعر کا تعارف:
سید احمد شاہ احمد فراز ؔکوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام سید محمد شاہ برقؔ تھا جو خود بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ اس لحاظ سے فراؔز نے ایک ادبی ماحول میں آنکھ کھولی۔ احمد فرازؔ نے ایڈورڈز کالج پشاور سے بی۔ اے کا امتحان پاس کیا اور پھر پشاور یونیورسٹی سے اردو اور فارسی میں ایم۔اے کیا اور کچھ عرصے اسی یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ اکادمی ادبیات کے ڈائریکٹر اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ بھی رہے۔
احمد فرازؔ آزادی اظہار کے قائل تھے، اسی وجہ سے انھیں فوجی حکومتوں میں شدید تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اُنھوں نے کبھی اپنے اُصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا۔ یہاں تک کہ ۲۰۰۴ء میں ملنے والا اعزاز ”ہلال امتیاز“ انھوں نے اس بنا پر واپس کر دیا کہ حکومت انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی تھی۔ اسی طرح کوہاٹ میں موجود پبلک لائبریری کو پلازے میں تبدیل کرنے پر وہ اس قدر دل برداشتہ تھے کہ انھوں نے وصیت کی کہ مجھے مرنے کے بعد کوہاٹ میں دفن نہ کیا جائے۔
احمد فراز ؔکی شاعری کو جتنا قبول عام حاصل ہوا، شاید ہی کسی اور کو حاصل ہوا ہوگا۔ سہلِ ممتنع میں شعر کہنا اور پھر اُسے عوام و خواص کے ذہن میں مرتسم کرنا احمد فراز کے لیے بے حد آسان کام تھا۔ ان کے کلام میں شگفتگی کے ساتھ ساتھ قدرے تفکر بھی پایا جاتا ہے۔ سماجی ناانصافیوں پر احتجاج تقریباً ہر شاعر کا موضوع رہا ہے لیکن احمد فراز کے ہاں یہ رنگ سب سے جدا ہے۔ ان کی شاعری کے تیرہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
مجموعہ ہائے کلام: تنہا تنہا، درد آشوب، نایافت، شب خون، میرے خواب ریزہ ریزہ، جاناں جاناں، اے عشق جنوں پیشہ وغیرہ۔
| لب کشا ہیں لوگ، سرکار کو کیا بولنا ہے اب لہو بولے گا تلوار کو کیا بولنا ہے |
تشریح:
درج بالا شعر احمد فرازؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد فرازؔکہتے ہیں کہ مخلوق خدا جو برسوں سے حکومتی عوام دشمن پالیسیوں کے نیچے دبی ہوئی تھی اور محکوموں کی سی زندگی گزار رہی تھی، اب اس مخلوق نے اس عوام نے بولنا شروع کر دیا ہے۔ وہ اب اپنے ساتھ ہونے والی ان زیادتیوں پر احتجاج کر رہے ہیں، اب یہ ہتھیاروں سے لڑنے کے بجائےاپنے خون کے نذرانے پیش کرنے کے لیے پرعزم ہیں اب انھیں اس انقلاب لانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
| بِکنے والوں میں جہاں ایک سے ایک آگے ہو ایسے میلے میں خریدار کو کیا بولنا ہے |
تشریح:
درج بالا شعر احمد فرازؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد فرازؔ معاشرے کے چند مکروہ کرداروں کا ذکرتے ہیں کہ ایسے لوگ جو صاحب اقتدار کے لیے اپنی وفاداری چند کوڑیوں کے عوض بیچ دیتے ہیں انھیں عوامی مفاد سے کوئی سروکار نہیں وہ تو مقتدرہ کے لیے عوام کو کچلنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جو خود اپنی روح کو بیچنے کا سودا کرنے کے لیےتیار ہوں ان کے لیے حاکموں کو قیمت لگانے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ وہ پہلے سے ہی ذہنی طور پر ہر قیمت پر بکنے کو راضی ہیں۔
