سبق نمبر 6: چند روز ایک روڈ رولر کے ساتھ، خلاصہ ، سوالات و جوابات

0
  • سبق نمبر :6
  • سبق: چند روز ایک روڈ رولر کے ساتھ
  • مصنف: ڈاکٹر وزیر آغا
  • ماخوذ: پگڈنڈی سے روڈ رولر تک

تعارفِ مصنف:

ڈاکٹر وزیر آغا سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ اُنھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی۔ اے پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وزیر آغا زمانہ طالب علمی سے محمد دین تاثیر، میرا جی اور ن۔م۔ راشد سے متاثر ہو کر اُردو شاعری کی طرف متوجہ ہوئے، انھوں نے نظم میں نت نئے تجربات سے جدت پیدا کی۔ ادبی جریدے “اوراق” کے مدیر رہے۔ یہ جریدہ اپنے تحقیقی اور تنقیدی مضامین کی وجہ سے ادبی حلقوں میں نہایت تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وزیر آغا اپنے منفرد اور جدید تنقیدی نظریات کی وجہ سے اُردو ادبی دنیا میں معتبر مانے جاتے ہیں۔ وہ بطور شاعر، نقاد اور صحافی ایک قابل قدر مقام رکھتے ہیں لیکن اُن کی ایک اور خصوصیت ان کی انشائیہ نگاری بھی ہے۔ اچھوتے ، نادر اور منفرد موضوعات کی بنا پر وہ انشائیہ نگاری میں ایک اہم نام ہیں۔

خلاصہ:

اس سبق میں مصنف بیان کرتے ہیں کہ ان کے گاؤں کی سڑک کو پختہ کرنے ان کے گاؤں میں ایک روڈ رولر آیا۔ روڈ رولر کی شکل و صورت قوی الجثہ، دینو ساری جاپانی پہلوانوں کی طرح، کالے لوہے کے پہاڑ جیسی تھی۔ جس کا کام کچی خوشبودار زمین کے چہرے پر بجری کی تہہ جمانا تھا۔ بچوں اور کتوں نے اس کا سواگت کیا۔ کتوں نے بھونکنے پر اکتفاء کیا جبکہ بچے اس روڈ رولر کے پیہوں پر بیٹھ کر شور کرنے لگے۔

پھر مصنف نے روڈ رولر کے ڈرائیور سے بات چیت کرنے کے بعد ان سے کہا کہ وہ روڈ رولر کی سواری کرنا چاہتے ہیں جس پر ڈرائیور نے بخوشی انھیں اجازت دے دی۔ لیکن اس پر سوار ہو کر مصنف کو محسوس ہوا کہ روڈ رولر بہت آہستہ چل رہا تھا۔ مصنف جب روڈ رولر پر سوار ہوئے تو فیصلہ نہ کرسکے کہ یہ چل بھی رہا ہے یا صرف کھڑا ہے۔ اسی سفر کے دوران ایک درخت کے نیچے روڈ رولر پہنچا جہاں مختلف پرندے موجود تھے اور وہیں مصنف نے الو اور اس کے بچوں کو بھی دیکھا۔

مغرب میں الو کو عقل مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اسے پرندوں کا فلاسفر کہا جاتا ہے۔ مصنف نے روڈ رولر کی رفتار پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روڈ رولر آس پاس کی دنیا کو جگاتا ضرور ہے لیکن انھیں ہڑبڑا کر بھاگنے پر مجبور نہیں کرتا۔ مصنف کہتے ہیں جب ہم کسی تیز رفتار چیز پر سفر کریں تو ہر چیز نظروں کے سامنے سے اوجھل ہوتی رہتی ہے لیکن اس سفر میں ایسا نہیں تھا بلکہ اس سفر کی آہستہ روی کی وجہ سے میں بہت سی خوبصورت چیزوں کو تادیر دیکھ سکا لیکن پھر وہ کہتے ہیں کہ تغیر میں ہی ثبات ہے۔

اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی چیز چاہے کتنی بھی حسین کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ نظروں کے سامنے رہے تو اکتاہٹ کا باعث بنے گی لیکن اگر اس کے برعکس مناظر تبدیل ہوتے رہیں تو اکتاہٹ نہیں ہوگی۔ آخر دو گھنٹےاس روڈ رولر پر سفر کرنے کے بعد جب مصنف نے روڈ رولر کے ڈرائیور سے کہا کہ انھیں اب گھر جانا ہے تب ڈرائیور نے انھیں آفر دی کہ میں آپ کو روڈ رولر پر ہی گھر چھوڑ دیتا ہوں تب مصنف نے اس روڈ رولر کی سست رفتار کے پیش نظر کہا کہ انھیں گھر جلدی پہنچنا ہے یعنی وہ پیدل چل کر گھر زیادہ جلدی پہنچ سکیں گے۔

