Back to: Class 12 Urdu Notes KPK Board | Chapterwise Notes
- سبق نمبر:16
- سبق: مرید پور کا پیر
- مصنف: پطرس بخاری
- ماخوذ:
تعارفِ مصنف:
پطرس بخاری کا اصل نام سید احمد شاہ بخاری اور والد کا نام سید اسد اللہ تھا۔ پطرس بخاری پشاور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پشاور سے حاصل کرنے کے بعد لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں یم-اے کیا اور پھر کیمبرج یونیورسٹی انگلینڈ سے آنرز کیا۔ واپس آکر کچھ عرصے گورنمنٹ کالج میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ آل انڈیا ریڈیو کے قیام کے بعد وہ ریڈیو سے منسلک ہو کر دہلی چلے گئے۔
قیام پاکستان کے بعد واپس لاہور آئے تو انھیں گورنمنٹ کالج لاہور کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔ پطرس بخاری اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ترقی کرتے گئے اور یو-این-او (اقوام متحدہ ) میں پاکستان کے مندوب مقرر ہوئے۔ اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے یہ مایۂ ناز مزاح نگار اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔
پطرس مرحوم کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں ۔ لیکن اُن کی ایک مختصر سی کتاب ” پطرس کے مضامین“ نے اُنھیں وہ شہرت عطا کی کہ وہ اُردو ادب کی تاریخ میں زندہ جاوید ہو گئے۔ اُن کی تحریریں اُن کی شگفتہ شخصیت، وسیع مطالعہ اور عالمی ادب سے شناسائی کی عکاس ہیں۔ اُن کی طبعی بے تکلفی اور علمی بصیرت ہر جگہ گل کھلاتی ہے۔ روزمرہ زندگی سے مزاح کے پہلو تلاش کرنا اُن کے لیے معمول کی بات ہے۔ وہ اپنے مخصوص انداز سے ہماری مزاحیہ جس کو متحرک کرتے چلے جاتے ہیں۔ بلا شبہ وہ نہ صرف ایک عظیم انسان بلکہ عظیم فنکار بھی تھے۔
تصانیف: کلیات پطرس نثر۔ پطرس کے مضامین۔
مشق
سوال نمبر ایک: مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات لکھیں:
(الف):لیڈر کے اپنے گاؤں (مرید پور) نہ جانے پر لوگ کیا تبصرے کرتے تھے؟
جواب: لیڈر کے اپنے گاؤں مرید پور نہ جانے پر لوگوں کےمختلف تبصرے تھےکہ لیڈر کے خلاف یہاں کوئی مقدمہ درج ہے، کوئی کہتا ہے کہ اس پر غبن کا الزام ہے اس لیے اس نے مرید پور چھوڑ دیا تھا۔
(ب): بھتیجے نے اپنے چچا کو کس طرح مرید پور کا ”قومی لیڈر“ قرار دلوایا؟
جواب: چچا بھتیجے کو کانگریس کے سالانہ اجلاس کی روداد بذریعہ خط لکھ بھیجتا تھا، مرید پور میں بھتیجا وہ خط نہ صرف عام لوگوں کو سناتا بلکہ لیڈر کے نام سے اخبار میں چھپواتا رہا۔یہی وجہ تھی کہ مرید پور کے لوگوں نے لیڈر صاحب کو ”قومی لیڈر“قرار دے دیاتھا۔
(ج): لیڈر نے اپنی تقریر کے لیے کون سے نکات اکٹھے کیے؟
جواب: لیڈر نے اپنی تقریر کے لیے ، تمہید، اشعار حالی (درد ناک آواز سے) ہندوستان کی موجود حالت یعنی افلاس، بعض اور قومی راہنماؤں کی خود غرضی،وجہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا نفاق، خاتمہ اور عام نصحیتیں خصوصاً اتحاد کی تلقین بطور نکات اکٹھے کیے تھے۔
