Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر: 17
- سبق: حاجی اورنگ زیب خان
- مصنف: مشتاق احمد یوسفی
- ماخوذ:
تعارفِ مصنف:
مشتاق احمد یوسفی راجستھان کی ایک مسلم ریاست ٹونک کے ایک تعلیم یافتہ مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ یوسفی صاحب نے ابتدائی تعلیم عربی، فارسی اور دینیات، گھر پر ہی حاصل کی۔انھوں نے آگرہ یونیورسٹی سے بی-اے کیا اور پھر علی گڑھ سے فلسفے میں ایم-اے کیا قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آئے اور کراچی میں رہائش پزیر ہوئے۔ انھوں نے عملی زندگی کا آغاز بینکنگ سے کیا اور ساری زندگی مختلف بینکوں سے منسلک رہے اور بطور چیئرمین پاکستان بینکنگ کونسل ریٹائر ہوئے۔
اردو مزاح میں یوسفی صاحب کا ایک بلند مقام ہے۔ وہ ایک فطری مزاح نگار ہیں۔ علی گڑھ کے فارغ التحصیل ہونے کی وجہ سے ان کے مزاج میں ایک خاص سلیقہ اور رکھ رکھاؤ ہے۔ ہم بلاتکلف کہ سکتے ہیں کہ ان کے مزاح کی بنیاد ایک اعلیٰ تہذیبی شعور اور مذاق سلیم پر استوار ہے۔ یوسفی صاحب کی تحریروں سے ان کے گہرے سماجی شعور کا پتا چلتا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف مسکرانے پر مجبور کرتی ہیں، بلکہ سوچ و فکر کے لیے مواد بھی مہیا کرتی ہیں۔
یوسفی صاحب اپنے مضامین کے لیے عام زندگی کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ ایسے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں، جنھیں عام طور پر افتادہ اور ناقابل توجہ سمجھا جاتا ہے، لیکن یوسفی صاحب اپنی نکتہ آفرینی کے ذریعے اسے شاہکار بنا دیتے ہیں۔ ان کی زبان سادہ اور صاف ہے۔ الفاظ کے انتخاب میںو ہ بڑی احتیاط برتتے ہیں۔ دراصل یہ الفاظ کا انتخاب ہی ہے، جو مسلسل قارئیں کے لبوں پر ہنسی بکھیرتا رہتا ہے۔
تصانیف:خاکم بدہن، چراغ تلے، زرگزشت، آب گم۔
مشق
سوال نمبر ایک: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیں:
(الف): خان صاحب کس مقصد کے لیے کراچی آئے تھے؟
جواب: خان صاحب کراچی اپنا پیسہ وصول کرنے کے مقصد سے آئے تھے۔
(ب): خان صاحب کی خوش خوراکی کا حال اپنے الفاظ میں لکھیں؟
جواب: خان صاحب کی خاصے خوش کوراک تھے، گوشت شوق سے کھاتے اور رات کو حلوہ بھی طلب کرتے تھے۔دال کے متعلق ان کا خیال تھا کہ یہ ہندوؤں کی خوراک ہے اور سبزی کھانے کو جانوروں کی حق تلفی شمار کرتے تھے۔ وہ کڑاہی گوشت کڑاہی بھر کے کھاتے تھے۔
(ج): بشارت نے خان صاحب کی بھیجی ہوئی لکڑی میں کیا نقائض گنوائے؟
جواب: بشارت نے خان صاحب کی بھیجی ہوئی لکڑی کے نقائض گنوانے شروع کر دیے تھے کہ لکڑی داغ دار تھی اس میں کھٹمل موجود تھا۔اس کا سیزن بھی پورا نہیں تھا جس سے چرائی کے دوران تختوں میں بل موجود تھے۔
(د): بشارت اور خان صاحب کے درمیان تنازعہ کیسے طے ہوا؟
جواب: ایک دن خان صاحب نے بشارت کی ناکارہ گاڑی ان کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ حساب برابر ہو جائے۔جس پر کچھ بحث ہوئی مگر بعد میں خان صاحب اور بشارت کے مابین معاملہ طے پا گیا، اور تنازع بھی ختم ہو گیا۔
(ہ): خان صاحب نے حق مہر پانچ لاکھ کیوں رکھا؟
