سبق نمبر 29:غزل، سفر منزل شب یاد نہیں تشریح، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر: ۲۹
  • غزل: سفر منزل شب یاد نہیں
  • شاعر: ناصرؔ کاظمی
  • ماخوذ:

شاعر کا تعارف:

ناصر کاظمی انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد سلطان کاظمی انڈین آرمی میں ملازم تھے اور اُن کی تعیناتی مختلف مقامات پر رہی۔ اس لیے ناصر کاظمی نے مختلف شہروں میں تعلیم حاصل کی ۔تعلیم کی تکمیل پر وہ واپس انبالہ چلے گئے اور زمینوں کی دیکھ بھال شروع کی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے اور مختلف صحافتی اداروں سے منسلک رہے۔ وہ ماہنامہ “ہمایوں” کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔ کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان لاہور میں بھی ملازمت کی۔ ناصر کاظمی کا انتقال لاہور میں ہوا۔

ناصر کی غزلوں میں قدیم رنگ اور جدید رومانی رویوں کا امتزاج ملتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے عروج میں جب نظم زوروں پر تھی، ناصر نے غزل کی ساکھ کو قائم رکھا۔ ان کی غزل میں میؔر کے طرز ادا کے ساتھ ساتھ ان کا طرز احساس بھی ملتا ہے۔ پاکستان کا قیام ایک طرف تو مسلمانوں کے لیے ایک عظیم واقعہ ہے لیکن دوسری طرف بدترین فسادات، قتل و غارت گری، دہشت گردی اور اپنی مٹی سے ہجرت ، اس کے الم ناک پہلو بھی ہیں۔

ان حالات نے اوروں کی طرح ناصر ؔکاظمی کے دل و دماغ پر بھی برے اثرات مرتب کیے۔ ان کی غزلوں میں اعلیٰ اقدار کی شکست کا ماتم ہے۔ حزن و یاس ، محرومی اور ناکامی کے احساس کے ساتھ معاشرے کی منفی قدروں پر طنز اور تلخی کا اظہار ان کی غزل میں نمایاں ہے۔ ناصر کی شاعری میں سادگی اور دلکشی ہے۔ چھوٹی چھوٹی بحروں اور سادہ الفاظ میں وہ اپنے جذبوں کا اظہار کیا ہے۔
مجموعہ ہائے کلام: برگ نے، خشک چشمے کے کنارے، دیوان، پہلی بارش، نشاط خواب، سر کی چھایا۔

سفر منزل شب یاد نہیں
لوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیں

تشریح:

درج بالا شعر ناصرؔ کاظمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ناصرؔکاظمی کہتے ہیں کہ جس گھڑی مجھ پر راہ دشوار ہوئی، جس وقت میری راہ میں تاریکی اور اندھیرا ہونے لگا تھا اس گھڑی میں تنہا ہو چکا تھا، اور مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میرے دوست احباب کس گھڑی مجھے مشکلات میں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

اولیں قرب کی سرشاری میں
کتنے ارماں تھے جو اب یاد نہیں

تشریح:

درج بالا شعر ناصرؔ کاظمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ناصرؔکاظمی کہتے ہیں کہ مجھے جس وقت محبوب کا وصل و دیدار نصیب ہوا تھا میں کسی اور سی کیفیت میں مبتلا ہو چکا تھا۔ گویا میں نے ہمیشہ اس لمحہ کو چشم تصور سے ہی دیکھا تھا جب یہ حقیقت میں تبدیل ہوا تو مجھے میرے دماغ سے میری تمام خواہشات بھی رخصت ہو گئیں۔

دل میں ہر وقت چبھن رہتی تھی
تھی مجھے کس کی طلب یاد نہیں

تشریح:

درج بالا شعر ناصرؔ کاظمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ناصرؔکاظمی کہتے ہیں کہ مجھے ہمیشہ سے اپنے محبوب کی قربت کی خواہش رہی تھی ۔ یہاں شاعر نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے دل میں محبوب کے عدم میسر ہونے کی وجہ سے بیقراری کی کیفیت طاری رہتی تھی۔مگر اب میں اس بیقراری کا مستقل عادی ہو چکا ہوں اور اس بیقرری کی وجہ بھی بھول چکا ہوں۔

وہ ستارا تھی کہ شبنم تھی کہ پھول
ایک صورت تھی عجب یاد نہیں

تشریح:

درج بالا شعر ناصرؔ کاظمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ناصرؔکاظمی اپنے محبوب کی تعریف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میرا محبوب بہت حسین و جمیل ہے، وہ ستاروں کی مانند پرکشش اور شبنم کی طرح چمکدار تھی ، مگر اب میں اس کے نقوش بھی بھولتا جا رہا ہوں۔ اب مجھے اس پری وش کے خدوخال تک یاد نہیں۔