| لو چلے آئے عدالت میں گواہی دینے مجھ کو معلوم ہے کس یار کو کیا بولنا ہے |
تشریح:
درج بالا شعر احمد فرازؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد فرازؔضمیر فروشوں کا مکروہ چہرہ معاشرے میں دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو ضمیر فروش اور زر خرید گواہ میرے خلاف عدالتوں میں گواہی دیتے ہیں وہ جھوٹے اور بے ایمان ہیں۔ وہ اپنے ضمیر کا سودا پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں اور مجھے اس چیز کا ادراک ہوتا ہے کہ وہ عدالت میں میرے خلاف کیا کیا کہیں گے۔
| اور کچھ دیر رہے گوش بر آواز ہَوا پھر چراغِ سرِ دیوار کو کیا بولنا ہے |
تشریح:
درج بالا شعر احمد فرازؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد فرازؔکہتے ہیں کہ دیوار پر جو چراغ جل رہا ہے شاید اسے کچھ کہنا ہے وہ اپنی بات کہ نہیں پا رہا کیونکہ ہوا اتنی تیز ہے جو اسے اپنی بات کہنے سے بہکا رہی ہے۔ ہوا کو چاہیے کہ وہ چند لمحوں کا توقف کرے اور چراغ اپنی بات بیان کر دے ، اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع میسر آجائے اس کے بعد فیصلہ کیا جائے کہ کون حق دار ہے۔
| مجھ سے کیا پوچھتے ہو آخری خواہش میری اک گنہگارِ سرِ دار کو کیا بولنا ہے |
تشریح:
درج بالا شعر احمد فرازؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد فرازؔکہتے ہیں کہ جب عدالت میں میرے خلاف بے ضمیروں نے گواہی دے دہی ہے اور اب میرے خلاف جھوٹے مگر شواہد جمع ہو چکے ہیں تو اب مجھے علم ہے مجھےسزائے موت سنا دی جائے چکی ہے۔ اول مجھے موقع نہیں دیا بات کرنے کا اور اب مجھ سے آخری خواہش کے طور پر میری رائے پوچھتے ہو اس رائے کا کوئی فائدہ ہوتا مجھے دکھائی نہیں دیتا۔
| خلقتِ شہر ہے چُپ، شاہ کے فرمان کے بعد اب کسی واقفِ اسرار کو کیا بولنا ہے |
تشریح:
درج بالا شعر احمد فرازؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد فرازؔکہتے ہیں کہ جب وقت کے ظالم بادشاہ نے بغیر میری کسی دلیل کو سنے مجھے سزا سنا دی ہے ۔ اب چونکہ بس فیصلہ سزائے موت کا ہے تو تمام خلقت بے حس و حرکت ہو چکی ہے ، سکوت کا عالم چھایا ہوا ہے۔ مگر جو لوگ میری بے گناہی سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ مجھے غلط سزا سنائی گئی ہے اب وہ ہی صرف میرے حق میں بول کر اس سکوت کو توڑ سکتے ہیں۔
| وہی جانے پسِ پردہ جو تماشا گر ہے کب، کہاں، کون سے کردار کو کیا بولنا ہے |
تشریح:
درج بالا شعر احمد فرازؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد فرازؔکہتے ہیں کہ میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنا کر ، جھوٹے گواہ پیش کر کے عدالت میں اپنی مرضی کا فیصلہ کروا کر، اب مجھے مجرم ٹھہرانے کے بعد محض ایک ہی شخص ہے وہ ظالم حاکم ہے جو جانتا ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ وہ جو اس سارے تماشے کا کرتا درتا ہے وہی آخر تک اپنے اس منصوبے کی حقیقت جانتا ہے کہ کب کونسے وقت پر کس کردار نے میری مخالفت کرنی ہے۔ کیونکہ اسی نے ہی اس سارے ہنگامے کو برپاکیا ہے۔