جواب: خان صاحب نے خط میں قصہ بیان کیا تھا۔ نکاح کے وقت خان صاحب کے سسرال والے ایک لاکھ روپے کے حق مہر مصر تھے۔ جبکہ ان کے ماموں پونے تین روپے شرعی مہر پر إصرار کررہے تھے۔تکرار بڑھتی گئی، تو خان صاحب نے سہرا ہٹا کر پانچ لاکھ روپے مہر دینے کا اعلان کیا۔ جس پر ان کے ماموں نے ڈانٹا تو خان صاحب نے جواب دیا کہ ایک لاکھ کے نادہندہ ہونے سے بہتر ہے کہ پانچ لاکھ کا نادہندہ بنوں۔
(و): خان صاحب نے اپنے خط میں کیا لکھا تھا؟
جواب:خان صاحب نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر نے جگر کی بیماری کی تشخیص کے بعد خوش رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ اسی لیے میں کراچی لکڑی کی رقم وصولی کا بہانا بنا کر آگیا تھا۔ تاکہ اچھے دن گزریں اور مہمان بن کر رہ سکوں۔ میں جان بوجھ کر لکڑی کی رقم کے معاملے کو طول دیتا رہا، میری وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچی ہوگی، مگر میرے وہاں رہنے سے میری زندگی بڑھ گئی ہے۔
(ز): خان صاحب نے وٹہ سٹہ کا کیا مفہوم بتایا؟
جواب: جب بشارہ نے خانصاب سے کہا کہ آپ بزنس کر رہے ہیں یا بارٹر سسٹم، تو خان صاحب کو بارٹر کا مطلب نہیں پتا تھا، ساری تعریف بیان کرنے کے بعد وہ بولے، مطلب کہ وٹہ سٹہ کی بات کر رہے ہیں۔
سوال نمبر دو: خالی جگہ پر کریں:
- الف: بشارت خانصاحب کے خلوص و مدارات کے معترف تھے۔
- ب: خان صاحب وجیہہ اور بھاری بھرکم آدمی تھے۔
- ج: کلوروفارم سونگھنے کو مردوں کی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔
- د: اس جنگ میں فتح کس کی بھی ہو شہید صرف سچائی ہوئی تھی۔
- ہ: وٹہ سٹہ میں ہر فریق یہ سمجھتا ہے۔ کہ وہ گھاٹے میں رہا۔
- و:خان صاحب نے منیزہ کو اس کی سالگرہ پر پانچ سو روپے کا تحفہ دیا۔
سوال نمبر تین:درج ذیل جملوں کی وضاحت کریں۔
(الف) ان کے دسترخوان پر کبھی سبزی یا مچھلی نہیں دیکھی، جس کی وجہ بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ بینگن اور مچھلی کی ٹانگیں نہیں ہوتیں۔
تشریح:
بشارے کے مطابق خان صاحب کے دسترخوان پر اس نے کبھی مچھلی اور سبزی نہیں دیکھی تھی وہ گوشت خور تھے۔ وہ گوشت شوق سے کھاتے تھے وہ بھی ایسے جانوروں کی جس کی ران ہوتی ہے۔ مچھلی اور بینگن کی ٹانگیں نہیں ہوتیں اس لیے وہ بغیر ٹانگوں والی خوراکیں نہیں کھاتے تھے۔
(ب) اس بیماری کا خانہ خراب ہو۔ عمر کا پیمانہ لبریز ہونے سے پہلے ہی چھلکا جا رہا ہے۔
تشریح:
خان صاحب جگر کی بیماری میں مبتلا تھے۔ جس کے لیے ہر وقت خوش و خرم رہنے کی ہدایات تھیں۔ خان صاحب نے بشارت کو خط میں لکھا تا کہ اس بیماری کا خانہ خراب ہو عمر کا پیمانہ لبریز ہونے سے پہلے ہی چھلکا جا رہا ہے۔ صحیح سے کھانس بھی نہیں سکتا کہ سانس اکھڑتی ہے۔
(ج) ہنگام قتال اگر وہ اس پر صرف گر پڑتے تو وہ پانی بھی نہ مانگتا۔ ہاتھ پاؤں مارے بغیر وہیں دم گھٹ کے ڈھیرہو جاتا۔
تشریح:
خان صاحب بھاری بھرکم جسم کے مالک تھے، ان کی صحت خاصی لحیم شحیم تھی،جھگڑے کے دوران اگر وہ صرف دشمن پر گر ہی جاتے تو اس وہ پانی نہا جاتا۔اور وہ وہیں دم توڑ کر مر جاتا۔