کیسی ویراں ہے گزر گاہ خیال
جب سے وہ عارض و لب یاد نہیں

تشریح:

درج بالا شعر ناصرؔ کاظمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ناصرؔکاظمی اپنے حافظے کا حال بتاتے ہیں کہ اب مجھ پر یہ عالم ہے کہ میں اپنی عقل کو تمام خیالات سے بانجھ پاتا ہوں۔ اب میرا گمان کسی بھی خیال کی گزر گاہ نہیں ہے یعنی مجھے جب سے وہ گلابی رخسار اور پنکھڑی جیسے لب بھول گئے تب سے میرے خیالات کے راستے سنسان ہو گئے ہیں۔

بھولتے جاتے ہیں ماضی کے دیار
یاد آئیں بھی تو سب یاد نہیں

تشریح:

درج بالا شعر ناصرؔ کاظمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ناصرؔکاظمی کہتے ہیں کہ میرے حافظے میں جو بھی روزگار زندگی سے وابسطہ یادداشتیں تھیں وہ معدوم ہوتی جاتی ہیں۔ مجھےا ب میری گزری زندگی کا کچھ أحوال بھی یاد نہیں ہے۔ اگر بھولے بسرے سے کہیں مجھے یاد آ بھی جائیں تو میں ان خیالات کو جھٹک دیتا ہوں۔

رشتۂ جاں تھا کبھی جس کا خیال
اس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں

تشریح:

درج بالا شعر ناصرؔ کاظمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ناصرؔکاظمی کہتے ہیں کہ میں جس شخص اپنے لیے سب سے زیادہ ضروری سمجھتا تھا یعنی کہ میرا محبوب جس کی یادداشتیں میرے لیے تمام کائنات میں سب سے قیمتی اثاثہ تھیں، جس کو سوچتے ہوئے میرے روز و شب گزرتے تھے اب میں اس کی صورت و شکل سے بھی ناآشنا ہو چکا ہوں۔

یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں

تشریح:

درج بالا شعر ناصرؔ کاظمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ناصرؔکاظمی اپنے رفقاء و دوست احباب سے شکوہ کناں ہیں کہ وہ لوگ جو میری محفلوں میں شامل ہوتے تھےوہ اب مجھے بھول چکے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں میں مصروف ہو کر مجھے بھلا بیٹھے ہیں، یا پھر یوں کہوں کہ انھوں نے مجھے کبھی یاد ہی نہیں رکھا کہ جو اب بھولے ہونگے۔

یاد ہے سیر چراغاں ناصرؔ
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں

تشریح:

درج بالا شعر ناصرؔ کاظمی کی غزل سے اخذ ہے جس میں شاعر ناصرؔکاظمی کہتے ہیں کہ مجھے اب روشنیوں اور رنگینوں کی دل لبھانے والی ہی باتیں یاد ہیں، میرے حافظے میں وہی خوش گوار باتیں محفوظ ہیں جن سے میں خوشی محسوس کرتا ہوں البتہ میرے دل کے ڈوب جانے کا مجھے علم نہیں کہ یہ کس سبب بجھا ہوا ہے۔

مشق

سوال نمبر ۱: اس غزل کے قوافی لکھیں۔

جواب:شب، کب، اب، طلب، عجب، لب، اب، اب۔ سبب۔

سوال نمبر۲: قواعد کی رو سے درج ذیل مرکبات کے نام لکھیں:
عارضی و لب، گزرگاہ خیال، رشتۂ جان

عارضی و لب: مرکب عطفی
گزرگاہ خیال:مرکب اضافی
رشتۂ جان: مرکب اضافی

سوال نمبر ۳: شاعر کے دل میں ہر وقت چبھن کیوں رہتی ہے؟

جواب:۔ شاعر کے دل میں ہر وقت چبھن اس لیے رہتی تھی کہ ان کا محبوب ان سے جدا تھا۔

سوال نمبر۴: شاعر نے احباب سے کیا گلہ کیا ہے؟

جواب:۔شاعر نے اپنے احباب سے گلہ کیا ہے کہ ان کے دوست اور احباب انھیں فراموش کر چکے ہیں۔

سوال نمبر ۵: ناصرؔ نے دل کے بجھنے کی وجہ کیوں نہیں بتائی؟

جواب: شاعر کے یہاں پر تجاہل عارفانہ سے کام لیا ہے وہ ایک مصرعے میں کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے اور دوسرے ہی مصرعے میں إقرار کرتے ہیں کہ دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں تھا۔