| جہاں دربار ہوں، شاہوں کے مصاحب ہوں فرازؔ وہاں غالبؔ کے طرفدار کو کیا بولنا ہے |
تشریح:
درج بالا شعر احمد فرازؔ کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر احمد فرازؔکہتے ہیں کہ جس حکومت میں سارے ہی لوگ حاکم کی وفاداری میں ایک دوسرے بڑھ چڑھ کر چاپلوسی کرتے ہیں، یعنی ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر مجھ پر الزام اور تہمتیں لگاتا ہے تاکہ وہ ظالم حاکم کی خوشنودی حاصل کر سکے ۔ تو ایسے حالات میں شاعر خود کو غالبؔ کا طرفدار ظاہر کرتے ہیں ۔کیونکہ غالبؔ پر بھی ابراہیم ذوقؔ پر آواز کسنے کے الزام میں دربار میں بلایا گیا تھا جہان سب لوگ ہی ابراہیم ذوقؔ کے حمایتی تھے ، اسی طرح شاعر بھی خود کو ایسے دربار میں پاتے ہیں جہاں سارے ہی حاکم کے طرفدار ہیں تو وہاں ان کی کوئی صفائی کی کوئی حیثیت نہیں۔
مشق
سوال نمبر ۱: دی گئی غزل کے مطابق درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیں:
ا: ”اب لہو بولے گا“ سے کیا مراد ہے؟
جواب: اب لہو بولے گا سے مراد ہے کہ اب ملزم کو اپنی صفائی میں بولنا ہی ہوگا تاکہ مجرم کو مجرم قرار دیا جائے۔
ب: ہوا کے گوش بر آواز سے کیا مراد لی گئی ہے؟
جواب: ہوا کے گوش بر آواز رہنے سے مراد ہے کہ ہوا کچھ دیر تک نہ چلے۔
ج: خلقت شہر کیوں چپ تھی؟
جواب: خلقت شہر بادشاہ کے خوف سے چھپ گئی۔
د: شاعر نے آخری خواہش کیوں نہ بتائی؟
جواب: شاعر نے اپنی آخری خواہش اس لیے نہیں بتائی کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اسے موت کی سزا سنا دی گئی ہے اور اس کی آخری خواہش سے اسے اب کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔
سوال نمبر ۲: اس غزل کے ردیف لکھیں۔
جواب:۔ اس غزل کا ردیف ” بولتاہے “ ہے۔
سوال نمبر ۳: اس غزل کے قوافی لکھیں۔
جواب:اس غزل کے قوافی بالترتیب سرکار، تلوار، خریدار، یار، دیوار، سردار، اسرار، کردار طرفدار ہیں۔
سوال نمبر ۴:
| بکنے والوں میں جہاں ایک سے ایک آگے ہو ایسے میلے میں خریدار کو کیا بولنا ہے |
کلام میں کسی چیز کا ذکر کرنا اور پھر اس کی مناسبت سے دوسری چیزیں لانا بشرطیکہ یہ چیزیں متضاد نہ ہوں مراعاۃ النظیر کہلاتا ہے۔ جیسے مندرجہ بالا شعر میں بکنے کی مناسبت سے میلے اور خریدار کا ذکر کیا گیاہے۔ کم از کم تین ایسے اشعار لکھیں جن میں صنعت مراعات النظیر کا استعمال ہو۔
جواب:
| ؎شوق اگر نہ ہوتا میری نماز کا امام میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی جحاب ؎نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی ؎سر کہیں بال کہیں ہاتھ کہیں پاؤں کہیں ان کا سونا بھی ہے کس شان کا سونا دیکھو |
سوال نمبر ۵: درج ذیل شعر کی تشریح کریں۔
| جہاں دربار ہوں شاہوں کے مصاحب ہوں فرازؔ وہاں غالبؔ کے طرف دار کو کیا بولنا ہے |
تشریح: ایضاً