(د): مرید پور میں لیڈر کا استقبال کس طرح ہوا؟
جواب: لیڈر جب مرید پور پہنچا تو 3 ہزار آدمیوں نے پرجوش استقبال کیا۔ جب لیڈر گاڑی سے اترا تو لوگوں میں جوش کی ایک لہر دوڑ گئی اور لیڈر کے نام کے نعرے لگائے گئے۔ لوگوں نے سرخ جھنڈوں پر لیڈر کی توصیف میں کلمات بھی لکھے ہوئے تھے۔
(ہ): جلسے کے دوران لیڈر کے بدحواس ہونے کی کیا وجہ تھی؟
جواب: جلسے کے دوران لیڈر کے بدحواس ہونے کی وجہ یہ تھی کہ تقریر کے لیے جو نکات لیڈر نے ایک کاغذ پر لکھے تھے، وہ غائب تھا۔
(و) تقریر کے دوران لیڈر کا کیا حشر ہوا؟
جواب: تقریر کے دوران لیڈر کا گلا خشک ہو رہا تھا۔ اس نے”پیارے ہم وطنو “ سے تقریر کا آغاز کیا۔ لیکن آواز بہت باریک برآمد ہوئی کہ سامعین ہنسی نہ روک سکے۔ لیڈر نے تین بار پیارے ہم وطنو کہا مگر اس سے آگے کے الفاظ ذہن میں نہیں آرہے تھے۔ جس پر جلسے میں قہقہے گونج گئے۔ معاملہ بتدریج بگڑتا گیا اور لیڈر کو پاؤں سر پر رکھ کر بھاگنا پڑا۔
سوال نمبر دو: خالی جگہ پر کریں:
- الف: خدا آپ سب پڑھنے والوں کو انصاف کی توفیق دے۔
- ب: خط پڑھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔
- ج: لیڈری کا نشہ ایک لمحے میں ہی چڑھ جاتا ہے۔
- د: گھٹا سر پہ ادبار کی چھا رہی ہے۔
- ہ: دنیا میری آنکھوں کے سامنے تاریک ہو رہی تھی۔
سوال نمبر تین:اس مضمون کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں:
جواب: مرید پور کا پیر پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون ہے جس میں انھوں نے کہانی کا مرکزی کردار ایک عام آدمی ہے، جو اپنے بھتیجے سے خط و کتابت میں کانگریس کے اجلاس کا نقشہ کھینچتا ہے۔ لیکن ان خطوط کو اس کا بھتیجا مرید پور میں نہ صرف عوام کو سناتا ہے بلکہ اسے اخبار کے ایڈیٹر کو دے کر چھپواتا بھی ہے۔ جس کے نتیجے میں دیکھتے دیکھتے مرید پور میں لیڈر اب قومی لیڈر کے طور پر مشہور ہو جاتا ہے۔
لوگوں کے بھرپور اسرار پر لیڈر اپنے گاؤں آتا ہے۔ مگر وہاں اس سے تقریر کے نکات کا کاغذ گم ہو جاتا ہے۔ لیڈر اس کاغذ کو تلاش کرتا ہے مگر وہ اسے اپنے ساتھ نہیں پاتا۔ تقریر کرتے وقت اس سے بولا نہیں جاتا، بار بار اس کا گلا سوکھ جاتا ہے، اور اس کی آواز بھی بہت باریک سی برآمد ہوتی ہے، جس پر ہجوم ہنسنے لگتا ہے۔ لیڈر سے یہ سارا معاملہ بگڑ جاتا ہے اور ہجوم اسے مارنے کو دوڑتی ہے، لیڈر اپنی جان بچانے کے لیے پاؤں سر پر رکھ کر بھاگ جاتا ہے۔
سوال نمبر چار: اس مضمون سے کم از کم پانچ وصلی جملے تلاش کرکے لکھیں۔
جواب: وصلی جملے:
- ۱: آخر میں اتحاد کی نصحیت کرونگا اور تقریر کو اس شعر پر ختم کرونگا۔
- ۲: میں ایک کمزور انسان ہوں اور پھر لیڈری کا نشہ ایک لمحہ ہی میں چڑھ جاتا ہے۔
- ۳: وہ یہ کہ بڑوں کی عزت کرتا ہے اور مین اس کے نزدیک علم وفن کا ایک دیوتا ہوں۔
- ۴: میری تمام خوبیاں اس میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ نئی پود سے تعلق رکھنے کے باعث اس میں بعض فالتو اوصاف نظر آتے ہیں۔
- ۵: میں پہلے بھی یہ اعلان کر چکا ہوں۔ اور اب بھی ببانگ دہل یہ کہنے کو تیار ہوں۔