سوال نمبر چار: خان صاحب کےکردار پر ایک مفصل نوٹ لکھیں۔
جواب: عرف عام میں خان صاحب کہلانے والے خان اورنگ زیب دراصل لکڑی کے سودا گر تھے۔ ملک بھر میں لکڑی کی سپلائی کا کام کرتے تھے۔وہ اپنے کام میں کھرے اور ایماندار تھے کبھی جھوٹ نہں بولتے تھے۔ ان کی ہر بات دو ٹوک اور واضح ہوتی تھی۔عہد کی پابندی کرتے اور کاروباری معاملات میں ہیر پھیر نہیں کرتے تھے۔ وہ باصول ، غیرت مند پختون تھے۔ اپنی غیرت اور خودداری پر حرف نہ آنے دیتے تھے۔ وہ خود بھی مہمان نواز اور مہمانوں پر جان چھڑکنے والے تھے۔
سوال نمبر پانچ: اس مضمون کے حوالے سے مشتاق احمد یوسفی کے طرز تحریر پر ایک مختصر نوٹ لکھیں۔
جواب:مشتاق احمد یوسفی بلاشبہ ہمارے دور کے سب سے بڑے مزاح نگار ہیں، ان کا طرز تحریر سادہ اور لطافتوں سے مزیں ہوتا ہے۔ ان کا انداز رواں اور عام فہم زبان پر مشتمل ہوتا ۔وہ عام محاوروں اور اشعار کو بھی زرا سی تبدیلی سے مزاح میں بدل دیتے کہ پڑھنے والا داد دیتا رہ جاتا۔ ان کے مضامین میں قاری کے لیے ظرافت کا بھرپور ساماں ہوتا ہے۔ وہ خالص مزاح نگار ہیں، ان کی تحریروں میں طنز کے نشتر موجود نہیں، وہ مزاح پیدا کرنے کے لیے کسی خاص طبقے کو نشانہ نہیں بناتے تھے۔ وہ ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جو بہت حقیر اور ناقابل توجہ سمجھے جاتے ہیں۔
سوال نمبر چھ: تابع جملوں کی ”وصفی“ پر مشتمل پانچ جملے لکھیں۔
- ۱: خدا کرے میں پاس ہو جاؤں۔
- ۲:بچوں کو نہ ڈانٹو کہیں ایسا نہ ہو۔ ان کا دل ٹوٹ جائے
- ۳: اس نے میری مدد کی ۔ کیونکہ وہ میرا دوست ہے۔
- ۴: اللہ کرے بارش ہو جائے۔
- ۵: وہ خاموش لیٹا ہے اسلئے کہ وہ بیمار ہے۔
سوال نمبر سات: درج ذیل الفاظ پر دیے گئے معنی کے مطابق اعراب لگائیں:
- بَکۡرِیۡ (مویشی) بِکۡرِیۡ(فروخت)
- جَلَانَا(آگ میں ڈالنا) جِلَانَا (تازگی دینا، زندہ کرنا)
- جُوۡ(نہر) جَوۡ (غلہ)
- وِتَرۡ (نماز) وَتَرۡ(مثلت کا حصہ)
سوال نمبر آٹھ: درج ذیل محاورات اپنے جملوں میں استعمال کریں۔
| زمین میں گڑ جانا: | جواب بیٹے کے قماش سن کر باپ کے لیے زمین میں گڑ جانے کا مقام تھا۔ |
| آسمان ٹوٹ پڑنا: | جواں سال اولاد نے والدین کو گھر سے نکالا تھا کہ آسمان ٹوٹ پڑا۔ |
| ہوائی قلعے بنانا: | چائے کی دکان پر چند بے روزگار بیٹھ کر ہوائی قلعے بناتے رہتے ہیں۔ |
| چراغ سحر ہونا: | زندگی تو چراغ سحر ہے آج نہیں تو کل بجھ جائے گی۔ |
| طوطا چشمی کرنا: | مفادات ختم ہونے کے بعد لوگ طوطا چشمی سے کام لینے لگتے ہیں۔ |
| اینٹ سے اینٹ بجانا: | احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ |
| نشہ ہرن ہو جانا: | بری قماش میں پڑے عدیل نے جب تھانے کا منہ دیکھا تو اس کا نشہ ہرن ہو گیا۔ |
| ناکوں چنے چبوانا: | پاکستان کی کبڈی ٹیم نے أفغانستان کی ٹیم کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ |
| پہاڑ ٹوٹ پڑنا: | جوان بیٹے کی لاش دیکھ کر ماں پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ |
| تین حرف بھیجنا: | غیبت کرنے والوں پر تین حرف بھیج کر کنارہ کر لینا چاہیے۔ |