مشق

سوال نمبر ایک: درج ذیل سوالوں کے جواب لکھیں

الف: روڈ رولر کی شکل و صورت کیسی تھی؟

جواب: روڈ رولر کی شکل و صورت قوی الجثہ، دینو ساری جاپانی پہلوانوں کی طرح، کالے لوہے کے پہاڑ جیسی تھی۔ جس کا کام کچی خوشبودار زمین کے چہرے پر بجری کی تہہ جمانا تھا۔

ب: روڈ رولر کس رفتار سے چل رہا تھا؟

جواب: روڈ رولر بہت آہستہ چل رہا تھا۔ مصنف جب روڈ رولر پر سوار ہوئے تو فیصلہ نہ کرسکے کہ یہ چل بھی رہا ہے یا صرف کھڑا ہے۔

ج: مغرب میں اُلو کو کسی چیز کی علامت سمجھا جاتا ہے؟

جواب: مغرب میں الو کو عقل مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اسے پرندوں کا فلاسفر کہا جاتا ہے۔

د: مصنف نے روڈ رولر پر کتنی دیر سفر کیا؟

جواب: مصنف نے روڈ رولر پر دو گھنٹے سفر کیا۔

ہ: مصنف نے روڈ رولر کی رفتار پر کن خیالات کا اظہار کیا؟

جواب: مصنف نے روڈ رولر کی رفتار پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روڈ رولر آس پاس کی دنیا کو جگاتا ضرور ہے لیکن انھیں ہڑبڑا کر بھاگنے پر مجبور نہیں کرتا۔

سوال نمبر 2: خالی جگہ پر کریں

  • الف: کتوں نے بھونک کر روڈ رولر کا استقبال کیا۔
  • ب: بلکہ موجودگی کی ایک کھنکتی ہوئی قاش بن گئی۔
  • ج: ہر خواہش کے اندر ایک خلا ہوتا ہے۔
  • د: یہ چیزیں عمل معکوس کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیچھے بھاگتی ہیں۔

سوال نمبر 3: درج ذیل جملوں کی وضاحت کریں

الف: رفتار ہی انتشار ہے۔

وضاحت:

مصنف کہتے ہیں کہ جب ماحول میں کوئی چیز حرکت نہ کررہی ہو یا آہستہ آہستہ تو آس پاس سکون ہوتا ہے لیکن جب چیزیں تیز رفتاری سے حرکت کرنے لگیں تو انتشار پیدا ہوجاتا ہے۔

ب: واقعی تغیر کو ثبات ہے۔

وضاحت:

اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی چیز چاہے کتنی بھی حسین کیوں نہ ہو لیکن اگر وہ نظروں کے سامنے رہے تو اکتاہٹ کا باعث بنے گی لیکن اگر اس کے برعکس مناظر تبدیل ہوتے رہیں تو اکتاہٹ نہیں ہوگی۔

ج: میں نے کہا شکریہ! مجھے ذرا جلدی گھر پہنچنا ہے۔

وضاحت:

جب مصنف نے روڈ رولر کے ڈرائیور سے کہا کہ انھیں اب گھر جانا ہے تب ڈرائیور نے انھیں آفر دی کہ میں آپ کو روڈ رولر پر ہی گھر چھوڑ دیتا ہوں تب مصنف نے اس روڈ رولر کی سست رفتار کے پیش نظر کہا کہ انھیں گھر جلدی پہنچنا ہے یعنی وہ پیدل چل کر گھر زیادہ جلدی پہنچ سکیں گے۔

سوال نمبر چار: درج ذیل جملوں کو قواعد کے مطابق درست کریں۔

الف: بوڑھا شخص بہت سے گھاٹوں کا پانی پی چکا تھا۔جواب: بوڑھا شخص گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکا تھا۔
ب: پاکستان کے اندر افرادی قوت کی کمی نہیں ہے۔جواب: پاکستان میں افرادی قوت کی کمی نہیں ہے۔
ج: میں نے اپنے کالج کی لائبریری سے استفادہ حاصل کیا۔جواب: میں نے اپنے کالج کی لائبریری سے استفادہ کیا ہے۔
د: لڑکا ڈرتا ڈرتا پرنسپل کے دفتر میں داخل ہوا۔جواب: لڑکا ڈرتے ڈرتے پرنسپل کے دفتر میں داخل ہوا۔
ہ: ملتان اولیاؤں کی سرزمین ہے۔جواب: ملتان اولیا کی سرزمین ہے۔

سوال نمبر 5: درج ذیل جملوں میں مناسب مقامات پر رموز اوقاف لگائیں۔

  • الف: وہ بازار سے سبزیاں، پھل، دالیں اور گوشت لایا۔
  • ب: وہ شخص خوشبو کی طرح آیا، جھوما، خوشیاں بکھیریں اور چلا گیا۔
  • ج: قائد اعظم (بانی پاکستان) بہت بڑے سیاست دان تھے۔
  • د: ہم مجبور انسان، ان حالات کا مقابلہ کیسے کریں۔
  • ہ: تم اچھے ہو یا برے، عالم ہو یا جاہل، دین دار ہو یا دنیا دار، اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہو۔