سوال نمبر پانچ: اس مضمون سے کم از کم پانچ ایسے جملے تلاش کر کے لکھیں جن میں امدادی افعال ہوں۔
- ۱: اس پر سب مل کر زار و قطار رو پڑے۔
- ۲: سب لوگ تسلی سے بات کو سمجھ لیں۔
- ۳:ایک ساعت بعد وہ پھر سے دوڑ پڑا۔
- ۴: اور راستہ کچھ صاف ہوتا دکھائی دیا۔
- ۵: سب گاڑیاں دھند کی وجہ سے روک لی گئیں۔
سوال نمبر ۶: درج ذیل الفاظ پر ان کے معنی کے مطابق اعراب لگائیں:
جَلۡ (پانی) جُلۡ(دھوکا) دَوَرۡ(زمانہ) دُوۡر(فاصلہ)
قَسَمۡ(عہد، ارادہ) قِسَمۡ(طرح، طرز) گِلۡ(مٹی) گُلۡ(پھول)
مِنَّتۡ(التجا) مَنَتۡ(نیت، عہد) نَفَسۡ(سانس) نَفۡس(روح، وجود)
مَلِکَہ(صلاحیت) مَلۡکَہ(بادشاہ کی بیوی)
سوال نمبر سات: کسی تقریب یا جلسے کی روداد لکھیں:
جواب: ہمارے یہاں انتخابات کی شام کو ایک عظیم الشأن جلسے کا انعقاد ہوا۔ نتائج کا سلسلہ آنے لگا تھا تو کچھ کچھ واضح ہو گیا تھا کہ کون جیت رہا ہے۔ ہمارے حلقے کے متوقع منتخب امید وار نے غیر سرکاری نتائج پر تقریر کی تھی۔ لوگ آہستہ آہستہ ٹولیوں کی شکل میں امیدوار صاحب کے ڈیرے پر جمع ہو رہے تھے، میٹھیاں بٹ رہی تھیں، کچھ من چلے ایک جانب اونچی آواز میں گانے بجا کر ناچ گانا کر رہے تھے، یہ وہ تمام کارکنان تھے جو پولنگ اسٹیشن پر ڈیوٹی پر کھڑے تھے۔ اس کامیابی میں ان کا بھی بھرپور ہاتھ تھا۔
نو منتخب امیدوارصاحب نے دھواں دار تقریر کی اور تمام کارکنان کا جوش جگایا، میں یہ سب منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کے بعد تمام مہمان جو مبارک باد پیش کرنے آئے تھے انھیں چائے بسکٹ پیش کیے گئے۔ یہ میرے لیے ایک یادگار لمحہ تھا کیونکہ میں نے زندگی میں پہلی بار ووٹ کاسٹ کیا اور میرا امیدوار جیت گیا تھا۔
سوال نمبر آٹھ: اس مضمون سے کم از کم پانچ ایسے جملے لکھیں جن میں ”کہ“ کا استعمال ہو۔
- جواب:۱: اکثر لوگوں کو اس بات کا تعجب ہوتا ہے کہ میں اپنے وطن کا ذکر کبھی نہیں کرتا۔
- ۲: غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔
- ۳: لیکن بہرحال مجھے کچھ تو معلوم ہوتا کہ میں ترقی کر کے کہاں سے کہاں تک پہنچ چکا ہوں۔
- ۴:پھر یاد آیا کہ ایک اور کہانی بھی پڑھی تھی۔
- ۵: اور اب میں ببانگ دہل یہ کہنے کو تیار ہوں کہ اس میں میرا ذرا بھی قصور نہ تھا۔
سوال نمبر نو: ذیل میں متن کے مفہوم کے مطابق مختلف جملے لکھے گئے ہیں۔ آپ ان کے سامنے ”درست“ یا ”غلط“ لکھیں۔
- ۱: میں اپنے وطن میں نہ جانے کی وجہ سے مشکوک ہو گیا تھا۔ (درست)
- ۲: میں کانگرس کے جلسوں میں ذوق و شوق سے شریک ہوتا تھا۔ (درست)
- ۳:میرے بھتیجے نے تمام خطوط نشر کر دیئے۔ (درست)
- ۴: مصنف مرید پور کا رہنے والا تھا۔ (درست)
- ۵: مرید پور کے لوگ مصنف سے حسد کرنے لگے تھے۔ (غلط)
- ۶: متحد قومیں ہی بام عروج حاصل کرتی ہیں۔ (درست)
- ۷: ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ (غلط)
- ۸: صدر جلسہ نے پرتپاک استقبال کیا۔ (درست)
- ۹:مصنف نے انتہائی موثر تقریر کی۔ (غلط)
- ۱۰: مصنف نے تقریب ختم کی تو لوگوں نے تعریف شروع کر دی۔ (غلط)